حکومت تبدیل ہوتے ہی این سی پی سربراہ شرد پوار کو نوٹس ملنا محض اتفاق یا کچھ اور؟
مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی حلف برداری کے بعد آج راشٹریہ وادی کانگریس سربراہ شرد پوار نے انکشاف کیا کہ انہیں انکم ٹکیس محکمہ کی جانب سے نوٹس موصول ہوا ہے. شرد پوار نے کہا کہ انہیں 2004، 2009، 2014 اور 2020 میں داخل کئے گئے حلف ناموں سے متعلق محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے ایک لو لیٹر موصول ہوا ہے.
یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ پوار کے قریبی ساتھی اور شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت کو منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے دوسرا سمن ملا تھا اور توقع ہے کہ وہ ہفتہ کو ای ڈی کے دفتر میں پیش ہوں گے۔ ریاستی این سی پی چیف ترجمان مہیش تاپسے نے آئی ٹی نوٹس کے وقت پر سوال اٹھایا۔ ایک ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت میں تبدیلی کے بعد پارٹی کے صدر شرد پوار کو 2004، 2009، 2014 اور 2020 کے انتخابی حلف ناموں کے لیے آئی ٹی کی جانب سے نوٹس ملا، یہ محض اتفاق ہے یا کچھ اور؟ پوار کو اس سے قبل ستمبر 2020 میں اسی طرح کا نوٹس ملا تھا جس میں ان کے انتخابی حلف ناموں پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔ پوار نے ادھو ٹھاکرے، آدتیہ ٹھاکرے اور سپریا سولے کو جاری کیے گئے اسی طرح کے نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا تھا ’’وہ کچھ لوگوں سے پیار کرتے ہیں‘‘۔
اس کے بعد، اکتوبر 2021 میں اپنے بھتیجے اور سابق نائب وزیر اعلی اجیت پوار اور ان کی بہنوں کو نشانہ بنانے والے انکم ٹیکس کے چھاپوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پوار نے تھا کہ اجیت کے گھر پر کچھ سرکاری مہمان ہیں، لیکن میں ان سے پریشان نہیں ہوں۔


Post A Comment:
0 comments: