Articles by "SIR"
Showing posts with label SIR. Show all posts

 دو کروڑ سے زائد ووٹروں کے انومریشن فارم جمع نہیں ہوئے

ممبئی: مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے تحت گنتی فارم جمع کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے،تاہم ریاست میں 2 کروڑ 7 لاکھ 93 ہزار 916 ووٹروں کے گنتی فارم ابھی تک جمع یا اسکین نہیں ہو سکے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کی جانب سے 17 اگست 2026 کو جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ اہم معلومات سامنے آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریاست میں مجموعی طور پر 9 کروڑ 78 لاکھ 54 ہزار 49 ووٹر درج ہیں۔ ان میں سے 7 کروڑ 69 لاکھ 52 ہزار 262 ووٹروں کے گنتی فارم ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی ووٹروں کا 78.64 فیصد ہے۔ جبکہ 21.25 فیصد یعنی 2 کروڑ سے زائد ووٹروں کے فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، ڈیجیٹائز کیے گئے فارم اور ابھی تک جمع نہ ہونے والے فارم کو ملا کر 9 کروڑ 77 لاکھ 46 ہزار 178 ووٹروں کا ڈیٹا آن لائن عمل میں شامل ہو چکا ہے، جو ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 99.89 فیصد بنتا ہے۔الیکشن حکام نے واضح کیا ہے کہ گنتی فارم جمع کرانے کے لیے مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

ضلع وائز صورتحال پر نظر ڈالیں تو تھانہ میں 38.77 فیصد، ممبئی شہر میں 37.57 فیصد، ممبئی مضافاتی علاقے میں 34.48 فیصد، پونہ میں 31.92 فیصد، ناگپور میں 30.32 فیصد اور پال گھر میں 28.88 فیصد گنتی فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ہنگولی میں 91.18 فیصد، بلڈھانہ میں 90.83 فیصد اور لاتور میں 89.21 فیصد فارم جمع ہونے کی اطلاع ہے۔

اسی طرح SIR کے اگلے مرحلے میں 24 اگست 2026 کو مسودہ ووٹر لسٹ (Draft Electoral Roll) جاری کی جائے گی۔ اس کے بعد ووٹروں کو اپنے نام اور تفصیلات کی جانچ کرنے اور دعوے و اعتراضات داخل کرنے کا موقع ملے گا۔ دعوے اور اعتراضات 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک داخل کیے جا سکیں گے۔اگر کسی اہل ووٹر کا نام مسودہ ووٹر لسٹ میں موجود نہ ہو تو وہ فارم 6 کے ذریعے نام شامل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 جبکہ پتہ، تصویر یا دیگر تفصیلات میں ترمیم کے لیے فارم 8 استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 تک 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹر بھی مقررہ مدت میں اپنا نام درج کرا سکیں گے۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق دعوے اور اعتراضات کی جانچ کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ ایسے میں تمام ووٹروں کے لیے ضروری ہے کہ مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد اپنا نام، پتہ، تصویر اور دیگر تفصیلات لازماً چیک کریں، تاکہ کسی غلطی یا نام کے اخراج کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر اصلاح یا اعتراض کیا جا سکے۔

17 اگست تک گھر گھر تصدیق جاری رہے گی، 27 اکتوبر کو حتمی ووٹر لسٹ شائع ہوگی

ممبئی: ریاست مہاراشٹر میں جاری خصوصی نظرِ ثانی (Special Intensive Revision – SIR) مہم کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے مہم کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے سے ایسے لاکھوں شہریوں کو سہولت ملے گی جن کے نام اب تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے یا جنہیں اپنے ووٹر ریکارڈ میں ضروری اصلاحات کرانی ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نظرِ ثانی شدہ شیڈول کے مطابق بوتھ لیول آفیسرز (BLO) اب 17 اگست 2026 تک گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق، اندراج اور معلومات کی جانچ کا کام انجام دیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کو ووٹر فہرست میں شامل کیا جا سکے۔

کمیشن کے نئے پروگرام کے مطابق 17 اگست کو پولنگ مراکز کی ازسرِ نو تنظیم (Reorganization) کی جائے گی، جبکہ 24 اگست 2026 کو ابتدائی (مسودہ) ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔ اس کے بعد 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک شہری ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے، نام حذف کرانے، پتے یا دیگر تفصیلات میں ترمیم کے لیے اپنے دعوے اور اعتراضات داخل کر سکیں گے۔الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ موصول ہونے والی تمام درخواستوں کی جانچ، سماعت اور فیصلہ 22 اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ تمام ضروری اصلاحات کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو ریاست کی حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔

کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس توسیع شدہ مدت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اگر ان کا نام ووٹر لسٹ میں درج نہیں ہے یا کسی قسم کی تصحیح درکار ہے تو مقررہ مدت کے اندر ضروری درخواست ضرور جمع کرائیں تاکہ آئندہ انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہیں۔

الیکشن کمیشن نے واضح انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے، ترمیم کرانے یا نام حذف کرانے کے لیے اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرتا ہے یا جھوٹا حلف نامہ جمع کراتا ہے تو اس کے خلاف انتخابی قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

علماء کرام نماز جمعہ سے قبل  ایس آئی آر کے تعلق سے خطاب کریں 

مالیگاؤں: (30 جولائی) اسلام پارٹی کے رہنما آصف شیخ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر میں جاری خصوصی نظرثانی (SIR) سروے کے بارے میں اہم اپیل کی اور نعمانی پل کے واقعہ پر بھی اپنا اظہار خیال کیا۔جمعرات کو دوپہر میں دو بجے شیخ رشید بھون پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف شیخ نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مہاراشٹر میں ایس آئی آر سروے شروع ہو چکا ہے اور مالیگاؤں شہر میں بھی فارم بھرے جا رہے ہیں۔ اب صرف آٹھ دن باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں اب تک تقریباً ستر فیصد فارم بھر کر بی ایل او کے ذریعے جمع کرا دیے گئے ہیں جبکہ تیس فیصد لوگ ابھی تک فارم نہیں بھر سکے جو تشویش کی بات ہے۔

انہوں نے مالیگاؤں کی عوام سے اپیل کی کہ باقی آٹھ دن کا فائدہ اٹھا کر اپنے بی ایل او سے رابطہ کریں، فارم لیں، بھریں اور جمع کرائیں۔ آصف شیخ نے مذہبی تنظیموں، سماجی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران سے بھی اپیل کی کہ جمعہ کی نماز سے قبل مساجد میں لوگوں کو فارم بھرنے کی ترغیب دی جائے۔ ان میں جمعیت العلماء، سنی دعوت اسلامی، دعوت اسلامی، جماعت اہل حدیث، تبلیغی جماعت کے مراکز غربید و نورانی مرکز سمیت تمام مذہبی اداروں سے اپیل کی ہے۔انہوں نے بی ایل اوز سے بھی گزارش کی کہ وہ مزید وقت دے کر علاقوں میں بیٹھیں اور باقی فارم بھرنے میں مدد کریں۔ آصف شیخ نے بی جے پی اور کریٹ سومیا کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں مہاراشٹر میں پچاس لاکھ بنگلہ باشندوں کے نام ایس آئی آر سے کاٹنے کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے اسے مہاراشٹر کے مسلمانوں کی توہین قرار دیا اور کہا کہ اس الزام کا مؤثر جواب دینے کے لیے ہر مسلمان کو اپنا ایس آئی آر فارم وقت پر بھرنا ضروری ہے۔

اس پریس کانفرنس سے اسلام پارٹی کے ورکروں اور کارپوریٹرز سے اپیل کی گئی کہ جمعہ کے بعد الیکشن کی طرح گھر گھر جا کر لوگوں سے پوچھیں کہ فارم بھرا گیا یا نہیں اور جو باقی ہیں انہیں بھرنے کی ترغیب دیں۔ کچھ لوگوں کے نام فہرست میں نہیں آنے پر اسلام پارٹی اور سماج وادی پارٹی نے مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کے تحت ان کے میپنگ کے اسکرین شاٹ جمع کرائے ہیں تاکہ ان کے مسائل حل کیے جاسکے ۔

اس موقع پر نعمانی پل کے بارے میں آصف شیخ نے کہا کہ ایک معصوم بچہ ندی میں بہہ گیا تھا اور چار دن بعد اس کی لاش ملی۔ یہ افسوسناک واقعہ ہے۔ لوگوں نے پل کے کام مکمل نہ ہونے پر احتجاج بھی کیا۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو ندی کے قریب کھیلنے سے روکیں اور کہا کہ پل کا افتتاح کرنے والوں کے بارے میں عوام خود فیصلہ کریں۔

آصف  شیخ نے زور دیا کہ آٹھ دن بہت اہم ہیں اور شہر کے تمام طبقات کو مل کر ایس آئی آر فارم بھرنے کی مہم میں حصہ لینا چاہیے۔

چند بی ایل اوز کی شکایت، عوام کے ووٹ کا تحفظ اولین ترجیح، فارم تقسیم و ڈیجیٹائزیشن میں رکاوٹیں ناقابلِ برداشت: اسلام پارٹی کی جائزہ میٹنگ 

مالیگاؤں : اسلام پارٹی کی جانب سے تمام عہدیداروں، کارپوریٹروں اور ورکروں کی ایک اہم جائزہ میٹنگ سکینہ ہال نئے فاران ہاسپٹل کے سامنے جمعہ کو بعد نماز عشاء پارٹی کے صدر نوید خطیب کی صدارت میں منعقد کی گئی، جس میں عوام کو درپیش مسائل، خصوصی طور ایس آئی  سروے فارم تقسیم اور ڈیجٹائزیشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس میٹنگ  میں ورکروں اور کارپوریٹرس کی جانب سے بتایا گیا کہ کئی علاقوں میں بعض بی ایل اوز (BLOs) کی جانب سے ووٹروں میں فارم تقسیم نہیں کیے جا رہے ہیں،جس کی وجہ سے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میٹنگ میں کارکنان کو ہدایت دی گئی کہ وہ گھر گھر پہنچ کر عوام میں بیداری پیدا کریں، وارڈ وائز اور ووٹر لسٹ کے مطابق اہل ووٹروں کی شناخت کرتے ہوئے فارم تقسیم کرائیں اور انہیں بھروا کر جمع کرنے میں مکمل تعاون کریں۔اس میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوام اور بی ایل اوز کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے اور تمام بی ایل اوز سے اپیل کی جائے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور تیزی کے ساتھ انجام دیں تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔

آصف شیخ کی قیادت میں اسلام پارٹی نے اعلان کیا کہ بی ایل اوز کے کام سے متعلق تمام شکایات پرانت آفیسر کے سامنے پیش کی جائیں گی اور ان مسائل کے فوری حل کی کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ پرانت آفیسر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 50 فیصد بی ایل اوز قابلِ تعریف انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور اسلام پارٹی ایسے بی ایل اوز کا استقبال اور حوصلہ افزائی کرے گی، جبکہ باقی 50 فیصد بی ایل اوز کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے، جن کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔میٹنگ میں آصف شیخ نے کہا کہ یہاں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر پیر تک بی ایل اوز کے طریقۂ کار میں بہتری نہیں آئی تو اسلام پارٹی کی جانب سے وارڈ وائز "راستہ روکو" احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ بعض بی ایل اوز جان بوجھ کر فارم تقسیم نہیں کر رہے ہیں، جس کی شکایت سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے متعلقہ انتخابی افسران میں پرانت آفسیر ،کمشنر اور پولس انتظامیہ سے بھی کی ہے۔

 آصف شیخ نے کہا کہ اگر ان تمام مسائل کو جلد از جلد حل نہیں کیا گیا تو 29 تاریخ کے بعد کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ہنگامی دھرنا اور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر احتجاج کے دوران پولیس انہیں گرفتار بھی کرتی ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں، تاہم عوامی خدمت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔آصف شیخ نے کہا کہ آئندہ جمعہ کو وارڈ وائز اسلام پارٹی کے ورکر گلی گلی گھوم کر عوام کے فارم جمع کرنے کیلئے بیداری لائیں ۔اپنے تمام کام درکنار کر عوامی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کریں ۔انہوں نے کہا کہ عوام سب دیکھ رہی ہے کہ کون ایسے مشکل حالات میں عوام کے ساتھ کھڑا ہے اس لیے عوام کے فارم بھریں اور جمع کریں ۔آصف شیخ نے کہا کہ کاغذات کیلئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پہلے اپنا فارم بھریں اور جمع کریں ۔آئندہ بھی اسلام پارٹی نوٹس اور شنوائی کے وقت عوام کے کاغذات درست کروانے کیلئے مدد کرنے تیار ہے ۔اس موقع پر اسلام پارٹی کے تمام عہدیداروں ورکروں اور کارپوریٹرس موجود تھے ۔

اسلام پارٹی کے تمام کارپوریٹرس کو خود کو 15 دنوں کیلئے SIR مہم کیلئے وقف کرنے کی ہدایت

مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کے سابق رکن اسمبلی و اسلام پارٹی کے رہنما آصف شیخ رشید نے آج پرانت آفیسر نتن سدگیر سے ملاقات کرکے شہر میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم اور انومریشن فارموں کے ڈیجیٹائزیشن عمل کا جائزہ لیا۔ ملاقات کے دوران حاصل ہونے والی معلومات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے عوام اور بی ایل اوز (BLOs) سے فوری تعاون کی اپیل کی۔آصف شیخ نے بتایا کہ پرانت آفیسر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اب تک SIR فارموں کے ڈیجیٹائزیشن کا صرف 42 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے، جبکہ 38 فیصد شہریوں نے فارم حاصل کرنے کے باوجود اپنے BLO کے واپس جمع نہیں کرائے اور 20 فیصد افراد ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے متعلقہ بی ایل او سے فارم وصول ہی نہیں کیا ہے۔انہوں نے شہر کے تمام ووٹرس سے اپیل کی کہ وہ دیگر مصروفیات کو مؤخر کرکے فوری طور پر اپنے بی ایل او سے رابطہ کریں، انومریشن فارم حاصل کریں، درست معلومات کے ساتھ اسے پُر کریں اور بلا تاخیر واپس جمع کرائیں تاکہ کسی بھی شہری کا ووٹ ڈیلیٹ نہ ہوسکے۔

آصف شیخ نے کہا کہ بیشتر بی ایل اوز اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہیں مزید تیز رفتاری سے وارڈ وائز گھر گھر پہنچ کر فارم تقسیم کرنے، جمع کرنے اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر کسی بی ایل او کو رضاکارانہ مدد درکار ہو تو اسلام پارٹی کے کارپوریٹرس اور کارکن ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں شہریوں کے جمہوری حق، یعنی حقِ رائے دہی کے تحفظ کیلئے سب کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر اس عمل سے محروم نہ رہ جائے۔

دریں اثنا، آصف شیخ رشید اور اسلام پارٹی کے صدر نوید خطیب احمد نے پارٹی کے تمام کارپوریٹرس کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ 15 دنوں تک اپنی تمام سیاسی سرگرمیوں کو مؤخر کرکے صرف SIR مہم پر توجہ دیں۔ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ ہر کارپوریٹر اپنے اپنے وارڈ میں عوام کو فارم حاصل کرنے، اسے درست طریقے سے بھرنے اور متعلقہ بی ایل او کے پاس جمع کرانے تک مکمل رہنمائی اور تعاون فراہم کرے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مہاراشٹر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں 30 جون سے SIR سروے کا آغاز کیا گیا ہے، جو 8 اگست تک جاری رہے گا۔ اس دوران ووٹرس کے انومریشن فارم بھرے جا رہے ہیں، اور اسلام پارٹی نے اپنے تمام منتخب نمائندوں کو عوام کے ووٹنگ کے حق کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔

مالیگاؤں پرانت آفس سے مکمل رپورٹ ممبئی طلب کی جائے گی، ریاستی الیکشن کمیشن کا مستقیم ڈگنیٹی کو تیقن 

​مالیگاؤں : شہر مالیگاؤں میں سرکاری الیکٹورل رجسٹریشن (SIR) کے کام کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے مبینہ طور پر خارج کیے جانے کا ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایسے تقریباً 300 افراد جن کا گزشتہ اپریل میں باقاعدہ میپنگ کا عمل مکمل کروایا گیا تھا اور جنہوں نے جنوری میں منعقدہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال بھی کیا تھا، اب نئی فہرستوں اور انومریشن فارم کی لسٹ سے ان کے نام غائب پائے گئے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہو چکے ہیں۔اس ضمن میں سماجوادی پارٹی کے مقامی رہنما مستقیم ڈگنٹی نے اس ناانصافی کے خلاف فوری طور پر آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے مقامی سطح پر پرانت آفیسر سے مالیگاؤں میں ایک تحریری شکایت درج کروائی تھی، تاہم وہاں سے کوئی مثبت ردعمل یا مسئلہ کا تسلی بخش حل نہ نکلنے پر انہوں نے سیدھے صوبائی دارالحکومت ممبئی کا رخ کیا اور الیکشن منسٹری پہنچ کر اعلیٰ حکام کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔

​ممبئی کے دورے کے دوران چیف الیکشن آفیسر سے مصروفیات کے باعث ملاقات ممکن نہ ہو سکی، جس کے بعد مستقیم ڈگنٹی نے ڈپٹی الیکشن آفیسر منوہر پاریکر  سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ملاقات کے آغاز میں ڈپٹی الیکشن آفیسر نے معاملے کو عام ووٹرز کا انفرادی مسئلہ سمجھا، لیکن جب مستقیم ڈگنٹی نے اپریل کی میپنگ اور جنوری کے بلدیاتی انتخابات میں ان ووٹرز کی شرکت کے ٹھوس شواہد اور ریکارڈز پیش کیے، تو انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹس محض تین ماہ کے قلیل عرصے میں تکنیکی یا قانونی طور پر نہیں کاٹے جا سکتے۔ ڈپٹی الیکشن آفیسر نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے میں مالیگاؤں کے مقامی حکام سے فوری رپورٹ طلب کر رہے ہیں اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد اگلا سخت اقدام کیا جائے گا۔

​دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے رہنما مستقیم ڈگنٹی نے انتظامیہ کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا ہے کہ اگر 20 اپریل تک میپنگ کروائے گئے تمام متاثرہ ووٹرز اور کارپوریشن انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کو فوری طور پر انتخابی انومریشن فارم فراہم کر کے ان کے نام بحال نہیں کیے گئے، تو 21 جولائی کو مالیگاؤں پرانت کچہری کے سامنے ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ سہیوگ اندولن کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجوادی پارٹی شہر کے عوام کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی پر کسی بھی صورت خاموش نہیں بیٹھے گی اور عوامی حقوق کی بحالی تک تحریک جاری رکھے گی۔اس موقع پر انصاری عبد الرحمن بھی موجود تھے ۔​یہ پورا واقعہ موجودہ انتخابی عمل کی شفافیت، انتظامیہ کی کارکردگی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اب تمام حلقوں کی نظریں الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کی گئی رپورٹ اور اس پر ہونے والی اگلی کارروائی پر ٹکی ہوئی ہیں۔

غفلت چھوڑو، بیدار ہو جاؤ، اپنے کل کو محفوظ بناؤ: آصف شیخ رشید

​مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کی معروف سیاسی و سماجی تنظیم اسلام (I.S.L.A.M) پارٹی مالیگاؤں کی جانب سے عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم اور منظم عوامی بیداری مہم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ رشید کی سرپرستی میں آنے والی 17 جولائی سے پورے شہر میں بڑے پیمانے پر "ایس آئی آر (SIR) بیداری مہم" کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے اسلام پارٹی نے عوامی بیداری مہم (SIR) کے تحت کارنر میٹنگز کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ مہم کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کی آواز بلند کرنا ہے۔آصف شیخ رشید بانی و قائد اسلام پارٹی ان میٹنگز سے خطاب کریں گے۔میٹنگ کی تفصیلات کے مطابق 17 جولائی جمعہ شام 7 بجے گلشیر نگر، مین روڈ، گلی نمبر 5، رات 8 بجے شبیر نگر، سیلانی چوک اور رات 9 بجے آزاد نگر، جیلانی چوک میں آصف شیخ رشید میٹنگ سے خطاب کریں گے جبکہ 18 جولائی بروز سنیچر کوشام 7 بجے: گاندھی نگر، تراب ممبر کے مکان کے پاس،

رات 8 بجے: مدنی نگر، چاند پٹیل کرانہ دکان کے پاس اور رات 9 بجے: نظامیہ مسجد، 60 فٹی روڈ کی میٹنگ میں بھی آصف شیخ مقرر خصوصی کے طور پر خطاب کرینگے ۔اسلام پارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بڑی تعداد میں شرکت کر کے مہم کو کامیاب بنائیں۔ یہ میٹنگز ایس آئی آر بیداری کیلئے عوام سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہیں۔

 اس مہم کا بنیادی مقصد عوام کو غفلت سے نکال کر اپنے حقوق کے تئیں بیدار کرنا ہے، کیونکہ مستقبل کے کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے آج ہی بیدار ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔​اس مہم کو شہر کے کونے کونے اور گھر گھر تک پہنچانے کے لیے اسلام پارٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشہیری تیاریاں کی گئی ہیں۔ قائدِ پارٹی آصف شیخ رشید کی زیرِ سرپرستی عوامی بیداری کے لیے خصوصی ٹی شرٹس تیار کی گئی ہیں، جبکہ شہر بھر میں تشہیر کے لیے رکشا بینر اور پوسٹرز بھی چھپوائے گئے ہیں۔ ان تشہیری وسائل کا مقصد عوام کو متحرک کرنا ہے تاکہ کوئی بھی شہری معلومات کے فقدان کی وجہ سے اس اہم ایس آئی آر مہم سے محروم نہ رہ جائے۔

​اسلام پارٹی نے مالیگاؤں کی عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ عوام جلد سے جلد اپنا ایس آئی آر (SIR) فارم حاصل کریں، اسے مکمل اور درست معلومات کے ساتھ پُر کریں اور بغیر کسی تاخیر کے اپنے متعلقہ بی ایل او (BLO) کے پاس جمع کروائیں۔آصف شیخ کا کہنا ہے کہ "غفلت چھوڑو، بیدار ہو جاؤ؛ اپنے کل کو محفوظ بناؤ" کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عوام کا تعاون بے حد ضروری ہے، تاکہ سب کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

​1962ء سے ووٹ ڈالنے والے بزرگ شہریوں کا نام بھی غائب؛ فارم بھرنے کے نام پر 100 روپے لوٹنے والے زیراکس سینٹرز کے خلاف پرانت افسر سے شکایت

​مالیگاؤں: (13 جولائی)مالیگاؤں شہر میں جاری خصوصی ووٹر سروے (SIR) کے دوران سنگین بے ضابطگیاں اور لاپرواہی کے معاملات سامنے آنے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے رہنما کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں ایک وفد نے پرانت افسر کے نام نائب تحصیلدار کو ایک احتجاجی  میمورنڈم پیش کیا، جس میں عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ اور متعلقہ محکمے کی سست روی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے الزام لگایا کہ شہر میں ایک منظم اور سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت شہریوں کو ان کے بنیادی آئینی حق (ووٹ) سے محروم کیا جا رہا ہے۔

​سماجوادی رہنما نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں الیکشن کمیشن کے تحت جن ہزاروں شہریوں نے باقاعدہ اپنی ووٹر میپنگ (Mapping) کروائی تھی اور جن کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں، آج ان ووٹرس کے نام ہی غائب ہیں اور ان کے فارم بھی فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے ایک معمر شہری 'اسامہ بابا' کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ​"جو شخص 1962ء سے مسلسل ہر انتخاب میں حصہ لے رہا ہے اور جس نے کارپوریشن الیکشن 2026ء تک ووٹ دیا، میپنگ کے باوجود آج اس کا نام بھی لسٹ سے صاف کر دیا گیا ہے۔ یہ الیکشن ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

​انہوں نے انتظامیہ کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا کہ اگر 20 جولائی تک میپنگ والے تمام ووٹرز کے فارم فراہم نہ کیے گئے اور لسٹوں کی درستی کا حتمی فیصلہ نہ ہوا، تو 21 جولائی کو پرانت آفس کے باہر ایک بڑا "سہیوگ اندولن"(احتجاجی تحریک) شروع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ پر ہوگی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ​ووٹر فارم بھرنے کے عمل میں سستی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک تقسیم کیے گئے لاکھوں فارمز میں سے بہت کم تعداد میں فارم واپس جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ پر زور دیا کہ چونکہ حکومت کی جانب سے اسکولوں کے اوقات  کم (Short Time) کر دیے گئے ہیں (سنگل شفٹ 10:30 بجے اور ڈبل شفٹ 2:00 بجے تک)ہے، اس لیے تمام اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور مینجمنٹ ان اساتذہ کو جو BLO (بوتھ لیول افسر) نہیں ہیں، فارم بھرنے کے کام پر لگائیں۔انہوں نے BLOs کو بھی ہدایت کی کہ وہ وقت کی کمی کا کوئی بہانہ بنائے بغیر اپنی سماجی ذمہ داری سمجھ کر فارم کی تقسیم اور واپسی کو یقینی بنائیں۔

​مستقیم ڈگنیٹی نے انکشاف کیا کہ شہر کے بعض آن لائن سروسز اور زیراکس سینٹرز والے معصوم شہریوں سے فارم بھرنے کے نام پر 100 روپے فیس وصول کر کے غلط فارم بھر رہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے پرانت افسر کو تحریری شکایت دیتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔​دوسری جانب انہوں نے شہریوں کو ایک اہم اور خوش آئند اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اب آدھار کارڈ کو بھی 12 ویں لازمی شناختی دستاویز کے طور پر قبول کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے ان لوگوں کو بڑی راحت ملے گی جن کے پاس دیگر 11 دستاویزات (جیسے پاسپورٹ یا برتھ سرٹیفکیٹ) موجود نہیں ہیں۔مستقیم ڈگنیٹی نے ​سماجوادی پارٹی  مالیگاؤں کے تمام پڑھے لکھے نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ایک خاندان کی طرح متحد ہو کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن شہریوں نے میپنگ کروائی تھی لیکن اب ان کا نام لسٹ میں نہیں ہے، وہ روزانہ رات 10:00 سے 12:00 بجے کے درمیان آگرہ روڈ پر واقع سماجوادی پارٹی کے دفتر میں اپنے شناختی کارڈ یا آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی (پشت پر موبائل نمبر لکھ کر) جمع کروائیں تاکہ ان کا کیس انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے لڑا جا سکے۔اس وفد میں سماجوادی پارٹی کے مقامی کارپوریٹرس اور ذمہ داران میں مستقیم ڈگنیٹی، کارپوریٹر عبدالباقی راشن والا،سہیل عبدالکریم،مولانا زاہد ندوی، احمد ایوبی سر،عبدالرحمن انصاری،الطاف ماما،رئیس ستارہ،ملک منظر،ابوشعیب نہالی،ابوالیث  انصاری وغیرہ موجود تھے ۔

مالیگاؤں میں تقریباً 1 لاکھ 26 ہزار ناموں میں مختلف فرق سامنے آئے، عوام بلاخوف ایس آئی آر فارم بھریں 

مالیگاؤں: 4 جولائی: ناسک ضلع کے کلکٹر آیوش پرساد نے مالیگاؤں میں انتخابی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے SIR عمل کی تفصیلات، پیشرفت اور چیلنجز سے آگاہ کیا اور تمام سیاسی جماعتوں سے مکمل تعاون کی اپیل کی۔کلکٹر آیوش پرساد نے بتایا کہ انتخابی کمیشن آف انڈیا کے تحت SIR پروگرام مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں شروع ہو چکا ہے۔ 

ناسک ضلع میں یہ عمل 16 جون سے جاری ہے۔ پہلا مرحلہ فارموں کی پرنٹنگ اور BLOs (بوتھ لیول آفیسرز) کو ان کی تقسیم کا 29 جون تک مکمل ہو چکا ہے۔ تمام BLOs کو تربیت دی جا چکی ہے اور آج مالیگاؤں اور مالیگاؤں آؤٹر دونوں حلقوں میں BLO سپروائزرز، اسسٹنٹ الیکٹرل رجسٹریشن آفیسرز (AEROs) کے ساتھ اہم میٹنگز منعقد کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی الگ میٹنگ کی گئی جس میں انتخابی کمیشن کے تمام طریقہ کار، پروسیجر اور ممکنہ شکوک و شبہات کی مکمل وضاحت کی گئی۔ کلکٹر نے سیاسی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ اس پورے عمل میں فعال تعاون فراہم کریں تاکہ ووٹر لسٹ درست، شفاف اور تنازع سے پاک بن سکے۔

کلکٹر نے بتایا کہ مالیگاؤں میں تقریباً 1 لاکھ 26 ہزار ناموں میں مختلف قسم کی فرق (mismatches) سامنے آئی ہیں۔ تاہم، ٹیبل ٹاپ ایکسرسائز کے ذریعے مالیگاؤں میں 76 سے 77 فیصد میپنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ پورے ضلع میں یہ شرح 82 فیصد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مالیگاؤں کسی صورت پیچھے نہیں ہے۔مماثلت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرانے ووٹر کارڈز میں ناموں کی ترتیب، ابتدائی حروف، والد کا نام، عمر کے فرق اور دیگر 12-13 معیار پر فرق پایا جاتا ہے۔ AI ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلسل جانچ ہو رہی ہے۔ اب BLOs گھر گھر جا کر تصدیق کریں گے اور غلطیاں دور کی جائیں گی۔

ایس آئی آر کا مکمل عمل 5 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد ڈرافٹ الیکٹرول رول شائع کیا جائے گا جس پر اعتراضات وصول کیے جائیں گے اور ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔BLOs کے بارے میں بتاتے ہوئے کلکٹر نے کہا کہ ایک عام BLO کے پاس تقریباً 800 ووٹرز ہوتے ہیں۔ انہیں دو اسسٹنٹس فراہم کیے گئے ہیں۔ فارم بھرنے اور ڈیجیٹائز کرنے میں محض ایک سے دو منٹ لگتے ہیں۔ ضلع کے بعض علاقوں میں چار دنوں میں 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے BLOs کو ہدایات دی ہیں کہ وہ منظم اور سمارٹ طریقے سے کام کریں تاکہ ایس آئی آر کا عمل وقت پر مکمل ہو۔

کلکٹر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ BLOs کے ساتھ تعاون کریں۔ 8 مختلف دستاویزات قبول کی جائیں گی۔ LC (لیونگ سرٹیفکیٹ) کی بجائے 10ویں اور 12ویں کلاس کی مارک شیٹس بھی قابل قبول ہیں۔ مالیگاؤں میں 70 فیصد لوگوں کے پاس برتھ رجسٹریشن موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل بہت آسان ہے۔ خود انہوں نے BLOs کے ساتھ جا کر فیلڈ ورک دیکھا ہے۔ گجرات سمیت دیگر ریاستوں کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شفاف اور افواہوں سے پاک طریقہ ہے۔ کلکٹر آیوش پرساد نے تمام قومی، ریاستی اور رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں سے BLA (بلوک لیول اسٹنٹ) تعینات کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین مل کر کام کریں تاکہ ووٹر لسٹ میں کوئی غلطی نہ رہے اور عمل مکمل طور پر شفاف رہے۔اس پریس کانفرنس میں مقامی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور مختلف سوالات اٹھائے جن کے جوابات دیے گئے۔ SIR عمل الیکشن کمیشن کے تحت جاری ہے اور اس کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست اور تازہ ترین بنانا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ 

BLOs

 کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔