Articles by "Twitter Handle"
Showing posts with label Twitter Handle. Show all posts

زبیر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے تشویشناک بتایا، زبیر اور ان کی ویب سائٹ AltNews نے گزشتہ چند برسوں میں جعلی خبروں کی نشاندہی کی ہے اور پروپیگنڈے کو روکنے کی کوشش کی ہے: ایڈیٹرز گلڈ

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے پیر کے روز آلٹ نیوز کے شریک بانی اور فیکٹ چیکر محمد زبیر کو دیر رات براڑی علاقے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور وہاں سے انہیں ایک دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا.

یہ بھی پڑھیں:...... ممبئی: کرلا میں چار منزلہ عمارت منہدم، ایک ہلاک متعدد زخمی
محمد زبیر کی گرفتاری کے بعد دہلی پولیس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔  کانگریس، سماجوادی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے بعد اب ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کا بیان سامنے آیا ہے۔  ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے زبیر کی گرفتاری کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے محمد زبیر کو مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔  دہلی پولیس کی

 IFSO

 یونٹ نے انہیں دفعہ 153

A اور 295A

 تحت گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری پیر (27 جون) کو کی گئی، جس کے بعد عدالت نے انہیں ایک دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا۔
زبیر کی گرفتاری پر قانونی عمل سے لے کر دیگر پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں. ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں 2018 کے ایک ٹوئیٹ کے لیے محمد زبیر کی گرفتاری کی مذمت کی گئی ہے. ایڈیٹرز گلڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ دہلی پولیس اسپیشل سیل نے 2020 کے ایک معاملے میں زبیر کو پوچھ تاچھ کیلئے بلایا تھا. اس معاملے میں پہلے ہی دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے گرفتاری پر روک لگائی گئی ہے. حالانکہ جب زبیر نے سمن کا جواب دیا تو انہیں 2018 کے ایک مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی پوسٹ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا. یہ الزامات ایک گمنام ٹوئیٹر صارف کی جانب سے لگائے ہیں. ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے کہا کہ زبیر کو تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اور 295 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن ہے۔ کیونکہ زبیر اور ان کی ویب سائٹ AltNews

 نے گزشتہ چند برسوں میں جعلی خبروں کی نشاندہی کی ہے اور پروپیگنڈے کو روکنے کی کوشش کی ہے.
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ AltNews

 کی فعالیت کی مخالفت ان لوگوں نے کی تھی جو معاشرے کو پولرائز کرنے اور پروپیگنڈہ پھیلانے میں ملوث تھے۔  ایڈیٹرز گلڈ نے بھی نوپور شرما کا نام لیے بغیر اس معاملے کا ذکر کیا۔  آپ کو بتاتے چلیں کہ محمد زبیر نے نوپور شرما کی ٹی وی ڈیبیٹ کی ویڈیو شیئر کی تھی جس کے بعد معاملے نے آگ پکڑ لی۔ محمد زبیر کی گرفتاری کو غلط قرار دیتے ہوئے ایڈیٹرز گلڈ نے دہلی پولیس سے زبیر کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


 دہلی کی 9 سالہ عصمت دری متاثرہ کے والدین کی تصاویر ٹوئیٹر پر شیئر کرنے کے خلاف قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس اور ٹوئیٹر سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا

کانگریس نے دعوی کیا ہے کہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئیٹر نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی مدت کیلئے سسپینڈ کردیا ہے۔کانگریس پارٹی کے آفیشل ٹوئیٹر ہینڈل کے ذریعے اس کی اطلاع دی گئی ہے۔کانگریس پارٹی ذرائع نے کہا کہ راہل گاندھی کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کو بحال کرنے کیلئے ضروری کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

حالانکہ اب تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ کس وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا ہے۔حالانکہ ٹوئیٹر نے کانگریس پارٹی کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔کانگریس نے ٹوئیٹر ہینڈل پر کہا کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی مدت کیلئے بند کیا گیا ہے اسلئے جب تک ان کا اکاؤنٹ بحال نہیں ہوجاتا وہ دیگر سوشل میڈیا ذرائع سے لوگوں سے رابطہ میں رہیں اور لوگوں کے مسائل اٹھاتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔گرل فرینڈ کے شادی سے انکار کے بعد نوجوان نے خودکشی کرلی

ٹوئیٹر ترجمان نے این ڈی ٹی وی سے بات چیت کے دوران کہا کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی اکاؤنٹ کو بند کیا جاتا ہے تو اسے دیکھا نہیں جاسکتا۔ایسی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ ماضی قریب میں راہل گاندھی کے ذریعے کئے گئے ایک ٹوئیٹ کی بنا پر مذکورہ کارروائی کی گئی ہے۔دراصل کچھ روز قبل راہل گاندھی نے عصمت دری کی شکار دہلی کی ایک 9 سالہ بچی کے والدین سے ملاقات کی تھی اور اس کی تصاویر اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔اس ٹوئیٹ میں متاثرہ کے والدین کی شناخت اجاگر ہورہی تھی، جس کے بعد قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس اور ٹوئیٹر سے اس کی شکایت کی تھی۔قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس کو خط لکھ کر اس معاملے میں پوسکو ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔جس کے بعد سنیچر کی رات ٹوئیٹر نے اس پوسٹ کو حذف کردیا تھا۔