Articles by "Rizwan Battery Wala"
Showing posts with label Rizwan Battery Wala. Show all posts

انصار جماعت خانہ کے جلسہ عام میں 12 نومبر تشدد معاملہ میں پولس کا رویہ اور قوم کے سفید پوشوں کے نام عیاں افشاں کئے جائیں گے: رضوان بیٹری والا

مالیگاؤں : (25 اکتوبر) عوامی پارٹی کے صدر رضوان بیٹری والا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کیخلاف پورے ملک میں 12 نومبر کو پر امن بند کا انعقاد کیا گیا تھا ۔اسی سلسلے میں مالیگاؤں شہر میں بھی ایک مذہبی جماعت کی جانب سے بند کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت ملی اور پر امن بند تاریخی کامیابی سے ہمکنار ہوا لیکن پھر جو تشدد ہوا وہ قابل مذمت ہے ۔ہم اسکی مذمت کرتے ہیں ۔ہم نے پولس اور عوام کا ساتھ دیا، امن قائم رکھنے کی کوشش کی لیکن ہمیں جیل میں ڈالا گیا جو ملزمین ہیں انہیں چھوڑ دیا گیا یہ کہاں کا انصاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ 28 اکتوبر کو انصار جماعت خانہ بنکر لانس میں دستور ہند نامی ادارے کی جانب سے ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔

Watch Video

 Link: https://youtu.be/-LNO-nEH0Rs

 ہم اس پروگرام میں سب کی پول کھولیں گے ۔گھر پٹی، پانی ،بجلی کمپنی کی من مانی کس کے اشارے پر ہورہی ہے؟ کون چالیس سال سے سیاست کررہا ہے کون 35 سال سے کیا کررہا ہے اور کوئی 15 سالوں سے سیاست میں سفید پوش کردار کی بات کررہا ہے؟ ان تمام عنوانات پر سنسنی خیز خلاصہ کیا جائے گا ۔رضوان بیٹری والا نے کہا کہ آگرہ روڈ پر دس سال میں شہری ایم ایل اے پہلی دفعہ نظر آئے صرف اس لئے کہ الیکشن قریب ہے ۔دیوی کے ملہ کے پاس ناٹک کیا گیا ۔آگرہ روڈ کی تکالیف کیلئے روڈ پر کیوں آئے 12 نومبر معاملہ میں کیوں خاموش رہے؟ مفتی اسماعیل نے جن افراد کو بچایا ہے انکے نام عوام کو بتا دیں ہم شکریہ ادا کریں گے ۔پولس انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عینک اتار کر سب کو ایک نظر سے دیکھیں ۔ہم بھگوڑے لوگوں میں شامل نہیں ہے ۔اس موقع پر رضوان بیٹری والا ،انصاری نوید ماسٹر، انجم حسین انصاری، ایڈوکیٹ ماجد انصاری وغیرہ موجود تھے۔

اہلیان محلہ سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل، میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کے آئندہ اقدامات کی وضاحت

مالیگاؤں: قدوائی روڈ پر واقع قرنطینہ سے متصل لال بستی کا دورہ کرتے ہوئے رضوان بیٹری والا نے عوام سے ملاقات کی قرنطینہ کو کووڈ سینٹر بنانے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی۔دراصل گذشتہ کچھ روز سے اہلیان محلہ کافی تذبذب میں تھے، ایسی افواہیں گردش کررہی تھیں کہ قرنطینہ کو کووڈ سینٹر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس معاملے میں اہلیان محلہ نے نمائندے کو بتایا تھا کہ انہیں ایسی خبریں موصول ہوئی ہیں کہ قرنطینہ کو کووڈ سینٹر بنایا جائے گا۔اس سلسلے میں اہلیان محلہ اور سرکردہ افراد نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔جس کی خبر شائع ہونے کے بعد میکس اسٹیپس این جی او کے چیئرمین رضوان بیٹری والا نے مذکورہ علاقے کا دورہ کیا اور عوام کو اطمنان دلایا کہ اس جگہ کووڈ سینٹر نہیں بنے گا بلکہ عید کے بعد اس عمارت میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن کے زیراہتمام بچوں کیلئے اسکول اور خواتین کیلئے مناسب فیس پر طبی خدمات انجام دی جائیں گی اور اس عمارت کو فلاحی کاموں کیلئے استعمال کرنے پر غوروفکر جاری ہے۔اسلئے اہلیان محلہ افواہوں پر توجہ نہ دیں۔بیٹری والا کے دورہ اور عوام کو اطمنان دلانے کے بعد لال بستی اور اطراف کے ساکنین نے سکون کا سانس لیا۔بیٹری والا نے مقامی لوگوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ اس عمارت کے ساتھ گذشتہ کئی دہائیوں سے تعصب کیا جارہا ہے، بارہا انتظامیہ کی توجہ مبذول کروانے کے بعد بھی قرنطینہ کی حالت سدھارنے کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے، عمارت کی حالت سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔اوباش نوجوان یہاں نشہ اور جرائم انجام دے رہے ہیں۔اسلئے میکس اسٹیپس فاؤنڈیشن نے اس عمارت کو فلاحی کاموں کے لئے استعمال کرنے کا عزم کیا ہے۔عوام کو کووڈ سینٹر بنانے کے نام پر گمراہ کیا جارہا ہے۔حالانکہ ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے افواہوں پر توجہ نہ دیں اور اطمنان رکھیں۔
 

 

عوامی مفاد کام کرنے اور حکومتی اسکیموں سے عوام کو فائدہ پہنچانے کا عزم، جلد ہی دفتر کا قیام عمل آئے گا

مالیگاؤں: سماجی کارکن اور عوامی پارٹی لیڈر رضوان بیٹری والا نے نیشنل لیول پر ایک این جی او کا رجسٹریشن کروایا ہے۔اس ضمن میں کہا گیا کہ کرونا وباء کے دوران بہت سے قیمتی جانیں تلف ہوئیں، کرونا کا قہر بڑھتا گیا، لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جس کے سبب شہر کی غریب عوام اور محنت کش طبقہ کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ایسے وقت میں شہر حکومتی پیکج سے محروم رہا کیونکہ شہر میں اس طرح کے کام کرنے والی این جی اوز موجود نہیں ہیں جس کے توسط سے حکومت غریب عوام کی مدد کرتی ہے۔انہیں مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے رضوان بیٹری والا نے نیشنل لیول پر ایک این جی او کا رجسٹریشن کروایا ہے۔اطلاعات کے مطابق این جی او کے رجسٹریشن کے بعد شہر کے وکلاء، ڈاکٹرس، ٹیچرس اور دیگر شعبوں سے وابستہ سرکردہ افراد نے بیٹری والا سے رابطہ کیا اور این جی او سے جڑنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔اس تعلق سے بیٹری والا نے ایک مشاورتی میٹنگ طلب کی جس میں علماء، اساتذہ، وکلاء اور سرکردہ افراد کو موعو کیا گیا۔اب جبکہ ریاست اور شہر پر دوبارہ لاک ڈاؤن کا سایہ مڈلا رہا ہے ایسے وقت میں امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس این جی او کے توسط سے کچھ فلاحی کام انجام دیئے جاسکیں گے۔بیٹری والا نے تیقن دیا کہ وہ سرکاری اسکیموں پر نظر رکھیں گے اور اور عوام کے ۔فاد میں کام کریں گے۔یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ جلد ہی قلب شہر میں این جی او کے دفتر کا قیام عمل میں آئے گا، پریس کانفرنس کے ذریعے این جی او کو متعارف کروایا جائے گا اور کئی اہم امور پر فیصلہ لیا جائے گا۔


 رضوان بیٹری والا نے اسکولوں کا دروہ کیا، بدعنوانی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ

مالیگاؤں: کرونا وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب شہر کی غریب عوام بے حال و پریشان ہے۔مفلسی کے سبب متعدد خاندان فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ اسکولوں میں حکومت کی جانب سے دئے جانے والے چنا اور دال تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔جس میں بدعنوانی کی جارہی ہے۔اطلاعات کے مطابق رضوان بیٹری والا نے اس معاملے میں خلیل ہائی اسکول، نشاط پرائمری اسکول اور دیگر اسکولوں کا اچانک دورہ کیا اور اسکول انتظامیہ کی لوٹ مار اور بدعنوانی کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔خلیل ہائی اسکول کا دورہ کرتے ہوئے رضوان بیٹری والا نے اسکول کے پیڈ ماسٹر سے تفصیل طلب کی انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ابھی نصف اناج ہی فراہم کیا گیا ہے۔جبکہ بقیہ اناج آئندہ دو چار روز میں آنے والی ہیں۔جب اس معاملے میں اے او چوہان کا کہنا ہے کہ شہر کی تمام اسکولوں میں پورا اناج مہیا کیا گیا ہے۔بیٹری والا کے اس اقدام کے سبب اسکول انتظامیہ حرکت میں آئی اور بچوں کو پورا اناج تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہوا۔اس موقع پر بیٹری والا نے سابق اور موجودہ اراکین اسمبلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج مالیگاؤں میں صرف الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے، کسی کوغریب عوام کی فکر نہیں ہے۔موجودہ رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل سے متعلق بیٹری والا نے کہا کہ بحیثیت مفتی انہیں عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ بطوں کو اعلی تعلیم سے روشناس کراتے ہوئے اعلی تعلیم کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک حمام میں سب ننگے ہیں۔ کیا بدعنوانی کرکے ان کا گھر بار چلتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی لیڈر بدعنوانی کے معالات پر لب کشائی کیوں نہیں کرتا؟آخر کیا وجہ ہے کہ برسراقتدار اور اپوزیشن خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے؟