Articles by "Abu Aasim Aazmi"
Showing posts with label Abu Aasim Aazmi. Show all posts

مالیگاؤں کے بعد آج دھولیہ میں اکھلیش یادو کا دورہ، مہاوکاس اگھاڑی میں 12 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن چند نشستوں پر مطمئن ہیں

دھولیہ: سماجوادی لیڈر اکھلیش یادو آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مہاراشٹر کے دورے پر ہیں. کل مالیگاؤں میں موسلا دھار بارش کے درمیان عزیز کلو اسٹیڈیم میں ایک عوامی اجلاس سے انہوں نے خطاب کیا. آج دھولیہ میں انہوں نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں حالات کو بدل دیں گے. یہ تاریخی انتخابات ہوں گے.

क्या एकनाथ शिंदे दोबारा मुख्य मंत्री बनेंगे????

مہاراشٹر انتخابات کے لئے سیٹوں کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے یادو نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) میں 12 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ وہ پارٹی ہے جو کم نشستوں سے بھی مطمئن ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مہاراشٹر میں ایس پی کے پہلے ہی دو ایم ایل اے ہیں۔ ممبئی سے ایس پی ایم ایل اے ابو اعظمی بھی اکھلیش یادو کے ساتھ موجود تھے۔ اس ہفتے کے اوائل میں ابو اعظمی نے ایکس پر پوسٹ کیا تھا کہ مہاراشٹر میں کسی بھی پارٹی کو سماج وادی پارٹی سے بات چیت کے بغیر اسمبلی انتخابات کے لئے امیدواروں کا اعلان نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ ایم وی اے کے اندر تمام بات چیت کانگریس، این سی پی (ایس پی) اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے درمیان ہوئی تھی اور وہ انہیں اتحاد کے دیگر شراکت داروں کی یاد دلانا چاہتے تھے۔ کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے حال ہی میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس پی کے لئے کانگریس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ وڈیٹیوار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے لئے مہاراشٹر کے لئے سیٹوں کی تقسیم کا فارمولہ اتر پردیش جیسا ہی ہوگا۔سنیچر کے روز اکھلیش یادو نے بھی مہایوتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی سڑکیں مہاراشٹر سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی سڑکیں ہے جہاں طیارے اتارے جاسکتے ہیں۔ کیا وزیر ٹرانسپورٹ نے مہاراشٹر میں ایسی سڑکیں بنائی ہیں؟'' انہوں نے مزید کہا کہ وہ مالیگاؤں اور دھولیہ کے دورے کے دوران دیکھے گئے گڑھوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

نواب ملک، ابو عاصم اعظمی کے خلاف مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں

انوشکتی نگر اسمبلی حلقہ (نمبر 172) جس میں چیتا کیمپ، ٹرامبے، دیونار، مانخورد اور مہاراشٹر نگر جیسے علاقے شامل ہیں، کئی لحاظ سے پڑوسی مانخورد-شیواجی نگر سے ملتے جلتے ہیں۔ اس حلقے میں مسلم رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد ہے اور آبادی کی اکثریت کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔ حالانکہ، انوشکتی نگر میں بہت سے متوسط طبقے کے ووٹر بھی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین اور سائنس دان بھی شامل ہیں، جو ہاؤسنگ کالونیوں میں رہتے ہیں۔ یہاں بلند و بالا رہائشی عمارتیں ہیں اور اس علاقے میں بھارت کے اہم جوہری تحقیقی اداروں میں سے ایک، بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر بھی واقع ہے۔

2019 کے ودھان سبھا انتخابات میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے نواب ملک نے 65،217 ووٹوں کے ساتھ اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی ، انہوں نے غیر منقسم شیوسینا کے اپنے حریف تکارام کاٹے کو شکست دی تھی جنہوں نے 52،466 ووٹ حاصل کیے تھے۔ کاٹے نے 2014 میں یہ سیٹ جیتی تھی اور 2009 میں یہ سیٹ جیتنے والے نواب ملک کو شکست دی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نواب ملک اس بار مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور انوشکتی نگر حلقہ سے اپنی بیٹی ثنا ملک کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں جو انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ملک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ منی لانڈرنگ کے الزام میں زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے الزامات سے انکار کیا تھا اور فی الحال ضمانت پر ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ملک کے مانخورد شیواجی نگر میں انتخابی میدان میں اترنے کے منصوبے نے سماج وادی پارٹی کو پریشان کر دیا ہے، ابو عاصم اعظمی، جو تین بار قانون ساز اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں، چوتھی مدت کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ سماج وادی پارٹی انوشکتی نگر میں اپنا امیدوار کھڑا کرے گی۔

تاہم، ملک کی بیٹی، ثنا، اس حلقے کا ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں، جب ان کے والد جیل میں تھے تو وہ اس علاقے کا دورہ کرتی رہی ہیں۔ نواب ملک جو اب این سی پی اجیت پوار کے ساتھ ہیں، نے کہا کہ میری غیر موجودگی میں ثناء حلقے کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں ان کی نمائندگی کرنی چاہیے. 

ملک کو 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس سال جولائی میں انہیں طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور وضاحت کی کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مانخورد شیواجی نگر سے امیدواری کی خبروں کے بارے میں پوچھے جانے پر ملک نے کہا، 'شیواجی نگر کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، لیکن میں یہ فیصلہ اپنی پارٹی پر چھوڑوں گا کہ مجھے وہاں سے الیکشن لڑنا چاہیے یا نہیں۔

اورنگ آباد اور عثمان آباد کے نام تبدیل کرنے سے متعلق دیئے گئے بیان کے بعد دھمکی آمیز فون کال موصول

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی میں اورنگ آباد اور عثمان آباد کے نام تبدیل کرنے پر اعتراض کرنے والے سماجوادی پارٹی کے صوبائی صدر اوررکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی کو فون پر جان سے مارنے کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔ ابو عاصم اعظمی نے کہا تھا کہ ادھو حکومت نے شہروں کا نام تبدیل کرکے کیا پیغام دیا ہے۔ شہروں کے ناموں کو تبدیل کرنے کے بجائے نئے شہر بسائے جائیں تو بات بنے، اسی پر اعظمی کو دھمکی دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.... شرد پوار قدآور لیڈر ہیں لیکن وہ جو کہتے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے: ایکناتھ شندے
مہاراشٹر اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں رئیس شیخ نے اس جانب توجہ مبذول کرائی اورکہا کہ ایک رکن اسمبلی کو اس قسم کی دھمکی ملنا خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابو عاصم اعظمی نے تو اپنی بات ایوان میں رکھی تھی کیونکہ ادھو حکومت نے آخری روز ہی نوٹیفکیشن جاری کرکے ناموں کو تبدیل کرنے کا فرمان جاری کیا تھا، جس پر انہوں نے اعتراض درج کروایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی نے فلور ٹسٹ اور اسپیکر کے الیکشن سے بھی علیحدگی اختیار کی ہے کیونکہ ادھو ٹھاکرے سرکار نے جو فیصلہ کیا تھا وہ کامن منیمم پروگرام کے مطابق نہیں تھا، اسی پر ابو عاصم اعظمی نے اعتراض درج کروایا تھا، لیکن افسوس کہ انہیں دھمکی دی جارہی ہے۔
ایوان میں رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ بی  جے پی سرکار کے قیام کے بعد اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب پایا جارہا ہے، انہیں تحفظات کا یقین دلانا بھی نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی میں جس وقت میں رکن اسمبلی کے طور پر منتخب ہوا تو ایک مہا وکاس اگھاڑی کے رکن نے ہی میرے 17 دنوں میں فتحیابی پرسوال اٹھایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے کاموں میں دلچسپی لینا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی نے کہا کہ بھیونڈی میں کئی ترقیاتی کام التواء کا شکار ہیں، اس پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ اقلیتوں کو تحفظ کا یقین دلانا، اس سرکار کا فرض ہے، اس لئے انہیں اس سلسلے میں بیان جاری کرنا ہوگا۔


مسلم شہروں کے نام بدل کر تمھیں کیا ملے گا، بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر نیا شہر بناؤ ہم استقبال کریں گے: ابو عاصم اعظمی نے اسمبلی میں آواز اٹھائی

ممبئی : (3 جولائی) سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی کابینہ کی میٹنگ میں شیوسینا نے اپنے سیاسی فائدہ کیلئے اہم نام کی تبدیلی کو منظوری دی گئی۔ کابینہ نے اورنگ آباد شہر کا نام سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا نام دھراشیو رکھنے کی منظوری دی۔ 

یہ بھی پڑھیں:...

بی جے پی سے کتنے پیسے ملے؟

 دو روزہ اسمبلی اجلاس میں اس کے اثرات محسوس کئے گئے۔ بی جے پی کے راہول نارویکر کے اسمبلی اسپیکر منتخب ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے ابو اعظمی نے اپنی مبارکبادی تقریر میں ادھو ٹھاکرے پر تنقید کی۔
جاتے جاتے ادھو ٹھاکرے نے اورنگ آباد اور عثمان آباد کا نام بدل دیا۔اگر ریاست مہاراشٹر ترقی کر رہا ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ شہروں کے نام بدلنے کا کیا پیغام ہے؟مسلمانوں کے نام بدل کر کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ بالاصاحب کے نام پر بڑے شہر بنائیں، ہم تالیوں سے آپ کا استقبال کریں گے۔لیکن مسلمانوں کے نام بدلنے سے تمہارا کیا مطلب ہے؟
*اورنگ زیب پر بھاسکر جادھو کا متنازعہ بیان*
شیوسینا کے ایم ایل اے بھاسکر جادھو نے ابو عاصم اعظمی کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ "اورنگ زیب دہشت گرد تھا، اس نے ہم پر ظلم کیا، اس لیے ہم نے نام بدل کر سمبھاجی مہاراج رکھ دیا ہے۔بھاسکر جادھو نے کہا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان ایسا کوئی امتیاز نہیں ہے۔
دریں اثنا، ریاستی حکومت نے پہلے اورنگ آباد ہوائی اڈے کا نام چھترپتی سمبھاجی مہاراج ہوائی اڈہ رکھنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم مرکزی حکومت نے ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی ہے۔  آنے والے بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر شیوسینا کا نام بدل کر ہندو نواز شبیہ رکھنے کا مسئلہ اہم تھا۔ اس پس منظر میں محکمہ شہری ترقی کی جانب سے اورنگ آباد شہر کا نام بدل کر سمبھاج نگر اور عثمان آباد شہر کا نام دھاراشیو رکھنے کی تجویز کابینہ کی میٹنگ میں پیش کی گئی اور اسے منظوری دے دی گئی۔
ابو عاصم اعظمی نے جس وقت اسمبلی میں آواز اٹھائی اسوقت مجلس اتحاد المسلمین کے مسلم ایم ایل اے خاموش تھے ۔مالیگاؤں شہر کے رکن اسمبلی مفتی اسماعیل بھی ہاؤس میں نظر نہیں آئے ۔دو روزہ اسمبلی اجلاس میں ابو عاصم اعظمی نے اورنگ آباد کا نام تبدیل کر سمبھا جی نگر رکھنے پر اپنی مخالفت ظاہر کی جس پر بھاسکر جادھو نے اعتراض کیا لیکن ابو عاصم اعظمی کی آواز میں آواز ملانے والے مسلم ایم ایل خاموش تھے ۔سیاسی گلیاروں میں خبر ہے کہ ایوان کے باہر بولنے والے عوامی نمائندے ایوان میں خاموش کیوں تھے یا غیر حاضری چہ معنی دارد؟


 


مہاراشٹر حکومت اترپردیش کے وزیراعلی کی طرز پر ہندو-مسلم منافرت کو ہوا دینے والے کام نہ کرے، شہروں کے نام تبدیل کرنے سے غریب عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا: ابوعاصم

مہاراشٹر: ریاست کے شہر اورنگ کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی نگر  کئے جانے کے معاملے میں جاری لفظی جنگ ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔شیوسینا کے ذریعے اورنگ آباد کا نام تبدیل کر کے سمبھاجی نگر رکھنے کے مطالبے کے بعد مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل حلیف جماعتوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔کانگریس لیڈر بالا صاحب تھورات نے کہا کہ کانگریس اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر کئے جانے کی تجویز کی سخت مخالفت کرتی ہے۔اب سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے اورنگ آباد کا نام تبدیل کرنے کی بجائے مہاراشٹر کا نام تبدیل کرنے کی بات کہی ہے۔ابوعاصم اعظمی نے ایک ویڈیو میں مہاراشٹر حکومت اور وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہروں کے نام تبدیل کرنے سے کای قسم کی ترقی نہیں ہونے والی اور نہ ہی غریب عوام کا پیٹ بھرنے والا ہے۔پرانے شہروں کا نام تبدیل کرنے سے کیا ہوگا؟احمد نگر اور اورنگ شہروں کا حوالہ دیتے ہوئے ابوعاصم نے کہا کہ ان شہروں کی اپنی ایک تاریخ ہے، اگر حکومت ان شہروں کے نام تبدیل کرنا چاہتی ہے تو انہیں پہلے مہاراشٹر کا نام تبدیل کرنا چاہیے اور ریاست کو چھترپتی شیواجی مہاراج کے نام سے منسوب کرنا چاہیے۔اگر آپ نام ہی تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو رائےگڑھ کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی مہاراج کریں۔عوام اسے پسند کرے گی۔حالانکہ شہروں کا نام تبدیل کرنا مناسب نہیں ہے اور یہ آپ پر نہیں جچتا۔ابوعاصم نے مہاراشٹر کو مزید ترقی یافتہ بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ یہاں آتے ہیں۔اسلئے مہاراشٹر کو مزید بہتر بنایا جائے، نئے اضلاع کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اترپردیش کے وزیراعلی کی طرح ہندو-مسلم منافرت کو بڑھاوا دینے کی طرز پر کام نہ کیا جائے،ایسا کرنا آپ کے موافق نہیں ہے۔