Articles by "Ratnagiri"
Showing posts with label Ratnagiri. Show all posts


فریقین کی دلائل سننے کے بعد سول کورٹ کا فیصلہ، دن بھر کے ہنگامے کے بعد بالآخر نارائن رانے کی ضمانت منظور

مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کے خلاف متنازعہ بیان بازی معاملے میں گرفتار کئے گئے مرکزی وزیر نارائن رانے کو عدالت نے ضمانت دے  دی۔رتناگری 

سے انہیں دوپہر میں گرفتار کیا گیا تھا۔گرفتاری کے بعد انہیں ضلع رائے گڑھ کی مہاڈ سول کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔پولیس نے عدالت سے نارائن رانے کی سات دن کی تحویل کی درخواست کی تھی۔حالانکہ دونوں فریقین کی دلائل سننے کے بعد عدالت نے رانے کو ضمانت دے دی۔شنوائی کے دوران نارائن رانے کی بیوی نیلم رانے بھی عدالت میں موجود تھیں۔اس سے قبل رانے کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں کچھ وقت سنگمیشور پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا بعد ازاں انہیں مہاڈ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ۔۔۔ادھو ٹھاکرے کو طمانچہ رسید کرنے کا متنازعہ بیان دینے پر نارائن رانے گرفتار

واضح رہے کہ مہاڈ میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔گرفتاری سے بچنے کیلئے رانے کے رتناگری کی عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست داخل کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔واضح رہے کہ نارائن رانے نے جب سے مہاراشٹر میں جن آشیرواد یاترا کا آغاز کیا ہے، تب سے ان پر 49 ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔حالانکہ ان میں سے زیادہ تر معاملات کووڈ اصولوں کی خلاف ورزی پر درج ہوئے ہیں۔رانے کے خلاف تھانے نوپاڑہ پولیس اسٹیشن میں دفعہ 500، 505(2)، 153-B(1)(c) کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس سے قبل ان پر پونے، ناسک اور رائے گڑھ میں ایف آئی آر درج ہوچکی تھی۔شیوسینا نے منگل کے روز ریاست کے 17 مقامات پر رانے کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ناسک میں بی جے پی دفتر پر پتھر بازی کی گئی تو وہیں ممبئی میں رانے کی رہائش پر مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔


شیوسینا بی جے پی اراکین میں تصادم کے کئی واقعات،ناسک میں بی جے پی دفتر پر پتھراؤ، رانے کی ضمانت مسترد، جے پی نڈا نے مذمت کی

ادھو ٹھاکرے کو طمانچہ رسید کرنے کے بیان کے بعد نارائن رانے کو آج رتنا گری میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔مرکزی وزیر نارائن رانے کے ذریعے مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو طمانچہ رسید کرنے کے مبینہ بیان نے بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ٹھاکرے اور رانے کے درمیان لفظی جنگ آج دو سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم کی وجہ بن گئی۔ناراض شیوسینکوں نے ممبئی کے جوہو میں واقع نارائن رانے کی رہائش پر زبردست ہنگامہ کیا۔واضح رہے کہ اس سے صبح سے ہی وہاں بی جے پی کارکنان کی بھیڑ جمع تھی بعد میں شیوسینا کارکنان بھی وہاں پہنچنے لگے۔

حالات کو قابو کرنے کیلئے پورے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی تھی اس کے باوجود دونوں جماعتوں کے کارکنان میں تصادم ہوا۔جس کے بعد پولیس کو معمولی لاٹھی چارج کرنا پڑا۔اس دوران پتھر بازی میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ شیوسینا کارکنان نے ناسک بی جے پی کے دفتر پر پتھراؤ کردیا، وہیں ددر میں شیوسینکوں نے رانے کے مرغی چور والے پوسٹر آویزاں کئے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔عین سالگرہ کے دن بارہویں منزل سے گرنے کے سبب بچے کی موت

واضح رہے کہ پانچ دہائی قبل رانے چیمبور میں پالیٹری کی دکان چلاتے تھے۔رانے کے خلاف شکایت درج ہونے کے بعد ناسک پولیس کمشنر دیپک پانڈے نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کے خلاف متنازعہ بیان دینے پر مرکزی وزیر نارائن رانے کی فوری گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔حالانکہ میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران نارائن رانے نے ادھو ٹھاکرے سے متعلق متنازعہ بیان کے بعد درج معاملات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ میں کوئی چھوٹا موٹا آدمی نہیں ہوں، مرکزی وزیر ہوں۔اس دوران شیوسینا رکن پارلیمان ونائیک راوت نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس سارے معاملے سے آگاہ کیا اور ادھو ٹھاکرے سے متعلق متنازعہ بیان دینے پر رانے کو مرکزی وزیر کے عہدے سے برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ نارائن رانے نے پیر کے روز رائے گڑھ ضلع میں جن آشیرواد یاترا کے دوران کہا تھا کہ یہ شرمناک ہے کہ وزیراعلی کو اس بات کا علم نہیں کہ آزادی کے کتنے سال ہوئے ہیں؟ تقریر کے دوران وہ پیچھے مڑ کر اس تعلق سے پوچھتے نظر آئے۔اگر میں وہاں ہوتا تو انہیں ایک زوردار تھپڑ لگاتا۔جس کے بعد آج  رتناگری پولیس سپریٹنڈنٹ رانے سے ملنے پہنچے، کاغذی کارروائی کے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔واضح رہے کہ ان کی قبل از گرفتاری کی درخواست کو بھی مستدر کردیا گیا ہے۔بی جے پی سربراہ جے پی نڈا نے رانے کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کے ذریعے نارائن رانے کی گرفتاری آئینی اقدار کے منافی ہے۔