نیاپورہ کے چار سالہ محمد روشان کی موت کی ذمہ دار بجلی کمپنی، پولس بجلی کمپنی پر مقدمہ درج کرے
مالیگاؤں : 10 جون: بجلی کمپنی کی لاپرواہی سے شہر میں ہر روز کئی حادثات پیش آرہے ہیں، کہیں کرنٹ لگنے سے بکری تو کہیں بچے زخمی ہورہے ہیں تو کہیں انسان موت کی آغوش میں نظر ہورہے ہیں لیکن بجلی کمپنی اپنا نظام درست کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے ۔ابھی چند روز پہلے بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک بچہ، زخمی ہوا تو ایک بکری کی موت واقع ہوگئی اور ایک نوجوان جو تین بچوں کا باپ تھا وہ بھی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہ گیا ۔اتنے حادثات ہونے کے بعد بھی کمپنی اپنا کاروبار درست نہیں کررہی ہے ۔ابھی کرنٹ لگنے اور نوجوان کی موت کا معاملہ سرد بھی نہ ہوا تھا کہ پھر ایک بچے کی جان چلی گئی، تفصیلات کے مطابق نیا پورہ گلی نمبر دو کے ساکن چار سالہ محمد روشان خلیق الزمان بھی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا ۔اس حادثے کے تعلق سے موصول اطلاع کے مطابق معاون کارپوریٹر سہیل ماسٹر نے بتایا کہ یہ بچہ گلی میں کھیل رہا تھا کہ بجلی کے کمبھے میں کرنٹ آگیا اور اس کرنٹ کے سبب اسکی موت واقع ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ ہم بچے کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کیلئے راستہ روک کر احتجاج کررہے ہیں ۔اس حادثے کی اطلاع جیسے ہی اہل محلہ کو ملی انہوں نے نورانی مسجد کے پاس راستہ روکو اندولن شروع کردیا ۔وہیں بچے کے چچا نے کہا کہ ہم نے بقرعید سے قبل اس کمبھے کے تعلق سے بجلی کمپنی کو شکایت کی تھی لیکن کمپنی نے کوئی توجہ نہیں اور آج ایک ہنستا کھیلتا بچہ موت کی آغوش میں چلا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر میں شادی ہے، سب مہمان آئے ہوئے ہیں اور اس معصوم بچے کی موت سے اہل خانہ شدید غم میں مبتلا ہے۔
وہیں نیا پورہ کے معاون کارپوریٹر سہیل ماسٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کمپنی اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے محمد روشان کے اہل خانہ کو پندرہ لاکھ روپے معاوضہ دیں ۔جب تک معاوضہ نہیں ملیگا لاش اٹھائی نہیں جائےگی ۔اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی آزاد نگر پولس عملہ موقع واردات پر پہنچا اور حالات کا جائزہ لیکر بجلی کمپنی کے افسران کو طلب کیا ۔
وہیں دوسری طرف اس تعلق سے سماجی خدمتگاروں میں خالد شیخ رشید و شفیق اینٹی کرپشن اور احسان شیخ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اس حادثے کی اطلاع ملی، انہوں نے بجلی کمپنی کے آفیسر پریم سنگھ، ساحل سر کو شکایت کی اور بجلی کمپنی پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جلد از جلد متوفی کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ کرنٹ لگنے کے بعد ابتدائی طبی امداد کیلئے اقرا ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں بچے کی موت واقع ہوگئی ۔اس کے بعد لاش کو سول ہاسپٹل لے جایا گیا، یہاں سول اسپتال کے باہر اہل محلہ اور سماجی خدمتگاروں نے سخت احتجاج شروع کردیا ہے اور لاش لیجانے سے انکار کردیا ہے ۔
وہیں اس حادثے کی خبر ملتے ہی سینئر کارپوریٹر کلیم دلاور، مستقیم ڈگنیٹی بھی سول اسپتال پہنچے انہوں نے بھی پولس اور بجلی کمپنی کی لاپرواہی پر سوال اٹھا کر آفیسران کو سخت سست کہا اور معاوضہ کا مطالبہ کیا ۔اتنا ہی نہیں رات دیر گئے اہل خانہ و اہل محلہ اور کارپوریٹرس مستقیم ڈگنیٹی ،کلیم دلاور، سہیل ماسٹر وغیرہ نیا پورہ نورانی مسجد کے پاس بجلی کمپنی کیخلاف احتجاج کررہے ہیں ناراض عوام نے راستہ روکو اندولن شروع کردیا ہے ۔تفصیلات یہ بھی ہے کہ بجلی کمپنی کی ٹیم وارڈ میں جس کمبھے میں کرنٹ آیا ہے اسے درست کرنے پہنچی لیکن ناراض عوام نے انہیں کام کرنے سے روک دیا ۔عوام شدید ناراض ہے اور بجلی کمپنی کیخلاف احتجاج کررہی ہے ۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم مالیگاؤں شہر کی عوام کی جانب سے پولس ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محمد روشان کی موت کی ذمہ دار بجلی کمپنی ہے اس لیے بجلی کمپنی کی لاپرواہی پر مقدمہ درج کیا جائے اور خاطی آفیسران پر سخت کارروائی کی جائے ۔


Post A Comment:
0 comments: