ایکناتھ شندے نے سنجے شیرساٹ کا لکھا ہوا خط شیئر کیا، شیوسینا اراکین اسمبلی کے احساسات اور جذبات کی عکاسی

مہاراشٹر میں جاری سیاسی اتھل پتھل کے درمیان اب باغی اراکین اسمبلی اور ادھو ٹھاکرے کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی ہے. ادھو ٹھاکرے کے فیس لائیو کے بعد آج ایکناتھ شندے نے ایک مکتوب شیئر کیا ہے جو سنجے شیرساٹ نے لکھا ہے مگر اس میں تمام اراکین اسمبلی کے احساسات کی عکاسی کی گئی ہے. 

یہ بھی پڑھیں :.... ادھو ٹھاکرے نے سی ایم ہاؤس چھوڑ دیا
سنجے شیرساٹ نے لکھا کہ شیوسینا اراکین اسمبلی کیلئے آپ کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا، آپ ان اراکین اسمبلی کی کبھی سنتے نہیں تھے جبکہ ایکناتھ شندے نے ہمیشہ اپنے اراکین اسمبلی کی باتوں کو سنا اور آئندہ بھی سنتے رہیں گے. کل ورشا بنگلے کے دروازے سچ مچ عوام کیلئے کھول دیئے گئے بنگلے پر ہجوم دیکھ کر خوشی ہوئی. گزشتہ ڈھائی سال سے بطور شیوسینا رکن اسمبلی ہمارے لئے یہ دروازے بند تھے. ہمیں ایسے لوگ چلا رہے تھے جنہیں عوام نے نہیں منتخب کیا تھا وہ ودھان سبھا یا راجیہ سبھا کے ذریعے آئے تھے. وہ ہمیں شکست دینے اور راجیہ سبھا اور ودھان پریشد انتخابات کی حکمت عملی طے کرنے کا کام کررہے تھے. اس کا نتیجہ صرف مہاراشٹر نے دیکھا ہے.
بطور شیوسینا رکن اسمبلی ہمیں ورشا بنگلے تک براہ راست رسائی حاصل نہیں ہوئی. وزیراعلیٰ منترالیہ کی چھٹی منزل پر سب سے ملاقات کرتے تھے لیکن ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، کیونکہ آپ کبھی منترالیہ میں نہیں گئے۔ کئی بار حلقے کے کاموں، دیگر مسائل، ذاتی مسائل کے لیے وزیراعلیٰ صاحب سے ملنے کی درخواست کرنے کے بعد ہمیں بلایا جاتا اور گھنٹوں بنگلے کے گیٹ پر کھڑا رکھا جاتا۔  میں نے وزیراعلیٰ کو کئی بار فون کیا لیکن فون ریسیو نہیں کیا جاتا تھا۔ آخر کار ہم تھک ہار کر واپس چلے جاتے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیوں؟ 3-4 لاکھ رائے دہندگان نے جنہیں منتخب کیا ہے ان نمائندوں کے ساتھ یہ سلوک؟

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: