جے بی نگر اندھیری میں واقع پردیپ شرما کے مکان پر این آئی اے کاچھاپہ، گھنٹوں پوچھ تاچھ کے بعد پولیس نے شرما کو حراست میں لے لیا
قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے) نے سابق انکاؤنٹر اسپیشلسٹ پردیپ شرما کے ممبئی میں واقع مکان پر چھاپہ مارا اور پردیپ شرما کو اینٹیلیا بم معاملے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔این آئی اے نے آج بروز جمعرات پردیپ شرما کے مکان پر چھاپہ مارا، اینٹیلیا بم معاملے میں ان سے گھنٹوں تفتیش کی ،مکان کی تلاشی لی گئی اور اسکے بعد انہیں گرفتار کرلیا۔اطلاعات کے مطابق آج صبح این آئی اے کی ٹیم شرما کے گھر پہنچی، جے بی نگر اندھیری میں واقع ان کے مکان کی تلاشی لی گئی. پردیپ شرما کو سچن سچن وازے کا مینٹر(اتالیق، استاد) بھی کہا جاتا ہے۔
دراصل اینٹیلیا اور منسکھ ہیرین قتل معاملہ میں گرفتار سچن وازے کا پردیپ شرما سے گہرا تعلق ہے۔دونوں ممبئی خرائم برانچ میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں۔جس دن منسکھ ہیرین کا قتل ہوا اس دن سچن وازے کا لوکیشن پردیپ شرما کے مکان کے قریب ملا تھا۔اس کے بعد ہی پردیپ شرما این آئی اے کے نشانہ پر تھے۔اس سے قبل این ائی اے نے جنوبی ممبئی میں واقع اپنے دفتر پر پردیپ شرما سے دو دنوں تک پوچھ تاچھ کی تھی۔ذرائع کے مطابق اس معاملے کے دیگر ملزمین کے بیانات کی بنیاد پر شرما کو گرفتار کیا گیا ہے جس میں ان کا نام اور ثبوتوں کے طور تکنیکی ڈیٹا کے ذریعے دہشت گردی اور قتل معاملہ میں ان کے کردار کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔این آئی اے نے اس سے قبل سابق پولیس افسران سچن وازے، ریاض الدین قاضی، سنیل مانے اور سابق پولیس کانسٹیبل ونائیک شندے اور کرکٹ سٹّے باز نریش گور کو بھی گرفتار کیا تھا۔ حال ہی میں مذکورہ مراملے میں سنتوش شیلار اور آنند جادھو کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق یہ فنوں مبینہ طور پر اینٹیلیا کے پاس دھماکہ خیز مادے سے بھری ایس یو وی کار کھڑی کرنے کی سازش میں ملوث تھے۔
ممبئی: بدعنوانی اور رشوت کے الزامات عائد ہونے کے بعد وزیراعلی کے عہدے سے استعفی دینے والے انیل دیشمکھ کو سی بی آئی نے 14 اپریل کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا ہے۔ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سی بی آئی نے انیل دیشمکھ کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا۔اس سے قبل اتوار کے روز سی بی آئی نے دیشمکھ کے پرسنل سکریٹری اور معاون سے بھی تفتیش کی تھی۔ممبئی پولیس کمشنر کے عہدے سے تبادلے کے بعد پرمبیر سنگھ نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو مکتوب لکھ کر الزام عائد کیا تھا کہ وزیرداخلہ انیل دیشمکھ نے پولیس افسر سچن وازے کو 100 کروڑ روپے وصولی کا ہدف دیا تھا۔پرمبیر کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ہنگامہ بڑھنے کے بعد انیل دیشمکھ کو اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا اور ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کا حکم جاری کردیا۔حالانکہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو صرف پندرہ دنوں میں اس معاملے کی تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔اس معاملے میں این آئی اے کی حراست میں ممبئی پولیس کے معطل پولیس افسر وازے کے دو ڈرائیوروں سے بحی پوچھ تاچھ کی تھی۔حالانکہ سی بی آئی پہلے ہی سچن وازے سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔اس کے علاوہ انیل دیشمکھ پر رشوت کے الزامات عائد کرنے والے ممبئی پولیس کے سابق کمشنر پرمبیر سنگھ سے بھی تفتیش کی گئی تھی۔ممبئی پولیس نے سچن وازے کی اس ڈائری کو بھی قبضے میں لے لیا ہے جس کے متعلق بتاہا جارہا ہے کہ جس میں وصولی کا مکمل ریکارڈ ہے۔سی بی آئی نے یہ ڈائری سچن وازے کے کیبن سے برآمد کی تھی۔