Articles by "Nashik"
Showing posts with label Nashik. Show all posts

تاجروں کا ریاستی حکومت کو 15 دنوں کا الٹی میٹم

ناسک: ریاست کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر تکارام منڈھے نے پورے مہاراشٹر میں خوردہ (غیر پیک شدہ) کھانے کے تیل کی فروخت اور خریداری پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ریاست بھر کے کھانے کے تیل کے تاجروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ناسک میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں تاجروں نے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو 15 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

اجلاس میں تاجروں نے واضح کیا کہ اگر 15 دن کے اندر خوردہ تیل کی فروخت پر عائد پابندی واپس نہ لی گئی تو وہ ریاست بھر میں سڑکوں پر اتر کر بڑا احتجاج کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور مرکزی حکومت سے بھی اس معاملے پر رابطہ کریں گے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا انتہائی ناانصافی ہے اور انہوں نے غصے میں سوال اٹھایا کہ کیا انہیں انتہا پسند سمجھا جا رہا ہے؟

دوسری جانب کمشنر تکارام منڈھے نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کھانے کے تیل میں ملاوٹ یا قواعد کی خلاف ورزی پر سات سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کا اطلاق ہے۔ انہوں نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ خوردہ تیل بالکل نہ خریدیں بلکہ صرف پیک شدہ تیل خریدیں اور اس کے لیبل، سیل اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور چیک کریں۔

منڈے نے بتایا کہ خوردہ اور ملاوٹی تیل کا مسئلہ صرف اقتصادی دھوکہ دہی تک محدود نہیں بلکہ یہ براہ راست عوام کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے تیل کے استعمال سے کینسر، دماغی امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسے سنگین امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک بار تلے ہوئے تیل کو گھر میں بار بار استعمال نہ کیا جائے اور ہوٹلوں میں بھی اگر وہی تیل بار بار استعمال ہو رہا ہو تو وہاں کھانا کھانے سے گریز کیا جائے۔

یہ فیصلہ صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے لیا گیا ہے تاہم تاجروں کا دعویٰ ہے کہ اس سے روایتی کاروبار اور عام صارفین پر منفی اثر پڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت تاجروں کے الٹی میٹم پر کیا ردعمل دیتی ہے۔

300 کروڑ کا ٹینڈر دینے کا جھانسہ، 6 ملزمان گرفتار، پولس تفتیش جاری 

​ناسک/مالیگاؤں: سنگھستھ کمبھ میلے کے نام پر جعلی ٹینڈر اور جعلی ورک آرڈر دے کر رقم بٹورنے والے گینگ کی جعل سازی کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعہ میں مالیگاؤں (سوئے گاؤں) کے ایک سڑک تعمیراتی کنٹریکٹر اور تاجر سریش مہندر پوار سے کمبھ میلے کے کام دلانے کا جھانسا دے کر 35 لاکھ روپے ہڑپ لیے گئے۔ اس معاملے میں ناسک روڈ پولیس اسٹیشن میں پانچواں مقدمہ (FIR) درج کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جامنیر (ضلع جلگاؤں) سے تعلق رکھنے والے شکیل احمد شیخ، تنئے مہاجن اور نریندر مہاجن نامی افراد نے کنٹریکٹر سریش پوار سے رابطہ کیا تھا۔ ملزمان نے انہیں کمبھ میلے کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے لیے 300 کروڑ روپے کے ٹینڈر نکلنے کا جھانسا دیا اور کام دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے ملزمان نے حکومتِ ہند کا قومی نشان (راج مدرا) والا جعلی لیٹر ہیڈ، ناسک میونسپل کارپوریشن کا ٹینڈر نوٹس نمبر، اور کمبھ میلہ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر پروین گوڈام کی جعلی ڈیجیٹل دستخط والے فرضی ورک آرڈرز دکھائے۔  

ٹینڈر منظور کرانے اور کارروائی کے نام پر ملزمان نے کانٹریکٹر سے مرحلہ وار 50 لاکھ روپے وصول کیے۔ جب کافی وقت گزرنے کے بعد بھی کام شروع نہیں ہوا اور ٹھیکہ دار کو ان پر شک ہوا تو انہوں نے اپنی رقم واپس مانگنی شروع کی۔ ملزمان نے اپنے اکاؤنٹنٹ کے ذریعے تاجر کو 15 لاکھ روپے تو واپس کر دیے، لیکن بقایا 35 لاکھ روپے لوٹانے کے بجائے ٹال مٹول کرنے لگے۔ بالآخر سریش پوار نے پولس سے رجوع کر کے باقاعدہ شکایت درج کرائی۔  

ناسک پولیس اب تک اس گروہ کے چھ ملزمان (تنئے مہاجن، نریندر مہاجن، شعیب احمد شیخ، عبد الرئیس شیخ، شکیل احمد شیخ اور محمد وسیم) کو جلگاؤں کے جامنیر سے گرفتار کر چکی ہے۔ تمام ملزمان کی پولس کسٹڈی ختم ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ اس ریکیٹ میں اور بھی لوگ شامل ہو سکتے ہیں اور معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے خطرات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کا بڑا فیصلہ؛ این ڈی آر ایف تعینات، عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت

ناسک :(31 جولائی) شدید بارش، بادل پھٹنے جیسی صورتحال، سیلاب اور لینڈ سلائیڈ کے خدشات کے پیش نظر ضلع ناسک کی آٹھ تحصیلوں میں یکم اگست 2026 بروز سنیچر  کو تمام اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلع کلکٹر آفس ناسک کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق کیا گیا ہے۔جاری کردہ حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 31 جولائی کو ضلع ناسک کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے غیر معمولی بارش، بادل پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈ جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ اسی کے پیش نظر ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (SEOC) نے  (NDRF) کی ٹیم بھی ضلع ناسک میں تعینات کر دی ہے۔

حکم نامے کے مطابق مالیگاؤں، ناند گاؤں، باگلان، کلون، تریمبکیشور، اگتپوری، پیٹھ اور سرگانہ تحصیلوں کے تمام پرائمری، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اسکول، آنگن واڑیاں، آشرم اسکول، امدادی و غیر امدادی، نجی تعلیمی ادارے اور تمام کالج یکم اگست کو بند رہیں گے۔انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ طلبہ کے لیے تعطیل رہے گی، تاہم پرنسپل، ہیڈ ماسٹر، اساتذہ اور دیگر تعلیمی عملہ کو مقامی انتظامیہ کی ہدایت پر آفتی انتظام سے متعلق ذمہ داریوں کے لیے حاضر رہنا ہوگا۔

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ انتہائی ضروری کام کے علاوہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور ندی ، نالوں، تالابوں، جھیلوں، پلوں، قلعوں، گھاٹوں، سیلاب زدہ علاقوں، پہاڑی ڈھلوانوں اور لینڈ سلائیڈ کے خطرے والے مقامات کا رخ کرنے سے مکمل گریز کریں۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلع بھر کے تمام آبی ذخائر، ٹریکنگ پوائنٹس، دریا کنارے، سیاحتی مقامات اور سیلاب سے متاثرہ مذہبی مقامات کو عارضی طور پر ممنوعہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ تحصیلوں میں ہفتہ وار بازار، میلے، جلسے اور دیگر بڑی عوامی تقریبات بھی یکم اگست کے لیے ملتوی کر دی گئی ہیں۔

انتظامیہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ نشیبی، سیلاب زدہ اور لینڈ سلائیڈ کے خطرے والے علاقوں سے شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔ ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، فائر بریگیڈ، ہوم گارڈ اور مقامی ریسکیو ٹیموں کو حساس علاقوں میں تعینات رکھنے کے ساتھ تمام متعلقہ افسران اور عملہ کو 24 گھنٹے کنٹرول روم میں مستعد رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔حکم نامے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ مذکورہ حکم رہائشی ڈپٹی کلکٹر و چیف ایگزیکٹو آفیسر، ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ناسک، روہت کمار راجپوت کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن ایکشن موڈ میں:  ناسک ایم ایل سی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم

ناسک : ناسک ضلع کے مقامی خود مختار اداروں کے حلقۂ انتخاب سے قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کے انتخاب میں مہایوتی کے امیدوار دراڑے کی غیر متوقع شکست کے بعد مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ رقم کی تقسیم کے الزامات نے ریاست کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ایکشن موڈ اختیار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ضلع الیکشن حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پورے معاملے کی مکمل جانچ کرکے جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کریں۔ ناسک کی ایڈیشنل ضلع کلکٹر و ایڈیشنل ضلع الیکشن آفیسر مدھومتی سردیسائی نے متعلقہ افسران کو فوری تحقیقات مکمل کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔

یہ کارروائی کوپرگاؤں کے سنجے کالے کی جانب سے دراڑے برادران کے خلاف کی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ شکایت میں انتخابی عمل کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔دوسری جانب اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی کشور دراڑے نے کہا کہ انہیں اس شکایت کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ اطلاع یا نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق، "کس نے اور کہاں میرے خلاف شکایت درج کرائی، اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔ ابھی تک مجھے کوئی نوٹس بھی نہیں ملا ہے۔ اگر نوٹس موصول ہوتا ہے تو اس کے بعد آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔"سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ تحقیقات کی رپورٹ آنے کے بعد مزید پیش رفت متوقع ہے۔

سیاسی دباؤ میں مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا، ایڈوکیٹ فیض واصف کی  عدالت میں پیروی، آئندہ سماعت 19 جون کو

ناسک : 12 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناسک کے TCS معاملہ میں ندا خان سمیت چھ ملزمین کیخلاف پولس نے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، ان ملزمین پر الزام ہے کہ انہوں نے دوسرے مذہب کی لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے کیلئے اکسایا اور اس کے ساتھ زیادتی کی ۔اس تعلق سے دانش شیخ کو بھی اہم ملزم بنایا گیا ہے ۔دانش کی جانب سے مائناریٹی ڈیفنیس کمیٹی کے کنوینر آصف شیخ نے ایڈوکیٹ فیض واصف کی خدمات حاصل کی اور آج بارہ جون کو ناسک کورٹ میں اس ضمن میں سماعت ہوئی ۔اس طرح کی تفصیلات آصف شیخ نے دی ۔انہوں نے بتایا کہ ایڈوکیٹ فیض واصف نے ندا خان TCS معاملہ میں گرفتار ملزمین میں سے دانش کی جانب سے پیروی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ پولس کی جانب سے دائر چارج شیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ملزمین کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے سیاسی دباؤ میں اس ضمن میں کارروائی کی جارہی ہے ۔یہ تبدیلی مذہب کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اسے سیاسی رنگ دیکر تبدیلی مذہب کا معاملہ بتایا جارہا ہے اور تعلیم یافتہ افراد کو گرفتار کر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ملزمین کیخلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے اس لیے عدالت اس کیس میں گرفتار دانش شیخ و دیگر کو رہا کرے ۔ایڈوکیٹ فیض واصف نے مہربان ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے کئی فیصلے بھی بطور ثبوت پیش کئے ۔دفاعی وکیل کی مدلل بحث کو عدالت نے نوٹس میں لیا اور کہا کہ اس تعلق سے سرکاری وکیل کو کچھ کہنا ہے تو وہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔اس پر سرکاری وکیل نے آئندہ کی تاریخ طلب کی جس پر عدالت نے 19 جون کو سماعت کا وقت دیا ہے ۔اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ نے کہا کہ سرکاری دباؤ میں سیاسی طاقتوں کے چلتے مسلم نوجوان کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔اس موقع پر ناسک کورٹ میں دانش شیخ کے علاوہ پانچوں ملزمین کے اہل خانہ موجود تھے ۔

واردات کے بعد حملہ آور صوفی بابا کی ایس یو وی لے کر فرار، ایک گرفتار، علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات

مہاراشٹر کے ضلع ناسک کے ایولہ قصبے میں چار نامعلوم افراد نے افغانستان سے ہندوستان میں سکونت اختیار کرنے والے 35 سالہ مسلم مذہبی رہنما کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق متوفی کی شناخت خواجہ سید ظریف چشتی کے نام سے ہوئی ہے جو ایولہ میں صوفی بابا کے نام سے جانے جاتے تھے۔ صوفی بابا کی لاش پلاٹ سے ملی پولیس کے مطابق یہ واقعہ شام کے وقت ممبئی سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ایولہ کے علاقے چنچوڈی میں MIDC

یہ بھی پڑھیں:.... نوپور شرما معاملہ: ملک کی 117 اہم شخصیات کا چیف جسٹس کے نام خط

علاقے میں ایک کھلے پلاٹ میں پیش آیا۔ حملہ آوروں نے صوفی کے سر میں گولی ماری جس کے بعد وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔  تاہم قتل کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ حملہ آور مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کی ایس یو وی کار لے کر فرار ہو گئے۔
واردات کی اطلاع ملتے ہی تحقیقات کے لیے پہنچی پولیس نے قتل میں ملوث ایک ملزم سمیت صوفی بابا کی ایس یو وی برآمد کر لی ہے جس سے باقی قاتلوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس اہلکار قاتلوں کے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اسکین کر رہے ہیں۔ خواجہ سید چشتی کو ایک ایسے وقت قتل کیا گیا ہے جب مہاراشٹر کے امراوتی میں ایک میڈیکل آپریٹر امیش کولہے کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ریاست میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ تاہم پولیس نے اس قتل کیس میں تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ناسک پولیس نے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی ہے۔



ناسک کے ہوٹل سیون اسکائے میں پر وقار تقریب، سعید حمید، شری کانت سنونے، سہیل راٹھوڑ،  سنجیو کمار راجپوت اور ریحان یونس کو اعزاز سے نوازا گیا

اتوار 13 فروری کو ناسک ہیڈلائن پوسٹ کے ایک سال مکمل ہونے پر سیون اسکائے ہوٹل(ناسک) میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں ہیڈ لائن پوسٹ نیوز پورٹل کے چیف ایڈیٹر وسیم رضا خان نے ہیڈ لائن پوسٹ کے تصور سے لے کر آج اس پورٹل کے ایک سال مکمل ہونے تک مکمل روداد پیش کی اور اس پورٹل کی کارکردگی کی کارکردگی کا مکمل جائزہ پیش کیا۔
وی کامریڈ میڈیا کے سی ای او جاوید شیخ نے کہا کہ وسیم رضا خان نے دو سال قبل ان کے سامنے ہیڈ لائن پوسٹ کا تصور پیش کیا تھا اور تب سے آج تک ہم نے مل کر کام کیا اور آج ہیڈ لائن پوسٹ کی ایک مختلف شناخت بن چکی ہے۔
ہیڈ لائن پوسٹ کے ایک سالہ جشن کے موقع پر ناسک میونسپل کارپوریشن کے میئر ستیش کلکرنی، سابق میئر، کارپوریٹروں اور شہر کی معزز شخصیات کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سعید حمید(سینئر صحافی)، ڈاکٹر شری کانت سنونے(سینئر صحافی)، ریحان یونس(جرنلسٹ،مالیگاؤں)، سہیل راٹھوڑ( ڈائریکٹر ٹوڈے 24 نیوز) اور نیشنل نیوز ایجنسی کے چیئرمن سنجیو کمار راجپوت کو ہیڈ لائن پوسٹ سے جڑنے والی نئے صحافیوں کی رہنمائی کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر شری کانت سنونے نے اپنے صحافتی تجربات بتاتے ہوئے نئے صحافیوں کو صحافت کی اہمیت، دیانتداری، سچائی اور ایمانداری سے صحافت کرنے کی تلقین کی۔ وہیں سعید حمید صاحب نے 80 کی دہائی میں ممبئی میں اپنی کرائم رپورٹنگ کے تجربات پیش کرتے ہوئے میڈیا کے بدلتے ہوئے طریقے، ڈیجیٹل اور آن لائن صحافت سے متعلق پرمغز خطاب کیا۔ ریحان یونس نے صحافت کے اصول و ضوابط کی وضاحت کرتے ہوئے آن لائن جرنلزم اور مائیکرو جرنلزم سے متعلق سیر حاصل گفتگو کی اور ہیڈ لائن پوسٹ کے نئے صحافیوں کو صحافت کے رموز و اوقاف کو سمجھتے ہوئے وقت سے ہمقدم ہوکر کر صحافت کرنے کی صلاح دی۔ اس کے علاوہ سہیل راٹھوڑ نے آن لائن و ڈیجیٹل جرنلزم سے متعلق رجسٹریشن اور تکنیکی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ہیڈ لائن پوسٹ سے ابتداء سے منسلک سہیل راٹھوڑ نے ہیڈ لائن پوسٹ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم اور جیو ٹی وی پر 24/7 چلانے سے متعلق عزائم ظاہر کئے۔
ایمس کے سکریٹری اجمل خان نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اخیر میں تمام ہیڈ لائن پوسٹ سے منسلک تمام صحافیوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کیلئئ ایکسلینس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ سعید حمید، سنجیو کمار راجپوت، سہیل راٹھوڑ، وسیم رضا خان اور دیگر صحافیوں کو مومنٹو سے نوازا گیا۔


آن لائن کلاس کے دوران پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر ماں نے ساڑھے تین سال کے بیٹے کے منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کردیا

آن لائن کلاس کے دوران پڑھائی پر توجہ نہیں دیئے جانے پر ناراض ایک ماں نے اپنے ساڑھے تین سالہ بیٹے کے منہ پر تکیہ رکھ اس کا قتل کردیا۔ اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بعد اس نے خود بھی پھانسی لگا لی۔ناسک پولیس کے مطابق پاتھرڈی پھاٹا علاقے کے سائی سدھی اپارٹمنٹ میں مذکورہ واردات پیش آئی۔

پیر کی رات قریب 9:30 بجے 30 سالہ شکھا ساگر نامی خاتون کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔

یہ بھی پڑھیں:---آٹھویں پاس میکینک نے تیار کیا ہیلی کاپٹر، پہلی ہی اڑان کے دوران ہیلی کاپٹر کریش، نوجوان کی موت

شکھا نے سوسائیڈ نوٹ میں لکھا کہ ان دونوں اموات کیلئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔خاتون نے خودکشی نوٹ میں یہ واضح طور پر نہیں لکھا کہ بیٹے کا قتل بھی اس نے ہی کیا ہے۔حالانکہ دونوں کی لاش کمرے کے اندر تھی۔کمرہ باہر سے بند تھا اور بچے کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔خاتون کے والدین نے بھی نواسے کو قتل کئے جانے کی تصدیق کی ہے۔واردات کے وقت شکھا اپنے والدین کے گھر تھی جبکہ اس کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے۔معاملے کی تفتیش کررہے اے سی پی سہیل شیخ نے بتایا کہ پیر کے روز شام 5 بجے کے قریب شکھا نے تکیے سے منہ دبا کر اپنے بیٹے کا قتل کیا تھا۔اس معاملے میں قتل اور خودکشی کا معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔

 

فائر بریگیڈ کی ٹیم راحت رسانی میں مصروف، رابطہ وزیر چھگن بھجبل نے جانچ کا حکم دیا

ریاست مہاراشٹر سمیت ضلع ناسک میں آکسیجن کی قلت دور کرنے کیلئے نئے پلانٹ شروع کئے جارہے ہیں تاکہ کورونا مریضوں کو بروقت آکسیجن فراہم کی جاسکے لیکن اس وقت ناسک شہر میں واقع ڈاکٹر ذاکر حسین سرکاری اسپتال میں آکسیجن ٹینک سے آکسیجن لیکیج ہونے کی خبر موصول ہوئی۔واضح رہے کہ آکسیجن ٹینک میں بڑے پیمانے پر لیکیج ہوجانے سے سینکڑوں لیٹر آکسیجن ضائع ہوگئی ہے۔اس تعلق سے ریاستی وزیر صحت راجیش ٹوپے نے کہا کہ افسوسناک واقعے میں اب تک گیارہ مریضوں کی موت ہوچکی ہے۔موصوف نے انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ آکسیجن ٹینک سے آکسیجن رسنے سے دباؤ کم ہوا اور22 مریض ہلاک ہوگئے۔ کارپوریشن کے ذاکر حسین کووڈ سینٹر میں ٹینک میں آکسیجن بھرنے کے دوران ٹینک پائپ ٹوٹنے کے بعد بہت سے کورونا مریضوں کو نکال لیا گیا۔ مریضوں کی حالات قابو میں ہیں لیکن اموات میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔اس معاملے کی اطلاع ملتے ہی ناسک کے وزیر رابطہ چھگن بھجبل نے فائر بریگیڈ عملہ اور اعلیٰ افسران کو جائے حادثے پر روانہ کیا اور کارروائی کا حکم دیا۔محکمہ فائر بریگیڈ کی بروقت کاروائی سے حادثے پر 80 فیصد قابو پالیا گیا۔اس حادثے کے بعد عوام نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔اس تعلق سے چھگن بھجبل نے کہا کہ آکسیجن ٹنیکر میں لیکیج ہوجانے اور دیگر تکنیکی خرابی کا ذمہ دار کون ہے اس کی جانچ ہوگی اور سخت کارروائی کی جائے گی۔