Articles by "New Delhi"
Showing posts with label New Delhi. Show all posts

पिछड़े वर्गों तक योजनाएं पहुँचाने पर जोर,शिक्षा व सामाजिक जागरूकता पर बना रोडमैप

संविधान जागरूकता और शिक्षा अभियान को मिलेगा नया विस्तार

नई दिल्ली, 31 जुलाई: नई दिल्ली स्थित इंडिया इस्लामिक कल्चरल सेंटर (IICC) में 30 जुलाई को मुस्लिम वेलफेयर एसोसिएशन के राष्ट्रीय पदाधिकारियों की एक महत्वपूर्ण बैठक राष्ट्रीय अध्यक्ष सलीम सारंग की अध्यक्षता में संपन्न हुई। बैठक में संगठन को देशभर में और अधिक सशक्त एवं प्रभावी बनाने के साथ-साथ समाज के वंचित वर्गों के उत्थान को लेकर विभिन्न विषयों पर व्यापक चर्चा की गई।

बैठक में विशेष रूप से समाज के पिछड़े वर्गों, युवाओं एवं महिलाओं को संगठन से जोड़कर शिक्षा के क्षेत्र में प्रभावी कार्य करने की रणनीति पर विस्तार से विचार-विमर्श हुआ। साथ ही संविधान द्वारा प्रदत्त अधिकारों एवं कानूनी प्रावधानों की जानकारी जन-जन तक पहुँचाकर समाज में जागरूकता बढ़ाने तथा सामाजिक सशक्तिकरण को गति देने पर बल दिया गया।

इस दौरान केंद्र एवं राज्य सरकार की विभिन्न जनकल्याणकारी योजनाओं का लाभ समाज के पिछड़े एवं जरूरतमंद वर्गों तक प्रभावी ढंग से पहुँचाने के लिए संगठित रूप से कार्य करने की आवश्यकता पर भी जोर दिया गया। पदाधिकारियों ने इस दिशा में जनजागरण अभियान चलाने और संगठन के माध्यम से लोगों को योजनाओं की जानकारी उपलब्ध कराने का संकल्प व्यक्त किया।

बैठक में उपस्थित सभी राष्ट्रीय एवं राज्य स्तरीय पदाधिकारियों ने अपने-अपने सुझाव एवं विचार साझा किए तथा संगठन को देशभर में अधिक सशक्त, सक्रिय और जनसेवा के प्रति समर्पित बनाने का संकल्प लिया। राष्ट्रीय अध्यक्ष सलीम सारंग ने अपने मार्गदर्शन में संगठन की एकजुटता, अनुशासन और समाजहित में निरंतर कार्य करने का आह्वान करते हुए कहा कि शिक्षा, जागरूकता और सेवा के माध्यम से ही समाज का समग्र विकास संभव है।

बैठक में संगठन के राष्ट्रीय उपाध्यक्ष एवं पूर्व मंत्री मोहम्मद निसार, राष्ट्रीय उपाध्यक्ष मोहिबुल्लाह खान, दिल्ली स्टेट प्रेसिडेंट सलीम अहमद, राष्ट्रीय महासचिव एवं प्रवक्ता सतवीर सिंह जाटव, राष्ट्रीय सरचिटणीस सूफी मोहम्मद शफीक खान, मुंबई जनरल सेक्रेटरी (नॉर्थ ईस्ट) सूफी गुलाम खान, पश्चिमी उत्तर प्रदेश अध्यक्ष शमशाद हुसैन, मंडल अध्यक्ष (मुरादाबाद) मुशाहिद हुसैन, नासिर हुसैन, सय्यद मोहम्मद, सय्यद अनवर, तसलीम खान, एडवोकेट सोहेल, मोहम्मद नवेद, डॉ. बी. डी. खान तथा मोहम्मद मेहरास सहित अनेक पदाधिकारी उपस्थित रहे।

گذشتہ دنوں آئی اے ایس کی تیاری کرنے والے تین طلباء کی ایک کوچنگ سینٹر پر ڈوب کر موت ہوجانے کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن کی کارروائی

نئی دہلی:  دہلی میونسپل کارپوریشن نے مکھرجی نگر میں واقع مشہور آئی اے ایس گرو وکاس دویہ کریتی کے کوچنگ سینٹر "درشٹی آئی اے ایس" کو سیل کردیا ہے. مذکورہ کارروائی اولڈ راجندر نگر میں ایک سیلف اسٹڈی سینٹر میں ڈوبنے سے تین طلباء کی موت کے دو دن بعد ہوئی ہے. درشٹی آئی اے ایس سینٹر نہرو ویہار میں وردھمان مال کے بیسمنٹ میں جاری تھا. سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کوچنگ سینٹر کو سیل کیا گیا ہے. دہلی میونسپل کارپوریشن نے کوچنگ سینٹروں کی جانچ تیز کردی ہے. کارپوریشن کی جانب سے پیر کے روز دہلی کے مکھر جی نگر میں سینٹروں کو سیل کرنے کی مہم شروع کی گئی.

شرد پوار نے منی پور کی طرح مہاراشٹر میں بھی ممکنہ تشدد پر تشویش ظاہر کی

دہلی کارپوریشن کی سول لائن زون کی ٹیم مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ پیر کی صبح ساڑھے دس بجے مکھر جی نگر کے نہرو ویہار پہنچی. یہاں وردھمان مال کے تہہ خانے میں جاری درشٹی آئی اے ایس سینٹر کو سیل کرنے کی کارروائی کی گئی.اس دوران حفاظتی نقطہ نظر سے پولیس کی مکمل ٹیم موجود تھی. واضح رہے کہ سینٹروں کو سیل کرنے کی کارروائی سول سروسز کی تیاری کررہے تین طلباء کے اولڈ راجندر نگر میں واقع ایک کوچنگ سینٹر کے بیسمنٹ میں پانی بھر جانے کے سبب موت ہوجانے کی وجہ سے کی گئی. شدید بارش کے سبب وسطی دہلی کے اولڈ راجندر نگر میں راؤ آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر کے بیسمنٹ میں پانی بھر جانے کے سبب کوچنگ سینٹر کا واحد بایو میٹرک داخلی دورازہ اور خارجی دورازہ کھل نہیں سکا تھا.

دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ایک افسر نے بتایا کہ علاقے میں غیر قانونی طور پر تہہ خانے (بیسمنٹ) کا استعمال کرنے والوں پر کارروائی کیلئے اسی طرح کی مہم چلائی جائے گی. مکھر جی نگر کے ایک کوچنگ سینٹر میں یو پی ایس کی پڑھائی کررہے طالب علم نے بتایا کہ سنیچر کو ہونے والے واقعے کے بعد اکثر کوچنگ سینٹر کی لائبریری بند کردی گئی ہے. طالب علم نے مزید بتایا کہ مجھے دیڑھ ماہ بعد یو پی ایس سی مینز کے امتحان میں شرکت کرنا ہے اور کوچنگ سینٹر کی لائبریری بند کردی گئی ہے. میری ساری کتابیں اور تیاری کے سامان لائیبریری میں ہیں مجھے اپنی کتابیں لینے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے .

اگر دیگر جماعتوں کی حکومت گرانے پر اتنا خرچ نہیں کیا گیا ہوتا تو غذائی اشیاء پر جی ایس ٹی لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی: وزیراعلیٰ دہلی

نئی دہلی: دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے دعویٰ کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اگر دوسری سیاسی جماعتوں کی حکومتیں گرانے کے لئے 6300 کروڑ روپے کی بھاری رقم خرچ نہ کی ہوتی تو مرکز کو غذائی اشیاء پر جی ایس ٹی لگانا نہ پڑتا۔

کجریوال نے ایک دن قبل بی جے پی کو ریاستی حکومتوں کی سیرئیل کلر قراردیا تھا۔ دہلی اسمبلی میں اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ بی جے پی، جی ایس ٹی کے ذریعہ اور پٹرول و ڈیزل کی دام بڑھانے سے حاصل رقم اراکین اسمبلی کے شکار پر خرچ کررہی ہے۔

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر نے سنیچر کو الزام عائد کیا کہ عوام مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں جبکہ بی جے پی کروڑوں روپے دوسری جماعتوں کے اراکین اسمبلی کو خریدنے اور ان کی حکومتیں گرانے پر خرچ کررہی ہے۔

ٹوئیٹ میں کجریوال نے کہا کہ دہی، چھاچھ اور شہد، گیہوں، چاول وغیرہ پر جی ایس ٹی لگادیا گیا جس سے مرکزی حکومت کو سالانہ 7500کروڑ روپے کی آمدنی ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومتیں گرانے پر تاحال 6300 کروڑ روپے خرچ کرچکی ہے۔

اگر اس نے حکومتیں نہ گرائی ہوتی تو گیہوں، چاول، چھاچھ وغیرہ پر جی ایس ٹی لگانا نہ پڑتا۔ نائب وزیر اعلیٰ دہلی منیش سسوڈیا کے خلاف سی بی آئی کیس کے بعد سے عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان الزام تراشیوں اور بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے۔


سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے: اروند کیجریوال 

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ پر سی بی آئی کے چھاپے کے بعد وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے. انہوں نے کہا کہ اس قبل بھی سی بی آئی کے چھاپے پڑتے تھے، سابقہ کی طرح اس بار بھی کچھ نہیں ملے گا.

واضح رہے کہ آج جمعہ کی صبح دہلی ایکسائز پالیسی کے سلسلے میں سی بی آئی نے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ سمیت 10 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔

غورطلب ہے کہ جس دن دہلی کے تعلیمی ماڈل کو سراہا گیا اور منیش سسوڈیا کی تصویر امریکہ کے سب سے بڑے اخبار دی نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر شائع ہوئی، مرکز نے منیش کی رہائش گاہ پر سی بی آئی بھیج دی. اروند کیجریوال نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ سی بی آئی کا خیرمقدم ہے، تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے. اس سے قبل بھی چھاپے مارے گئے اور تفیش ہوئی لیکن کچھ نہیں ملا. اس مرتبہ بھی کچھ نہیں ملے گا.

بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے کام کرنے والوں کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ابھی تک نمبر ون نہیں بن سکا: منیش سسوڈیا

آج بروز جمعہ سی بی آئی ٹیم دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسوڈیا کے گھر پہنچی۔ منیش سسوڈیا نے ٹویٹ کر کے کہا آپ کا استقبال ہے۔  انہوں نے کہا کہ اچھا کام کرنے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ہم ایماندار ہیں، تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دہلی میں نئی ​​ایکسائز پالیسی کی سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی تھی۔ اس کے بعد ہی یہ کارروائی ہو رہی ہے۔ سسوڈیا نے ٹوئیٹ کیا کہ سی بی آئی آگئی ہے۔ ان کا استقبال ہے. ہم ایماندار ہیں. لاکھوں بچوں کا مستقبل بنانا۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے کام کرنے والوں کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ابھی تک نمبر ون نہیں بن سکا۔ ہم سی بی آئی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ جلد حقیقت سامنے آسکے۔ اب تک میرے خلاف کئی مقدمات درج ہوئے لیکن کچھ نہیں نکلا۔ اس سے بھی کچھ نہیں نکلے گا۔ ملک میں اچھی تعلیم کے لیے میرا کام نہیں روکا جا سکتا۔  یہ لوگ دہلی کی تعلیم اور صحت کے شاندار کام سے پریشان ہیں۔ اسی لیے دہلی کے وزیر صحت اور وزیر تعلیم کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ تعلیم اور صحت کے میدان میں اچھے کام کو روکا جا سکے۔ ہم دونوں پر جھوٹے الزامات ہیں۔ عدالت میں سچ سامنے آجائے گا۔

کانگریس 5 اگست کو "چلو راشٹریہ پتی بھون" کے نام سے ملک گیر احتجاج اور وزیراعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرے گی

دہلی: کانگریس پارٹی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے معاملے پر مودی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی اس معاملے پر 5 اگست کو ملک گیر سطح پر زبردست احتجاج کرے گی۔ دہلی میں پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ ان مسائل پر اپنا احتجاج درج کرائیں گے اور ’’چلو راشٹرپتی بھون‘‘ کے نام سے یہ احتجاج پارلیمنٹ سے شروع ہوگا۔اس دن سی ڈبلیو سی ممبران اور پارٹی کے سینئر لیڈر بھی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کریں گے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.... نڈا کے بیان نے بی جے پی کے چہرے سے نقاب اتار دیا، بی جے پی آمریت کی طرف بڑھ رہی ہے: ادھو ٹھاکرےmain-in-the-Country-and-All-Other-Political-Parties-will-be-Destroyed.html

5 اگست کو کانگریس پارٹی دارالحکومت میں راج بھون کا بھی گھیراؤ کرے گی۔ اس احتجاج کے دوران ایم ایل اے، ایم ایل سی، سابق ایم پی اور سینئر لیڈروں سے پارٹی کی جانب سے راج بھون کے گھیراؤ میں شامل ہونے کو کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین سے کہا گیا ہے کہ وہ چلو راشٹرپتی بھون کے نام پر مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کریں۔ ساتھ ہی اسی دن پی ایم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کا بھی منصوبہ ہے اور اس دوران کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر بھی موجود رہیں گے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے کانگریس پارٹی مہنگائی اور بے روزگاری کا مسئلہ زور و شور سے اٹھا رہی ہے ۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی مہنگائی اور بے روزگاری کے معاملے پر اکثر پی ایم مودی اور بی جے پی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ دو دن پہلے بھی انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بنایا تھا اور ٹوئیٹ کیا تھا، 22 کروڑ نوجوان، 8 سال میں سرکاری نوکریوں کے لیے قطار میں لگے ہوئے، 7.22 لاکھ کو نوکری ملی، یعنی 1000 میں سے صرف 3، راجہ سے جب بے روزگاری پر سوال پوچھا جاتا ہے، تو راجہ ناراض ہو جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ روزگار فراہم کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔


یوپی اے ٹی ایس نے نوئیڈا سے حراست میں لیا، تبدیلئ مذہب سنڈیکیٹ سے منسلک ہونے اور بیرون ممالک سے آنے والے فنڈ کو مذہب تبدیل کرنے والوں میں تقسیم کرنے کا الزام
لکھنئو: اترپردیش پولیس کی اے ٹی ایس نے غیر قانونی تبدیلی مذہب معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے مولانا عمر گوتم کے بیٹے عبداللہ گوتم کو گرفتار کرلیا ہے۔اطلاعات کے مطابق پولیس نے عبداللہ کو نوئیڈا سے گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق تبدیلی مذہب سنڈیکیٹ معاملے میں غیر ملکی فنڈنگ کی تفتیش میں یوپی اے ٹی ایس نے عمر گوتم اور ان کے ساتھیوں کو بیرون ملک سے حوالہ اور دیگر ذرائع سے 57 کروڑ روپے فنڈنگ کی اطلاع سامنے آئی تھی۔عمر گوتم اور ان کے ساتھی اس فنڈ کے اخراجات کی تفصیل مہیا نہیں کرسکے تھے۔بحث کے دوران یہ پتہ چلا کہ عمر گوتم کا بیٹا عبداللہ گوتم ساکن کے-47 باٹلہ ہاؤس جامعہ نگر نئی دہلی مولانا عمر گوتم کے سنڈیکیٹ سے منسلک ہے اور مذہب تبدیل کرنے والے لوگوں کو پیسہ تقسیم کرنے کے کام کی دیکھ ریکھ کرتا ہے۔عبداللہ اس سنڈیکیٹ کے معاون جہانگیر عالم، قیصر اور فراز شاہ سے براہ راست جڑا ہوا ہے اور مولانا عمر گوتم کے زیر انتظام ال فاروقی مدرسہ و مسجد اور اسلامی دعوت سینٹر( آئی ڈی سی) کے انتظامات دیکھتا ہے۔عبداللہ کے اکاؤنٹ میں بھی انہیں ہی ذرائع سے رقم آئی تھی جن سے مولانا عمر گوتم کے اکاؤنٹ میں رقم آئی تھی۔عبداللہ کے مختلف بینک اکاؤنٹس میں اب تک 75 لاکھ روپے جمع ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں لگ بھگ 17 لاکھ روپے بیرون ممالک سے آئے ہیں۔یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ عبداللہ اپنے والد اور دیگر معاونین کے ساتھ مل کر مذہب تبدیل کرنے والوں میں یہ رقم تقسیم کرتا تھا۔

 

جامعہ وائس چانسلر نجمہ اختر نے دانش کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دانش طلباء کے رول ماڈل ہیں، ان کی تصاویر اور کارہائے نمایاں طلباء کو تحریک دیتے رہیں گے

نئی دہلی: اتوار کی شام رائٹرز خبر رساں ایجنسی کی ٹیم نے افغانستان میں نیوز کوریج کے دوران جاں بحق ہونے والے اپنے ساتھی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کا جسد خاکی وصول کیا۔ آج دیر رات جامعہ قبرستان میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔جامعہ کے ذرائع نے بتایا کہ دانش کا جسد خاکی جامعہ کے قریب واقع غفار منزل ان کے والدین کے گھر لے جایا گیا جس کے بعد جامعہ مڈل اسکول میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔دانش کی جرمن بیوی وہ اس وقت جرمنی میں نہیں تھی وہ صبح کی آئی ہیں۔ذرائع نے تصدیق کی کہ اتوار کی سہ پہر دانش کا جسد خاکی ائیر انڈیا کے ذریعے کابل سے دہلی پہنچایا گیا۔ہندوستانی حکومت کی جانب سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ، کفن اور این او سی جاری کیا گیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ وائس چانسلر نجمہ اختر نے تصدیق کہ انہوں نے دانش کے والد پروفیسر اختر صدیقی کی خصوصی درخواست پر جامعہ قبرستان میں دانش کی تدفین کی اجازت دی ہے جو جامعہ فیکلٹی آف ایجوکیشن کی حیثیت سے سبکدوش ہوچکے ہیں۔جامعہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ وائس چانسلر نے مرحوم فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے جسد خاکی کو جامعہ قبرستان میں دفن کرنے کی ان کے اہل خانہ کی درخواست کو قبول کرلیا ہے، جبکہ جامعہ قبرستان جامعہ کے ملازمین، ان کے اہل خانہ کیلئے مخصوص تھا۔جامعہ وائس چانسلر نے دانش کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ہم جامعہ کی ایم ایف حسین گیلری میں ان کی غیر معمولی تصاویر کی نمائش کا انعقاد کریں گے اور ان کی یادوں کو زندہ رکھیں گے۔طلباء دانش کو رول ماڈل کے طور پر دیکھتے تھے، ان کی تصاویر طلباء کو حوصلہ دیتی رہیں گی۔دانش نے 2005-2007 میں جامعہ کے اے کے جے ماس کمیونیکیشن رسرچ سینٹر سے تعلیم حاصل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔نندوربار: کار حادثہ میں آٹھ افراد ہلاک

انہوں نے ٹیلیویژن نیوز کے نمائندے کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اسکے بعد فوٹو جرنلزم کو بطور پیشہ اختیار کیا۔انہوں نے عراق، ہانگ کانگ اور نیپال تک جنگی علاقوں اور بحران کا احاطہ کیا۔2010 میں انہوں نے بطور انٹرن رائٹرز میں شمولیت اختیار کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے رائٹرز کے چیف فوٹو گرافر بن گئے۔2018 میں اپنے ساتھی عدنان عابدی اور دہگر پانچ افراد کے ساتھ میانمار میں اقلیتی روہنگیا برادری کو درپیش تشدد کی دستاویز تیار کرنے پر انہوں نے فیچر فوٹو گرافی میں پلٹزر ایوارڈ حاصل کیا۔وبائی امراض کی دوسری لہر کے عروج پر لی گئی ڈرون تصاویر نے انہیں عالمی سطح پر شہرت اور شناخت عطا کی۔