Articles by "Dada Bhuse"
Showing posts with label Dada Bhuse. Show all posts

تصویر ہٹانے کے تعلق سے دَادا بھسے کا موقف آیا سامنے 

مالیگاؤں: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی میئر شانِ ہند کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر دوبارہ نظر آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ نوتجدید شدہ ڈپٹی میئر کے دفتر میں دیگر عظیم شخصیات کی تصاویر کے ساتھ ٹیپو سلطان کی تصویر بھی لگائی گئی ہے، جس کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈپٹی میئر شانِ ہند نے اپنے دفتر کی تزئین و آرائش کے بعد دوبارہ دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر موجود نظر آئی۔ اس سے قبل بھی ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں سیاسی تنازعہ پیدا ہوچکا ہے اور اس وقت تصویر ہٹائے جانے کی نوبت آئی تھی۔ڈپٹی میئر شانِ ہند نے ٹیپو سلطان کی تصویر دفتر میں لگانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان نے ملک کے لیے قربانی دی اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی، اسی وجہ سے ان کی تصویر دفتر میں لگائی گئی ہے۔ ان کے مطابق انہیں تصویر لگانے میں کوئی اعتراض نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسے نے اس معاملے پر کہا کہ انہیں فی الحال تصویر کے بارے میں معلومات نہیں ہیں، تاہم اگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر موجود ہے تو وہ اسے ہٹانے کے لیے ہدایت دیں گے۔ دادا بھسے کے اس بیان کے بعد معاملے نے ایک مرتبہ پھر سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے۔ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر مالیگاؤں میں اس سے قبل بھی سیاسی کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔ فروری 2026 میں تصویر لگائے جانے کے بعد شیو سینا اور بعض ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا، جبکہ ڈپٹی میئر نے تصویر کو برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی۔ بعد ازاں احتجاج کے انتباہ کے درمیان تصویر ہٹا دی گئی تھی۔اب دوبارہ تصویر سامنے آنے کے بعد مالیگاؤں کی سیاسی سرگرمیوں میں اس معاملے کو لے کر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ آنے والے دنوں میں میونسپل انتظامیہ اور متعلقہ سیاسی جماعتوں کا موقف اس تنازعہ کی آئندہ سمت طے کرنے میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔

سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے کنوینر ابھجیت دِپکے نے جمعرات کو مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھسے کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کے سرکاری اسکولوں کی مبینہ خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو مناسب کلاس روم، بینچ، بیت الخلاء اور اسکول تک پہنچنے کے لیے محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

ابھجیت دپکے نے یہ مطالبہ لاتور کے ضلع کے اوسا تعلقہ کے اوجانی گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کے دورے کے دوران کیا۔ وہ اپنی تنظیم کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کی گئی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی حالت کے لیے وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور عوام کو سیاسی قائدین پر تعلیم کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ریاست کے کئی اسکولوں میں اب بھی مناسب کلاس روم، بیٹھنے کے لیے بینچ، بیت الخلاء اور محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ ’’جانوروں سے بھی بدتر‘‘ سلوک کرنے جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ کی زندگی کا سوال ہے۔ جب سیاسی رہنما طلبہ کے لیے کچھ نہیں کررہے ہیں تو عوام انہیں ووٹ کیوں دیں؟ کیا عوام انہیں صرف اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ہیلی کاپٹروں میں سفر کریں؟ عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے بچے کن حالات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ان وزراء کے کتوں کو بھی اس سے بہتر سہولیات حاصل ہیں۔

دپکے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر تعلیم کے لیے کام کرنے کا دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی سیاسی رہنما ووٹ مانگنے کے لیے گاؤں میں آئے تو عوام اسے کہیں کہ جب تک وہ تعلیم کے لیے کام نہیں کرتا، وہ ووٹ مانگنے ان کے دروازے پر نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے۔

مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاسی بیان بازی کا حوالہ دیتے ہوئے ابھجیت دپکے نے کہا کہ یہ لوگ مسلسل کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے۔ اتنے برسوں میں مذہب ختم نہیں ہوا تو کیا آپ کے دورِ اقتدار میں وہ ختم ہوجائے گا؟ مذہب کہیں نہیں جائے گا، لیکن بچوں کا مستقبل ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزراء اور اراکین اسمبلی اپنے بچوں کو بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تاکہ انہیں ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو درپیش حقیقی مسائل کا اندازہ ہوسکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دادا بھسے کو وزیرِ اسکولی تعلیم کے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے تو دپکے نے کہا کہ اسکولوں کی موجودہ حالت دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وزیرِ تعلیم کو اس عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سرکاری اسکولوں کی بہتری کی فوری ضرورت کو سمجھنا چاہتی ہے تو وزراء اور منتخب نمائندوں کو اپنے بچوں کو انہی اسکولوں میں تعلیم دینی چاہیے۔

دپکے نے مزید الزام لگایا کہ برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود موجودہ حکومت سرکاری اسکولوں کی حالت میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی طلبہ ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں ٹین کی چھتیں ٹوٹی ہوئی یا رسنے والی ہیں اور مناسب تعداد میں بینچ بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اگر دس سال میں یہ بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاسکے تو حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے کیا حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ CJP اور مقامی شہری اسکولوں کے مسائل کے خلاف اجتماعی طور پر آواز اٹھائیں گے اور حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ ان طلبہ کے لیے محفوظ آمدورفت کا انتظام کیا جائے جو کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔

اسکولوں میں سانپ کے کاٹنے سے بچوں کی مبینہ اموات کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکام طلبہ کو محفوظ ماحول میں تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے CJP ٹیم کی جانب سے معائنہ کیے گئے ایک اسکول کے غیر صحت بخش ماحول پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ اسکول کے پیچھے جمع کباڑ اور گندگی کی وجہ سے سانپوں کی موجودگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہوگئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ CJP کی جانب سے کیے گئے معائنوں کے بعد بعض اسکولوں میں متعلقہ حکام نے کام شروع بھی کیا ہے۔

ابھجیت دپکے نے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے عوامی شمولیت کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے دوبارہ اپنی آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔ جمہوریت میں مزید تنظیمیں اور تحریکیں سامنے آنی چاہئیں۔ جتنے زیادہ لوگ آگے آکر اپنی بات کہیں گے، ہماری جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔

جین زی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2029 کے انتخابات تک نوجوان ایک بڑی انتخابی طاقت بن جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کو ان کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو موجودہ وقت میں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نسل کے لیے بھی کام کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے انتخابات میں وہ حکومتوں سے جواب طلب کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر نہیں کی تو احتجاج کی لہر گاؤں گاؤں تک پھیل سکتی ہے۔

لاتور میں NEET پیپر لیک معاملے کی CBI تحقیقات کے بارے میں دپکے نے الزام عائد کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تفتیش میں نچلی سطح کے ملزمین کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بڑے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اتنا بڑا معاملہ نظام میں اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ شمولیت کے بغیر پیش آیا ہوگا۔ صرف چند نچلی سطح کے لوگوں کو گرفتار کرکے کارروائی کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہے۔

مجموعی طور پر ابھجیت دپکے نے اسکول کے دورے کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں فوری طور پر بنیادی سہولیات بہتر بنانے، وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنانے اور بہتر تعلیمی سہولیات کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

طالبات کیلئے معیاری کوچنگ کا آغاز،150 سے زائد داخلے، مستقبل میں NEET، TET، MPSC اور UPSC کی تیاری بھی کرائی جائے گی: آصف شیخ 

مالیگاؤں: مہاراشٹر کے وزیرِ تعلیم دادا بھسے نے بدھ کے روز مالیگاؤں میں سینٹرل اسمبلی حلقہ میں قائم شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کا دورہ کیا اور مرحوم شیخ رشید کی یاد میں شروع کیے گئے اس فلاحی تعلیمی منصوبے کی ستائش کرتے ہوئے اسے شہر کے طلبہ، خصوصاً طالبات، کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ شیخ رشید صاحب کے انتقال کے بعد اہلِ خانہ اور رفقاء نے یہ فیصلہ کیا کہ مرحوم کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے کسی عمارت، چوک یا یادگار کے بجائے ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے مفید ثابت ہو۔ اسی سوچ کے تحت شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کا قیام عمل میں لایا گیا، جہاں ابتدائی مرحلے میں پانچویں سے دسویں جماعت تک کی طالبات کے لیے معیاری کوچنگ کلاسز شروع کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ داخلہ مہم کے آغاز سے اب تک تقریباً 150 طالبات داخلہ لے چکی ہیں، جبکہ کلاسوں کا باقاعدہ تدریسی سلسلہ سے شروع ہوگا۔ مستقبل میں ادارے کے ذریعے نیٹ (NEET)، ٹی ای ٹی (TET)، ایم پی ایس سی (MPSC) اور یو پی ایس سی (UPSC) جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے آن لائن لیکچرز اور خصوصی رہنمائی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ طالبات کو مختلف ہنر اور روزگار سے متعلق تربیت فراہم کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارہ مکمل طور پر طالبات کے لیے وقف ہے اور اس کے انتظام و انصرام کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) قائم کی گئی ہے۔ ادارے کی سرپرستی حفصہ شیخ کر رہی ہیں، جبکہ نمرہ شیخ چیئرپرسن اور عائشہ شیخ سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔

آصف شیخ کے مطابق ادارہ "نو پرافٹ، نو لاس" کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر سالانہ فیس صرف پانچ ہزار سے سات ہزار روپے مقرر کی گئی ہے تاکہ اساتذہ کی تنخواہوں اور عمارت کے بنیادی اخراجات پورے کیے جا سکیں، جبکہ کسی قسم کا تجارتی منافع حاصل کرنا ادارے کا مقصد نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ میں طالبات کی حفاظت اور بہتر تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پورے کیمپس میں چوبیس گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی، مکمل ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز، کینٹین اور خوبصورت باغ جیسی سہولیات موجود ہیں۔ اساتذہ کے تقرر کے لیے شہر کے ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک خصوصی پینل تشکیل دیا گیا تاکہ تدریس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔آصف شیخ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پانچویں سے دسویں جماعت تک زیرِ تعلیم اپنی بچیوں کو اس ادارے میں داخل کرائیں تاکہ وہ کم خرچ میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ رشید ہمیشہ تعلیم اور سماجی خدمت کے فروغ کے خواہاں تھے اور یہ ادارہ انہی کے خواب کو عملی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل قریب میں مالیگاؤں میں ایک اور بڑے تعلیمی کیمپس کے قیام کا منصوبہ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس سے شہر میں تعلیمی سہولیات میں مزید اضافہ ہوگا۔اس موقع پر وزیرِ تعلیم دادا بھسے نے شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ مالیگاؤں کی طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور شہر میں تعلیمی بیداری کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔

 


چوطرفہ مخالفت کے بعد ہندی کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ واپس، وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے نے حکومت کا موقف واضح کیا

ممبئی: پہلی سے پانچویں جماعت تک ہندی کو لازمی بنانے کے فیصلے پر چوطرفہ مخالفت کے بعد ریاستی حکومت نے منگل کے روز کہ اعلان کیا کہ ہندی زبان اب لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہوگی.

یہ بھی پڑھیں..... وقف قانون کی واپسی تک ملک گیر احتجاج جاری رہے گا: مولانا خالد سیف اللہ رحمانیmendment-Act-Is-Rolled-Back.html

وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے کو اس متنازعہ اقدام کے سلسلے میں منترالیہ میں صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا. انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر دیڑھ گھنٹے تک بحث ہوئی جس کے بعد "لازمی" اصطلاح کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا. وزیر دادا بھسے نے کہا کہ وسیع پیمانے پر مخالفت کے سبب اب ہندی مضمون اختیاری کردیا گیا ہے. جلد ہی ایک نظر ثانی شدہ حکومتی قرارداد جاری کی جائے گی، جس میں طلباء کو اپنی تیسری زبان کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ بھسے نے کہا کہ ہندی، قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تحت تین زبانوں کے فارمولے کا حصہ ہے، لیکن لازمی نہیں ہے۔

موجودہ ذو لسانی ڈھانچہ کی جگہ تین زبانوں کے ماڈل کے ساتھ ہندی کو انگریزی اور مراٹھی کے ساتھ لازمی قرار دئیے جانے کی ابتدائی تجویز کی سخت مخالفت کی گی. یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے اسکولوں میں ہندی کو لازمی بنانے کا اقدام مرکزی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے اسکولوں میں ہندی کو لازمی بنانے کا اقدام مرکزی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ منترالیہ میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے دادا بھُسے نے کہا کہ مرکزی حکومت نے این ای پی کے تخت کسی بھی زبان کو لازمی نہیں بنایا لے. ہندی اختیاری ہے لازمی نہیں. ہم جی آر پر نثر ثانی کریں گے. حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے وزید برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے نے کہا کہ ہندی مراٹھی کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے دونوں کا رسم الخط (دیوناگری) بھی ایک ہے. جس کے سبب طلباء کے لئے سیکھنا آسان ہوجاتا ہے. ہندی پہلے ہی پانچویں جماعت سے پڑھائی جاتی ہے. جماعت اول سے ہندی پڑھائے جانے کے خیال کا مقصد سیکھنے کے عمل کو آسان بنانا تھا. مراٹھی اور انگریزی لازمی مضمون ہوں گے، اگر طالب علم اپنے تیسرے متبادل کے طور پر کسی اور زبان کو ترجیح دیتے ہیں تو ہم دلچسپی اور اساتذہ کی دستیابی کا جائزہ لیں گے.

 دو روز قبل وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ہندی کو لازمی بنانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اسکولوں میں تین زبانیں پڑھانا لازمی ہے اور ان میں سے دو کا ہندوستانی ہونا لازمی ہے۔ چونکہ ہمارے پاس پہلے ہی ریاست بھر میں ہندی اساتذہ کی کافی تعداد موجود ہے ، لہذا اسے تیسری لازمی زبان کے طور پر تجویز کیا گیا تھا۔ اگر ہم تمل، گجراتی، کنڑ یا ملیالم جیسی دیگر ہندوستانی زبانوں کا انتخاب کرتے ہیں، تو ہمارے پاس فی الحال کافی تدریسی عملہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جلد ہی ایک فیصلہ کرے گی جس میں طلباء کو اپنی تیسری زبان کے طور پر ہندی کے بجائے کسی اور ہندوستانی زبان کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر 20 سے زیادہ طالب علم متبادل زبان کا انتخاب کرتے ہیں، تو ایک وقف استاد مقرر کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے گروپوں کے لئے آن لائن کلاسوں جیسی سہولیات کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔

16 اپریل کو جاری کیے گئے اصل جی آر میں پہلی کلاس سے ہندی کو لازمی قرار دیا گیا تھا، جس پر تمام سیاسی حلقوں میں سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ مہارشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) سربراہ راج ٹھاکرے نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 'مہاراشٹر میں پہلی کلاس سے ہندی کو لازمی کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ سے توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہندی کی درسی کتابوں کو دکانوں میں فروخت کرنے یا اسکولوں کے ذریعہ تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کانگریس پارٹی نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ اگر تیسری زبان کی ضرورت ہے تو اسے اختیاری ہونا چاہئے۔

راج ٹھاکرے اور دادا بھسے نے فیصلے کا خیر مقدم کیا، ممبئ کے پانچ داخلی راستوں پر آج رات سے ٹول وصولی بند

ممبئی: مہاراشٹر کابینہ نے آج رات 12 بجے سے ممبئی میں داخل ہونے والی چھوٹی موٹر گاڑیوں کے لئے تمام پانچ انٹری پوائنٹس سے ٹول معاف کرنے کے اپنے فیصلے سے ممبئی والوں کو حیران کردیا۔ مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کابینہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ دیرینہ مطالبہ بالآخر پورا ہوگیا ہے۔ راج ٹھاکرے 2013 سے ممبئی کو ٹول فری بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

انہوں نے کہا کہ طویل لڑائی کے بعد، ممبئی والوں کو بالآخر اب راحت ملے گی۔ مجھے امید ہے کہ یہ فیصلہ مستقل ہوگا اور نئی حکومت انتخابات کے بعد ٹول وصولی دوبارہ شروع نہیں کرے گی۔ راج ٹھاکرے کئی سالوں سے ممبئی میں ٹول وصولی کا مسئلہ اٹھارہے ہیں۔ کئی واقعات پر ایم این ایس کارکنوں نے بھی ٹول پلازوں پر ہنگامہ برپا کیا۔

ایم این ایس لیڈر اویناش جادھو نے کہا کہ یہ پورے مہاراشٹر میں ہمارے ایم این ایس کارکنان کی جیت ہے، جنہوں نے ٹول وصولی کو روکنے کے لئے جدوجہد کی ہے، ان میں سے کئی کے خلاف مقدمات درج ہیں اور کچھ جیل بھی جا چکے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کے لئے لڑائی لڑی اور میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل ٹول معافی مہایوتی حکومت کا ایک اور بڑا فیصلہ ہے جس نے رائے دہندگان کو متاثر کیا ہے۔ ٹول معافی ممبئی والوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ ممبئی کے داخلی راستوں پر جن پانچ ٹول ناکوں پر آج رات سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، ان میں ملنڈ ایسٹرن ایکسپریس وے، ملنڈ ایل بی ایس روڈ، دہیسر، ایرولی اور واشی شامل ہیں۔

اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر دادا بھسے نے کہا کہ 'یہ ممبئی والوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ 45 روپے اور 75 روپے کا ٹول اکٹھا کیا گیا تھا۔ ٹول وصولی کی آخری تاریخ 2026 تک تھی اور اس میں توسیع کا امکان تھا۔ اس فیصلے سے 2 لاکھ 80 ہزار گاڑیوں کو فائدہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس شیڈول کو بناتے وقت ٹول معافی سے آنے والے مالی بوجھ پر بھی غور کیا ہے۔