مزید تین معاملات میں ضمانت ملنا باقی، حکومت نے انہیں جیل میں رکھنے کیلئے ایک ہی معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی ہے: کپل سبّل

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سماجوادی لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کی ایک معاملے میں ضمانت منظور کرلی ہے۔اعظم خان اور عبداللہ اعظم خان پر فرضی پین کارڈ بنانے کا الزام ہے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں انہیں ضمانت دے دی ہے۔سپریم کورٹ نے نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے میں چار ہفتوں کے اندر مخبر کا بیان درج کیا جائے۔بیان درج ہونے کے بعد اعظم خان اور انکے بیٹے کو ضمانت دی جائے۔

شنوائی کے دوران اترپردیش حکومت نے سپریم کورٹ میں سماجوادی لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی۔اترپردیش کی جانب سے وکیل ایس وی راجو نے کہا کہ اعظم خان پر کئی انگین معاملات میں ایف آئی آر درج ہے۔اسلئے انہیں ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔واضح رہے کہ اعظم خان اور ان کے بیٹے پر الزام ہے کہ ایک پین کارڈ موجود ہونے کے بعد بھی انہوں نے دوسرا پین کارڈ بنوایا اور پہلے پین کارڈ کی معلومات کو مخفی رکھا۔اعظم خان کے وکیل سبّل نے کہا کہ سرکار پاسپورٹ اور پین کارڈ معاملے میں الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہے جبکہ اس معاملے میں اعظم خان کو ضمانت مل چکی ہے۔ملزم کو جیل میں رکھنے کیلئے حکومت نے ایک معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی ہے۔یہی حال عبداللہ اعظم خان کا بھی ہے۔اعظم خان کے وکیل کپل سبل نے ان کے موکل کو تین معاملات چھوڑ کر بقیہ تمام معاملات میں ضمانت مل گئی ہے۔آج کے حکم کے بعد اعظم اور ان کے بیٹے کو تھوڑی راحت ضرور ملی ہے لیکن وہ دونوں فی الحال جیل سے رہا نہیں ہو پائیں گے۔ابھی ان کے خلاف مزید تین معاملات ہیں جن میں ضمانت ملنا باقی ہے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: