ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں ماحولیات کے تحفظ اور توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 2047 تک 300 کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے "ہریت مہاراشٹر کمیشن(گرین مہاراشٹر کمیشن)" کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز منعقدہ کابینہ اجلاس میں تقریباً 12 ہزار 303 کروڑ روپے کے اخراجات والے منصوبے کو منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:........آئی پی ایل میچ کے دوران ریان پراگ کا ویپنگ کرتے ہوئے ویڈیو وائرلa.html
اس منصوبے کے تحت ریاست میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 2030 تک 17 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ شجرکاری کی ذمہ داری ہریت مہاراشٹر کمیشن پر ہوگی، جس کے چیئرمین وزیر اعلیٰ ہوں گے، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر جنگلات، وزیر ماحولیات، وزیر زراعت اور روزگار گارنٹی اسکیم کے وزیر شریک نائب چیئرمین ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے شجرکاری کے لیے زمین کی دستیابی اور لینڈ بینک کی تیاری پر خاص توجہ دی جائے گی۔ فی الحال 29 ہزار مربع کلومیٹر زمین دستیاب ہے، جبکہ 300 کروڑ درخت لگانے کے لیے تقریباً 27 لاکھ ہیکٹر زمین درکار ہوگی۔
اسی اجلاس میں "Accelerating Green Energy and Storage Technologies Integration in Connected Grid" اسکیم اور اس کے ابتدائی پروجیکٹ رپورٹ کو بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد توانائی کے استعمال میں اضافہ، ترسیلی نظام کو مضبوط بنانا اور توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔
کابینہ نے ضلع رتناگیری کے ناچنے علاقے میں ایک نئے مرکزی ودیالیہ (کیندرِیہ ودیالیہ) کے قیام کے لیے ڈھائی ہیکٹر زمین فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔ اس سے کوکن خطے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں 85 نئے کیندرِیہ ودیالیہ قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں مہاراشٹر کے اکولا اور رتناگیری شامل ہیں۔
مزید برآں، ریاست میں غیر سرکاری تنظیموں کے زیر انتظام امدادی آشرم اسکولوں کے غیر تدریسی عملے کے لیے 12 اور 24 سال کی خدمات کے بعد ترقیاتی اسکیم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے 556 آشرم اسکولوں کے 7 ہزار 562 ملازمین مستفید ہوں گے۔
کابینہ نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نام سے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں ایک چیئر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ڈاکٹریٹ کے لیے اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد امبیڈکر کے نظریات کو عالمی سطح پر فروغ دینا اور سماجی انصاف، آئینی جمہوریت اور انسانی حقوق پر تحقیق کو بڑھانا ہے۔
چوطرفہ مخالفت کے بعد ہندی کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ واپس، وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے نے حکومت کا موقف واضح کیا
ممبئی: پہلی سے پانچویں جماعت تک ہندی کو لازمی بنانے کے فیصلے پر چوطرفہ مخالفت کے بعد ریاستی حکومت نے منگل کے روز کہ اعلان کیا کہ ہندی زبان اب لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہوگی.
یہ بھی پڑھیں..... وقف قانون کی واپسی تک ملک گیر احتجاج جاری رہے گا: مولانا خالد سیف اللہ رحمانیmendment-Act-Is-Rolled-Back.html
وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے کو اس متنازعہ اقدام کے سلسلے میں منترالیہ میں صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا. انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر دیڑھ گھنٹے تک بحث ہوئی جس کے بعد "لازمی" اصطلاح کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا. وزیر دادا بھسے نے کہا کہ وسیع پیمانے پر مخالفت کے سبب اب ہندی مضمون اختیاری کردیا گیا ہے. جلد ہی ایک نظر ثانی شدہ حکومتی قرارداد جاری کی جائے گی، جس میں طلباء کو اپنی تیسری زبان کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ بھسے نے کہا کہ ہندی، قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تحت تین زبانوں کے فارمولے کا حصہ ہے، لیکن لازمی نہیں ہے۔
موجودہ ذو لسانی ڈھانچہ کی جگہ تین زبانوں کے ماڈل کے ساتھ ہندی کو انگریزی اور مراٹھی کے ساتھ لازمی قرار دئیے جانے کی ابتدائی تجویز کی سخت مخالفت کی گی. یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے اسکولوں میں ہندی کو لازمی بنانے کا اقدام مرکزی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے اسکولوں میں ہندی کو لازمی بنانے کا اقدام مرکزی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ منترالیہ میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے دادا بھُسے نے کہا کہ مرکزی حکومت نے این ای پی کے تخت کسی بھی زبان کو لازمی نہیں بنایا لے. ہندی اختیاری ہے لازمی نہیں. ہم جی آر پر نثر ثانی کریں گے. حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے وزید برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے نے کہا کہ ہندی مراٹھی کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے دونوں کا رسم الخط (دیوناگری) بھی ایک ہے. جس کے سبب طلباء کے لئے سیکھنا آسان ہوجاتا ہے. ہندی پہلے ہی پانچویں جماعت سے پڑھائی جاتی ہے. جماعت اول سے ہندی پڑھائے جانے کے خیال کا مقصد سیکھنے کے عمل کو آسان بنانا تھا. مراٹھی اور انگریزی لازمی مضمون ہوں گے، اگر طالب علم اپنے تیسرے متبادل کے طور پر کسی اور زبان کو ترجیح دیتے ہیں تو ہم دلچسپی اور اساتذہ کی دستیابی کا جائزہ لیں گے.
دو روز قبل وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ہندی کو لازمی بنانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اسکولوں میں تین زبانیں پڑھانا لازمی ہے اور ان میں سے دو کا ہندوستانی ہونا لازمی ہے۔ چونکہ ہمارے پاس پہلے ہی ریاست بھر میں ہندی اساتذہ کی کافی تعداد موجود ہے ، لہذا اسے تیسری لازمی زبان کے طور پر تجویز کیا گیا تھا۔ اگر ہم تمل، گجراتی، کنڑ یا ملیالم جیسی دیگر ہندوستانی زبانوں کا انتخاب کرتے ہیں، تو ہمارے پاس فی الحال کافی تدریسی عملہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جلد ہی ایک فیصلہ کرے گی جس میں طلباء کو اپنی تیسری زبان کے طور پر ہندی کے بجائے کسی اور ہندوستانی زبان کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ 'اگر 20 سے زیادہ طالب علم متبادل زبان کا انتخاب کرتے ہیں، تو ایک وقف استاد مقرر کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے گروپوں کے لئے آن لائن کلاسوں جیسی سہولیات کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔
16 اپریل کو جاری کیے گئے اصل جی آر میں پہلی کلاس سے ہندی کو لازمی قرار دیا گیا تھا، جس پر تمام سیاسی حلقوں میں سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ مہارشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) سربراہ راج ٹھاکرے نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 'مہاراشٹر میں پہلی کلاس سے ہندی کو لازمی کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ سے توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہندی کی درسی کتابوں کو دکانوں میں فروخت کرنے یا اسکولوں کے ذریعہ تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کانگریس پارٹی نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ اگر تیسری زبان کی ضرورت ہے تو اسے اختیاری ہونا چاہئے۔
ابتدائی انکوائری کا آغاز، ٹھاکرے کے وکلاء نے پی آئی ایل کی مخالفت کرتے ہوئے مفروضات پر مبنی قرار دیا
ممبئی: سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے لیے مصیبت پیدا ہو سکتی ہے۔مہاراشٹر حکومت نے جمعرات کو بمبئی ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ اس نے شیوسینا (UBT) سربراہ اور ان کے خاندان کے خلاف ایک شکایت کے بعد ابتدائی انکوائری شروع کر دی ہے جس میں ان پر غیر متناسب اثاثے رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
جسٹس دھیرج ٹھاکر اور والمیکی مینیزس کی ایک ڈویژن بنچ ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کر رہی ہے جس میں مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ خاندان کے خلاف مبینہ طور پر ان کے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پی آئی ایل 38 سالہ گوری بھیڈے نے دائر کی تھی، جن کا خاندان ٹھاکرے خاندان کی طرح اشاعت کے کاروبار میں تھا، جو مارمک میگزین اور روزنامہ سامنا شائع کرتے ہیں۔بھیڈے نے سی بی آئی اور ای ڈی کی طرف سے مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ کی امید ظاہر کی تھی۔
صبح کے سیشن میں مختصر سماعت کے بعد بنچ نے PIL کو حکم کے لیے محفوظ کر لیا۔ تاہم، سرکاری وکیل ارونا کامت پائی نے عدالت کو ریاستی حکومت کے موقف سے آگاہ کرنے کے لیے دوپہر کے سیشن میں PIL کا ذکر کیا۔
بھیڈے، جنہوں نے پہلے ممبئی پولیس کمشنر کو اپنے الزامات کے بارے میں ایک خط بھیجا تھا، کہا کہ انہیں ایسی کسی انکوائری کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔
اس سے قبل، ٹھاکرے، اسپی چنائے اور اشوک موندرگی کے وکیلوں نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کسی بھی مواد سے بالکل خالی اور خالصتاً "مفروضوں" پر مبنی قرار دیا تھا۔
جمعرات کو پھر کابینی میٹنگ کا تیقن، صرف یقین دہانی نہیں بلکہ اب فیصلے کا وقت، گرانٹ کا اعلان کرو ورنہ کرسی چھوڑو کا مطالبہ
ممبئی : (16 نومبر) مہاراشٹر راجیہ اگھوشت شکشک مہا سنگھ اور شکشک سمنوئے مہا سنگھ کے بینر تلے ریاست بھر کے دس ہزار سے زائد اساتذہ کرام خواتین و بچوں سمیت دھرنا اندولن جاری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ یکم نومبر کو یقین دہانی کے مطابق پندرہ نومبر کو وزیر تعلیم و وزیر اعلیٰ نے مشورتی میٹنگ میں گرانٹ کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پندرہ نومبر کو کابینی میٹنگ نہ ہونے سے اعلان نہیں ہوسکا اور حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ 16 نومبر کو کابینہ میٹنگ میں فیصلہ کیا جائے گا ۔
آج دن بھر اساتذہ کرام نے آزاد میدان میں پر امن دھرنا اندولن جاری رکھا لیکن جیسے ہی شکشک سمنوئے مہا سنگھ اور اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے بینر تلے احتجاج کررہے مظاہرین کو خبر لگی کہ آج بھی کابینہ کی میٹنگ نہیں ہوسکی تب اساتذہ آپے سے باہر ہوگئے لیکن ہوش کے ساتھ پرجوش مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔اسطرح کی اطلاع ممبئی آزاد میدان سے مالیگاؤں ہائی اسکول کے ٹیچر شیخ زاہد سر نے دی۔انہوں نے بتایا کہ اساتذہ نے آزاد میدان میں سرکار مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور گرانٹ کا مطالبہ کیا ۔گرانٹ دو گرانٹ دو ،نان گرانٹ اسکولوں کی فہرست جاری کرو، سو فیصد گرانٹ دو ورنہ کرسی چھوڑ دو کے نعرے لگائے ۔اساتذہ میں جوش و خروش، غصہ اور ہنگامہ آرائی دیکھ کر پولس کمشنر کو مداخلت کرنی پڑی اور بلا آخر شام دیر گئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اساتذہ کے نمائندہ وفد کو بات چیت کیلئے مدعو کیا ۔رات آٹھ بجے تک اساتذہ کرام آزاد میدان میں ڈٹے رہے ۔
اساتذہ کے نمائندوں سے بات چیت جاری ہے وزیر اعلیٰ کل بروز جمعرات کو گرانٹ سمیت نان گرانٹ اسکولوں کو گرانٹ دینے کا اعلان کریں گے اسطرح کی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی جارہی ہے لیکن اساتذہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں ۔اس موقع پر اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے بھرت جامنک سر ، رنگاری سر، ببن ایولے سر ، منگیش مہاترے ، دیپک کلکرنی سر ،شیخ زاہد سر، سونتا گیالی میڈم ،وسیم سر، رفیق سر،قوسین سر باسط سر، مبشر سر، ظہور زمزم نے نان گرانٹ اگھوشت اساتذہ کو پر امن احتجاج کرنے اور اپنے حقوق کیلئے جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے پر مبارکباد پیش کی اور اپیل کی ہے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اساتذہ آزاد میدان پہنچیں ۔آج بھی مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر کے مختلف اضلاع و شہر اور تعلقہ جات کے اساتذہ بالخصوص لیڈیز ٹیچرس سیکڑوں سینکڑوں کی تعداد میں حاضر تھے۔
بدھ کو کابینہ کی میٹنگ میں فیصلہ لینے اہم فیصلے کا تیقن، شکشک مہا سنگھ کی اساتذہ سے آزاد میدان دھرنے میں شرکت کی اپیل
ممبئی : (18 اکتوبر) مہاراشٹر کے 60 ہزار نان گرانٹ اساتذہ کو 100فیصد گرانٹ دیئے جانے کا مطالبہ لیکر آج نویں روز بھی آزاد میدان ممبئی میں اساتذہ اپنے مطالبے پر اٹل ہیں۔ اس سلسلے میں آج وزیر تعلیم نے پھر ایک بار اساتذہ کے نمائندوں کو طلب کر بات چیت کرتے ہوئے معاملہ حل کرنے اور دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی جس پر اساتذہ نے مطالبہ کرتے ہوئے وزیر تعلیم سے اپیل کی ہے کہ حکومت مہاراشٹر 19 ستمبر 2016 کا جی آر رد کرتے ہوئے سابقہ حکومتی جی آر 15 ستمبر 2011 اور 4 جون 2014 کو نافذ کر اساتذہ کو گرانٹ دی جائے ۔جس پر وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم 2019 کا جی آر کینسل نہیں کریں گے ۔اساتذہ کو "پرچالت" طرز پر نہیں بلکہ سب کو ایکساتھ 20 فیصد گرانٹ دینے کیلئے سرکار تیار ہے ۔جس پر اساتذہ نے صاف انکار کرتے ہوئے سو فیصد گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے ۔دھرنے میں شدت پیدا کر انہوں نے کہا کہ ہم دیوالی بھی آزاد میدان میں منائیں گے اور گرانٹ کا جی آر لیکر جائیں گے ۔اساتذہ کے مہا آکروش دھرنا مہاراشٹر شکشک سمنوئے مہا سنگھ کے بینر تلے ممبئی میں جاری ہے ۔دن بہ دن مظاہرین کی تعداد بڑھنے سے سرکار نے اپنا رویہ نرم کیا اور اب گرانٹ دینے کیلئے رضامندی ظاہر کردی لیکن اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ ہم 10، 20 سالوں سے مفت میں پڑھا رہے ہیں، ہمارا اپروول منظور ہوا ہے، ہمارا اپلیکیشن گرانٹ کیلئے اہل ہوچکا ہے اس لئے ہمیں سو فیصد گرانٹ دی جائے ۔اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر اعلان کردہ 3961 اسکولوں کے 21428 اساتذہ کو بھی سو فیصد گرانٹ دی جائے ۔اسی طرح 20 فیصد اور 40 فیصد گرانٹ یافتہ اسکولوں کو بھی سو فیصد گرانٹ دی جائے ۔اسطرح کی تفصیلات ممبئی آزاد میدان سے مالیگاؤں ہائی اسکول کے اسٹنٹ ٹیچر شیخ زاہد سر نے دی۔انہوں نے بتایا کہ مہاراشٹر شکشک سمنوئے مہا سنگھ کے ڈیلیگیشن نے وزیر تعلیم دیپک کیسرکر سے ملاقات کے بعد مظاہرین سے بات چیت کی لیکن مظاہرین نے بیک آواز کہا کہ ہمیں سو فیصد گرانٹ دی جائے ورنہ یہ احتجاج جاری رہیگا ۔اس موقع پر ذمہ داران نے مہاراشٹر بھر کے اساتذہ و معلمات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممبئی آزاد میدان دھرنے میں شرکت کریں گھر بیٹھیں تنخواہ کا خواب دیکھنا فضول ہے ۔وزیر اعلیٰ شندے ،وزیر مالیات دیویندر فرنویس اور وزیر تعلیم نے کہا کہ بدھ کو ہونے والی کابینہ میٹنگ میں اساتذہ کیلئے سرکار کوئی اہم فیصلہ ضرور لیگی ۔
مہاراشٹر میں تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہونے والا سیاسی بحران اب ختم ہو چکا ہے۔ شیوسینا اقتدار سے محروم ہوچکی ہے اور اب بی جے پی اقتدار میں واپس آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دیویندر فڑنویس آج ہی گورنر کے سامنے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کریں گے۔ ایکناتھ شندے نائب وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ شندے گوا سے ممبئی کے لیے روانہ ہو گئے ہیں وہ اکیلے ممبئی آ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس 39 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط ہے۔ دوسری طرف ممبئی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مرکز نے ایکناتھ شندے کی سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ انہیں زیڈ پلس سیکیورٹی دی گئی ہے۔
شندے اور فڑنویس کی ملاقات میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزراء کے عہدوں کے فارمولے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی ابھی جلد بازی نہیں دکھانا چاہتی۔ فڑنویس پہلے دہلی جائیں گے اور پھر حلف لینے کے لیے یہاں واپس آئیں گے۔ اس لیے کل حلف برداری کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں. شیوسینا ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ شیوسینا اقتدار کے لیے نہیں پیدا ہوئی، طاقت شیوسینا کے لیے پیدا ہوئی ہے۔ یہ بالا صاحب کا منتر رہا ہے۔ ہم دوبارہ کام کریں گے اور پھر خود اقتدار میں آئیں گے۔ ہمارے اپنوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ اپنے لوگوں نے خنجر سے وار کیا۔ غدار کیسے ادھو ٹھاکرے پر الزام لگا سکتے ہیں؟ باغی اراکین اسمبلی کو حکومت گرانے کا ٹھیکہ ملا تھا، یہ مہاراشٹر میں غداروں کا نیا تجربہ ہے۔
ملک میں پیگاسس اسپائی ویئر کا معاملہ موضوعِ بحث ہے۔مہاراشٹر حکومت نے اپنے ملازمیں کو ہدایت دی ہے کہ آفس ٹائم میں موبائل فون کا استعال ضروری ہونے پر ہی کریں، لینڈ لائن فون کے استعمال کو ترجیح دیں۔محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن(جی اے ڈی) کے ذریعے جاری کردہ ضابطۂ اخلاق میں کہا گیا کہ سرکاری کام کیلئے صرف اس صورت میں موبائل فون کا استعال کرنا چاہیے جب ضروری ہو۔اس حکم میں اسپائی وئیر معاملہ کا حوالہ دیئے بغیر مزید کہا گیا کہ دفتر میں موبائل فون کا بےجا استعمال سرکاری دفاتر کی شبیہ خراب کرتا ہے۔اگر استعمال کرنا ضروری ہو تو ٹیکسٹ میسیج کا استعمال کیا جانا چاہیے، گفتگو ممکن حد تک کم ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔بجاج چیتک کا الیکٹرانک اسکوٹر، تین شہروں میں بکنگ جاری
اسکے علاوہ دفتر کے اوقات میں موبائل کے ذریعے سوشل میڈیا کا استعمال محدود ہونا چاہیے۔ضابطۂ اخلاق میں مزید کہا گیا کہ ذاتی کالس دفتر کے باہر رسیو کریں۔اسکے علاوہ موبائل پر گفتگو شائستگی سے ہونی چاہیے ، اپنے اطراف کے لوگوں کا خیال رکھا جائے تاکہ انہیں کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔لیکن عوامی نمائندوں اور اعلی افسران کے فون کا فوری جواب دیا جانا چاہیے۔سینئر افسران کے دفتر میں اور میٹنگ کے دوران موبائل کو سائلینٹ رکھنا چاہیے۔اس کے علاوہ انٹرنیٹ براؤزنگ، میسیج چیک کرنے اور ہیڈ فون کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔
بارہویں بورڈ امتحانات کا انعقاد اپریل میں جبکہ دسویں بورڈ امتحانات کا انعقاد مارچ میں ہونا طے، جلد ہی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا
ممبئی: مہاراشٹر کی وزیرتعلیم ورشا گائیکواڑ نے آج اعلان کیا کہ ریاست میں ہائر سکنڈری سرٹیفیکیٹ امتحانات (ایچ ایس سی)اور سکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ امتحانات( ایس ایس سی) کا انعقاد بالترتیب اپریل اور مئی 2021ء میں ہوں کیا جائے گا۔واض رہے کہ طلباء اور اساتذہ کافی عرصے سے امتحانات سے متعلق حتمی تاریخ کے اعلان کا بے صبری سے انتظار کررہے تھے اور اس لئے وہ طویل عرصے سے آف لائن کلاسیس بھی اٹینڈ کررہے تھے۔اسٹیٹ بورڈ اسکول ممبئی نے کرونا وباء کے پیش نظر اب تک 9 ویں اور 12 ویں کی آف لائن کلاسیس شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔عام طور پر HSC بورڈ امتحانات کا انعقاد فروری میں ہوتا ہے جبکہ SCC بورڈ امتحانات کا انعقاد مارچ میں کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ریاستی محکمہ تعلیم نے کہا کہ مذکورہ دونوں امتحانات سے متعلق حتمی تاریخ کا اب تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے لیکن امتحانات کس ماہ میں ہوں گے اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ امتحانات کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ریاست میں کرونا وباء کی صورتحال پر منحصر ہے۔ لیکن اب یہ طے ہوچکا ہے کہ HSC بورڈ امتحانات کا انعقاد اپریل اور SSC بورڈ امتحانات کا انعقاد مارچ 2021ءمیں کیا جائے گا۔برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی شکل کے سبب متوقع خطرات کے پیش نظر مہاراشٹر حکومت نے کہا کہ جماعت پنجم اور ہشتم کی آف لائن کاسیس کے آغاز کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا ہے۔ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ آئندہ مرحلہ میں پنجم اور ہشتم جماعت کی آف لائن کلاسیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔فی الحال ریاستی حکومت نے مہاراشٹر میں 9 ویں اور 12 ویں جماعت کی آف لائن کلاسیس شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔لیکن برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ہدایت کے مطابق ممبئی میں 15 جنوری 2021ء سے قبل اسکولیں جاری نہیں ہوں گی۔











