ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو صرف پندرہ دنوں میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا

ممبئی: بدعنوانی اور رشوت کے الزامات عائد ہونے کے بعد وزیراعلی کے عہدے سے استعفی دینے والے انیل دیشمکھ کو سی بی آئی نے 14 اپریل کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا ہے۔ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سی بی آئی نے انیل دیشمکھ کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا۔اس سے قبل اتوار کے روز سی بی آئی نے دیشمکھ کے پرسنل سکریٹری اور معاون سے بھی تفتیش کی تھی۔ممبئی پولیس کمشنر کے عہدے سے تبادلے کے بعد پرمبیر سنگھ نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو مکتوب لکھ کر الزام عائد کیا تھا کہ وزیرداخلہ انیل دیشمکھ نے پولیس افسر سچن وازے کو 100 کروڑ روپے وصولی کا ہدف دیا تھا۔پرمبیر کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ہنگامہ بڑھنے کے بعد انیل دیشمکھ کو اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا اور ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کا حکم جاری کردیا۔حالانکہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو صرف پندرہ دنوں میں اس معاملے کی تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔اس معاملے میں این آئی اے کی حراست میں ممبئی پولیس کے معطل پولیس افسر وازے کے دو ڈرائیوروں سے بحی پوچھ تاچھ کی تھی۔حالانکہ سی بی آئی پہلے ہی سچن وازے سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔اس کے علاوہ انیل دیشمکھ پر رشوت کے الزامات عائد کرنے والے ممبئی پولیس کے سابق کمشنر پرمبیر سنگھ سے بھی تفتیش کی گئی تھی۔ممبئی پولیس نے سچن وازے کی اس ڈائری کو بھی قبضے میں لے لیا ہے جس کے متعلق بتاہا جارہا ہے کہ جس میں وصولی کا مکمل ریکارڈ ہے۔سی بی آئی نے یہ ڈائری سچن وازے کے کیبن سے برآمد کی تھی۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: