Articles by "Aurangabad"
Showing posts with label Aurangabad. Show all posts

اورنگ آباد میں اسلام پارٹی کی بنیاد، آصف شیخ کی گھن گرج ،ایم آئی ایم اور بی جے پر مذہبی منافرت پھیلانے کا سنسنی خیز الزام

اورنگ آباد: ملک اور ریاست میں حکمراں جماعت اور ہندوتوا تنظیمیں مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ناسک میں ٹی سی ایس تبدیلی کیس میں مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنے کے لیے اس کیس کا میڈیا ٹرائل ہے۔ ہم عدالت اور آئین پر یقین رکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جو لوگ جیل میں ہیں وہ بری ہو جائیں گے۔ اس طرح کا بیان اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ نے اورنگ آباد میں عہدیداروں کو تقرری نامہ دینے کے لئے منعقدہ ایک پروگرام میں کیا۔ ناسک میں بہت زیر بحث ٹی سی ایس کارپوریٹ جہاد اور تبدیلی مذہب کے معاملے نے اب ایک نیا سیاسی موڑ لیا ہے۔ جہاں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'ایم آئی ایم' پارٹی کے کارپوریٹر متین پٹیل نے پہلے اس معاملے میں ملزمین کو پناہ دی تھی، اب مالیگاؤں کی 'اسلام پارٹی' اس کیس میں داخل ہوئی ہے۔ اس کیس کے مشتبہ ملزمان کو اب اسلام پارٹی قانونی مدد فراہم کر رہی ہے۔ ناسک کی عدالت میں  والی سماعت کے دوران اسلام پارٹی کے بانی اور سابق ایم ایل اے آصف شیخ خود عدالت میں موجود تھے۔ اس کا اعتراف انہوں نے پروگرام میں کیا۔

اسلام پارٹی نے اس مقدمے کے لیے ایک آزاد وکیل فراہم کیا ہے اور ان کی جانب سے مقرر کیے گئے وکلا نے عدالت میں ملزم دانش شیخ کی نمائندگی کی۔ سابق ایم ایل اے آصف شیخ نے اعلان کیا کہ "اگر یہ کیس مستقبل میں سپریم کورٹ میں جاتا ہے، تب بھی اسلام پارٹی قانونی جنگ لڑے گی۔" 

ملزم دانش شیخ کے وکیل فیض واصف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ندا خان کیس میں دانش کی جانب سے پیش ہوئے، حکومتی پراسیکیوٹر، مدعی کے وکیل اور ہم نے مشترکہ طور پر دلائل دیے، ہم نے عدالت میں بہت سے معاملات اٹھائے، دانش کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس کی تحویل میں دیا گیا، پھر ایم سی آر کی درخواست کی گئی، دانش کو پہلے آگاہ کیا گیا اور اس کے لیے دوبارہ درخواست دی گئی۔ 

اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ نے کہا، "ٹی سی ایس کیس ناسک میں ہوا، اسے مذہبی پہلو دینے کی کوشش کی گئی۔ وہاں ہر کوئی کام کر رہا تھا، وہ دوست تھے، اسے مذہبی پہلو دیا گیا، کچھ فرقہ پرست لوگوں نے یہ کام کیا، دانش شیخ کے اہل خانہ ہمارے پاس آئے، وہ خوفزدہ ہو گئے، ہم نے انہیں وکیل دیا، وہ کام دیکھ رہے ہیں۔ سیاست دان ہم مستقبل میں بھی ایسی جنگ لڑیں گے اگر یہ جنگ ناسک کی عدالت سے سپریم کورٹ تک گئی تو ہم اور اسلام پارٹی کھڑے ہوں گے۔

آصف شیخ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مسلم کمیونٹی کے تہواروں پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ حالانکہ مسلم کمیونٹی گائے کی قربانی نہیں کرتی ہے، لیکن ریاست میں کچھ لوگوں کے خلاف ایم او سی اے ایکٹ کے تحت کارروائی کی گئی۔ لو جہاد، لینڈ جہاد، مآب لنچنگ، بلڈوزر ایکشن اور ہراساں کرنا جاری ہے۔ ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لیے بغیر یہ جنگ قانون کے دائرے میں لڑیں گے۔ کوئی بھی پارٹی مسلم کمیونٹی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر بات نہیں کر رہی ہے۔ ہم ناانصافی کے متاثرین کے لیے کھل کر سیاسی اور قانونی جنگ لڑیں گے۔ اے آئی ایم آئی ایم حکمران جماعتوں سے ہاتھ ملا کر اپنے سیاسی انگاروں کو جلا رہی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم مسلم ووٹوں کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے اورنگ آباد میں ایک اسکول کا افتتاح کیا، لیکن اسکول شروع نہیں ہوا، وہ زمین بیچ کر کھا گئے۔ مالیگاؤں میں بھی ایسا ہی ہوا جہاں ایک اسپتال بننا تھا۔ یہاں کے لوگوں نے ایم ایل اے اور ایم پی کو منتخب کیا لیکن نہ صرف شہر کی ترقی نہیں ہوئی بلکہ امتیاز جلیل نے اپنا بنگلہ بنایا۔ وہ شہر کا نام بدلنے سے نہیں روک سکا۔ اب شہر کے عوام ان کے فریب کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ اسلام پارٹی متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ وہ تمام ذاتوں اور مذاہب کے لوگوں کے مسائل کو اٹھا کر پارٹی کی تنظیم کو مضبوط کریں گے۔ آصف شیخ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نئی ایگزیکٹو اچھا کام کرے گی۔ انہوں نے میڈیا پر خبروں کی ویڈیو دکھا کر ایم آئی ایم پارٹی کس طرح حکمراں جماعتوں کی حمایت کرتی ہے اس کا پردہ فاش کرنے کی کوشش کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم آئی ایم پارٹی اس پر کیا ردعمل دیتی ہے۔موصوف کٹ کٹ گیٹ میں عہدیداران میں تقرری نامہ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس بار انہوں نے اپنی تقریر میں بی جے پی اور ایم آئی ایم پارٹی پر حملہ کیا۔ 

اس پروگرام میں نومنتخب سٹی صدر رفعت یارخان، نوجوان سٹی صدر ابوالحسن ہاشمی، ترجمان عارف حسینی، ظفر بلڈر، سلیم پٹیل بورگاونکر، غازی سعدالدین، شکیلہ پٹھان، ندیم رانا، مہرنیسہ خان عرف موتے بھابھی، جمیل خان، اظہر پٹھان، ابو لالہ ہاشمی، جلیل خان، اظہر پٹیل، شیخ عبدالعزیز، عبدالعزیز، شیخ رشید اور دیگر نے شرکت کی۔ پٹھان اور بڑی تعداد میں عہدیداران اور کارکنان پلیٹ فارم پر موجود تھے۔

 

خفیہ اطلاع کی بنا پر پولیس نے 49 تلواریں ضبط کیں، ملزم کے مطابق کرائے پر دینے کیلئے تلواریں منگوائی گئی تھیں

مہاراشٹر کے اورنگ آباد ضلع میں 49 تلواروں کی خریدی نے پولیس انتظامیہ کے ہوش اڑا دیئے۔سخت جانچ اور تفتیش کے بعد پولیس انتظامیہ نے تلواریں خریدنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے تلواریں خریدنے والے ملزم سے تفتیش کی تو اس نے کہا کہ تلواریں کرائے پر دینے کیلئے خریدی گئی ہیں۔حالانکہ پولیس اس معاملے میں مختلف زاویوں اور پہلوؤں سے تفتیش میں مصروف ہے۔اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق اورنگ آباد پولیس کو ایک شخص نے 49 تلواریں خریدے جانے کی خفیہ اطلاع فراہم کی تھی۔پولیس نے موصولہ اطلاعات کی بنا پر تلواریں خریدنے والے شخص کی تلاش شروع کردی۔سنیچر کی رات پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا اور اس سے سختی سے پوچھ تاچھ کی۔تفتیش کے دوران اس نے بتایا کہ وہ تلواریں کرائے پر دیتا ہے اسلئے اس نے تلواریں منگوائی تھیں۔پولیس نے تمام تلواریں ضبط کرلی ہیں اور اس معاملے کی سختی سے انکوائری کررہی ہے۔اورنگ آباد سرکل-2 ڈی سی پی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں اطلاع موصول ہوئی تھی کہ ایک شخص نے کورئیر کمپنی کے توسط سے تلواریں آرڈر کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملزم کو گرفتار کرلیا، تمام مہلک ہتھیار ضبط کرلئے گئے ہیں اور اس معاملے کی باریک بینی سے جانچ کی جارہی ہے۔

کانگریس کے خواہش کے آگے سرتسلیم خم کرکے ہم اپنی عوام کو ناراض نہیں کریں گے، کانگریس اپنا راستہ خود چننے کیلئے آزاد ہے

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے جمعرات کے دن یہ واضح کیا کہ شیوسینا نے حکومت میں شامل اپنی حلیف جماعتوں کانگریس اور این سی پی کی خواہش کے مطابق

 Common Minimum Program 

میں سیکولر ازم کو شامل کرنے پراتفاق کیلئے ہندوتوا کو ترک نہیں کیا ہے۔ اورنگ آباد کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی نگر کئے جانے کی مخالفت کرنے والی کانگریس کو اشارہ دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اورنگ زیب سکیولر نہیں تھے، ہمارا ایجنڈا لفظ سکیولر پر مشتمل ہے لیکن اورنگ زیب اس ایجنڈا میں فٹ نہیں ہوتے۔سمبھاجی نگر کا ذکر کوئی نیا نہیں ہے۔ٹھاکرے کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ان کے نزدیک پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور وہ اس معاملے کو لیکر کانگریس کے ساتھ کسی لفظی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتے۔وزیراعلی ٹھاکرے نے مزید کہا کہ کانگریس اپنا راستہ خود چننے کیلئے آزاد ہے۔ ٹھاکرے نے یہ بھی اشارہ دیا کہ صرف اقتدار پر قائم رہنے کیلئے کانگریس کے آگے سرتسلیم خم کرکے اپنی زیراقتدار ریاست کے لوگوں کو ناراض نہیں کرے گی۔واضح رہے کہ چند روز قبل کانگریس لیڈر بالا صاحب تھورات اور دیگر پارٹی لیڈران کی جانب سے اورنگ آباد کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی نگر کئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے یہ وجہ بتائی گئی تھی کہ شہروں کا نام تبدیل کرنا مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے

 Common Minimum Program

 کا حصہ نہیں تھا۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہم اورنگ آباد کو سمبھاجی نگر کہتے آئے ہیں، حتی کہ شیوسینا سپریمو بال ٹھاکرے بھی اورنگ آباد کیلئے سمبھاجی نگر کا نام استعمال کرتے تھے۔اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔ٹھاکرے نے اس معاملہ میں اب گیند کانگریس کے پالے میں ڈال دی ہے۔

 


مہاراشٹر حکومت اترپردیش کے وزیراعلی کی طرز پر ہندو-مسلم منافرت کو ہوا دینے والے کام نہ کرے، شہروں کے نام تبدیل کرنے سے غریب عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا: ابوعاصم

مہاراشٹر: ریاست کے شہر اورنگ کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی نگر  کئے جانے کے معاملے میں جاری لفظی جنگ ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔شیوسینا کے ذریعے اورنگ آباد کا نام تبدیل کر کے سمبھاجی نگر رکھنے کے مطالبے کے بعد مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل حلیف جماعتوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔کانگریس لیڈر بالا صاحب تھورات نے کہا کہ کانگریس اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر کئے جانے کی تجویز کی سخت مخالفت کرتی ہے۔اب سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کی بجائے مہاراشٹر کا نام تبدیل کرنے کی بات کہی ہے۔ابوعاصم اعظمی نے ایک ویڈیو میں مہاراشٹر حکومت اور وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہروں کے نام تبدیل کرنے سے کای قسم کی ترقی نہیں ہونے والی اور نہ ہی غریب عوام کا پیٹ بھرنے والا ہے۔پرانے شہروں کا نام تبدیل کرنے سے کیا ہوگا؟احمد نگر اور اورنگ شہروں کا حوالہ دیتے ہوئے ابوعاصم نے کہا کہ ان شہروں کی اپنی ایک تاریخ ہے، اگر حکومت ان شہروں کے نام تبدیل کرنا چاہتی ہے تو انہیں پہلے مہاراشٹر کا نام تبدیل کرنا چاہیے اور ریاست کو چھترپتی شیواجی مہاراج کے نام سے منسوب کرنا چاہیے۔اگر آپ نام ہی تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو رائےگڑھ کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی مہاراج کریں۔عوام اسے پسند کرے گی۔حالانکہ شہروں کا نام تبدیل کرنا مناسب نہیں ہے اور یہ آپ پر نہیں جچتا۔ابوعاصم نے مہاراشٹر کو مزید ترقی یافتہ بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ یہاں آتے ہیں۔اسلئے مہاراشٹر کو مزید بہتر بنایا جائے، نئے اضلاع کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اترپردیش کے وزیراعلی کی طرح ہندو-مسلم منافرت کو بڑھاوا دینے کی طرز پر کام نہ کیا جائے،ایسا کرنا آپ کے موافق نہیں ہے۔