Articles by "Fire Incident"
Showing posts with label Fire Incident. Show all posts

اینیمیشن کوچنگ سینٹر میں ہولناک آتشزدگی، متعدد طلباء کے پھنسے ہونے کا خدشہ، جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان

لکھنؤ: اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کے روز لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ میں کم از کم 14 طلبہ کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ابھی کل 13 بچوں کو باہر نکالا گیا ہے۔ انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک سنگین واقعہ ہے۔ اندر دھواں بھرا ہوا ہے۔ یہ ایک اینیمیشن سینٹر تھا جہاں اچانک آگ لگ گئی۔ بچے یہاں کارٹون بنانا سیکھنے آتے تھے۔ مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ کے جی ایم سی ٹراما سینٹر میں زخمیوں کو داخل کیا جا رہا ہے۔ ان کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان تھی۔"

یہ آگ علی گنج کے پورنیا علاقے میں واقع ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں بھڑکی، جس کے باعث آسمان میں گھنے دھوئیں کے بادل چھا گئے اور طلبہ کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ مقامی افراد کے مطابق، کئی طلبہ نے تیزی سے پھیلتی آگ سے بچنے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگا دی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، عمارت کے بڑے حصے میں دھواں بھر جانے کے بعد متعدد طلبہ کو چھلانگ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک مقامی رہائشی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ آگ لگنے کے چند ہی منٹوں میں افراتفری مچ گئی۔

انہوں نے کہا، "سات سے آٹھ طلبہ نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگائی، تاہم اب بھی تقریباً 20 سے 25 طلبہ کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔"

علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بڑی تعداد میں لوگ عمارت کے باہر جمع ہو گئے جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیاں کوچنگ سینٹر کی جانب روانہ کی گئیں۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے اور اندر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بھرپور آپریشن شروع کیا۔

حکام کے مطابق، آگ پر جزوی طور پر قابو پانے تک کم از کم 12 افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں نے آپریشن کے دوران ایک بلی کو بھی بچایا۔

آگ کی شدت اور گھنے دھوئیں کے باعث اندر پہنچنا مشکل ہو گیا تھا، جس کے باعث فائر فائٹرز کو عمارت کے مختلف حصوں تک رسائی کے لیے متبادل طریقے اختیار کرنے پڑے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران اسٹریچر بردار عملہ ملحقہ عمارت کے ذریعے اندر داخل ہوا۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، امدادی ٹیم نے ایک دیوار میں سوراخ کر کے اسٹریچر اور دیگر ضروری سامان اندر پہنچایا۔

اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا تھا، تاہم سرچ آپریشن جاری رہا کیونکہ خدشہ تھا کہ مزید چار سے پانچ افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

آگ لگنے کی اصل وجہ کی تفتیش جاری ہے، جبکہ ایک مقامی رہائشی نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کسی چنگاری کے باعث آگ بھڑکی ہوگی، تاہم حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

جیسے ہی حادثے کی شدت واضح ہوئی، کئی اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ضلعی و فائر محکمہ کے افسران کے ساتھ ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔

اس سانحے کی اطلاع ملنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس واقعے کو "انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا" قرار دیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی لکھنؤ آگ حادثے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی تمنا کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ (PMNRF) سے مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔ آگ میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

یہ اعلانات ایسے وقت میں کیے گئے جب ریسکیو ٹیمیں کوچنگ سینٹر میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

21 افراد جاں بحق، کئی زخمی، فلسطینی صدر محمود عباس نے قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا

غزہ پٹی میں جمعرات کو دیر رات ایک رفیوجی کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی۔  ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اس حادثے میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 7 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں تمام فلسطینی پناہ گزین بتائے جا رہے ہیں. کہا جا رہا ہے کہ گیسولین کے رساؤ کے باعث لگی۔ ایک پولس افسر نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت میں رکھے ہوئے گیسولین کے رساؤکی وجہ سے آگ لگنے کا شبہ ہے۔ جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔ ہم اس بات کا پتہ لگا رہے ہیں کہ عمارت میں گیسولین کیوں رکھا گیاتھا۔

ہیلتھ اینڈ سول ایمرجنسی افسر نے بتایا کہ آگ کافی خوفناک تھی، جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں. کئی افراد زخمی ہیں جنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے. اطلاعات کے مطابق کئی لوگ شدید زخمی ہیں اسلئے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ ہے. اسرائیلی حکومت نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جائے گی.

ایک فائر فائٹر نے بتایا کہ آگ بہت خوفناک تھی اطلاع ملتے ہی ہم فوراً جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔  وہاں افراتفری مچ گئی۔ آگ پر قابو پانے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔  اس دوران لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ عمارت میں مقیم زیادہ تر لوگوں کو باہر نکال لیا گیا۔ ایک افسر نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے کئی لوگ شامل ہیں۔ یہ سب اپنے ایک رشتہ دار کی بیرون ملک سے واپسی کا جشن منا رہے تھے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس واقعے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔


کورنٹائن کئے جانے سے نالاں خاتون نے پہلے ملازمین کو پریشان کیا پھر اپنے بستر کے نیچے آگ لگا دی، کوئی جانی نقصان نہیں، خاتون گرفتار

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک خاتون اور اس کے 2 بچوں کو قرنطینہ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ جس سے نالاں خاتون نے ہوٹل کو آگ لگا دی، خاتون کو آتش زنی کے الزام میں فوری طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ تینوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مشہور صحافی ونود دووا چل بسے

یہ واقعہ صبح کے وقت پیش آیا تھا جب شمال مشرقی شہر کیرنز میں واقع پیسیفک ہوٹل کی اوپری منزل کو خاتون نے آگ لگائی جسکے نتیجے میں قرنطینہ میں رہ رہے 160 سے زائد افراد کو باہر نکالنا پڑا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

آسٹریلین میڈیا کے مطابق 31 سالہ خاتون کسی دوسری ریاست سے کوئینز لینڈ آئی تھی لیکن اسے قرنطینہ میں متعینہ  مدت تک رہنے کا حکم دیا گیا تھا جس پر خاتون شدید نالاں تھی۔ قرنطینہ میں کچھ دن گزارنے کے بعد خاتون نے اپنے بستر کے نیچے آگ لگائی۔ جو دیکھتے دیکھتے بھڑک اٹھی۔ قیام کے دوران خاتون نے اپنے رویے سے ملازمین کو پریشان بھی کررکھا تھا۔



سلینڈر یا وینٹیلیٹر میں دھماکہ کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں، وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان نے رپورٹ طلب کی
بھوپال کے حمیدیہ اسپتال کیمپس میں پیر کی شب تقریبا رات 9 بجے آگ لگ گئی۔اطلاعات کے مطابق اسپتال کی کملا نہرو بلڈنگ کے پیڈیاٹرک وارڈ میں آگ لگی ہے۔اس حادثے میں 7 بچوں کے جھسلنے کی اطلاع ہے۔تادمِ تحریر آگ لگنے کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔ فائر بریگیڈ عملہ اور پولیس افسران موقع پر موجود ہیں، راحت رسانی کا کام جاری ہے۔
بتایا جارہا ہے کہ بچوں کے جس وارڈ میں آگ لگی ہے اس وارڈ کو نئی بلڈنگ میں منتقل کیا جانا تھا ، لیکن اس سے قبل ہی مذکورہ حادثہ پیش آگیا۔کئی لوگوں کو عمارت سے نکال کر دوسروں اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ بچوں کے اہل خانہ کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ایسے میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔
اس حادثے کی وجوہات سے متعلق مختلف طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں کچھ لوگوں نے سلینڈر یا وینٹیلیٹر میں دھاکے کو آگ لگنے کی وجہ بتایا ہے۔وہیں شارٹ سرکٹ کے خدشات بھی ظاہر کئے جارہے ہیں۔وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اس معاملے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ اسپتال انتظامیہ کو بچوں کی حفاظت اور بہتر علاج کی ہدایت دی ہے۔
وزیر وشواس سارنگ اور ڈی آئی جی ارشاد ولی بھی موقع پر پہنچے۔ ڈاکٹروں کو ایک ٹیم کو بھی اسپتال بلایا گیا ہے۔فائر بریگیڈ افسر عارف نے بتایا کہ آگ بجھانے کیلئے فتح گڑھ، بیرا گڑھ، پُل بوگدا سمیت دوسرے فائر اسٹیشنوں سے 8 گاڑیاں بلائی گئیں۔ دھواں زیادہ ہونے کے سبب راحت رسانی میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

 کروڑوں کا نقصان ہونے کا اندیشہ، مالیگاؤں فائربریگیڈکی بروقت امداد سے آگ پر قابو پایا گیا 
مالیگاؤں: ناسک ضلع کے مالیگاؤں تعلقہ چاندوڑ، ممبئی شاہراہ سے قریب واقع مودی کامپلیکس (کووڈ سینٹر) میں گزشتہ کل اچانک شارٹ سرکٹ کے سبب بھیانک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔مودی کامپلیکس کے بالائی حصّے میں کووڈ  سینٹر بنایا گیا ہے اسی بلڈنگ کے 
 بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور پر واقع دتاتریا گائکواڑ کے مونگیری فرنیچر گودام اور ویبھوگانگورڈے کی ہوٹل رن وے میں اچانک شارٹ سرکٹ کے سبب آگ لگ گئی۔جس میں کروڑوں روپے مالیت کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق فائر بریگیڈ محکمے کے افسر سنجے پوار نے نمائندے کو فون پر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ کل انہیں تحصیلدار کی جانب سے آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی۔اطلاع ملتے ہی وہ مالیگاؤں فائر بریگیڈ محکمے کے شکیل تیراک اور تین ماندھن فائر مین اور 2 ماندھن ڈرائیور پر مشتمل ایک ٹیم کے ساتھ چاندوڑ کیلئے روانہ ہوگئے۔
واضح رہے کہ جائے حادثے پر پہلے سے ہی فائر بریگیڈ کی کچھ گاڑیاں آگ پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی۔تب مالیگاؤں فائر بریگیڈ گاڑیوں کی فوری مدد سے آگ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔اس درمیان گودام اور دکان میں رکھا ٹی وی، فرنیچر سمیت سبھی قیمتی اشیاء جل کر خاک ہوگئی جس میں کروڑوں روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔