Articles by "Viral Video"
Showing posts with label Viral Video. Show all posts

بی سی سی آئی کی جانب سے نرمی برتنے کا امکان نہیں, ہوسکتی ہے کارروائی

نئی دہلی: آئی پی ایل میں پنجاب کنگز اور راجستھان رائلز کے میچ کے دوران راجستھان رائلز کے کپتان ریان پراگ لائیو براڈکاسٹ کے دوران ڈریسنگ روم میں ویپنگ (ای-سگریٹ استعمال) کرتے نظر آئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب راجستھان رائلز ہدف کا تعاقب کر رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق 16ویں اوور کے دوران ریان پراگ اپنے ساتھی کھلاڑیوں دھرو جوریل اور یشسوی جیسوال کے ساتھ موجود تھے اور اسی دوران وہ مبینہ طور پر ویپنگ کرتے دکھائی دیے۔

قانونی طور پر اس معاملے نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ اسٹیڈیم اور ڈریسنگ روم میں سگریٹ نوشی ممنوع ہے، سوائے مخصوص مقامات کے۔ مزید یہ کہ بھارت میں ای-سگریٹ/ویپ پر Prohibition of Electronic Cigarettes Act (PECA) 2019 کے تحت پابندی عائد ہے، جس کے تحت اس کی تیاری، خرید و فروخت، درآمد، برآمد اور تشہیر سب غیر قانونی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ویپنگ صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ اس میں شامل اجزاء کے بارے میں واضح معلومات نہیں ہوتیں، خاص طور پر ایک پیشہ ور کھلاڑی کے لیے یہ زیادہ تشویش ناک ہے۔

یہ معاملہ اب مزید تحقیقات کا متقاضی ہے اور دیکھنا ہوگا کہ اس پر متعلقہ حکام کیا کارروائی کرتے ہیں۔ 'فرنچائز اور کپتان کو اپنی وجوہات تیار رکھنی ہوں گی کیونکہ اس طرح کے واقعے پر BCCI کی جانب سے نرمی برتنے کا امکان نہیں ہے۔'

​یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس سیزن میں RR (راجستھان رائلز) کسی تنازع میں گھری ہو۔ اس سے قبل، ان کے مینیجر نے ڈگ آؤٹ میں موبائل فون کا استعمال کر کے PMOA پروٹوکول کی خلاف ورزی کی تھی۔ وہ منظر بھی براہ راست نشریات کے دوران کیمرے میں قید ہو گیا تھا اور مکمل چھان بین کے بعد BCCI نے منیجر کو تنبیہ کی تھی اور جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔"

بوائے فرینڈ سے جھگڑے کے بعد لڑکی نے دو مرتبہ خودکشی کی کوشش کی، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوا

مستعد ریلوے پروٹیکشن فورس(آر پی ایف) اہلکار کی بہادری ایک 22 سالہ لڑکی کی جان بچ گئی،جس نے سنیچر کے روز بائیکلہ ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے سامنے آکر خودکشی کرنے کی کوشش کی. 22 سالہ لڑکی نے مبینہ طور پر دو مرتبہ ٹرین کے سامنے آکر خودکشی کرنے کی کوشش کی. 5 بج کر 55 منٹ پر جب لڑکی نے خودکشی کی پہلی کوشش کی تب مسافروں نے ٹرین کا ہارن سن کر مداخلت کرتے ہوئے لڑکی کو ریلوے ٹریک سے ہٹایا. لڑکی کو مسافر ٹریک سے ہٹا کر پلیٹ فارم نمبر ایک پر لائے اسی اثناء میں لڑکی اچانک بھاگ کر دوبارہ ریلوے ٹریک پر پہنچ گئی. اس ٹریک پر سی ایس ٹی جانے والی ٹرین آرہی تھی. لڑکی کی اس دوسری خودکشی کی کوشش کا ایک مسافر نے ویڈیو ریکارڈ کرلیا.

ویڈیو میں لڑکی کو ریلوے ٹریک پر آتی ہوئی ٹرین کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے. حالانکہ ٹرین کے موٹر مین نے وارننگ ہارن بجانا شروع کردیا. اسی کے ساتھ موٹر مین نے ٹرین کا ایمرجنسی بریک لگایا جس کی وجہ سے ٹرین رکنے لگی. اس کے باوجود لڑکی سب کچھ نظر انداز کرتے ہوئے ٹریک پر ٹرین کی سمت بڑھتی گئی.

اس موقع پر بہادر آر پی ایف اہلکار دوڑتا ہوا ٹریک پر گیا اور لڑکی کو کھینچ کر ٹرین کے آگے سے ہٹایا. اس بہادر آر پی ایف اہلکار کی شناخت رویندرا سناپ کے طور پر ہوئی ہے.

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والی لڑکی دادر کی رہنے والی ہے، بوائے فرینڈ سے جھگڑا ہونے پر اس نے خودکشی کی کوشش کی. اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے بوائے فرینڈ نے شادی سے انکار کردیا ہے. جبکہ بوائے فرینڈ نے کہا کہ وہ شادی کیلئے تیار ہے لیکن فوری طور پر نہیں کرسکتا. جبکہ لڑکی اس سے فوری طور پر شادی کا مطالبہ کررہی ہے.

ٹوئیٹر صارفین نے ناراضگی کا اظہار کیا، نصرت فتح علی خان کے مینجر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا یہ نصرت میری جان ہے

پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے اس میں وہ نشے میں دھت ہیں اور اپنے مرحوم چچا نصرت فتح علی خان کے منیجر کو نصرت فتح علی خان کہہ کر پکار رہے ہیں۔ اس ویڈیو کی وجہ سے راحت ٹرولز کے نشانے پر آگئے ہیں۔

 ٹوئیٹر پر شیئر کی گئی ویڈیو میں راحت اپنے چچا نصرت فتح علی خان کے مینیجر کے ساتھ کندھے پر ہاتھ رکھ کر بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پھر انہوں نے مینیجر کو گلے لگایا اور کہا ہم ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے۔ یہ میری زندگی ہے نصرت فتح علی خان۔ مداحوں اور ٹوئیٹر صارفین کو گلوکار کا اپنے چچا کا اس طرح مذاق اڑانا پسند نہیں آیا۔ لوگوں نے اس ویڈیو کو ری ٹوئیٹ کیا ہے۔ بعض نے غصے کا اظہار کیا اور بعض نے تشویش کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگ نصرت فتح علی خان کے منیجر پر اس طرح محبت کی بارش کرنے پر راحت کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس پر راحت فتح علی خان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

گلوکار نے 16 اگست کو اپنے چچا استاد نصرت فتح علی خان کو ان کی 24 ویں برسی پر ایک پوسٹ شیئر کرکے خراج عقیدت پیش کیا تھا۔  پوسٹ میں راحت نے لکھا تھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں لاتعداد لوگوں کے دلوں کو چھوا ہے اور اپنی موت کے بعد بھی آپ اپنی موسیقی اور اپنی خاندانی میراث میں زندہ ہیں۔ آپ کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔


سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں سوئیگی ڈیلیوری بوائے گھوڑے پر سوار ممبئی کی سڑکوں پر دکھائی دیا، ڈیلیوری بوائے کو داد و تحسین ملی رہی ہے

سوئیگی ڈیلیوری بوائے کی ایک وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچارکھی ہے۔  وائرل کلپ میں ایک شخص ممبئی کی بارش میں گھوڑے پر سوار نظر آرہا ہے۔ وائرل کلپ میں یہ شخص اپنے کاندھوں پر سوئیگی بیگ اٹھائے ہوئے ہے۔  ڈیلیوری مین کو اس کی لگن کے لیے داد و تحسین ملی رہی ہے۔
  اس اسٹنٹ کے بعد سوئیگی کو بھی کافی توجہ ملی۔ تاہم سوئیگی گھوڑے پر سوار شخص کی شناخت نہیں کرسکی ہے اس لیے کمپنی نے تلاش شروع کردی ہے۔
 سوئیگی اس شخص کو 5 ہزار روپے انعام دینے کو تیار ہے جو اس گھڑ سوار کو سوئیگی بیگ سمیت تلاش کرے گا.
سوئگی نے ٹویٹر پر لکھا، یہ بہادر نوجوان اسٹار کون ہے؟ سوئیگی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ کیا وہ طوفان پر سوار ہے یا بجلی پر؟  اس بیگ میں کیا ہے جو اس کی پیٹھ پر لٹکا ہوا ہے؟ وہ بارش والے دن ممبئی کی مصروف سڑک کو پار کرنے کے لیے اتنا پرعزم کیوں ہے؟ اس نے اپنا گھوڑا کہاں کھڑا کیا تھا، جب وہ یہ آرڈر دینے گیا تھا؟


سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد وائرل ویڈو کی حقیقت سامنے آئی، ٹیکسی ڈرائیور کو طمانچے رسید کرنے والی لڑکی کے خلاف مقدمہ درج

لکھنئو کے اودھ چوراہے پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کی پٹائی کرنے والی لڑکی کی  جھوٹی کہانی کا ایک سی سی ٹی وی فوٹیج کے سبب خلاصہ ہوا۔فوٹیج سامنے آنے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ کس طرح سگنل گرین ہونے کے باوجود راستہ پار کررہی تھی، اور کار کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔اس کے بعد لڑکی نے ٹیکسی کو نقصان پہنچایا اور ڈرائیور کی سرِعام پٹائی بھی کی۔اطلاعات اور سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آمنے کے بعد ایسا کہا جارہا ہے کہ ڈرائیور بے قصور تھا،موقع پر موجود پولیس بھی یہ جانتی تھی، لیکن ڈرائیور کو ہی رات بھر پولیس اسٹیشن میں بٹھا کر رکھا گیا اور اس پر امن وامان میں مخل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے اور سوشل میڈیا کے دباؤ کے آگے پولیس کو جھکنا پڑا۔پیر کی رات ملزم لڑکی پریادرشنی یادو پر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
دراصل لکھنئو کا ایک ویڈیو گذشتہ تین روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا تھا۔ویڈیو میں ایک لڑکی ٹیکسی ڈرائیور کو پے در پے طمانچے رسید کرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔لڑکی نے ٹیکسی ڈرائیور کا موبائل بھی پٹک کر توڑ دیا۔پہلی مرتبہ ویڈیو دیکھنے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ غلطی ٹیکسی ڈرائیور کی ہوگی۔مگر پیر کے روز سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد اس کہانی کا اصل پہلو سامنے آیا۔پتہ چلا کہ لڑکی سگنل گرین ہونے کے باوجود چلتے ہوئے ٹریفک کے بیچ سڑک پار کررہی تھی۔کئی گاڑیوں سے ٹکراتے ہوئے بچی اور ایک ویگن آر گاڑی کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی اور ڈرائیور کی پٹائی شروع کردی۔جس وقت پریا درشنی ڈرائیور کو طمانچے رسید کررہی تھی وہاں ایک ٹریفک اہلکار بھی موجود تھا لیکن اس نے لڑکی پر کارروائی کرنے کی بجائے ٹیکسی ڈرائیور سعادت پر ہی کارروائی کی۔اس کے علاوہ پیروی کرنے آئے سعادت کے بھائیوں پر بھی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان کا چالان کاٹا۔لڑکی نے الزام عائد کیا تھا کہ سعادت نے اپنی کار سے اسے ٹکر ماری تھی۔
بارہویں کا رزلٹ دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں:۔۔کل بروز منگل بارہویں کے نتائج ظاہر کئے جائیں گے
جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور دکھائی دے رہا ہے کہ سعادت نے ٹکر نہیں ماری تھی۔اس کے باوجود لڑکی نے سعادت کو کار سے باہر نکالا، اس کی پٹائی کی اور اس کا موبائل فون بھی توڑ دیا۔پیر کے روز سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے شدید غصے کا اظہار کیا۔ٹوئیٹر پر #ArrestLucknowGirl
 ٹرینڈ کرنے لگا۔اس ہیش ٹیگ پر اب تک دو لاکھ سے زائد ٹوئیٹ ہوچکے ہیں۔دہلی مہیلا آیوگ کی صدر سواتی مالیوال نے بھی ٹوئیٹ کرکے خاطی لڑکی پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر ہونے والے ہنگامے کے بعد شام ہوتے ہوتے سعادت کی شکایت پر پریا درشنی کے خلاف لوٹ اور توڑ پھوڑ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔


آصف شیخ کی قیادت میں گاندھی مارکیٹ کپڑا تاجروں کی ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی سے ملاقات، شہر کو بدنام کرنے کی مذموم حرکت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

مالیگاؤں: 17 جولائی(پریس ریلیز ) جئے مہاراشٹر نیوز چینل پر ایک ویڈیو چلا کر مالیگاؤں گاندھی کپڑا مارکیٹ کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے مالیگاؤں ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی سے مطالبہ کیا کہ ویڈیو کو مالیگاؤں کے نام سے منسوب کرکے اسے وائرل کرنے اور نشر کرنے والے نیوز چینل پر فوری کرروائی کی جائے۔واضح رہے کہ گذشتہ دو روز سے جئے مہاراشٹر نیوز چینل پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے اس ویڈیو کو مالیگاؤں کی گاندھی کپڑا مارکیٹ سے منسوب کر کے مالیگاؤں اور گاندھی مارکیٹ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس پر فوری طور پر روک لگانے اور خاطی افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔این سی پی لیڈر آصف شیخ نے کہا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی نازیبا حرکات کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں، یہ واقعہ چاہے جہاں کا بھی ہو لیکن یہ گاندھی مارکیٹ مالیگاؤں کا نہیں ہے۔اسے گاندھی کپڑا مارکیٹ کے نام سے منسوب کرکے ہندو مسلم سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں شہر میں ہندو مسلم ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی، محبت اور باہمی تعاون کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد شیخ آصف نے گاندھی کپڑا مارکیٹ کے تاجروں کے ساتھ ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی سے ملاقات کی اور مذکورہ واقعہ کی تفتیش اور خاطی افراد و نیوز چینل جئے مہاراشٹر پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

 

افواہ نہ پھیلانے کی اپیل،ویڈیو مالیگاؤں کا نہیں، مزید شیئر کرنے والوں پر سخت کارروائی کا انتباہ

مالیگاؤں (نامہ نگار) گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔جس میں ہوٹل پر بیٹھے کچھ نوجوانوں کو پولس کے اہلکاروں نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے حراست میں لیا اور ان کے قبضے سے ایک پستول برآمد کی۔اس ویڈیو کو مالیگاؤں کے اکثر وبیشتر واٹس ایپ گروپوں میں یہ لکھ کر شیئر کیا جارہا ہے کہ یہ ویڈیو مالیگاؤں منماڑ چوپھلی پر واقع سیما ہوٹل کا ہے۔اس معاملے میں مالیگاؤں پولس انتظامیہ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو مالیگاؤں شہر کا نہیں ہے بلکہ یہ ویڈیو گجرات کے کسی علاقے کا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں پولیس انتظامیہ نے شہریان سے خاص طور پر نوجوان طبقہ سے یہ اپیل کی کہ اس ویڈیو کو مالیگاؤں کا بتاکر شیئر نہ کیا جائے یہ ویڈیو مالیگاؤں کا نہیں ہے۔اگر اس ویڈیو کو مزید شیئر کیا گیا تو شئیر کرنے والے افراد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔پولس انتظامیہ نے اپیل کی ہے کہ افواہ پر دھیان نہ دیں اور افواہ نہ پھیلائیں۔