Articles by "Aryan khan"
Showing posts with label Aryan khan. Show all posts

آرین خان کو کروز ڈرگز کیس میں ملوث نہ کرنے کے لیے 25 کروڑ رشوت طلب کرنے کا الزام

سی بی آئی نے آج  جمعہ کو ممبئی این سی بی کے سابق چیف سمیر وانکھیڈے کے گھر پر چھاپہ مارا،جنہوں نے شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو کروز ڈرگز کیس میں گرفتار کیا تھا۔  تفتیشی ایجنسی کے ذرائع نے بتایا کہ سمیر نے آرین خان کو کروز ڈرگز کیس میں ملوث نہ کرنے کے لیے 25 کروڑ کی رشوت طلب کی تھی۔  اس معاملے میں سمیر کے ایک ساتھی نے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے لیے تھے۔  اس معاملے میں سی بی آئی نے سمیر وانکھیڈے سمیت 4 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔  ایجنسی نے ممبئی، دہلی، رانچی اور کانپور میں ان کے 29 مقامات پر چھاپے مارے۔

یہ بھی پڑھیں:..... این سی پی پینل نے شرد پوار کا استعفیٰ مسترد کردیا

واضح رہے کہ سمیر وانکھیڈے نے 2 اکتوبر 2021 کو ممبئی سے گوا جانے والی کورڈیلیا کروز میں ریو پارٹی کی اطلاع ملنے پر چھاپہ مارا تھا۔ آرین خان کو یہاں سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد آرین 26 دن تک پولیس کی حراست میں رہا، اس دوران اسے آرتھر روڈ جیل بھی بھیجا گیا۔ آرین کے خلاف ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے انہیں 28 اکتوبر کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔اس معاملے میں گرفتار ارباز مرچنٹ نے عدالت میں گواہی دی تھی کہ آرین کے پاس منشیات نہیں تھی اور اس نے ارباز کو بھی منشیات لے جانے سے منع کیا تھا۔


فڑنویس پر اپنے دورِ اقتدار میں جعلی نوٹ ریکیٹ چلانے والوں کو تحفظ فراہم کئے جانے کا الزام

ممبئی میں کروز ڈرگس معاملہ میں نواب ملک سمیر وانکھیڈے کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔آج پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعلی دیویندر فڑنویس ان کے نشانے پر تھے۔ ملک نے کہا کہ فڑنویس کی حکومت میں جعلی نوٹ ریکیٹ چلانے والوں کو تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔ان لوگوں کے تار داؤد سے بھی جڑے ہوئے تھے۔

ملک کے اس الزام پر فڑنویس نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر برنارڈ شا کا قول نقل کیا اور کہا کہ کیچڑ میں پتھر نہیں پھینکنا چاہیے۔بی جے پی کے سینئرلیڈر اشیش شیلار نے نواب ملک کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہائیڈروجن بم پھوڑنے کی بات کرکے نواب ملک نے مرچی پٹاخے سے پانے ہاتھ جلا لئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:۔۔۔سمیر وانکھیڈے کے اہل خانہ کی گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات_0483452012.html

نواب ملک کے تمام الزامات کا تعلق دیویندر فڑنویس سے اس طرح کا ہے جیسے اکبر بیربل کی کہانی میں بیربل نے نیچے آگ رکھ کر اوپر کھچڑی پکائی تھی۔ نواب ملک کا الزام تھا کہ پارٹی میں غنڈوں کو جگہ دی، انہیں اعلی عہدے دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں یہ سچ ہے کہ منّا یادو، حاجی حیدو اور حاجی عرفات پارٹی کے اراکین ہیں۔ انہیں عہدہ دیا گیا لیکن ان پر ایک بھی الزام نہیں ہے اس بات کا یقین کرنے کے بعد انہیں عہدہ دیا گیا تھا۔ جعلی نوٹ معاملہ آئی ایس آئی، پاکستان اور بنگلہ دیش سے جڑا ہوا تھا۔ممبئی سے عمران عالم شیخ اور پونے سے ریاض شیخ کے علاوہ نئی ممبئی سے بھی ایک گرفتاری ہوئی تھی۔لیکن 14 کروڑ 56 لاکھ کی ضبطی کو 8 کروڑ 80 لاکھ بتا کر معاملہ دبا دیا گیا۔ملک نے کہا کہ ہم جس افسر پر الزامات لگا رہے ہیں اسے بچانے کی کوشش ہورہی ہے کیونکہ فڑنویس جی کے اس افسر سے پرانے تعلقات ہیں۔ 2008 میں کوئی افسر ملازمت پر آتا ہے، اور 14 سال سے ممبئی چھوڑتا ہی نہیں اس کے پیچھے کیا راز ہے؟

جعلی نوٹ معاملہ کے ملزم عمران عالم شیخ کو 6 ماہ بعد مائناریٹی کمیشن کا چیئرمن بنایا گیا۔ملک سوال کیا کہ فڑنویس جی آپ دوسروں پر انڈرورلڈ سے تعلق ہونے کے الزامات لگا رہے ہو، ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ سارے انڈرورلڈ کے لوگ، جو انڈرورلڈ کے رابطہ میں ہیں، مجرمین و ملزمین ہیں، آپ نے وزیراعلی رہتے ہوئے ان تمام لوگوں کو سرکاری بورڈ اور سرکاری کمیشن کا صدر کیوں بنایا؟ 

اس سے قبل فڑنویس نے منگل کے روز کچھ کاغذات دکھاتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ 16 سال قبل ملک نے ایل بی ایس روڈ پر داؤد کے غنڈوں سے ساڑھے تین کروڑ کی زمین 20 لاکھ روپے میں خریدی تھی۔فڑنویس نے کہا کہ کرلا میں تین ایکڑ زمین کی ایک رجسٹری سیلِڈس کمپنی کے نام پر ہوئی جو نواب ملک کے خاندان کی ہے۔ یہ زمین 1993 بم بلاسٹ کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے سردار ولی خان اور داؤد ابراہیم کی بہن حسینہ پارکر کے قریبی سلیم پٹیل سے خریدی گئی۔ رجسٹری پر نواب ملک کے بیٹے فراز ملک نے دستخط کئے ہیں۔

فڑنویس نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی کو کاغذات مہیا کرائے جائیں گے اور اس کی ایک کاپی این سی پی سربراہ شرد پوار کو بھیجیں گے۔فڑنویس کے الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے ملک نے کہا جس زمین کا ذکر ہورہا ہے وہاں ان کا خاندان پہلے سے کرایہ دار تھا بعد میں اس کا مالکانہ حق لیا گیا۔ زمین بنیادی طور پر منیرا پٹیل کی ملکیت ہے  اس نے اپنی زمین کی پاور آف اٹارنی سلیم پٹیل کو دی تھی۔


نواب ملک پر ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت اوشیوارہ پولیس میں شکایت درج، ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

نارکوٹکس کنٹرول بیورو ممبئی زون کے ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کے اہل خانہ نے منگل کے روز مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کی۔ سمیر وانکھیڈے کے والد، ان کی بہن اور بیوی شام پانچ بجے روج بھون پہنچے اور گورنر سے تقریبا دو گھنٹے تک گفتگو کی۔گورنر سے ملاقات کے بعد سمیر کے والد نے کہا کہ میں نے اپنی بہو اور بیٹی کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی۔ ہم نے انہیں میمورنڈم دیا ہے اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ سمیر وانکھیڈے کی بیوی کرانتی وانکھیڈے نے کہا کہ ہم نے گورنر کو سب کچھ بتایا ہے جو گذشتہ کچھ روز میں ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ایسا نہیں تھا کہ ہم ان کے پاس شکایت لے کر گئے تھے ہم ان سے صرف اتنا کہا کہ یہ سچائی کی لڑائی ہے اور ہم لڑنے جارہے ہیں بس ہمیں طاقت چاہیے۔گورنر کوشیاری نے ہمیں ہمت دی اور یقین دلایا ہے۔
اسی درمیان نواب ملک سمیر وانکھیڈے پر نت نئے الزامات لگا رہے ہیں۔اب وانکھیڈے خاندان نے ان پر جوابی حملہ کرتے ہوئے ایس سی\ایس ٹی ایکٹ کے تحت شکایت درج کروائی ہے۔اس کے ساتھ ہی نواب ملک پر ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اس سے قبل وانکھیڈے کے اہل خانہ نے نواب ملک پر 100 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔اس پر آج (منگل) کو نواب ملک کو جواب داخل کرنا تھا۔
سمیر وانکھیڈے کے والد نے اوشیوارہ کے اے سی پی کے پاس نواب ملک کے خلاف ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت ان کے اہل خانہ کی ذات سے متعلق جھوٹے الزامات لگانے کی شکایت درج کروائی ہے۔وانکھیڈے فیمیلی کا مطالبہ ہے کہ نواب ملک کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
واضح رہے کہ ممبئی کے کروز ڈرگس معاملہ کی تفتیش کررہی این سی بی دہلی کی ٹیم کی قیادت کرنے والے ڈی ڈی جی نیانیشور سنگھ نے منگل کے روز ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے سے ملاقات، انہوں نے آرین خان اور سمیر وانکھیڈے سے متعلق معاملات کی تفتیش میں ناگرالے سے مدد طلب کی ہے۔نیانیشور سنگھ نے سی سی ٹی وی فوٹیج پر ناگرالے سے تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم پیر کے روز کچھ مقامات پر گئے تھے، پربھاکر سیل سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی آج بھی ہم اس سے تفتیش کررہے ہیں۔ آئندہ کچھ دنوں میں مزید دو گواہوں سے سوالات کئے جائیں گے۔

جیل میں ڈالنے والا اب خود جیل جانے سے ڈرنے لگا ہے، اس نے کوئی غلط کام ضرور کیا ہوگا اسلئے کارروائی سے خوفزدہ ہے: نواب ملک
کروز منشیات معاملے میں شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کی ضمانت منظور ہوجانے کے بعد این سی پی ترجمان نواب ملک نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔نواب ملک نے شاہ رخ خان کی فلم اوم شانتی اوم کا ڈائیلاگ "پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست" پوسٹ کیا ہے۔نواب ملک اس معاملے سے ابتداء سے ہی منسلک رہے ہیں انہوں نے کئی مرتبہ یہ بھی کہا کہ یہ کیس فرضی اور بناوٹی ہے۔انہوں نے کہا کہ آرین کو پہلے ہی ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔وانکھیڈے کا فرضی کھیل سامنے آرہا ہے، انہیں چھٹی پر بھیج دینا چاہیے ان کے چہرے سے نقاب اتر چکا ہے۔
نواب ملک نے ایک بیان میں کہ جس طرح کا فرضی معاملہ بنایا گیا ایسے میں قلعہ کورٹ میں پہلے ہی ان کی ضمانت ہوسکتی تھی۔لیکن این سی بی نے ہمیشہ اپنے وکلاء کے ذریعے اپنا کردار تبدیل کیا ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ یہ معاملہ فرضی ہے اور آنے والے وقت میں اس معاملے میں دیگر ملزمین کو بھی ضمانت مل جائے گی۔
ملک نے مزید کہا کہ جیل میں ڈالنے والا اب خود جیل جانے سے ڈرنے لگا ہے۔وہ اب ممبئی ہائی کورٹ میں جاکر ممبئی پولیس کے خلاف عدم اطمنان ظاہر کررہا ہے۔اس نے ضرور کچھ غلط کیا ہوگا اسی لئے اپ ے خلاف کارروائی سے خوفزدہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی پولیس نے بامبے ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ اگر وہ ایسی کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو وہ 72 گھنٹہ پہلے ان کی گرفتاری کا نوٹس جاری کریں گے۔میں اپنی پہلی رائے کو دہراتا ہوں کہ یہ منشیات معاملہ فرضی ہے بچوں کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔
میں نے پورٹ پر پکڑے گئے ایک بیلین ڈالر کے کوکین سے متعلق کہیں ایک بھی ہیڈ لائن نہیں پڑھی لیکن 1.30 لاکھ کا چرس یا گانجہ پکڑا گیا تو نیشنل نیوز بن گئی: جاوید اختر
کروز شپ ڈرگس معاملہ میں گرفتار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو اب تک راحت نہیں مل سکی ہے۔آرین نے پاس سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا گیا ہے مگر ان کے دوست کے پاس سے منشیات برآمد ہوئی ہے۔ایسے کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آرین خان کو اب تک رہا کیوں نہیں کیا گیا۔
آرین کی گرفتاری سے شاہ رخ خان کی مشکلیں بھی بڑھ گئی ہیں انہیں اپنی شوٹنگ تک چھوڑنی پڑی۔شاہ رخ کو اس مشکل وقت میں لوگوں کا ساتھ مل رہا ہے۔اب بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگار جاوید اختر آرین خان کی حمایت میں آگے آئے ہیں۔جاوید اختر نے کہا کہ میں نے پورٹ پر پکڑے گئے ایک بیلین ڈالر کے کوکین سے متعلق کہیں ایک بھی ہیڈ لائن نہیں پڑھی مگر 1.30 لاکھ کا چرس یا گانجہ پکڑا گیا ہے تو یہ ایک نیشنل نیوز بن گئی۔فلم انڈسٹری کو ہائے پرفائل ہونے کی یہ سزا بھگتنی پڑتی ہے۔
اس سے قبل سوشانت سنگھ راجپوت معاملہ بھی منشیات جڑا اور کئی بالی ووڈ اسٹارز پر سوال اٹھے اس وقت بھی جاوید اختر نے بالی ووڈ اسٹارز کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کل کے یہ نوجوان ایسا نہیں کرتے وہ اپنی صحت کا پورا خیال رکھتے ہیں۔
آرین خان اس وقت ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں ہیں۔بالی ووڈ کے کئی ستارے شاہ رخ خان اور آرین کا دفاع کررہے ہیں جبکہ کچھ ستارے اس معاملے میں ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کررہے ہیں۔وہیں کچھ فلمی ستارے کھلے طور پر آرین کا دفاع کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔سنیل شیٹی، روینہ ٹنڈن، ہنسل مہتا، فرح خان، پوجا بیدی، سلمان خان، سچترا کرشنا مورتی، اور جانی لیور سمیت کئی فلمی ستاروں نے آرین خان کا دفاع کیا اور انہیں بے گناہ قرار دیا۔
واضح رہے کہ آج 20 اکتوبر کو سیشن کورٹ میں اس معاملہ کی شنوائی ہوگی اور آرین خان کی ضمانت پر فیصلہ ہوگا۔

شاہ رخ خان خود اگر کچھ دن مدرسے میں تعلیم حاصل کرتے تو انہیں اس بات کا احساس ہوتا کہ مذہبی تعلیم بھی حاصل کرنا ضروری ہے

جب سے شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو منشیات معاملے میں این سی بی نے گرفتار کیا ہے ملک میں عوام اور سرکردہ افراد کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ شاہ رخ خان کے مداح بھی دو گرہوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔اب بریلی کے تنظیم علمائے اسلام کے قومی جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین رضوی نے دعوی کیا ہے کہ اگر شاہ رخ خان نے اپنے بیٹے کو مدرسے میں تعلیم دلائی ہوتی تو انہیں یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔مولانا کا کہنا ہے کہ اگر شاہ رخ خان کچھ دن اپنے بیٹے کو مدرسے میں تعلیم دلائی ہوتی تو اسے اسلامی احکامات کا علم ہوتا کہ اسلام میں کسی بھی طرح کا نشہ کرنا حرام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلم انڈسٹری کے لوگ اسلامی احکامات سے ناواقف ہیں۔اسلام میں نشہ حرام ہے یہ بات مدرسوں میں پڑھائی اور سمجھائی جاتی ہے۔

مولانا کے مطابق اسلام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اولاد بری صحبت میں پڑ جائے تو والدین کو اسے سمجھا بھجا کر صحیح راستے پر لانے کی کوشش کریں۔شاہ رخ خان اگر خود کچھ دن مدرسے میں پڑھے ہوتے تو انہیں اس بات کا احساس ہوتا۔ بھلے ہی کچھ لیکن مذہبی تعلیم بھی حاصل کرنی چاہیے۔شاہ رخ خان کو اگر مدرسہ نہیں ملا تھا تو گھر کے پاس کسی مسجد کے امام سے مذہبی تعلیم لے لیتے۔انہیں اپنے بیٹے کو بھی اسلام کے اصولوں اور قوانین سے روبرو کروانا چاہیے تھا۔

کروز شپ پر جاری ڈرگس پارٹی پر این سی بی کا چھاپہ، آرین خان سمیت 8 لوگوں سے تفتیش

سنیچر کے روز ممبئی سے گوا جانے والے ایک کروز شپ نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے افسران نے چھاپہ مارا۔این سی بی کو کروز پر ڈرگس پارٹی ہونے کی خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی۔جس کے بعد افسران حلیہ بدل کر پارٹی میں شامل ہوئے اور ڈرگس پارٹی کا پردہ فاش کیا۔واضح رہے کہ اس پارٹی میں بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان بھی موجود تھے۔این سی بی نے آرین خان کو بھی حراست میں اور این سی بی دفتر میں ان سے تفتیش کی جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
اس کروز شپ ڈرگس پارٹی میں شامل تمام لوگوں کے نام سامنے آگئے جنہیں این سی بی نے حراست میں لیا۔ان میں آرین خان کے علاوہ منمن دھاموچہ، نوپور ساریکا، اشمت سنگھ، مہک جیسوال، وکرانت چھوکر، گومت چوپڑا اور ارباز مرچنٹ شامل ہیں۔
ڈرگس معاملے میں بیٹے کے پھنسنے کے بعد شاہ رخ خان کے تعلق سے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی فلم پٹھان کی شوٹنگ ملتوی کرسکتے ہیں۔شاہ رخ خان کو فلم کی شوٹنگ کیلئے اسپین جانا تھا۔ایسا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید اب فلم کی شوٹنگ رد کی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ شاہ رخ نے اب تک اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ وہ مسلسل این سی بی افسران کے رابطے میں ہیں۔جبکہ سنیل شیٹی نے آج تک سے بات چیت کے دوران آرین سے متعلق کہا کہ جہاں جہاں چھاپہ مارا جاتا ہے بہت سارے لوگوں کو حراست میں لیا جاتا ہے۔ہم مان کر چلتے ہیں کہ اس بچے نے منشیات کا استعمال کیا ہوگا لیکن ابھی کارروائی جاری ہے اس بچے کو سانس لینے کا موقع دیں۔جب ہماری انڈسٹری میں کچھ ہوتا ہے تو میڈیا ٹوٹ ٹوٹ پڑتی ہے۔بچوں کو موقع دیں۔سچ سامنے آنے دیجئے۔وہ بچہ ہے اس کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اس معاملے میں دہلی این سی بی سے ممبئی این سی بی کو اطلاع موصول ہوئی تھی۔جس کے بعد کارروائی کی گئی۔دہلی کے کچھ منتظمین نے اس پارٹی کے انتظامات کئے تھے جو پہلے ہی این سی بی کے رڈار پر تھے۔بتایا جارہا ہے کہ جتنے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔انہیں منشیات استعمال کرنے کے جرم میں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔کروز پر ڈرگس پارٹی سے حراست میں لئے گئے لوگوں سے تفتیش کے دوران ایک ڈرگس پیڈلر کا نام سامنے آیا ہے۔این سی بی کی ایک ٹیم اس کی تلاش میں سرگرم ہے۔این سی بی کے 22 افسر پیسنجر بن کر کروز میں سوار ہوئے تھے۔کہا جارہا ہے کہ 1800 لوگوں سے 8 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے پاس سے کچھ برآمد ہوا ہوگا۔این سی بی کی کارروائی ابھی جاری ہے تمام لوگوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔
این سی بی ذرائع کے مطابق کسی کی بھی گرفتاری سے قبل ان کا بیان درج کرنا ضروری ہے۔تمام 8 لوگوں کا این ڈی پی سی ایکٹ کے تحت بیان درج کیا جارہا ہے۔بیان درج کرنے کے بعد انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔فی الحال شاہ رخ خان کے بیٹے آرین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔