Articles by "Palestine"
Showing posts with label Palestine. Show all posts

21 افراد جاں بحق، کئی زخمی، فلسطینی صدر محمود عباس نے قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا

غزہ پٹی میں جمعرات کو دیر رات ایک رفیوجی کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی۔  ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اس حادثے میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 7 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں تمام فلسطینی پناہ گزین بتائے جا رہے ہیں. کہا جا رہا ہے کہ گیسولین کے رساؤ کے باعث لگی۔ ایک پولس افسر نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت میں رکھے ہوئے گیسولین کے رساؤکی وجہ سے آگ لگنے کا شبہ ہے۔ جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔ ہم اس بات کا پتہ لگا رہے ہیں کہ عمارت میں گیسولین کیوں رکھا گیاتھا۔

ہیلتھ اینڈ سول ایمرجنسی افسر نے بتایا کہ آگ کافی خوفناک تھی، جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں. کئی افراد زخمی ہیں جنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے. اطلاعات کے مطابق کئی لوگ شدید زخمی ہیں اسلئے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ ہے. اسرائیلی حکومت نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جائے گی.

ایک فائر فائٹر نے بتایا کہ آگ بہت خوفناک تھی اطلاع ملتے ہی ہم فوراً جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔  وہاں افراتفری مچ گئی۔ آگ پر قابو پانے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔  اس دوران لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ عمارت میں مقیم زیادہ تر لوگوں کو باہر نکال لیا گیا۔ ایک افسر نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے کئی لوگ شامل ہیں۔ یہ سب اپنے ایک رشتہ دار کی بیرون ملک سے واپسی کا جشن منا رہے تھے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس واقعے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ہالی ووڈ اداکارہ نے انسٹا گرام پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تصویر اور نظم شیئر کی، دنیا بھر سے تعریفیں لیکن اسرائیل خفا

معروف ہالی وڈ اداکارہ 31 سالہ ایما واٹسن کو سوشل میڈیا پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی سے متعلق پوسٹ کرنے کے بعد اسرائیلی سیاستدان اور سفیر ’یہود دشمن‘ قرار دے رہے ہیں۔اداکارہ نے تین جنوری کو انسٹاگرام پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی برطانوی نژاد آسٹریلوی مسلمان قلم کار سارا احمد کی یکجہتی سے متعلق نظم بھی لکھی۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔سیمسنگ کا ایک ٹی بی اسٹوریج والا موبائل متعارف کرانے کا منصوبہ

اداکارہ کی یکجہتی سے متعلق شیئر کی گئی تصویر اور پوسٹ وائرل ہوگئی اور برطانوی و امریکی میڈیا سمیت اسرائیلی میڈیا نے بھی اس پر خبریں شائع کیں اور دنیا بھر میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے لوگوں نے ان کی تعریفیں کیں۔ایما واٹسن کی مذکورہ پوسٹ کو جہاں دنیا بھر کی توجہ حاصل ہوئی، وہیں اسرائیلی سیاستدان اور یہودی ان سے خفا بھی دکھائی دیے اور بعض افراد نے انہیں یہود دشمن بھی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔گذشتہ سال کم وبیش چھ سو نئے جاندار دریافت

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے پر اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکا میں اسرائیلی سفیر جلعاد اردن نے یہود دشمن قرار دیا۔انہوں نے ایما واٹسن پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ فلسطین کے خلاف تحریک کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرنا یہود دشمنی کے مترادف ہے۔

ہیری پوٹر میں مداحوں کا دل جیتنے والی ایما واٹس 2014 سے اقوام متحدہ (یو این) میں خواتین کی خیر سگالی کی سفیر ہیں، ان کی معروف مہمات میں صنفی برابری کو فروغ دینے سے متعلق ہی فار شی اور یکجہتی مہم شامل ہے۔ایما واٹسن سےقبل بھی متعدد ہالی وڈ شخصیات اور نامور افراد فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر چکے ہیں، گزشتہ برس ماڈل بیلا حدید کو بھی فلسطینی افراد سے اظہار یکجہتی پر انہیں بھی یہود دشمن قرار دیا گیا تھا۔گزشتہ برس ہالی وڈ اداکار اور سماجی کارکن مارک رفالو نے بھی فلسطین کی حمایت کی تھی لیکن شدید تنقید کے بعد آخر کار انہیں معافی مانگنی پڑی تھی۔

مجھے نہیں پتہ مجھے کیا کرنا ہے، میں اپنے لوگوں کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہوں، لیکن میں صرف دس سال کی ہوں، کیوں ہم پر میزائل گراتے ہو اور ماردیتے ہو، یہ ٹھیک نہیں ہے

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔فلسطین پر مسلسل وحشیانہ حملے جاری ہیں۔پیر کی صبح اسرائیل نے غزہ پٹی پر پھر بمباری کی ہے۔جس میں کافی تباہی کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔اسی درمیان ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے جس میں غزہ پٹی کی ایک دس سالہ معصوم بچی نے فلسطین پر ہونے والے حملوں اور اسرائیلی جارحیت کا سچ اور اپنا دکھ بیان کیا۔مڈل ایسٹ آئی خبر رساں ایجنسی کے ذریعے جاری کئے گئے اس ویڈیو کو ٹوئٹر پر بھی شیئر کیا گیا ہے۔دس سالہ فلسطینی بچی نے مڈل ایسٹ آئی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اسرائیلی ہوائی حملوں نے اسکے اور پڑوسیوں کے گھروں کو تباہ کر دیا۔ ان حملوں میں 8 بچوں سمیت دو خواتیں بھی ہلاک ہوگئے۔مڈل ایسٹ آئی خبررساں ایجنسی کے ذریعے مذکورہ ویڈیو 15 مئی کو شیئر کیا گیا ہے۔ویڈیو میں بچی نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے؟میں پریشان ہوں اس سے، مجھے نہیں پتہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میں کچھ نہیں کرسکتی، میں صرف دس سال کی ہوں، میں یہ سب اب مزید نہیں برداشت کر سکتی۔ لڑکی مزید کہتی ہے کہ مجھے نہیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے، مجھے ڈر لگتا ہے لیکن اتنا زیادہ نہیں۔ میں اپنے لوگوں کیلئے کچھ کرنا چاہتی ہوں لیکن مجھے نہیں پتہ کہ میں کیا کروں کیونکہ میں صرف دس سال کی ہوں۔ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ عمارتیں تباہ ہوئی ہیں ملبہ پڑا ہوا ہے اور افراتفری مچی ہوئی ہے۔لڑکی مزید کہتی ہے کہ میرے خاندان والے کہتے ہیں کہ وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں، وہ ہمیں پسند نہیں کرتے کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔آپ دیکھ رہے ہو میرے آس پاس بچے ہیں، یہ سب بچے ہیں۔ آپ ان پر کیونکہ میزائل گراتے ہو اور انہیں مار دیتے ہو، یہ ٹھیک نہیں ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں میں مسلسل ایئر اسٹرائیک کی ہے۔

:ویڈیو

https://twitter.com/MiddleEastEye/status/1394427511971336193?s=19

Video