Articles by "Ramzanpura"
Showing posts with label Ramzanpura. Show all posts

دو ملزمین گرفتار، رمضان پورہ پولس کی بڑی کارروائی 

مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کے دیانا علاقے میں رمضان پورہ پولیس نے منشیات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے دونوں کے قبضے سے 53 گرام سفید رنگ کا مشتبہ ایم ڈی (ایم ڈی ایم اے) پاؤڈر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ منشیات کی تخمینی مالیت تقریباً ایک لاکھ 59 ہزار روپے ہے۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی 24 اگست 2026 کی شب تقریباً 11 بجے کھڑکی روڈ پر گنیش نگر سے اسلام کے ہوٹل کی جانب جانے والے راستے پر الیکٹرک ڈی پی کے قریب انجام دی گئی۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران پولیس نے مشتبہ افراد کو روک کر تلاشی لی، جس میں 53 گرام سفید رنگ کا ایم ڈی پاؤڈر برآمد ہوا۔کارروائی کے دوران منشیات کے علاوہ ایک ہیرو ایچ ایف ڈیلکس موٹر سائیکل اور تقریباً تین ہزار روپے مالیت کی الیکٹرانک وزن کرنے والی مشین بھی ضبط کی گئی۔ پولیس کے مطابق تمام ضبط شدہ اشیاء کی مجموعی تخمینی مالیت تقریباً ایک لاکھ 92 ہزار روپے ہے۔

گرفتار ملزمان کی شناخت انیس قریشی (22 سال)، ساکن دریگاؤں شیوار مالیگاؤں اور حنیف شیخ غفران، ساکن کمال پورہ، مالیگاؤں کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر ایم ڈی پاؤڈر غیر قانونی فروخت کے مقصد سے اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔اس معاملے میں رمضان پورہ پولیس اسٹیشن میں این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعہ 8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور منشیات کی خرید و فروخت کے ممکنہ نیٹ ورک سمیت دیگر پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔اس کارروائی میں اے پی آئی مالی، پی ایس آئی چوہان اور اے ایس آئی ٹی اے سونونے سمیت پولیس اہلکاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات کے بعد معاملے میں مزید انکشافات اور کارروائی متوقع ہے۔

بجلی کے تاروں، ٹرانسفارمر کو درست کرنے اور متوفی کے ورثاء کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ 

​مالیگاؤں : 23 جون: رمضان پورہ، امین آباد علاقے میں بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ہائی وولٹیج بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی شناخت مزمل حسین عبدالقدوس کے نام سے ہوئی ہے جو کہ پیشے سے ایک سماجی کارکن (سوشل ورکر) تھے۔

​تفصیلات کے مطابق، مزمل حسین کے پڑوس میں ان کی پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد میت کی تدفین اور تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے بارش سے بچاؤ کی خاطر پنڈال یا پردہ لگانے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اس دوران جب مزمل نے لوہے کا پائپ اٹھایا تو وہ اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار یا 33 ہزار کلو واٹ کی ہائی وولٹیج لائن سے چھو گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اس حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور وارڈ کے نمائندوں میں کارپوریٹر صغیر احمد ،عبد الباقی، منا ممبر وغیرہ کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں بجلی کے تار انتہائی نیچے لٹک رہے ہیں اور ڈی پی (ٹرانسفارمر) بھی زمین سے محض 4 سے 5 فٹ کی اونچائی پر نصب ہے، جس سے ہر وقت معصوم بچوں اور راہگیروں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعلقہ حکام بشمول انجینئرز اور افسران کو لٹکتے ہوئے تاروں کے حوالے سے متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں اور موقع کا معائنہ بھی کروایا گیا، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا نتیجہ آج ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزمل اپنے گھر میں اکیلے کمانے والے تھے اور ان کے پسماندگان میں دو چھوٹی بیٹیاں شامل ہیں۔ مظاہرین اور ورثاء کا مطالبہ ہے کہ ​بجلی کمپنی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کریں۔​متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے کیونکہ متوفی کے علاوہ گھر کا کوئی کفیل نہیں ہے۔​لاپرواہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔​مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاوضے اور بجلی کے تاروں کو درست کرنے کا تحریری یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، وہ میت کو نہیں اٹھائیں گے، اور اگر انتظامیہ نے زبردستی کی تو وہ میت کو پاور ہاؤس کے گیٹ پر لے جا کر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پاور کمپنی کے آفیسران و پولس انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ کر مسائل کو حال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

مستقیم ڈگنٹی اور شان ہند نے کمشنر سے ملاقات کی، مسائل حل کرنے اور عوام کے جذبات سمجھتے ہوئے ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا

مالیگاؤں: رمضان پورہ وارڈ نمبر3 میں سڑک کی خستہ حالی، گڑھوں اور پانی جمع ہونے سے پریشان عوام نے آج کمشنر سے ملاقات کی، اور اپنے مسائل کمشنر کے گوش گزار کئے۔رمضان پورہ وارڈ نمبر 3 کی متعدد خواتین، بزرگ اور نوجوان اس وفد میں شامل تھے۔کمشنر آفس کے باہر کافی انتظار کے بعد وفد میں شامل افراد کا غصہ پھوٹ پڑا اور انہوں نے کارپوریشن میں موجود کرسیوں اور ٹیبل کو نقصان پہنچایا۔جس کے بعد پولیس انتظامیہ نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو کیا۔اس موقع پر شہر جنتا دل جنرل سکریٹری مستقیم ڈگنٹی اور جنتا دل کارگزار صدر شان ہند نے کمشنر سے اس معاملے پر بات چیت کی اور عوام کے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ کمشنر سے ملاقات کے بعد مستقیم ڈگنٹی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ رمضان پورہ وارڈ نمبر 3 کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ راستے اس قدر خستہ حالی کا شکار ہیں کہ لوگوں کا گزرنا دوبھر ہوگیا ہے، حتی کہ میت لے جانا بھی دشوار ہوگیا ہے۔اگر عوام اتنی تکالیف کا شکار ہے تو ان کا غصہ کہیں نہ کہیں پھوٹے گا۔عوام نے زیادہ ہنگامہ نہیں کیا ہے، معمولی سا اپنا غصہ ظاہر کیا ہے اور کچھ کرسیوں اور ٹیبلوں کو دھکے دیئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔نعیم سلیم سر کی تحریر "پریس" ، مالیگاؤں کے صحافیوں کیلئے دعوت فکر

اس معاملے پولیس کو معتدل رویہ اختیار کرنا چاہیے۔محلے کے سرکردہ افراد گذشتہ دو ماہ سے اس تعلق سے کمشنر سے مسلسل رابطے میں ہیں انہوں نے مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہاں مرُم ڈالا جائے اور کچی گٹروں کو پختہ بنا کر نکاسی کے بہتر انتظامات کئے جائیں۔کمشنر نے اس کام کیلئے ایگزیکٹیو انجینئر اور متعلقہ افسران کو اس کام کی ذمہ داری دی تھی۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔کسمبا روڈ ملن ہوٹل کے قریب قاتلانہ حملہ میں نوجوان کی موت

لیکن دو ماہ گزرنے کے بعد بھی کام نہیں ہوا۔جس کے بعد آج اہلیان محلہ کارپوریشن آئے، انہوں نے دیڑھ گھنٹہ انتظار کیا، اس وفد میں شامل بچوں نے کچھ ہنگامہ کیا،جس کے بعد پولیس انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر مداخلت کی اور حالات کو قابو کیا۔مستقیم ڈگنٹی نے کہا کہ پولیس انتظامیہ نے اس طرح کا ماحول بنا دیا کہ کوئی بہت بڑا ہنگامہ ہوگیا ہے۔ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم اس طرح کے کسی بھی عمل کی حمایت نہیں کرتے جس سے شہر کا لاء اینڈ آرڈر خراب ہو۔ لیکن کارپوریشن کو لوگوں کے جذبات کو سمجھنا چاہیے اور کارپوریشن کو اقدامات کرنے چاہیے۔واضح رہے کہ مذکورہ علاقہ ریاستی وزیر اور آؤٹر رکن اسمبلی دادا بھسے کا حلقہ ہے۔آج اس علاقے میں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے، میت لے جانے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی سے اب تک ایسے حالات اکثر پیدا ہوتے رہے ہیں لیکن لوگ اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتے ہیں اور ہنگامہ آرائی بھی ہوتی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ضرروی اقدامات کئے جانے چاہیے۔تاکہ مستقبل میں ایسے حالات پیدا نہ ہوں۔

 

لاک ڈاؤن میں جاری کئے گئے امداری دواخانہ کو مستقل طور پر جاری رکھنے کا قابل تحسین اقدام، مخیران قوم سے طعام تعاؤن میں حصہ لینے اور تعاؤن کرنے کی اپیل

مالیگاؤں: ادارۂ اکمل کے اراکین کی جانب سے لاک ڈاؤن میں شکیل موذن امدادی دواخانہ کا آغاز کیا گیا تھا۔اس دواخانہ کو مستقل طور پر جاری رکھنے کے لئے داخانہ کیلئے وقف کردہ زمین پر نئی عمارت کی تعمیر کے منصوبہ پر عملی طور پر کام کا آغاز کیا جاچکا ہے۔تاکہ ایک مستقل امدادی دواخانہ جاری کرکے عوام کی خدمت کا سلسلہ دراز کیا جاسکے۔ادارۂ اکمل کے اس اقدام اور عوامی خدمات کو دیکھتے ہوئے شہر مالیگاؤں کے مشہور و معروف عالم دین مفتی محمد طفیل قادری القاسمی( محقق فی المذاہب) نے  ادارۂ اکمل کی سراہنا کرتے ہوئے ادارۂ کے دفتر پر ایک سپاس نامہ اراکین کو تفویض کیا اور انہیں اس مستحسن اقدام کی مبارک باد دیتے ہوئے دعاؤں سے نوازا۔غور طلب ہے کہ اس امدادی دواخانہ کی تعمیر و توسیع کی غرض سے ادارۂ اکمل کے ذمہ داران و اراکین کی جانب سے مورخہ 13 فروری 2011ء بروز سنیچر مسجد زینب کے پاس توکل ہوٹل کے سامنے اوپن اسپیس رمضان پورہ میں ایک طعام تعاؤن کا پرگرام منعقد ہوگا۔اس طعام تعاؤن کا ٹکٹ در سو100 روپے ہے، اور پارسل کا نظم کیا جائے گا۔ اراکینِ ادارہ نے مخیرانِ قوم سے اس طعام تعاؤن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے اور تعاؤن کرنے کی اپیل کی ہے۔

طعام تعاؤن کا ٹکٹ حاصل کرنے کیلئے مندرجہ ذیل نمبرات پر رابطہ کریں:

جاوید اکمل (اکمل زیراکس)            9325669222

ایڈوکیٹ امتیاز حفیظ                   9270214621

عبدالصمد جنتا                              9226972851

سلیم بھیا                                     9273522094

محمد مشرف                                9225559293

عتیق احمد میجر                           7385309075

محمد یاسین                                 9028713800

دواخانہ کا پتہ: بالے سیٹھ کمپاؤنڈ کے بازو والا روڈ، کلثوم اشرفی مسجد کے پاس، گٹ نمبر 168، پلاٹ نمبر 13 ۔شکیل مؤذن کا مکان، ادارہ اکمل آفس رمضان پورہ