Articles by "Modi Government"
Showing posts with label Modi Government. Show all posts
مظفر نگر کسان اندولن میں 20 لاکھ مظاہرین کی شرکت کے دعوے پر بی جے پی لیڈران کا طنز، 20 ہزار جٹا نہ پائے 20 لاکھ کا دعوی کررہے ہیں

زرعی قوانین کے خلاف کسان آندولن کی قیادت کررہے راکیش ٹکیت نے اتوار کے روز مظفر نگر میں منعقد کسان پنچایت سے خطاب کیا ہے۔ٹکیت نے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی، مرکزی حکومت اور اترپردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ٹکیت نے بی جے پی کو فسادات کروانے والی پارٹی قرار دیتے ہوئے اسے اقتدار سے بے دخل کرنے کی اپیل کی۔
یوپی بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی نے ٹکیت کے ایک ٹوئیٹ پر لکھا کہ 20 ہزار جٹا نہ پائے، 20 لاکھ کا دعوی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹکیت نے 4 فوٹو ٹوئیٹ کئے ہیں اور چاروں میں ان کا خود کا ہی چہرہ دکھائی دے رہا ہے۔میا خلیفہ کی افواہ اڑائی تھی تبھی تھوڑی بھیڑ نظر آئی لیکن لوگ مایوس ہوکر لوٹے۔واضح رہے کہ ٹکیت نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا تھا کہ جموں وکشمیر سے لے کر کیرالا تک کے 20 لاکھ کسانوں نے مظفر نگر پہنچ کر مطلق العنان حکومت کو پھر سے یہ بتا دیا ہے کہ جنہیں وہ مٹھی بھر کسان کہتی ہے وہ پورے ملک کے کسان ہیں۔راکیش ترپاٹھی سے قبل اترپردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرسار موریا نے بھی کسان آندولن پر طنز کیا تھا۔موریا نے کسان آندولن کا موازنہ شہریت ترمیمی قانون( سی اےاے) کے خلاف شاہین باغ مظاہروں سے کیا تھا۔یوپی کے نائب وزیراعلی نے کانپور میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ کسان آندولن میں کسان نہیں بلکہ سماجوادی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کے لوگ ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ شاہین باغ کا آندولن جس طرح سے ناکام ہوا تھا ویسا ہی حال کسان آندولن کا بھی ہوگا۔

 

تالی بجاؤ، تھالی بجاؤ اور پھر گالیاں بھی کھانی پڑتی ہیں، آکسیجن کی کمی سے جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو چاہیے کہ وہ حکومت کو عدالت میں کھینچیں

راجیہ سبھا اجلاس میں کرونا کے مدعے پر حزب اختلاف جماعتوں نے مرکزی حکومت کو جم کر تنقید کا نشانہ بنایا۔شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ تالیاں بجاؤ، تھالیاں بجاؤ، پھر گالیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔راوت نے مرکزی حکومت پر کرونا کے سبب ہلاک ہونے والوں کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔راوت نے کہا کہ ہم تمام لوگ کرونا سے متاثر ہوئے ہیں، سب نے کسی نہ کسی اپنے کو کھویا ہے۔حتی کہ ہم نے پارلیمنٹ میں ساتھ رہنے والے اپنے ساتھیوں کو بھی کھویا ہے۔عوام کی حالت تو بہت ہی بری تھی۔شمشان کے باہر لاشوں کے ڈھیر تھے، 24 گھنٹے ایمبولینس شمشان کے باہر کھڑی رہتی تھی۔گنگا کے کنارے کس طرح ہزاروں لوگوں کو دفنایا گیا یہ بھی سب نے دیکھا۔لاشوں کی بے حرمتی بھی کی گئی۔میں کسی مخصوص شخص کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا لیکن ہر سسٹم کے پس پشت ایک شخص ہوتا ہے۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ آپ اعداد وشمار کیوں چھپا رہے ہیں؟صحیح اعداد و شمار بتائیے۔راوت کے سوال پر چراغ پا بی جے پی اراکین نے کہا کہ مہاراشٹر میں کرونا کے سب سے زیادہ معاملات تھے۔اس پر راوت نے کہا کہ مہاراشٹر نے جس طرح کرونا وباء کے دوران کام کیا اور جو حکمت عملی اپنائی، سپریم کورٹ نے خود اس کی تعریف کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔راج کندرا کی گرفتاری پر کنگنا کا ردعمل، میں نے کہا تھا فلم انڈسٹری گٹر ہے

راوت نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ کرونا کی دوسری لہر میں آکسیجن کی کمی سے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو مرکزی حکومت کو عدالت میں کھینچنا چاہیے۔غور طلب ہے کہ گذشتہ دنوں حکومت نے ایوان کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ کووڈ-19 کی دوسری لہر کے دوران مختلف ریاستوں اور مرکزی حکومت کے زیراثر علاقوں میں آکسیجن کی کمی سے کسی کی موت ہونے سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔راوت حکومت کے اس جواب پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زیراقتدار ریاستوں میں آکسیجن کی کمی سے کئی لوگوں کی موت ہوئی ہے۔جن لوگوں نے آکسیجن کی کمی کے سبب اپنوں کو کھویا انہیں چاہیے کہ حکومت کو عدالت میں کھینچیں۔

 

جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی سے جانچ کروانے کا مطالبہ، اگر دال میں کچھ کالا نہیں ہے تو مودی حکومت کو جانچ کروانے میں ڈر کس بات کا ہے: رندیپ سرجے والا

رافیل جنگی جہاز معاملہ میں کانگریس نے ایک بار پھر مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے اور فرانس کے ساتھ رافیل معاہدہ میں مبینہ بدعنوانی کو لے کر جے پی سی جانچ کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ دراصل رافیل جنگی جہاز سودے کی جانچ کے لیے فرانس میں ایک جج کی تقرری کی گئی ہے، اس کے بعد سے ہی کانگریس نے مرکز کو گھیرنا شروع کر دیا ہے۔ فرانس کی پبلک پرازیکیوشن سروس (پی این ایف) کے مطابق مجسٹریٹ نے جانچ شروع کر دی ہے اور رافیل سودے میں بدعنوانی کے ساتھ ساتھ جانبداری کے الزامات کی بھی جانچ کی جائے گی۔فرانس میں رافیل سودے کی تحقیقات شروع ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد کانگریس نے پریس کانفرنس کر کے مرکزی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے رافیل معاہدہ کی جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس جنرل سکریٹری اور ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ پہلی نظر میں بدعنوانی کا معاملہ ہے اور سچائی سب کے سامنے آنی چاہیے۔ رندیپ سرجے والا نے کہا کہ فرانس میں پہلی نظر میں بدعنوانی کا الزام سامنے آ گیا ہے تو مرکزی حکومت جے پی سی جانچ کیوں نہیں کرواتی۔ اگر دال میں کچھ کالا نہیں ہے تو پھر جانچ سے حکومت کو ڈر کس بات کا ہے۔ اگر دال میں کچھ کالا ہے تو الگ بات ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ملک کی سیکورٹی سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے جے پی سی جانچ ہونی چاہیے۔ شفافیت، جوابدہی، بدعنوانی سے پاک نظام دینا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔واضح رہے کہ فرانس اور ہندوستان کے درمیان رافیل طیارہ کا سودا ہوا تھا۔ تقریباً 7.8 ارب یورو کے سودے میں ہندوستان کو 36 فائٹر جیٹس ملیں گے۔ یہ سودا دیسالٹ ایویشن اور حکومت ہند کے درمیان ہوا تھا۔ سودے کو لے کر کانگریس بدعنوانی کا الزام لگاتی رہی ہے۔ اس سودے کو لے کر فرانس کے ایک این جی او شیرپا نے 2018 میں جانچ کے لیے شکایت درج کرائی تھی اور اس وقت پی این ایف نے جانچ کے مطالبہ کو خارج کر دیا تھا۔

بہر حال، آج پریس کانفرنس کے دوران رندیپ سرجے والا نے کہا کہ اگر فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند اور موجودہ صدر امینوئل میکرون کے کردار کی جانچ کی جا رہی ہے تو ہندوستان کے سابق وزیر دفاع اور ایک ہندوستانی کمپنی کی بھی جانچ کیوں نہیں کی جا سکتی۔ ایسے میں اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایسے میں وزیر اعظم مودی سامنے آ کر رافیل گھوٹالے کی جے پی سی جانچ کرائیں گے؟کانگریس ترجمان نے کہا کہ فرانس میں میڈیا پارٹ نے کاغذات سمیت دیسالٹ اور ایک ہندوستانی کمپنی کے درمیان سودے کا انکشاف کیا ہے جس نے ایک مشترکہ ادارہ تشکیل دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سابق صدر فرانسوا اولاند کے ذریعہ دیے گئے بیان کی تصدیق کرتا ہے، جنھوں نے کہا تھا کہ ایک ہندوستانی کمپنی کو دیسالٹ کے صنعتی شراکت دار کی شکل میں مقرر کرنے کا فیصلہ حکومت ہند کا تھا، جس کا مطلب ہے مودی حکومت۔ اور فرانس کے پاس اس معاملے میں کوئی متبادل نہیں تھا۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ 25 مارچ 2015 کو دیسالٹ کے سی ای او بنگلور آتے ہیں اور ہندوستانی فضائیہ اور ایچ اے ایل کے سربراہ کی موجودگی میں دیسالٹ اور ایچ اے ایل کے سمجھوتے کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن 24 گھنٹے میں ہی دیسالٹ ایویشن ریلائنس سے اپنا نیا ایگریمنٹ سائن کر لیتی ہے۔ فطری طور پر اس معاہدے کے بعد حکومت ہند کی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) جو جہاز بناتی آئی ہے، اسے رافیل سودے سے باہر کر دیا گیا۔رندیپ سرجے والا نے کہا کہ اس سودے کے لیے جو ڈی آر ایل اے کمپنی بنائی گئی، اس میں ریلائنس 51 فیصد کا مالک ہے اور دیسالٹ 49 فیصد کا مالک ہے۔ اس کمپنی میں دونوں شراکت داروں ریلائنس اور دیسالٹ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ 169 ملین یورو کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دیسالٹ، جو 49 فیصد شراکت دار ہے، وہ 169 ملین یورو میں سے 159 ملین یورو لانے کے لیے مجبور ہوگی اور 51 فیصد کی مالک ریلائنس صرف 10 مین یورو لائے گی۔ دیسالٹ اور ریلائنس کے درمیان کلاؤز 4.4.1 جو اس معاہدے کا حصہ ہے، اس میں جہاز بنانے کی تکنیک اور ساری مہارت دیسالٹ ایویشن لائے گی تو ریلائنس کیا لائے گی؟

پریس کانفرنس میں سرجے والا نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 126 جنگی جہازوں کی جگہ 36 رافیل جیٹ خرنے کے لیے 7.8 ارب یورو کے سودے پر دستخط کیا۔ انھوں نے بتایا کہ فرانسیسی حکومت نے مودی حکومت کے ساتھ ہوئے اس معاہدہ میں سے بدعنوان مخالف ڈویژن کو ہٹا دیا۔ انھوں نے کہا کہ جو تازہ انکشافات اب فرانس میں ہوئے ہیں، انھوں نے ایک بار پھر شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ پہلی نظر میں رافیل ایئر کرافٹ سودے میں بدعنوانی ثابت ہے، اور سب کے سامنے ہے، جو کانگریس اور راہل گاندھی ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں وہ آج ثابت ہو گیا ہے۔

 

پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف کانگریس کا احتجاج، قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ، بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاج کا انتباہ

مرکزی حکومت کے ذریعے پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف کانگریس کمیٹی کی جانب سے آج شہر مالیگاؤں کے مختلف پیٹرول پمپ پر ریاست گیر احتجاج کیا گیا۔ جس میں کانگریس کے مقامی لیڈران اور کارکنان نے مودی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس دوران کانگریس کے مقامی صدر شیخ رشید نے متنبہ کیا کہ اگر ایندھن پر عائد کردہ اضافی ٹیکس اور پیٹرول ڈیزل کے دام کم نہیں کئے گئے تو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیٹرول، ڈیزل اور رسوئی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب کورونا سے بد حال عوام کو شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان مظاہروں میں کچھ مقامات پر نوجوان نے پیٹرول کی قیمت 100 روپے سے زیادہ ہونے کی مذمت میں مودی حکومت مردہ باد کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر مقامی صدر شیخ رشید نے کہا کہ کانگریس کی حکومت میں گزشتہ 80 برس میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت عام آدمی کی سہولت کو پیشِ نظر رکھ کر طے کی گئی تھی۔

جبکہ مودی حکومت نے گزشتہ 8 برس کے دوران قیمتوں کو آسمان پر پہنچادیا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں یوپی اے حکومت کے دور میں  بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 100 ڈالر سے زیادہ تھی اس کے باوجود گھریلو قیمتوں پر اس کا اثر نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 68 ڈالر فی بیرل کے آس پاس ہےاس کے باوجود ملک  میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ اچھے دن تب آئیں گے جب مودی جی گھر جائے گے۔ مودی حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر 32، 33؍ روپے ٹیکس لگارہی ہے جس کے سبب قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔