Articles by "Delhi Government"
Showing posts with label Delhi Government. Show all posts

رابطہ بھی نہیں ہوسکا، بی جے پی ہمارے 40 ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے، 20-20 کروڑ کی پیشکش،بی جے پی 800 کروڑ خرچ کرکے دہلی حکومت گرانا چاہتی ہے: اروند کیجریوال 

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے عام آدمی پارٹی ممبران اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی۔ ذرائع کے مطابق 9 اراکین اسمبلی اس میٹنگ میں نہیں پہنچے۔ پارٹی ہائی کمان کا ان سے رابطہ بھی نہیں ہو سکا۔ 70 سیٹوں والی دہلی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے پاس 62 اور بی جے پی کے پاس 8 سیٹیں ہیں۔ یہاں میٹنگ کے بعد عآپ کے چیف ترجمان سوربھ بھردواج نے کہا کہ دہلی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔  حکومت مستحکم ہے اور جو ایم ایل اے نہیں آئے وہ اپنے نجی کام سے باہر چلے گئے ہیں۔ بی جے پی نے ہمارے 12 ایم ایل ایز کو پارٹی چھوڑنے کی پیشکش کی ہے۔ سوربھ نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا اور اسمبلی کے اسپیکر رام نواس گوئل بھی میٹنگ میں نہیں پہنچے۔  سسوڈیا ہماچل پردیش گئے ہیں۔

میٹنگ کے بعد کیجریوال راج گھاٹ پہنچے اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہمارے 40 ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تمام ایم ایل ایز کو 20-20 کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ بی جے پی 800 کروڑ خرچ کرکے دہلی حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔ بدھ کو عآپ لیڈر سنجے سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کر کے آپریشن لوٹس کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہمارے ایم ایل ایز کو پیشکش کی ہے۔ آفر یہ تھی کہ اگر آپ AAP چھوڑیں گے تو 20 کروڑ دیں گے اور دوسروں کو ساتھ لائیں گے تو 25 کروڑ دیں گے۔  سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی نے ہمارے ایم ایل ایز سنجیو جھا، سومناتھ بھارتی، کلدیپ کمار اور ایک اور ایم ایل اے کو پارٹی چھوڑنے کے لیے 20 کروڑ روپے کی پیشکش کی ہے۔ سومناتھ بھارتی بھی سنجے سنگھ کے ساتھ پریس کانفرنس میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی والوں نے مجھے بتایا کہ عآپ کے مزید 20 ایم ایل ایز ہمارے رابطے میں ہیں۔


 دہلی حکومت کا اہم اعلان، تمام نجی اسکولوں کو حکم جاری، سرپرست کتنے مطمئن یہ تو وقت ہی بتائے گا

دہلی: اروند کیجریوال حکومت نے پرائیوٹ اسکولوں کی من مانی فیس وصولی کے معاملے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔جمعرات کے روز دہلی حکومت نے حکم جاری کیا کہ راجدھانی میں جاری تمام پرائیوٹ اسکول اپنی فیس میں 15 فیصد کی تخیف کریں گی۔یہ حکم گذشتہ سال کے تعلیمی سال 2020 اور 2021 کیلئے لاگو کئے گئے ہیں۔حکومت نے اپنے حکمانہ میں یہ بھی کہا کہ اگر اسکولوں نے سرپرستوں سے زیادہ فیس وصول کی ہے تو انہیں لوٹانا ہوگا یا آئندہ سال میں اسے ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔کرونا وباء کے سبب اروند کیجریوال حکومت کے اس فیصلے سے سرپرستوں کو کچھ راحت ضرور حاصل ہوگی۔جمعرات کے روز نائب وزیراعلی منیش سسوڈیا نے کہا کہ کرونا کے اس دور میں سرپرست معاشی تنگی کا شکار ہیں، ایسے میں اسکول فیس میں 15 فیصدی کی تخفیف سے سرپرستوں کو بڑی راحت ملے گی۔مثال کے طور پر اگر 2020-2021 میں اسکول کی ماہانہ فیس 3 ہزار روپے تھی تو 15 فیصد تخفیف کے بعد اسکول سرپرستوں سے 2550 روپے ہی وصول کرسکتے ہیں۔حکومت کے اعلان کے مطابق اگر اسکولوں نے زیادہ فیس وصول کی ہے تو انہیں لوٹانا ہوگا یا آئندہ سال میں ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔اسکے علاوہ اسکول انتظامیہ سرپرستوں کی معاشی تنگی کے سبب بقایا فیس کی ادائیگی نہیں کرنے پر کسی بھی اسکولی سرگرمی میں بچوں کو حصہ لینے سے نہیں روک سکتی۔حکومت کا یہ حکم ان تمام 460 اسکولوں پر لاگو ہوگا جنہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔باقی تمام اسکولوں کو دہلی حکومت کی جانب سے 18 اپریل 2020 اور 28 اپریل 2020  کو جاری کئے گئے حکم پر عمل کرنا ہوگا۔حالانکہ فیس میں صرف 15 فیصد تخفیف سے سرپرست کتنے مطمئن ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔