Articles by "PM Narendra Modi"
Showing posts with label PM Narendra Modi. Show all posts

اینیمیشن کوچنگ سینٹر میں ہولناک آتشزدگی، متعدد طلباء کے پھنسے ہونے کا خدشہ، جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان

لکھنؤ: اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کے روز لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ میں کم از کم 14 طلبہ کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ابھی کل 13 بچوں کو باہر نکالا گیا ہے۔ انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک سنگین واقعہ ہے۔ اندر دھواں بھرا ہوا ہے۔ یہ ایک اینیمیشن سینٹر تھا جہاں اچانک آگ لگ گئی۔ بچے یہاں کارٹون بنانا سیکھنے آتے تھے۔ مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ کے جی ایم سی ٹراما سینٹر میں زخمیوں کو داخل کیا جا رہا ہے۔ ان کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان تھی۔"

یہ آگ علی گنج کے پورنیا علاقے میں واقع ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں بھڑکی، جس کے باعث آسمان میں گھنے دھوئیں کے بادل چھا گئے اور طلبہ کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ مقامی افراد کے مطابق، کئی طلبہ نے تیزی سے پھیلتی آگ سے بچنے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگا دی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، عمارت کے بڑے حصے میں دھواں بھر جانے کے بعد متعدد طلبہ کو چھلانگ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک مقامی رہائشی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ آگ لگنے کے چند ہی منٹوں میں افراتفری مچ گئی۔

انہوں نے کہا، "سات سے آٹھ طلبہ نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگائی، تاہم اب بھی تقریباً 20 سے 25 طلبہ کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔"

علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بڑی تعداد میں لوگ عمارت کے باہر جمع ہو گئے جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیاں کوچنگ سینٹر کی جانب روانہ کی گئیں۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے اور اندر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بھرپور آپریشن شروع کیا۔

حکام کے مطابق، آگ پر جزوی طور پر قابو پانے تک کم از کم 12 افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں نے آپریشن کے دوران ایک بلی کو بھی بچایا۔

آگ کی شدت اور گھنے دھوئیں کے باعث اندر پہنچنا مشکل ہو گیا تھا، جس کے باعث فائر فائٹرز کو عمارت کے مختلف حصوں تک رسائی کے لیے متبادل طریقے اختیار کرنے پڑے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران اسٹریچر بردار عملہ ملحقہ عمارت کے ذریعے اندر داخل ہوا۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، امدادی ٹیم نے ایک دیوار میں سوراخ کر کے اسٹریچر اور دیگر ضروری سامان اندر پہنچایا۔

اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا تھا، تاہم سرچ آپریشن جاری رہا کیونکہ خدشہ تھا کہ مزید چار سے پانچ افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

آگ لگنے کی اصل وجہ کی تفتیش جاری ہے، جبکہ ایک مقامی رہائشی نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کسی چنگاری کے باعث آگ بھڑکی ہوگی، تاہم حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

جیسے ہی حادثے کی شدت واضح ہوئی، کئی اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ضلعی و فائر محکمہ کے افسران کے ساتھ ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔

اس سانحے کی اطلاع ملنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس واقعے کو "انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا" قرار دیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی لکھنؤ آگ حادثے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی تمنا کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ (PMNRF) سے مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔ آگ میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

یہ اعلانات ایسے وقت میں کیے گئے جب ریسکیو ٹیمیں کوچنگ سینٹر میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

وقف قانون کی حمایت مسلم اجتماعی اتفاق رائے اور مسلم امت کے اجماع سے لاتعلقی اور بغاوت: ملّی شوریٰ 

ملّی شوریٰ نے داؤدی بوہرا جماعت کے ایک نمائندہ وفد کی جانب سے وقف قانون کی حمایت کئے جانے کی سخت مذمت کی ہے.

یہ بھی پڑھیں:.... غیر مسلم ممبران کی شمولیت اوقاف کے انتظامی امور میں مداخلتOf-Waqf-Amendment-Act-2025.html

جمعرات کے روز داؤدی بوہرا جماعت کے ایک وفد نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور وقف قانون کی حمایت کی. جبکہ مسلم تھنک ٹینک ملّی شوریٰ نے وقف قانون کو ظالمانہ قانون قرار دیا ہے. تمام مسلم تنظیموں بشمول حزب اختلاف اراکین پارلیمنٹ، ہندو اور دیگر برادریوں کی جانب سے وقف قانون کی مخالفت کی جارہی ہے.

ملّی شوریٰ تنظیم کا کہنا ہے کہ وقف بل کو  پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سمیت باہر بھی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا. ملّی شوریٰ ممبئی کے کنوینر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی  اور پروفیسر مہوش شیخ نے کہا کہ بوہرہ برادری کی جانب سے وقف قانون کی حمایت مسلم اجتماعی اتفاق رائے اور مسلم امت کے اجماع سے ان کی لاتعلقی اور بغاوت کو ظاہر کرتی ہے۔

बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी:ठाकरे

शिवसेना (यूबीटी) के नेता उद्धव ठाकरे ने बागी धड़े को पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न आवंटित करने को लेकर रविवार को चुनाव आयोग पर निशाना साधा और चुनाव आयोग को सत्ता में बैठे लोगों का 'गुलाम' करार दिया।

मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के हाथों पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न 'तीर कमान' गंवाने के हफ्तों बाद चुनाव आयोग को 'चुना लगाओ' आयोग करार देते हुए ठाकरे ने कहा कि चुनाव आयोग पार्टी को कभी नहीं छीन सकता, जिसकी स्थापना उनके दिवंगत पिता ने की थी।

उन्होंने कहा कि यह बाल ठाकरे ही थे, जो भारतीय जनता पार्टी के साथ खड़े थे, जब वह राजनीतिक रूप से "अछूत" थी, और पूर्व सहयोगी को महाराष्ट्र में बिना बाल ठाकरे का आह्वान किए केवल प्रधान मंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगने की चुनौती दी।

पूर्व मुख्यमंत्री ने एक रैली में इशारा करते हुए कहा, "आपने (चुनाव आयोग) हमसे पार्टी का नाम और चुनाव चिन्ह छीन लिया है, लेकिन आप शिवसेना को मुझसे नहीं छीन सकते।"आपके पास देने के लिए कुछ नहीं है। उन्होंने सभा को बताय मैं आपका आशीर्वाद और समर्थन लेने आया हूं," 

तटीय कोंकण क्षेत्र के रत्नागिरी जिले में खेड़ निर्वाचन क्षेत्र ठाकरे के पूर्व वफादार रामदास कदम का गृह क्षेत्र है, जिन्होंने शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के प्रति निष्ठा बदल ली है।

उद्धव ठाकरे को एक बड़ा झटका देते हुए, चुनाव आयोग ने पिछले महीने शिंदे के नेतृत्व वाले समूह को 'शिवसेना' नाम और उसका चुनाव चिन्ह आवंटित किया था, जिसे शिवसेना के अधिकांश विधायकों का समर्थन प्राप्त है।

ठाकरे ने कहा कि उन्होंने चुनाव आयोग के फैसले को स्वीकार नहीं किया। अगर चुनाव आयोग मोतियाबिंद से पीड़ित नहीं है तो उसे आकर जमीनी स्थिति देखनी चाहिए। चुनाव आयोग एक 'चुना लगाव' आयोग है और सत्ता में बैठे लोगों का गुलाम है।  जिस सिद्धांत के आधार पर चुनाव आयोग ने यह फैसला लिया, वह गलत है।'ठाकरे ने कहा कि पार्टी ने उच्चतम न्यायालय में अपील की है।

उन्होंने कहा कि बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी।उन्होंने कहा कि शिवसेना को नष्ट करने का कदम मराठी लोगों के साथ-साथ हिंदुओं की एकता पर हमले के समान है।जब बीजेपी राजनीति में अछूत थी, तब बालासाहेब ठाकरे उस पार्टी के साथ खड़े थे.

उन्होंने कहा कि पहले साधु-संत भाजपा का हिस्सा हुआ करते थे लेकिन अब पार्टी अवसरवादियों से भर गई है।उन्होंने कहा, "भ्रष्ट लोगों की सबसे बड़ी संख्या भाजपा में है। पहले, वे (भाजपा) विपक्ष के लोगों पर भ्रष्टाचार का आरोप लगाते हैं , फिर भ्रष्टाचार के आरोपी लोगों कोभाजपा में शामिल किया जाता है।"

इस आलोचना को खारिज करते हुए कि जब वह मुख्यमंत्री थे (नवंबर 2019-जून 2022) अपने घर से बाहर नहीं निकले थे, ठाकरे ने कहा, "मैं COVID महामारी के कारण बाहर नहीं गया था, लेकिन मैंने घर से काम किया, और महामारी के दौरान मेरे काम की सराहना की गई थी"।

उन्होंने कहा कि उनके समर्थक तय करेंगे कि वे उन्हें पार्टी अध्यक्ष बनाना चाहते हैं न कि चुनाव आयोग। "लोगों को यह तय करना होगा कि वे मुझे चाहते हैं या एकनाथ शिंदे। मैं लोगों के फैसले को स्वीकार करूंगा, लेकिन चुनाव आयोग के नहीं। अगर लोग कहते हैं कि वे मुझे नहीं चाहते हैं, तो मैं वैसे ही छोड़ दूंगा जैसे मैंने 'वर्षा' (मुख्यमंत्री का आधिकारिक निवास) को छोड़ा था।"

भाजपा पर निशाना साधते हुए उन्होंने कहा कि जिस तरह एकनाथ शिंदे ने मेरे (उद्धव ठाकरे के) पिता को ''चुरा लिया'', भाजपा ने ''सरदार वल्लभ भाई पटेल और सुभाष चंद्र बोस को चुरा लिया क्योंकि उस पार्टी के पास भरोसा करने के लिए कोई प्रतीक नहीं है।''क्या आप उन्हें (शिंदे के संदर्भ में) वोट देंगे?" उन्होंने दर्शकों से पूछा।

ठाकरे ने कहा, "पहले भाजपा का मंच साधुओं और संतों से भरा हुआ करता था, लेकिन अब यह अवसरवादियों से भरा हुआ है। मैं भाजपा को चुनौती देता हूं कि वह महाराष्ट्र में केवल प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगे न कि बालासाहेब ठाकरे के नाम पर।"उन्होंने अपने समर्थकों से महाराष्ट्र चुनाव में बीजेपी को धूल चटाने की अपील की.

میں مودی جی کو بہت سخت آدمی سمجھتا تھا لیکن ان میں انسانیت ہے، 'چوکیدار چور ہے' نعرہ صرف راہل گاندھی کا تھا: غلام نبی آزاد

غلام نبی آزاد نے کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں بہت سخت آدمی سمجھتا تھا لیکن ان میں انسانیت ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ اگر ان کی بیوی نہ ہو، بچے نہ ہوں تو انہیں کوئی پرواہ نہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ آزاد نے کانگریس ورکنگ کمیٹی پر بھی حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ چوکیدار چور ہے کا نعرہ صرف راہل گاندھی کا تھا۔  کوئی سینئر لیڈر ان کی حمایت میں نہیں آیا۔
غلام نبی آزاد نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ میں استعفیٰ کا خط لکھنے سے پہلے اور بعد میں 6 دن تک نہیں سویا۔ میں نے اس پارٹی کو اپنے خون سے سینچا ہے، ایسے لوگ کہاں سے آئے ہیں جو کسی کام کے نہیں۔ وہ ہم سے لڑ رہے ہیں۔ جن کو اپنے گھر کا پتہ نہیں اور وہ ہم سے سوال کرتے ہیں۔ میں سونیا گاندھی کا اب بھی وہی احترام کرتا ہوں جیسا کہ میں 30 سال پہلے کرتا تھا۔ راہول گاندھی کے لیے وہی احترام ہے جو اندرا گاندھی کے خاندان کیلئے ہے، وہ راجیو-سونیا کے بیٹے ہیں۔ ذاتی طور پر میں ان کی لمبی زندگی کی خواہش کرتا ہوں۔ ہم نے انہیں ایک کامیاب لیڈر بنانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے۔
آزاد نے کہا کہ ان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ انہوں نے وزیراعظم مودی سے قربت کی وجہ سے کانگریس سے استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی صرف ایک بہانہ ہے، جب سے جی 23 نے ہائی کمان کو مشورہ دیتے ہوئے خط لکھا ہے تب سے کانگریس قیادت کو مجھ سے پریشانی ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہتے تھے کہ کوئی انہیں لکھے، ان سے سوال کرے۔ اس کے بعد کانگریس کی کئی میٹنگیں ہوئیں، لیکن کسی بھی تجویز پر غور نہیں کیا گیا۔ آزاد نے کہا کہ مجھے بتایا جا رہا ہے کہ میں مودی سے ملا ہوں، لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ وہ مودی اور بی جے پی سے ملے ہیں، جنہوں نے ان کا خواب پورا کیا ہے۔  خود نریندر مودی نے بھی یہ بات کہی تھی کہ راہول گاندھی ان کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں اور پھر پارلیمنٹ میں گلے مل کر کہتے ہیں کہ ہمارا دل صاف ہے۔ تو آپ بتائیں کہ وہ لوگ مودی جی سے ملے ہیں یا میں ان سے میں ملا ہوں۔
غلام نبی آزاد نے کہا کہ "1998 سے 2004 تک، سونیا گاندھی سینئر لیڈروں سے مشورہ کرتی رہیں۔ وہ ان کے مشورے پر عمل کرتیں اور ان سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتی تھیں ۔ انہوں نے مجھے 8 ریاستوں کی ذمہ داری سونپی جس میں سے میں نے سات ریاستوں میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے میرے کام میں مداخلت نہیں کی۔ لیکن جب راہل گاندھی آئے تو 2004 کے بعد سونیا گاندھی نے سینئر لیڈروں کے بجائے راہول گاندھی کی بات ماننا شروع کر دی۔ راہل کے پاس رائے دینے کا کوئی تجربہ یا فن نہیں ہے، پھر بھی سونیا گاندھی چاہتی تھیں کہ تمام لیڈر راہل کے مطابق کام کریں۔ آزاد نے کہا کہ کانگریس کے سینئر رہنماؤں اور راہل گاندھی کے درمیان دراڑ اس وقت واضح ہو گئی جب انہوں نے 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے 'چوکیدار چور ہے' کا نعرہ لگایا۔ کسی سینئر لیڈر نے اس نعرے کی حمایت نہیں کی۔ راہل نے پارٹی میٹنگ میں کہا تھا کہ جن لوگوں کو یہ نعرہ پسند ہے وہ ہاتھ اٹھا لیں۔  تب کئی بڑے لیڈروں نے اس نعرے کو لے کر اختلاف ظاہر کیا تھا۔ اس میٹنگ میں منموہن سنگھ، اے کے انٹونی اور پی چدمبرم بھی موجود تھے۔ آزاد نے کہا کہ ہم نے اپنی سیاسی تعلیم اندرا گاندھی کی قیادت میں حاصل کی ہے۔ جب میں ایک جونیئر لیڈر تھا. اندرا گاندھی ایک ایم ایل اے اور مجھ سے کہتی تھیں کہ اٹل بہاری واجپائی جی سے ملتے رہیں۔ ہمیں سکھایا گیا ہے کہ ہمیں اپنے بڑوں کا احترام کرنا چاہئے اور اپوزیشن کے لیڈروں کو بھی وہی احترام دینا چاہئے جو ہم اپنی پارٹی کے لیڈروں کو دیتے ہیں، لیکن راہل کی پالیسی صرف مودی پر حملہ کرنے کی ہے۔ م وہ ہر طرف سے مودی پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ آزاد نے کہا کہ راہل گاندھی سے ان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں لیکن بحیثیت سیاست دان ان میں بات نہیں ہے۔ ان میں محنت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اصطلاحات کے وضع کرنے، جملے پھینکنے اور رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے نت نئی تعبیرات وتدابیر اختیار کرنے میں دنیا کے ممتاز ترین لوگوں میں ہیں، ان کے جملے پھینکنے کی ادا سے لوگ اس قدر مانوس ہو گیے ہیں کہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ مودی جی قول وعمل کے تضاد کے شکار ہیں، اس لیے ان کی باتوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی بُرائی نہیں ہے ۔
وزیر اعظم نے جو اصطلاح وضع کی ہے ان میں سے ایک مفت کی ریوڑی کی تقسیم بھی ہے، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی ریاست میں بعض خدمات کو عوام کے لیے فری کر دیا ہے، بجلی، پانی مفت فراہم کرنے کی مقدار متعین کی، سرکاری اسکولوں کی تعلیم کو معیاری بنانے کے ساتھ بڑی حد تک فیس وغیرہ سے آزا د کر دیا، یہی نعرہ انہوں نے گجرات میں دیا. پنجاب میں ان کی حکومت میں بہت ساری سہولتیں دی جارہی ہیں، لیکن یہ بات مودی جی کو پسند نہیں ہے، ان کا خیال ہے کہ رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے یہ مفت کی ریوڑی تقسیم کی جا رہی ہے اور اس کلچر کو فروغ دینے سے حکومت کے اوپر غیر معمولی بوجھ پڑے گا۔
عوام کی سوچ یہ ہے کہ ریاست کو عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اسلام کا اصول تو یہ ہے کہ امرا سے زکوٰۃ کی رقم لے کر غرباء پر خرچ کیا جائے، ہمارے وزیر اعظم کا معاملہ الٹا ہے وہ غریبوں سے لے کر اسے امراء تک پہونچاتے ہیں، ان کے قرض معاف کر دیتے ہیں، ارب پتیوں کے دس لاکھ کروڑ قرضے معاف کرنے کی بات عوام وخواص کے علم میں ہے، سرکار نے غذائی اجناس کو بھی جی اس ٹی کے دائرہ میں لا دیا ہے، جس کی وجہ سے عام ہندوستانیوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے، ایسے میں ایک محدود مقدار میں مفت ضروری سامانوں کی سپلائی کو مفت کی ریوڑی کہہ کر مذاق نہیں اڑایا جا سکتا۔
عوام تک مفت ضروریات زندگی کی فراہمی کی روایت انتہائی قدیم ہے، سرکاری اسکولوں میں مفت تعلیم، سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج، ہر ماہ مفت راشن، مختلف سرکاروں کے ذریعہ آزادی کے بعد سے ہی فراہم کیا جاتا رہا ہے، کیا ان سب کو مفت کی ریوڑی سے تعبیر کیاجا سکتاہے؟ اور کیاایسا کہہ کر عوام اور ان سرکاروں کی توہین نہیں کی جا رہی ہے؟ جنہوں نے اس اسکیم کو رائج کیا ۔
در اصل مودی جی نے اروند کیجرال کے فری اسکیم کا مذا ق اڑا کر ملکی معیشت کی زبوں حالی کا اقرار کیا ہے ۔ اگنی پتھ اسکیم لا کر فوجیوں کے پنشن سے پہلو تہی کرنا اسی زبوں حالی کا لازمی نتیجہ ہے ۔تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ سپریم کورٹ پہونچ گیا او رعدالت نے اس معاملہ پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ انتخابی وعدوں پر پابندی نہیں لگا سکتی، اس سے کیجریوال کو تھوڑی راحت ضرور ملی ہے، لیکن اس سے سیاسی پارٹیوں کے جھوٹے وعدے کرنے کی ایک مقابلاتی دوڑ شروع ہو گئی ہے، جو پہلے بھی کم نہیں تھی.

گجرات عصمت دری ملزمین کو یوم آزادی پر رہا کئے جانے پر راہل نے حکومت کو نشانہ بنایا، کہا ایسی سیاست پر شرمندگی نہیں ہوتی، وزیراعظم جی؟ 

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت خواتین مخالف ہے اور ظالموں اور عصمت دری کے ملزمان کا دفاع کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بی جے پی کی اتر پردیش حکومت عصمت دری کے ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہے وہیں گجرات کی بی جے پی حکومت عصمت دری اور قتل کے ملزمان کو یوم آزادی پر معافی دے کر رہا کرتی ہے۔

انہوں نے اسے شرمناک سیاست کے ساتھ ساتھ چھوٹی ذہنیت کی سیاست بھی قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ اُناؤ – بی جے پی ایم ایل اے کو بچانے کا کام۔ کٹھوعہ: عصمت دری کرنے والوں کی حمایت میں ریلی۔ ہاتھرس- حکومت عصمت دری کرنے والوں کے حق میں۔ گجرات – عصمت دری کرنے والوں کی رہائی اور اعزاز۔ مجرموں کی حمایت خواتین کے تئیں بی جے پی کی چھوٹی ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا ایسی سیاست پر شرمندگی نہیں ہوتی، وزیراعظم جی؟

بی جے پی علاقائی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے، مخالفین کی آواز دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے، لیکن وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تب ان کا کیا ہوگا؟ :ٹھاکرے

مہاراشٹر کے گورنر بی ایس کوشیاری کے حالیہ متنازعہ بیان کے بعد پٹنہ میں بی جے پی کی ایک پارٹی میٹنگ میں پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کا یہ بیان کہ ملک میں صرف بی جے پی باقی رہے گی جبکہ تمام سیاسی پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے. شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان بی جے پی کے اصل چہرے اور آمریت کی طرف اس کی پیش قدمی کو ظاہر کرتا ہے. ٹھاکرے نے بی جے پی لیڈران پر علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا.

یہ بھی پڑھیں:...... ملک سے تمام پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، رہے گی تو صرف بی جے پی: جے پی نڈا

دوسری طرف ٹھاکرے نے منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ شیوسینا رکن پارلیمان سنجے راؤت کی گرفتاری پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کو ایک سچے شیوسینک کے طور پر سراہا جو دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔

ایکناتھ شندے کی بغاوت کے بعد پارٹی کی بقا کی جنگ لڑرہے ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا کو شیوسینا کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. ٹھاکرے نے کہا کہ نڈا کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں شیوسینا ختم ہونے کے دہانے پر ہے. نڈا کا دعویٰ ہے کہ این سی پی ایک خاندان کی پارٹی ہے. کانگریس بھائی اور بہن کی پارٹی ہے اور بی جے پی خاندانی سیاست اور حکمرانی کے خلاف لڑنا چاہتی ہے. لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اصل میں بی جے پی کنبہ کی حقیقت کیا ہے جو کانگریس، این سی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں.

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ بی جے پی علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے. نقاب اتر چکا ہے, میں نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا شکریہ ادا کیا تھا انہوں نے نادانستہ طور پر مراٹھی عوام کو کچلنے کا خواب ہمارے سامنے لایا. بی جے پی کے قومی صدر نے بھی انکشاف کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں دوسری پارٹیاں موجود ہوں، وہ آمریت چاہتے ہیں. تاہم ادھو نے بی جے پی کو شیوسینا پارٹی کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. نڈا کے بیان کو خطرناک اور سنگین قرار دیتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ ان کے تبصرے ملک کو آمریت کی طرف لے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہیں. آج کی سیاست پریشان کن ہے. انہوں نے کہا کہ آج جس طرح سے بی جے پی اپنے بازو پھیلا رہی ہے وہ صرف طاقت کا استعمال کررہی ہے دماغ کا نہیں. ٹھاکرے نے خبردار کیا کہ اگر آپ دوسروں کو ختم کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کررہے ہیں تو وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا بدل جاتا ہے. بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تو ان کا کیا ہوگا.

ٹھاکرے نے سنجے راؤت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے. سنجے راؤت ایک کٹر شیوسینک ہیں، مجھے سنجے راؤت پر فخر ہے جو میرے بہترین دوست ہیں. ٹھاکرے نے انتقامی سیاست کھیل کر مخالفین کی آواز کو دبانے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پوچھا کہ اگر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کو مخالفین کے خلاف تعینات کیا جاتا ہے تو جمہوریت کہاں ہے؟ سنجے راؤت جہاز سے کود سکتے تھے لیکن انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ مر جائیں گے لیکن ایسا نہیں کریں گے،ہتھیار نہیں ڈالیں گے. باغیوں پر تنقید کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ جن لوگوں نے راستہ بدلا ہے وہ حمام میں نہانے گئے ہیں، جب تک ان کے جسم پر اقتدار کا جھاگ ہوگا وہ ہم پر تنقید کرسکتے، لیکن انہیں مستقبل میں حالات کا احساس ہوگا.

 

آج صبح صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو، بی جے پی سربراہ جے پی نڈا اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے بھی ملاقات متوقع

مہاراشٹر حکومت کی کابینہ اب تک تشکیل نہیں دی جاسکی ہے. ذرائع کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کل وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے. دونوں نے آج رات مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... قاتلانہ حملے میں سابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کی موت
ذرائع نے بتایا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی کل صبح صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند، نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو، بی جے پی سربراہ جے پی نڈا اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے بھی ملاقات کریں گے۔
قبل ازیں مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے نو منتخب اسپیکر راہل نارویکر نے بھی جمعہ کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی۔ یہ دورہ وزیر اعلیٰ کے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد شندے کا پہلا دورہ ہے۔ مہاراشٹر کی کابینہ کی دو مرحلوں میں توسیع کے ساتھ یہ میٹنگ اہم ہے کیونکہ مبینہ طور پر کابینہ کا پہلا اعلان صدارتی انتخابات سے پہلے کیا جائے گا۔
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے جمعرات کو نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی موجودگی میں باضابطہ طور پر وزیر اعلی کے دفتر (سی ایم او) کا چارج سنبھال لیا ہے. شندے نے پیر کو مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں ایوان کے دو روزہ خصوصی اجلاس کے آخری دن فلور ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی۔  288 رکنی ایوان میں 164 ارکان اسمبلی نے تحریک اعتماد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 99 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔تین قانون سازوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، جبکہ کانگریس کے اشوک چوان اور وجے ودیٹیوار اعتماد کے ووٹ کے دوران غیر حاضر رہنے والوں میں شامل تھے۔ادھو ٹھاکرے کے عہدہ چھوڑنے کے ایک دن بعد شندے نے 30 جون کو سی ایم کے طور پر حلف لیا تھا۔ بی جے پی کے دیویندر فڑنویس نے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔
بی جے پی کے راہول نارویکر اتوار کو مہاراشٹر اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے پہلے دن اسپیکر منتخب ہوئے۔


وزیراعظم نریندر مودی نے ٹوئیٹ کے ذریعے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا

سابق جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے کو آج جمعہ کو مغربی جاپان میں انتخابی مہم کے دوران تقریر کرتے ہوئے گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا. انہیں ہوائی جہاز سے اسپتال لے جایا گیا. ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں دل کا دورہ بھی پڑا. جاپانی میڈیا کے مطابق شنزو آبے اس قاتلانہ حملے کی تاب نا لاسکے اور اسپتال میں ان کی موت ہوگئی.
پولیس نے مشتبہ بندوق بردار کو حملے کے مقام سے گرفتار کیا جس نے جاپان میں بہت سے لوگوں کو چونکا دیا کیونکہ جاپان دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے اور وہاں گن کنٹرول کے سخت ترین قوانین ہیں۔
آبے نارا سٹی میں انتخابی مہم کے دوران تقریر کر رہے تھے۔ 42 سالہ حملہ آور نے ان پر پیچھے سے فائرنگ کی۔ ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کا نام
Yamagami Tetsuya
ہے اور وہ آبے کی پالیسیوں سے ناخوش تھا۔ آبے دو گولیاں لگنے کے فوراً بعد گر گئے۔ انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نارا میڈیکل یونیورسٹی اسپتال لے جایا گیا۔ 6 گھنٹے تک میڈیکل ٹیم نے انہیں بچانے کی کوشش کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ آبے کو علاج کے دوران دل کا دورہ بھی پڑا۔  یہ واقعہ ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 8 بجے (جاپان کے وقت کے مطابق 11.30 بجے) پیش آیا۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے آبے کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔  مودی نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ آبے نے ہندوستان-جاپان تعلقات اور عالمی شراکت داری میں اہم کردار ادا کیا۔  آج پورے ہندوستان میں رنج و غم کا ماحول ہے۔ ہم اس مشکل وقت میں اپنے جاپانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں.