گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے فیصلے کی مخالفت کی, فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

دہلی میں 142 اساتذہ کو لے کر بڑا تنازع سامنے آیا ہے۔ ان اساتذہ پر الزام ہے کہ انہوں نے مردم شماری (Census) کے کام میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ اس کے بعد پرانی دہلی کے ضلع مجسٹریٹ نے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کو خط لکھ کر ان کی خدمات فوری طور پر ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.......تربوز کھانے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت

ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 16 اپریل کو ہی اساتذہ کو اطلاع دے دی گئی تھی کہ مردم شماری کا کام لازمی ہے اور تعاون نہ کرنے پر کارروائی ہوگی۔ اس کے باوجود 142 اساتذہ نے ذمہ داری لینے سے انکار کیا، جسے انتظامیہ نے سنگین لاپروائی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسے معاملات کو نظرانداز کیا گیا تو دیگر ملازمین پر بھی غلط اثر پڑے گا۔ دہلی کے وزیر تعلیم آتشی نے کہا کہ مردم شماری ملک کے لیے نہایت اہم کام ہے اور سب کو اس میں تعاون کرنا چاہیے، تاہم خصوصی حالات میں معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب متعلقہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ملازمت ختم کرنے کا کوئی سرکاری نوٹس نہیں ملا۔ دہلی گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اساتذہ سالانہ کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں جو 8 مئی کو ختم ہونا ہے، اور انہوں نے جان بوجھ کر کام سے انکار نہیں کیا۔

اساتذہ نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 8 سال سے ان کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ موجودہ معاوضہ اتنا کم ہے کہ روزمرہ اخراجات بھی مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ کارروائی واپس لی جائے، باقاعدہ تنخواہ دی جائے اور مردم شماری ڈیوٹی کے لیے اضافی معاوضہ بھی دیا جائے۔

اساتذہ یونین کے مطابق سخت کارروائی سے ان کے معاشی حالات اور حوصلے دونوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: