Articles by "Uddhav Thackeray"
Showing posts with label Uddhav Thackeray. Show all posts

 

उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद,"आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा

मुंबई: नीट पेपर लीक मामले को लेकर शिक्षा व्यवस्था में सुधार तथा केंद्रीय शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान के इस्तीफे की मांग को लेकर देशभर में छात्रों द्वारा आंदोलन, मोर्चे और प्रदर्शन किए जा रहे थे। इसी पृष्ठभूमि में मुंबई में उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे की ओर से तिरंगा मार्च आयोजित किया गया था। हालांकि अब धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया है। ऐसे में यह सवाल उठ रहा था कि रविवार (26 जुलाई) को मुंबई में ठाकरे बंधुओं का प्रस्तावित मोर्चा होगा या नहीं। अब इस संबंध में विस्तृत जानकारी सामने आई है।

मनसे प्रमुख राज ठाकरे और शिवसेना (उद्धव ठाकरे गुट) के प्रमुख उद्धव ठाकरे ने छात्रों के अधिकार, न्याय और उनके उज्ज्वल भविष्य की मांग को लेकर रविवार, 26 जुलाई को मुंबई में एक भव्य तिरंगा मार्च आयोजित करने की घोषणा की थी। लेकिन पिछले एक महीने से जारी छात्र आंदोलन के बढ़ते दबाव के बीच धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया।

इसके बाद उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद को संबोधित किया। इस दौरान राज ठाकरे ने कहा, "आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा। शिवाजी पार्क मैदान में वीर सावरकर मार्ग पर मंच बनाया जाएगा और वहीं सभी लोग एकत्र होंगे। जेनजी (Gen Z) ने सरकार को झुकने पर मजबूर कर दिया है और उसे जमीन पर ला दिया है। युवाओं की इस बड़ी जीत में अभिजीत दीपके का बहुत बड़ा योगदान है। देशभर में इतना बड़ा आंदोलन खड़ा हुआ है, इसलिए इस जीत का जश्न मनाया जाना चाहिए।"

इस घोषणा के साथ स्पष्ट किया गया कि रविवार को मुंबई के शिवाजी पार्क में अभिनंदन मोर्चा आयोजित किया जाएगा।

"اگر دونوں بھائی ساتھ آتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوگی، لوگ اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے":دیویندر فڑنویس کا ردعمل

آئندہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پیش نظر ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے ممکنہ اتحاد کا اشارہ دے کر مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے.

یہ بھی پڑھیں:....... برہمن سماج کے خلاف توہین آمیز تبصرے پر انوراگ کشیپ نے معافی مانگی.html

شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے کے حالیہ کچھ بیانات اتحاد کا واضح اشارہ دیا ہے. شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ دونوں بھائی اتحاد کا فیصلہ کریں گے. ممبئی میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران سنجے راؤت نے کہا کہ راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے بھائی ہیں، ہم ایک عرصہ سے ساتھ ہیں، ہمارا رشتہ  ٹوٹا نہیں ہے. دونوں بھائی متحد ہونے کا فیصلہ کریں گے. ادھو ٹھاکرے جو بھی فیصلہ لیں گے ہم اسے قبول کریں گے. اگر مہاراشٹر کیلئے ایم این ایس اور شیوسینا کو ساتھ آنے کی ضرورت ہے تو ہم ایسا کریں گے. ادھو جی نے کبھی بھی شرائط کے تعلق سے بات نہیں کی ہے.

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ کچھ سیاسی پارٹیاں ہیں جو مہاراشٹر کا خیرخواہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں لیکن درحقیقت وہ مہاراشٹر کی دشمن ہیں. انہوں نے مہاراشٹر کے وقار پر حملہ کرنے کیلئے بالا صاحب ٹھاکرے کی شیوسینا کو توڑ دیا. ہمیں ایسی پارٹیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے اور تب ہی ہم سچے مہاراشٹرین بن سکتے ہیں.

قابل ذکر ہے کہ ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے حال ہی میں ماضی کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ دوبارہ ملنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ادھو ٹھاکرے نے بھی راج ٹھاکرے کے بیان پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مراٹھی زبان اور مہاراشٹر کی خاطر تنازعات کو ایک طرف رکھنے کے لئے تیار ہیں۔

ٹھاکرے بھائیوں کے ایک ساتھ آنے کے امکان نے مہاراشٹر میں تمام پارٹی کے رہنماؤں کے رد عمل کو جنم دیا ہے۔ اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے دونوں چچا زاد بھائیوں کے درمیان دوبارہ اتحاد کے امکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "اگر دونوں بھائی ساتھ آتے ہیں تو ہمیں اس سے خوشی ہوگی، اگر لوگ اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، میں اس کے بارے میں اور کیا کہہ سکتا ہوں؟؟؟۔"

نانا پٹولے نے شرکت کی تو مذاکرات میں شرکت نہیں کروں گا، ادھو ٹھاکرے کا انتباہ

مہاراشٹر: آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل کانگریس اور شیوسینا(UBT) میں نشستوں کی تقسیم پر اب تک تعطل برقرار ہے. نشستوں کی تقسیم کے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آج مرکزی الیکشنی کمیٹی کا اجلاس ہوگا.

یہ بھی پڑھیں:.... لاڈلی بہن یوجنا بند

اس تعطل کے درمیان کانگریس کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا نے سنیچر کے روز سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کی اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ 20نومبر کو مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے. بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے اپنے 99 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے. جبکہ مہاوکاس اگھاڑی نشستوں کی تقسیم کا مسئلہ سلجھانے کیلئے بات چیت کررہی ہے. حالانکہ ایم سی اے کا دعویٰ ہے کہ 260 نشستوں پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں بقیہ 28 نشستیں تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہیں.

کانگریس مرکزی الیکشنی کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی لیکن میٹنگ ملتوی کرکے پیر کے روز کر دی گئی.

اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر کانگریس ریاستی صدر نانا پٹولے نے شرکت کی تو وہ مذاکراتی میٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے.

ادھو گروہ کے اراکین اسمبلی نے" 50 کھوکے..... ایکدم اوکے" کے نعرے لگا کر شندے کیمپ اراکین اسمبلی پر 50 کروڑ میں فروخت ہونے کا الزام لگایا

مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں مانسون اجلاس کے پانچواں دن کا آغاز برسراقتدار اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آرائی سے ہوا۔ ادھو کیمپ اور شندے کیمپ کے اراکین اسمبلی آپس میں لڑ پڑے۔ دونوں گروپوں کے درمیان اسمبلی کی سیڑھیوں پر بھی دھکا مکی ہوئی. اپوزیشن نے برسراقتدار کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ادھو گروہ کے اراکین اسمبلی نے شنڈے گروہ کے لیے '50 کھوکے...ایکدم اوکے' کا نعرہ لگایا۔ اس نعرے کی آڑ میں شندے گروہ کے اراکین اسمبلی پر 50 کروڑ میں فروخت ہونے کا الزام تھا۔  مہنگائی اور کسانوں کا مسئلہ اٹھانے اور حکومت سے جواب مانگنے کے لیے این سی پی رکن اسمبلی گاجر لے کر پہنچے۔ گاجر کو لے کر دونوں گروپوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ دونوں پارٹیوں کے سینئر لیڈروں نے آگے آکر معاملہ رفع دفع کیا۔  اس کے بعد ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوسکا۔

بی جے پی اراکین اسمبلی نتیش رانے نے آج ایوان میں کہا کہ ریاست کے احمد نگر میں ایک نابالغ لڑکی کو تبدیلی مذہب کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ریاست میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔  رانے نے کہا کہ ہندو لڑکیوں کو لالچ دینے کے لیے لڑکوں کو ریٹ کارڈ دیا گیا ہے، جس کے تحت ان لڑکوں کو پیسے ملتے ہیں۔ رانے کا کہنا ہے کہ ریاست میں ہندو لڑکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسی لیے دیگر ریاستوں کی طرح مہاراشٹر میں بھی تبدیلی مذہب کے خلاف قانون بنایا جانا چاہیے۔

بی جے پی علاقائی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے، مخالفین کی آواز دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے، لیکن وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تب ان کا کیا ہوگا؟ :ٹھاکرے

مہاراشٹر کے گورنر بی ایس کوشیاری کے حالیہ متنازعہ بیان کے بعد پٹنہ میں بی جے پی کی ایک پارٹی میٹنگ میں پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کا یہ بیان کہ ملک میں صرف بی جے پی باقی رہے گی جبکہ تمام سیاسی پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے. شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان بی جے پی کے اصل چہرے اور آمریت کی طرف اس کی پیش قدمی کو ظاہر کرتا ہے. ٹھاکرے نے بی جے پی لیڈران پر علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا.

یہ بھی پڑھیں:...... ملک سے تمام پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، رہے گی تو صرف بی جے پی: جے پی نڈا

دوسری طرف ٹھاکرے نے منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ شیوسینا رکن پارلیمان سنجے راؤت کی گرفتاری پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کو ایک سچے شیوسینک کے طور پر سراہا جو دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔

ایکناتھ شندے کی بغاوت کے بعد پارٹی کی بقا کی جنگ لڑرہے ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا کو شیوسینا کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. ٹھاکرے نے کہا کہ نڈا کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں شیوسینا ختم ہونے کے دہانے پر ہے. نڈا کا دعویٰ ہے کہ این سی پی ایک خاندان کی پارٹی ہے. کانگریس بھائی اور بہن کی پارٹی ہے اور بی جے پی خاندانی سیاست اور حکمرانی کے خلاف لڑنا چاہتی ہے. لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اصل میں بی جے پی کنبہ کی حقیقت کیا ہے جو کانگریس، این سی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں.

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ بی جے پی علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے. نقاب اتر چکا ہے, میں نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا شکریہ ادا کیا تھا انہوں نے نادانستہ طور پر مراٹھی عوام کو کچلنے کا خواب ہمارے سامنے لایا. بی جے پی کے قومی صدر نے بھی انکشاف کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں دوسری پارٹیاں موجود ہوں، وہ آمریت چاہتے ہیں. تاہم ادھو نے بی جے پی کو شیوسینا پارٹی کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. نڈا کے بیان کو خطرناک اور سنگین قرار دیتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ ان کے تبصرے ملک کو آمریت کی طرف لے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہیں. آج کی سیاست پریشان کن ہے. انہوں نے کہا کہ آج جس طرح سے بی جے پی اپنے بازو پھیلا رہی ہے وہ صرف طاقت کا استعمال کررہی ہے دماغ کا نہیں. ٹھاکرے نے خبردار کیا کہ اگر آپ دوسروں کو ختم کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کررہے ہیں تو وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا بدل جاتا ہے. بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تو ان کا کیا ہوگا.

ٹھاکرے نے سنجے راؤت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے. سنجے راؤت ایک کٹر شیوسینک ہیں، مجھے سنجے راؤت پر فخر ہے جو میرے بہترین دوست ہیں. ٹھاکرے نے انتقامی سیاست کھیل کر مخالفین کی آواز کو دبانے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پوچھا کہ اگر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کو مخالفین کے خلاف تعینات کیا جاتا ہے تو جمہوریت کہاں ہے؟ سنجے راؤت جہاز سے کود سکتے تھے لیکن انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ مر جائیں گے لیکن ایسا نہیں کریں گے،ہتھیار نہیں ڈالیں گے. باغیوں پر تنقید کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ جن لوگوں نے راستہ بدلا ہے وہ حمام میں نہانے گئے ہیں، جب تک ان کے جسم پر اقتدار کا جھاگ ہوگا وہ ہم پر تنقید کرسکتے، لیکن انہیں مستقبل میں حالات کا احساس ہوگا.

 


جب پاب بڑھ جاتا ہے تو تباہی آتی ہے اور پھر زندگی میں کنول کھلتا ہے، اقتدار کا گھمنڈ کرنے والوں کا گھمنڈ ٹوٹنا یقینی ہے: کنگنا

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے استعفیٰ کے ساتھ ہی مہاراشٹر کا سیاسی بحران اختتام کو پہنچا. ایکناتھ شندے نے بحیثیت وزیراعلیٰ عہدے کا حلف لیا جبکہ دیویندر فڑنویس نے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا. اسی دوران فلم اسٹار کنگنا رناوت نے ادھو ٹھاکرے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب پاپ بڑھ جاتا ہے تو تباہی آتی ہے اور پھر زندگی میں کنول کھلتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:.... مجھے انکم ٹیکس محکمہ کی جانب سے سے لو لیٹر موصول ہوا ہے : شرد پوار
کنگنا رناوت نے اپنے بیان میں کہا کہ 1975 کے بعد یہ وقت ہندوستان کی جمہوریت کا اہم ترین وقت ہے. 1975 میں جے پی نارائن کے ایک چیلنج کے سبب تختہ پلٹ گیا تھا. اقتدار چھوڑو کا شور اٹھا اور حکومت گر گئی تھی.2020 میں میں نے کہا تھا کہ جمہوریت ایک عقیدہ اور یقین ہے. اقتدار کے گھمنڈ میں آکر جو اس یقین اور بھروسے کو تورے گا اس کا گھمنڈ یقینی ہے. واضخ رہے کہ دو سال قبل بی ایم سی نے ممبئی کے پالی ہل علاقے میں واقع کنگنا کے دفتر منی کارنیکا فلمس کے دفتر کا کچھ حصہ غیر قانونی بتاتے ہوئے منہدم کر دیا تھا. بی ایم سی کی اس کارروائی کے بعد کنگنا نے کہا تھا آج میرا گھر ٹوٹا ہے کل آپ کا گھمنڈ ٹوٹے گا. اس کے بعد سے کنگنا شیوسینا اور ادھو حکومت پر مسلسل حملے کرتی آرہی ہیں.

کل وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف بھی لے سکتے ہیں، شندے 39 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط لے کر ممبئی روانہ

مہاراشٹر میں تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہونے والا سیاسی بحران اب ختم ہو چکا ہے۔ شیوسینا اقتدار سے محروم ہوچکی ہے اور اب بی جے پی اقتدار میں واپس آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق دیویندر فڑنویس آج ہی گورنر کے سامنے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کریں گے۔ ایکناتھ شندے نائب وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ شندے گوا سے ممبئی کے لیے روانہ ہو گئے ہیں وہ اکیلے ممبئی آ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس 39 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط ہے۔ دوسری طرف ممبئی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مرکز نے ایکناتھ شندے کی سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ انہیں زیڈ پلس سیکیورٹی دی گئی ہے۔
شندے اور فڑنویس کی ملاقات میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزراء کے عہدوں کے فارمولے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی ابھی جلد بازی نہیں دکھانا چاہتی۔ فڑنویس پہلے دہلی جائیں گے اور پھر حلف لینے کے لیے یہاں واپس آئیں گے۔ اس لیے کل حلف برداری کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں. شیوسینا ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ شیوسینا اقتدار کے لیے نہیں پیدا ہوئی، طاقت شیوسینا کے لیے پیدا ہوئی ہے۔ یہ بالا صاحب کا منتر رہا ہے۔ ہم دوبارہ کام کریں گے اور پھر خود اقتدار میں آئیں گے۔  ہمارے اپنوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔ اپنے لوگوں نے خنجر سے وار کیا۔  غدار کیسے ادھو ٹھاکرے پر الزام لگا سکتے ہیں؟ باغی اراکین اسمبلی کو حکومت گرانے کا ٹھیکہ ملا تھا، یہ مہاراشٹر میں غداروں کا نیا تجربہ ہے۔


 

ممبئی کے تاج پریزیڈنٹ ہوٹل میں
دیویندر فڑنویس، چندر کانت پاٹل اور دیگر لیڈران نے ایکدوسرے کو مٹھائی کھلا کر جشن منایا


مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے بدھ کی رات اعلان کیا کہ وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں, جس کے بعد مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس نے ریاستی بی جے پی سربراہ چندرکانت پاٹل اور پارٹی کے دیگر لیڈران کے ساتھ ممبئی کے تاج پریزیڈنٹ ہوٹل میں جشن منایا۔ وہ بی جے پی کی لیجیسلیٹیو ونگ کی میٹنگ کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :... ادھو ٹھاکرے نے وزیراعلی کے عہدے سے استعفیٰ دیا
سپریم کورٹ کے ذریعے جمعرات کو اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے لیے گورنر کے حکم پر فلور ٹیسٹ پر روک لگانے سے انکار کئے جانے کے بعد وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے استعفیٰ کا اعلان کردیا اور انیل پرب کے ہاتھوں اپنا استعفی راج بھون بھیج دیا.


سپریم کورٹ نے کل ہی فلور ٹیسٹ کرانے کا حکم جاری کیا، ادھو نے کانگریس ورکنگ صدر سونیا گاندھی اور این سی پی سربراہ شرد پوار کا شکریہ ادا کیا

مہاراشٹر کا سیاسی بحران اب آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بدھ کی رات شیوسینا کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے جمعرات کو ہی فلور ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا۔  اس کے کچھ دیر بعد وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے فیس بک لائیو کرتے ہوئے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ کابینہ کے ساتھی انل پرب کے ذریعے راج بھون بھیج دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... اگنی پتھ اسکیم ایک بڑے کھیل کا حصہ ہے: ممتا بنرجی

 انہوں نے شندے گروپ کی شکایات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اپنی بات ٹھیک سے بتانی چاہیے تھی۔ ادھو نے کہا کہ جو لوگ دھوکہ دہی کا خوف رکھتے ہیں انہیں ان کے ساتھ رہنا چاہئے. انہوں نے کانگریس کی ورکنگ صدر سونیا گاندھی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار کا شکریہ ادا کیا۔