Articles by "Murder"
Showing posts with label Murder. Show all posts


آن لائن کلاس کے دوران پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر ماں نے ساڑھے تین سال کے بیٹے کے منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کردیا

آن لائن کلاس کے دوران پڑھائی پر توجہ نہیں دیئے جانے پر ناراض ایک ماں نے اپنے ساڑھے تین سالہ بیٹے کے منہ پر تکیہ رکھ اس کا قتل کردیا۔ اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بعد اس نے خود بھی پھانسی لگا لی۔ناسک پولیس کے مطابق پاتھرڈی پھاٹا علاقے کے سائی سدھی اپارٹمنٹ میں مذکورہ واردات پیش آئی۔

پیر کی رات قریب 9:30 بجے 30 سالہ شکھا ساگر نامی خاتون کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔

یہ بھی پڑھیں:---آٹھویں پاس میکینک نے تیار کیا ہیلی کاپٹر، پہلی ہی اڑان کے دوران ہیلی کاپٹر کریش، نوجوان کی موت

شکھا نے سوسائیڈ نوٹ میں لکھا کہ ان دونوں اموات کیلئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔خاتون نے خودکشی نوٹ میں یہ واضح طور پر نہیں لکھا کہ بیٹے کا قتل بھی اس نے ہی کیا ہے۔حالانکہ دونوں کی لاش کمرے کے اندر تھی۔کمرہ باہر سے بند تھا اور بچے کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔خاتون کے والدین نے بھی نواسے کو قتل کئے جانے کی تصدیق کی ہے۔واردات کے وقت شکھا اپنے والدین کے گھر تھی جبکہ اس کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے۔معاملے کی تفتیش کررہے اے سی پی سہیل شیخ نے بتایا کہ پیر کے روز شام 5 بجے کے قریب شکھا نے تکیے سے منہ دبا کر اپنے بیٹے کا قتل کیا تھا۔اس معاملے میں قتل اور خودکشی کا معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔

 

راہل گاندھی اور کیجریوال کی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات، بی جے پی لیڈران کی مجرمانہ خموشی؟

دہلی کینٹ علاقے کے نانگل گاؤں میں ایک نو سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کے بعد بچی کو قتل کیا گیا اور بے رحمی کی انتہا کرتے ہوئے کاش کو نذرآتش کردیا گیا۔اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔اس معاملے میں کرائم برانچ کی فارینسک ماہرین کی ایک ٹیم آج جائے واردات پر پہنچے گی۔اسکے علاوہ کرائم برانچ افسران بھی ساتھ جائیں گے۔فارینسک ماہرین کی ٹیم شمشان گھاٹ پہنچ کر ثبوت جمع کرے گی۔واضح رہے کہ اس معاملے کے ملزمین نے دعوی کیا تھا کہ شمشان گھاٹ پر کرنٹ لگنے سے بچی کی موت واقع ہوگئی تھی۔جس کے بعد اسی شمشان گھاٹ پر بچی کی لاش کو جلایا گیا تھا۔

دہلی پولیس کی کرائم برانچ ٹیم آج بچی کے گھر سے شمشان گھاٹ تک کے راستے پر ثبوت تلاش کرے گی۔اس کے علاوہ اس معاملے سے منسلک لوگوں سے تفتیش کی جائے گی۔واضح رہے کہ اس معاملے میں جب ملزمین نے بچی کی لاش کو جلا دیا تھا تب بچی کے اہل خانہ پولیس کو فون کرکے اس کی اطلاع دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مالیگاؤں: دو نوزائیدہ جڑواں بچوں کی پراسرار موت، حادثاتی موت کا اندراج

پولیس کے جائے واردات پر پہنچنے اور لاش کو آگ سے نکالنے تک نصف سے زائد جسم جل چکا تھا۔پولیس کو بچی کے پیروں کے کچھ حصے برآمد ہوئے ہیں۔اسی کی بنا پر پولیس ثبوت جمع کرکے اور تفتیش کررہی ہے۔تفتیشی ٹیم کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انہیں سب سے پہلے بچی کی موت کا سبب معلوم کرنا ہے۔جبکہ الزام یہ عائد کیا گیا ہے کہ بچی کی عصمت دری کی گئی ہے،  لیکن بچی کا جسم جل جانے کے بعد عصمت دری کئے جانے کی تصدیق کس طرح کی جائے گی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔

واضح رہے کہ 9 سالہ دلت بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری اور قتل کے معاملے پر بی جے پی لیڈران کی خاموشی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس معاملے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا اور متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں انصاف دلانےکی بات کی ہے۔انہوں ٹوئیٹ میں لکھا کہ دلت کی بیٹی بھی دیش کی بیٹی ہے۔بھیم آرمی چیف چندرشیکھر آزاد نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی راجدھانی دہلی میں بچے اور خواتین محفوظ نہیں ہیں تو ملک کے دیگر علاقوں کے حالات کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔اسی دوران بی جے پی رکن پارلیمان ہیما مالنی کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے۔جس میں میڈیا کے ذریعے ان سے اس مدعے کو ایوان میں اٹھانے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔اس معاملے میں حزب اختلاف لیڈران روزوشور سے آواز اٹھا رہے ہیں۔لیکن ایوان میں اس معاملے خاموشی کیوں ہے؟اس کے جواب میں ہیما مالنی نے کہا کہ یہ سوال اوم برلا سے پوچھیں اور وہ اتنا کہنے کے بعد وہاں سے چلی گئیں۔


تیز دھار ہتھیار سے بے رحمی سے قتل کیا گیا، تادمِ تحریر قتل کی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں، پولیس کے مختلف دستے تفتیش میں مصروف

احمد آباد: آج گجرات بی جے پی کو چونکانے والا ایک معاملہ پیش آیا۔ سینٹرل گجرات پارٹی ایگزیکٹو کمیٹی ماہی نگر ضلع کے رکن اور ان کی بیوی جمعرات کی صبح اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔پولیس نے بتایا کہ انہیں تیز دھار سے قتل کیا گیا ہے۔تریھبوون بھائی پنچال کی خون سے لت پت لاش ضلع ماہی ساگر تعلقہ لوناولہ کے پّلا گاؤں میں واقع ان کے مکان کے لان سے برآمد ہوئی۔جبکہ ان کی بیوی جشودا بین کی لاش مکان سے برآمد ہوئی۔

 یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔مالیگاؤں: دو نوزائیدہ جڑواں بچوں کی پراسرار موت، حادثاتی موت کا اندراج

وزیر پردیپ سنگھ جڈیجہ نے کہا کہ گذشتہ رات چند نامعلوم حملہ آوروں نے پنچال فیمیلی کو قتل کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے مقامی ایس پی کو فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی کہ اس معاملے میں فوری طور پر ابتدائی جانچ کا آغاز کیا جائے، جس کے بعد ایس پی نے حملہ آور قاتلوں کی فوری گرفتاری کیلئے لوکل کرائم برانچ(ایل سی بی)، اسپیشل آپریشن گروپ(ایس او جی) تشکیل دی۔واردات کے اطلاع ملتے ہی ماہی ساگر پولیس فارینسک سائنس لیبارٹری کی ایک ٹیم اور ڈاگ اسکواڈ کے ساتھ جائے واردات پر پہنچی اور تفتیش کا آغاز کیا۔ماہی ساگر ڈی وائے ایس پی(ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس) این وی پٹیل نے کہا کہ پنچال اور ان کی بیوی کے سر پر بے رحمی سے وار کرکے انہیں تیز دھار ہتھیار سے قتل کیا گیا ہے۔ پٹیل نے مزید کہا کہ حالانکہ تادمِ تحریر قتل کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔پولیس نے اس معاملے کی تفتیش کیلئے مختلف دستے بنائے ہیں۔واردات انجام دینے والے قاتلوں کو گرفتار کرنے کیلئے ہم ایف ایس ایل، ڈاگ اسکواڈ، فنگر پرنٹ ایکسپرٹس اور ٹیکنیکل ماہرین کی مدد لے رہے ہیں۔اس واردات کی خبر منظر عام پر آنے کے فوری بعد متعدد بی جے پی لیڈران نے ماہی ساگر گاؤں کا رخ کیا ہے۔


دو دوستوں کے آپسی جھگڑے میں صلح کروانے کی کوشش کرنے والے 24 سالہ نوجوان کا قتل، چاقو کے متعدد وار سے شدید زخمی ستیش نامی نوجوان ہلاک، پانچ ملزمین گرفتار

ممبئی: تھانے دہیسر کے دھار کھاڑی علاقے میں ستیش بھاردواج نامی 24 سالہ نوجوان کو قتل کردیا گیا۔ملزم گووند پارکھے(35) اور متوفی ستیش دونوں دہیسر دھار کھاڑی کے ساکن ہیں۔پولیس نے اس معاملے میں ملوث تمام ملزمین کو گرفتار کرلیا ہے۔کلیدی ملزم گووند کچھ روز قبل ہی جیل سے رہا ہوا تھا۔رات قریب 8:30 بجےمہلوک ستیش اور گووند کی دہیسر کھارواڑی میں ملاقات ہوئی اسی دوران مہلوک کا دوست بھی موقع پر پہنچ گیا۔دہیسر پولیس اسٹیشن کے سینئر پولیس انسپکٹر پروین پاٹل نے بتایا کہ گووند نے ستیش کے دوست کو مارنے کی کوشش کی۔ جب ستیش اپنے دوست کو بچانے کیلئے آگے بڑھا تو گووند نے چاقو سے ستیش کی پیٹھ پر پے در پے کئی وار کئے،زخمی ستیش کو اس کے دوست نے کاندیولی شتابدی اسپتال میں داخل کروایا جہاں کچھ ہی دیر بعد ستیش کی موت واقع ہوگئی۔اطلاع ملتے ہی دہیسر پولیس جائے واردات پر پہنچی، مقدمہ درج کرنے کے بعد پولیس نے 5 ملزمین کو اس معاملے گرفتار کیا ہے۔متقول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ملزم گووند نے ستیش کا قتل کیا ہے، جبکہ ستیش کی اس سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔مقتول ستیش دہیسر میں ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔

 

دہرادون میں دل دہلا دینے والی واردات، جھاڑیوں سے بچی کی لاش برآمد،ملزم پولیس کی حراست میں

دہرادون کے پریم نگر علاقے میں ایک دل دہلا دینے والی واردات پیش آئی، جہاں گووند گڑھ علاقے میں ایک پانچ سالہ بچی اچانک غائب ہوگی۔بدھ کی رات رنگڑوالا علاقے میں جھاڑیوں سے اس بچی کی لاش برآمد ہوئی۔دراصل جھارکھنڈ کی راجدھانی دہرادون میں ایک نابالغ معصوم بچی کے ساتھ دل دہلا دینے والی واردات منظر عام پر آئی۔ایک وحشی نوجوان نے ایک پانچ سالہ بچی کا اغوا کیا اور اس کی عصمت دری کرنے کے بعد بے رحمی سے بچی کو قتل کردیا۔بچی کی گمشدگی کے بعد پریم نگر علاقے سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔پولیس کے مطابق بدھ کے روز مقامی لوگوں نے ملزم کو اس علاقے میں تنہا گھومتے ہوئے دیکھا تھا۔شک کی بنا پر پولیس نے چنمن مہتا نامی نوجوان کو حراست میں لیا اور اس سے پوچھ تاچھ کی تو اس نے بچی کی عصمت دری اور قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔25 سالہ چنمن مہتا نامی ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیاہے۔پولیس نے بتایا کہ دو روز قبل گووند گڑھ علاقے سے پانچ سالہ بچی گم ہوئی تھی۔ملزم بچی کو بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے گیا اور اسکی عصمت دری کی اور پھر اسے بے رحمی سے قتل کردیا۔بچی کے اہل خانہ نے پیر کے روز تھانہ کوتالی کی لکشمن پولیس چوکی میں بچی کی گمشدگی کی اطلاع دی تھی۔ملزم بہار کا رہنے والا ہے اور دہرا دون میں مزدوری کرتا ہے۔سی او شیکھر سویال نے بتایا کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے، پنچنامہ کے بعد معصوم بچی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیجا گیا ہے۔ملزم کی نشاندہی کے بعد ہی جھاڑیوں سے بچی کی لاش برآمد کی گئی ہے۔اطللاعات کے مطابق منگل کے روز معمول کے مطابق دن میں بچی گھر کے باہر نکلی لیکن جب بچی گھر نہیں پہنچی تو اس کی ماں اور بھائی نے اسے تلاش کرنے کی کوشش کی۔کافی تلاش کے بعد بھی بچی نہیں ملی تو انہوں نے اس کی اطلاع پولیس کو دی۔ایس ایس پی ڈاکٹر یوگیندر سنگھ راوت نے بتایا کہ ملزم چنمن مہتا ٹائلس لگانے کا کام کرتا ہے۔اس واردات سے متعلق پولیس نے ملزم نے تفتیش کی ہے۔جمعرات کے روز ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

 

عدالت نے20 سالہ ملزم فیضان اخترکو پانچ دن پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا، ارسلان قتل معاملہ پر ایک نظر

مالیگاؤں: شہر میں معصوم بچوں کے اغوا کی واردات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔22 مئی کو گاندھی نگر کے ایک 12 سالہ بچے کے اغوا کی خبر منظر عام پر آئی۔ہر ممکن تلاش کے باوجود بچے کا پتہ نہ چل سکا۔بچے کے والدین نے پوار واڑی پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ 2 روز بعد 24 مئی کو جعفر نگر کی ایک زیر تعمیر عمارت کے بیت الخلاء سے بچے کی لاش برآمد ہونے سے شہر بھر میں سراسیمگی پھیل گئی۔اس معاملے میں اغوا اور قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا اور پولیس سے قاتلوں کو تلاش کرنے اور قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔آزاد نگر پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج ہوا، پی آئی پاریکر کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔کافی تفتیش کے بعد گذشتہ روز ارسلان قتل معاملہ میں کچھ اہم سراغ ملے۔شہر کے مختلف علاقوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کے بعد گذشتہ روز 8 جون کو پولیس کو خفیہ ذرائع ست اطلاع موصول ہوئی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھے جانے والے شخص کی طرح دکھائی دینے والا ایک نوجوان رونق آباد علاقے میں دیکھا گیا ہے۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس نوجوان کو حراست میں لیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔ملزم نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ارسلان نامی بچے کو بدفعلی کے مقصد سے اغوا کیا تھا مگر وہ اس کام پر راضی نہ ہوا اور اس نے مزاحمت کی، جس کے بعد میں اس کے سر پر پتھر سے وار کیا اور اس کی موت ہوگئی۔اس کے بعد میں اس کی لاش زیر تعمیر عمارت میں پھینک دی۔پولیس نے ملزم کی شناخت فیضان اختر عبدالرحیم(20 سال) کے طور پر کی ہے۔جو مالیگاؤں دت نگر گلی نمبر 3، گھر نمبر 40 مالیگاؤں کا ساکن ہے۔ضلع ایس پی سچن پاٹل کے حکم پر آزاد نگر پولیس اسٹیشن کے پی آئی دلیپ کمار پاریکر، سب انسپکٹر بی وی واگھ، سنیل پڑوی، پولیس اہلکار گووندا ویہاڑے، سمادھان کدم،سدرشن مورے، اور سچن تھورات پر مشتمل ٹیم نے ملزم کا سراغ لگانے اور اسے گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔اس معاملے میں آزاد نگر پولیس نے گناہ رجسٹر نمبر 45/021 قلم 201، 302 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔پی آئی پاریکر اس معاملے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔

آج ملزم فیضان اختر کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں تمام دلائل کو سننے کے بعد عدالت نے ملزم کو پانچ دن کی پولیس تحویل میں دینے کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ شہر میں بچوں کی گمشدگی اور اغوا کے معاملات میں اضافہ تشویشناک ہے، ارسلان معاملہ میں جنسی بدفعلی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد شہریان میں مزید بے چینی ہے۔اس طرح کے معاملات پر قدغن لگانے اور ملزمین کو قرار واقعی سزا دینے کیلئے انتظامیہ کو سخت اقدامات کرنے چاہیے۔