قلعہ, رسول پورہ، باغ محمود، موتی پورہ و اطراف کے ذمہ داران کی مستقیم ڈگنیٹی سے ملاقات 

مالیگاؤں، (30 جولائی) موسم ندی پر واقع مولانا عبدالحمید نعمانیؒ پل کی تعمیر نو میں طویل تاخیر اور حالیہ حادثات کے تناظر میں قلعہ، باغِ محمود، موتی پورہ، اسلام آباد، رسول پورہ اور اطراف کے علاقوں کے باشندوں نے 31 جولائی بروز جمعہ نمازِ عصر کے بعد پل پر ایک عوامی پنچائیت منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق  مذکورہ پل کی ازسرِ نو تعمیر مقامی عوام کا کئی برسوں سے اہم مطالبہ رہی ہے، کیونکہ بارش کے موسم میں موجودہ پل پر آمد و رفت نہایت دشوار ہو جاتی ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پل سے گرنے سے ایک معصوم بچے کی موت واقع ہوگئی جس کی تلاش کیلئے قلعہ تیراک گروپ اور شکیل تیراک کے درمیان نیا تنازعہ شروع ہوگیا ۔اس ضمن میں باغِ محمود، قلعہ ۔رسول پورہ، موتی پورہ و اطراف کے ذمہ داران نے اس مسئلے کو لے کر سماج وادی پارٹی کے قائد مستقیم ڈگنیٹی سے ملاقات کی اور انہیں اس مسلے کو حل کرنے کی دعوت دیتے ہوئے پنچایتی رواج کے مطابق بطور سردار مدعو کیا ہے۔ موجودہ رکنِ اسمبلی کی جانب سے پل کی تعمیر کرانے کی ذمہ داری لینے کے بعد معاملہ نئی پیش رفت کا منتظر رہا۔ اس دوران مفتی اسمٰعیل کی جانب سے کئی بار تعمیر کے اعلانات اور وعدے کیے گئے، لیکن عملی طور پر کام شروع نہیں ہو سکا۔گزشتہ چار برسوں میں اس پل پر متعدد حادثات پیش آ چکے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں ایک کمسن بچے کے پل سے ندی میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے نے مقامی آبادی کو شدید صدمے اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت متبادل انتظام یا نئی تعمیر عمل میں آتی تو ایسے حادثات سے بچا جا سکتا تھا۔

ان حالات کے پیش نظر علاقہ کے سماجی شخصیات اور مختلف محلوں کے ذمہ داران نے فیصلہ کیا ہے کہ 31 جولائی بروز جمعہ نمازِ عصر کے بعد مولانا عبدالحمید نعمانیؒ پل پر عوامی پنچائیت منعقد کی جائے گی۔اس پنچایت میں سماجوادی پارٹی کے سیکرٹری و کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی کو پنچایت کے ذمہ داران نے پنچایتی رواج کے مطابق بطور سردار مدعو کیا ہے ۔اس پنچایت میں پل کی تعمیر کے سلسلے میں آئندہ کی حکمتِ عملی، عوامی نمائندوں سے مطالبات اور ممکنہ عوامی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

منتظمین نے روی وار وارڈ اور اطراف کے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم پنچائیت میں بھرپور شرکت کریں تاکہ علاقے کے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے متفقہ اور مؤثر لائحۂ عمل اختیار کیا جا سکے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: