مالیگاؤں: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر جنتادل سیکولر کے 81 کارکنان پر مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کنٹرول روم سے ملی تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کے چلتے ریاست بھر میں لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔حکومت کی نئی گائیڈ لائن کے تناظر میں پولیس انتظامیہ سختی سے عمل کرتے ہوئے کارروائی کررہی ہے۔جس کی وجہ سے شہر کی معاشی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں گزشتہ روز جنتادل سیکولر کی کار گزار صدر شان ہند نہال احمد کی قیادت میں خواتین نے قدوائی روڈ بازار علاقے میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا اور ہاتھوں میں نو لاک ڈاؤن کے بینر لے کر حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔اس تعلق سے سٹی پولیس اسٹیشن میں فریادی پولیس سپاہی بلہ نمبر 1955 ویلاس رمش سوریہ ونشی نے شکایت کی کہ ملزمین ساجدہ نہال احمد, شان ہند نہال احمد، محمد مستقیم ڈگنیٹی، پروفيسر رضوان امان اللہ وغیرہ گیارہ مرد اور 70 خواتین نے غیر قانونی طور سے جماؤ بندی کی اور لاک ڈاؤن کے خلاف ورزی کرتے ہوئے لوگوں کا ہجوم جمع کیا اس پر پولیس نے تمام ملزمین کے خلاف قلم 219 / 2021 / 188 / 269 / 270/ 135 / 37 / 1 / 3 /3 / 4 /5 / کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
حکومت لاک ڈاؤن سے متعلق محتاط اور سہولت والا رویہ اپنائے، عوام کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے ،جس پر قابوپانا مشکل ہوجائے گا، مساجد میں نماز با جماعت پر کلی یا جزوی پابندی بھی قبول نہیں: مولانا عبدالحمید ازہری
مالیگاؤں: 8 اپریل بروز پیر دوپہر 2 بجے کل جماعتی تنظیم کے ارکان نے سبھی مسالک کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ سٹی پولیس اسٹیشن مالیگاؤں میں پہنچ کر شہر اے ایس پی چندرکانت کھانڈوی کو لاک ڈاؤن کے خلاف ایک میمورنڈم دیا اور روبرو بات کی۔ اس موقع پر کل جماعتی تنظیم کے ترجمان حضرت مولانا عبد الحمید ازہری صاحب نے کل جماعتی تنظیم کا موقف بہت واضح انداز میں رکھا کہ ملک کے انتہائی ابتر اقتصادی حالات میں لاک ڈاؤن اب عوام کے لئے نا قابل برداشت ہے۔ مولانا نے کہا کہ شہر میں محمد علی روڈ، قدوائی روڈ، مچھلی بازار، بڑی بازار جیسے علاقوں میں چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں کو بھی حکومت اگر کاروبار سے روکتی ہے تو اس کا رد عمل عوام کی جانب سے بہت شدید ہوگا جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ روز کمانے روز کھانے والوں کو بھی کاروبار سے روک دینا دراصل انہیں موت کے منہ میں ڈھکیلنا ہے جو کسی ظالم و سفاک حکومت ہی کا شیوہ ہو سکتا ہے۔ کل جماعتی تنظیم کا یہ احساس ہے کہ اس مرتبہ لاک ڈاؤن میں اب اصحاب خیر اور متوسط طبقہ گذشتہ کی طرح عوام کہ امداد بھی نہیں کر سکے گا کہ مسلسل ایک سال سے ان کے کاروباری حالات بھی خراب ہیں۔ اسلئے حکومت لاک ڈاؤن کے بارے میں محتاط اور سہولت والا رویا اپنائے۔ نیز مولانا نے کہا کہ مساجد میں نماز با جماعت پر کلی یا جزوی پابندی بھی قبول نہیں اسلئے کہ مسجدیں اللہ کے لئے وقف ہوتی ہیں جہاں عبادت کے لئے آنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ رمضان المبارک میں پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ مساجد میں تراویح اور اعتکاف کا بھی اہتمام ہوتا ہے جس سے مسلمان دست بردار نہیں ہو سکتے۔ اسلئے مساجد کو نوٹس دینا بند کیا جائے۔ اگر لاک ڈاؤن ضروری ہو تو صرف رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک لگایا جائے۔ یوسف الیاس نے کہا کہ مالیگاؤں کے علماء کرام نے ہمیشہ حالات کو قابو میں رکھنے میں پالیس کی معاونت کی ہے بلکہ بعض موقعوں پر پولس کو پبلک کے عتاب سے بچایا ہے۔ لیکن آج پولس لاک ڈاؤن کے نام پر بے جا سختیاں شروع کر رہی ہے۔ کاروبار بند کرایا جا رہا ہے۔ رمضان کی آمد کی مناسبت سے بیوپاریوں نے بہت کچھ مال جمع کیا ہے۔ اب اگر کاروبار بند کارایا جائے گا تو آپ بتائیے کہ ان کا کیا ہوگا۔ شہر مالیگاؤں حساس شہر ہے۔ پبلک اگر مشتعل ہو گئی تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔یوسف سیٹھ نیشل والے نے کہا کہ گورنمنٹ کی گائڈ لائن میں weak lockdown کا ذکر ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں تو strong lockdown ہے۔ لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری جانب کل جماعتی تنظیم عوام سے یہ بھی اپیل کرتی ہے کہ کورونا کی اس مہاماری میں بلا ضروت گھروں سے باہر نکل کر بھیڑ بھاڑ کرنے سے پرہیز کریں، ماسک لگا کر ہی باہر نکلیں، سوشل ڈسٹینسنگ کا حتی الامکان اہتمام کریں۔ دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ نیز سماجی خدمت کے میدان میں پیش پیش رہیں۔کل جماعتی تنظیم عام ائمہ کرام سے یہ اپیل کرتی ہے کہ مساجد میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں نیز مسلمان اپنے گھروں میں دعاؤں کا، سورہ یس شریف کے ختم کا اور آیت کریمہ کے ورد کا اہتمام کریں۔ آج کی اس ملاقات میں کل جماعتی تنظیم کے اراکین و علماء کی ایک بڑی تعداد شریک رہی۔
کیا انتظامیہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرے گی؟اگر انتظامیہ اپنی روش پر قائم رہی تو لیڈران کا اگلا قدم کیا ہوگا؟کیا رمضان المبارک ایک بار پھر لاک ڈاؤن میں گزرے گا؟
مالیگاؤں: شہر میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے خلاف عوام اور سیاسی لیڈران میدان میں اتر چکے ہیں۔گذشتہ روز شیخ رشید اور مستقیم ڈگنٹی نے لاک ڈاؤن کے خلاف مارچ کیا اور گرفتاری دینے کی بات کہی۔آج مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر ڈاکٹر خالد پرویز نے امبیڈکر مجسمہ کے پاس احتجاجی دھرنا دیا۔عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس دھرنا میں شرکت اور لاک ڈاؤن نہیں چاہیے، تمام دکانیں کگول دو جیسے نعرے لگائے۔لیکن اس احتجاج کے باوجود پولیس انتظامیہ نے تمام دکانوں کو بند کروادیا۔واضح رہے کہ ریاست میں کرونا کے معاملات دوبارہ بڑھنے کے سبب مختلف علاقوں میں جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔حکومت نے 4 اپریل کو نئی گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ میڈیکل خدمات، اناج اور لازمی ضروریات زندگی کی خرید وفروخت جاری رہے گی اس کے علاوہ تمام دکانیں بند رکھی جائیں گی۔شام سات سے صبح سات بجے تک کرفیو نافذ کیا جائے گا۔ لیکن گذشتہ دو روز سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ پولیس انتظامیہ صبح سے ہی دکانیں بند کروارہی ہے۔قدوائی روڈ، بھنگار بازار اور دیگر کاروباری علاقوں میں تمام دکانوں کو بند کروادیا گیا۔رمضان المبارک کے پیش نظر کاروباری افراد اور دکانداروں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔گذشتہ سال رمضان لاک ڈاؤن میں گذرا جس کے سبب کاروبار بری طرح متاثر ہوا تھا اور اب دوبارہ رمضان کے آغاز سے قبل ہی لاک ڈاؤن نافذ کرنے تیاری کی جارہی ہے۔جزوی لاک ڈاؤن اور نائٹ کرفیو کے بعد اب دن میں بھی دکانوں کو بند کروایا جارہا ہے۔دکانداروں اور سیاسی لیڈران نے احتجاج کا راستہ اپنایا گرفتاری پیش کرنے کا عندیہ دیا اس کے باوجود انتظامیہ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔آج مجلس اتحاد المسلمین لیڈر خالد پرویز نے احتجاجی دھرنا کے دوران کہا کہ آج کا یہ دھرنا علامتی دھرنا ہے۔ حکومت نے بریک دی چین کے نام منی لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے جو حقیقی معنوں میں مکمل لاک ڈاؤن ہی ہے۔حکومت کی نئی گائیڈ کے مطابق صرف لازمی اشیاء کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت ہوگی۔ڈاکٹر خالد پرویز نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے سبب چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں اور یومیہ اجرت پر مزدوری کرنے والے مزدوروں کی کمر ٹوٹ گئی تھی۔عام آدمی کرو یا مرو کی حالت میں زندگی گزارنےپر مجبور ہے۔آج لوگ کرونا سے کم اور بھکمری سے زیادہ مر رہے ہیں۔ڈاکٹر خالد نے حکومت سے اپیل کی کہ منی لاک ڈاؤن کے نام جو لاک ڈاؤن ناگذ کیا گیا ہے اسے ختم کیا جائے۔مالیگاؤں ایک ایسا شہر ہے جہاں محنت مزدوری کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بستی ہے۔90 فیصد لوگ روز کماتے اور روز کھاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی عوام گذشتہ سال کے لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصانات سے ابھر نہیں سکی ہے اسلئے ایک اور لاک ڈاؤن انہیں مزید مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔آج اس بات کا احساس ہوا کہ شہر کی عوام اور شہر کا امن وامان سیاست سے ضروری ہے۔ اس اقدام سے قبل ہم نے انتظامیہ اور ضلع کلکٹر کو آگاہ کیا، پرانت اور میوناپل کمشنر کو اطلاع دی کہ یہ جو لاک ڈاؤن نافذ کیا جارہا ہے اس پر غور کریں اور اس فیصلے میں تبدیلی لائیں۔حکومت نے کلکٹر کو اتنا اختیار دیا ہے کہ وہ مقامی حالات کے پیش نظر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے فیصلے میں رد وبدل کرسکتے ہیں۔اس لئے مالیگاؤں کی غریب اور مزدور پیشہ عوام کو کای بڑی پریشانی سے بچانے کیلئے اس فیصلے کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔



