Articles by "MPSL"
Showing posts with label MPSL. Show all posts

الیکٹرک پول میں مبینہ کرنٹ دوڑنے سے پیش آیا سانحہ، شہریوں کا بجلی محکمہ کے خلاف کارروائی اور اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ

مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) گلشن معصوم، نئی تہذیب ہائی اسکول سے متصل بستی میں پیش آئے ایک افسوسناک حادثے میں 13 سالہ معصوم بچے محمد مزمل محمد آصف کی کرنٹ لگنے سے موت واقع ہوگئی، جس کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، متوفی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا۔ اسی دوران اس کا ہاتھ قریب موجود الیکٹرک پول سے چھو گیا، جس میں مبینہ طور پر کرنٹ دوڑ رہا تھا، اور وہ شدید کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز، سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن اور دیگر مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے۔ واقعہ کے بعد شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ لاپرواہی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور متوفی کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس موقع پر کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز نے بتایا کہ متوفی بچے کے مکان کے سامنے سڑک کافی خستہ حال ہے، جہاں بارش کا پانی جمع تھا۔ بچہ اسی مقام سے لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کا ہاتھ الیکٹرک پول سے ٹکرا گیا اور کرنٹ لگنے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن نے واقعے کی تفصیلات دیتے ہوئے بجلی محکمہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں موجود خطرناک برقی کھمبوں اور تاروں کی فوری مرمت کی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

ادھر پوار واڑی پولیس اسٹیشن کے اہلکار موقع پر پہنچ کر پنچنامہ کی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔ تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نعش کو تدفین کے لیے اہل خانہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مالیگاؤں میں کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں 10 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ مسلسل احتجاج اور عوامی مطالبات کے باوجود ایسے حادثات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں برقی کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمروں کا فوری معائنہ اور مرمت کی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

بجلی کے تاروں، ٹرانسفارمر کو درست کرنے اور متوفی کے ورثاء کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ 

​مالیگاؤں : 23 جون: رمضان پورہ، امین آباد علاقے میں بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ہائی وولٹیج بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی شناخت مزمل حسین عبدالقدوس کے نام سے ہوئی ہے جو کہ پیشے سے ایک سماجی کارکن (سوشل ورکر) تھے۔

​تفصیلات کے مطابق، مزمل حسین کے پڑوس میں ان کی پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد میت کی تدفین اور تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے بارش سے بچاؤ کی خاطر پنڈال یا پردہ لگانے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اس دوران جب مزمل نے لوہے کا پائپ اٹھایا تو وہ اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار یا 33 ہزار کلو واٹ کی ہائی وولٹیج لائن سے چھو گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اس حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور وارڈ کے نمائندوں میں کارپوریٹر صغیر احمد ،عبد الباقی، منا ممبر وغیرہ کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں بجلی کے تار انتہائی نیچے لٹک رہے ہیں اور ڈی پی (ٹرانسفارمر) بھی زمین سے محض 4 سے 5 فٹ کی اونچائی پر نصب ہے، جس سے ہر وقت معصوم بچوں اور راہگیروں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعلقہ حکام بشمول انجینئرز اور افسران کو لٹکتے ہوئے تاروں کے حوالے سے متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں اور موقع کا معائنہ بھی کروایا گیا، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا نتیجہ آج ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزمل اپنے گھر میں اکیلے کمانے والے تھے اور ان کے پسماندگان میں دو چھوٹی بیٹیاں شامل ہیں۔ مظاہرین اور ورثاء کا مطالبہ ہے کہ ​بجلی کمپنی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کریں۔​متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے کیونکہ متوفی کے علاوہ گھر کا کوئی کفیل نہیں ہے۔​لاپرواہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔​مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاوضے اور بجلی کے تاروں کو درست کرنے کا تحریری یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، وہ میت کو نہیں اٹھائیں گے، اور اگر انتظامیہ نے زبردستی کی تو وہ میت کو پاور ہاؤس کے گیٹ پر لے جا کر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پاور کمپنی کے آفیسران و پولس انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ کر مسائل کو حال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

چونا بھٹی، بیلباغ،راجہ نگر، امن چوک ،اسلام نگر، خوش آمد پورہ، بجرنگ واڑی و اطراف کی عوام متاثر

مالیگاؤں : 21 جون : شہر میں بجلی کا نظام مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ MPSL نامی کمپنی کے زیر نگرانی ہے۔ایک طرف شہر بھر میں بجلی کے تاروں اور کھمبوں کی وجہ سے جہاں کرنٹ لگنے کی واردات رونما ہورہی ہیں وہیں بجلی کمپنی اب بھی اپنا نظام درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ۔شہر بھر سے شکایت عام ہے کہ بجلی کمپنی پاور سپلائی نظام کو بھی درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، برسوں پرانے بجلی کے تار و کھمبے کے سبب بار بار بجلی گل ہورہی ہے اور کمپنی صرف اسی تکنیکی عذر کا بہانہ بنا کر گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کررہی ہے ۔گزشتہ چھ ماہ سے بیلباغ سٹی میں فیڈر میں بجلی کی کٹوتی گھنٹوں ہونے کی عام شکایت ہے جس سے عوام ذہنی و جسمانی طور پر پریشان ہورہی ہے، بجلی کمپنی کو شکایت کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ کہیں گیارہ کے وی تو کہیں 33 کے وی لائن میں فالٹ ہے اسے درست کرنے کیلئے دو تین چار گھنٹے لگ جائیں گے اور یہ سلسلہ شب برات و رمضان المبارک سے لیکر ابھی تک جاری ہے لیکن بجلی کمپنی کو فالٹ ابھی تک نہیں ملا اور آج بھی اسی عذر کا بہانہ بنایا جارہا ہے ۔اب ایسے حالات میں عوام کا مطالبہ ہے کہ بجلی کمپنی کے پاور سپلائی نظام کو درست کرنے کیلئے عوامی نمائندوں کا تعاون ضروری ہے ۔عوام نے شہر کے لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اور عوام کو بجلی کمپنی کے عتاب سے راحت دلائیں ۔حالانکہ ان علاقوں کی عوام نے مقامی ذمہ داران سے لیکر بجلی کمپنی کے اعلی آفیسران تک شکایت کی ہے لیکن اسکا کوئی حل وقتی طور پر نکالا جاتا ہے لیکن پھر اسی طرح لوڈ شیڈنگ ہوتی رہتی ہے ۔اس لئے اب ضروری ہے کہ عوامی نمائندے اس جانب توجہ دیکر عوام کو راحت پہنچانے کا کام کریں ۔

کرنٹ سے بچاؤ کیلئے تمام بجلی کے تار و کھمبے پر پی وی سی کور لگایا جائے، ڈی وائے ایس پی آفس میں ہنگامی میٹنگ 

مالیگاؤں : 11 جون  نیاپورہ نورانی مسجد کے پاس گلی نمبر دو کے ساکن روشان خلیق الزماں کی کرنٹ لگنے سےموت کے افسوسناک واقعہ کے بعد شہر کے ڈی وائے ایس پی آفس میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں بجلی کمپنی کے سی ای او پریم سنگھ نے متاثرہ بچے کے اہل خانہ کو 8 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے کو متاثرہ خاندان کے لیے ایک اہم راحت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق حادثہ کے بعد سماجوادی پارٹی کے گٹ نیتا مستقیم ڈگنیٹی نے متاثرہ خاندان کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے معاملے کی مسلسل پیروی کی اور متعلقہ محکموں و افسران سے رابطہ قائم رکھا۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم نے رضوان احمد کیجانب رات 4 بجے آزاد نگر پولس اسٹیشن میں متعلقہ معاملہ میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ۔اسی سلسلے میں ڈی وائے ایس پی آفس میں منعقدہ میٹنگ میں مختلف ذمہ داران اور متعلقہ افسران نے شرکت کی، جہاں متاثرہ خاندان کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے پر اتفاق رائے قائم ہوا۔اس موقع پر مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ معصوم بچے کی جان کا نقصان ناقابلِ تلافی ہے، تاہم متاثرہ خاندان کو انصاف دلانا اور ان کی ہر ممکن مدد کرنا ہماری سماجی و سیاسی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ہمیشہ عوامی مسائل کے حل اور مظلوموں کی آواز بن کر کام کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں بجلی کے کھلے تار، خستہ حال پول اور غیر محفوظ برقی نظام کئی مقامات پر عوام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اگر بروقت احتیاطی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی ایسے افسوسناک واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ بجلی سے مطالبہ کیا کہ شہر بھر میں خصوصی مہم چلا کر خطرناک مقامات کی نشاندہی اور مرمت کا کام فوری انجام دیا جائے۔اور الیکٹرک پول پر PVC کور لگایا جائے ۔

سماجوادی پارٹی کے ذمہ داران نے میٹنگ میں واضح کیا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ پارٹی متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف دلانے اور شہر میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔میٹنگ میں موجود ذمہ داران نے بھی متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے یقین دلایا کہ معاوضے کی رقم جلد از جلد فراہم کرنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کی جائے گی۔ بجلی کمپنی کے سی ای او پریم سنگھ کی جانب سے 8 لاکھ روپے معاوضہ دینے کے اعلان کو عوامی دباؤ، متاثرہ خاندان کی جدوجہد اور سماجوادی پارٹی کی مسلسل پیروی کا مثبت نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔شہر کی عوام نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی اور خاندان کو اس طرح کے دردناک سانحہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


نیاپورہ کے چار سالہ محمد روشان کی موت کی ذمہ دار بجلی کمپنی، پولس بجلی کمپنی پر مقدمہ درج کرے 

مالیگاؤں : 10 جون:  بجلی کمپنی کی لاپرواہی سے شہر میں ہر روز کئی حادثات پیش آرہے ہیں، کہیں کرنٹ لگنے سے بکری تو کہیں بچے زخمی ہورہے ہیں تو کہیں انسان موت کی آغوش میں نظر ہورہے ہیں لیکن بجلی کمپنی اپنا نظام درست کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے ۔ابھی چند روز پہلے بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک بچہ، زخمی ہوا تو ایک بکری کی موت واقع ہوگئی اور ایک نوجوان جو تین بچوں کا باپ تھا وہ بھی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہ گیا ۔اتنے حادثات ہونے کے بعد بھی کمپنی اپنا کاروبار درست نہیں کررہی ہے ۔ابھی کرنٹ لگنے اور نوجوان کی موت کا معاملہ سرد بھی نہ ہوا تھا کہ پھر ایک بچے کی جان چلی گئی، تفصیلات کے مطابق نیا پورہ گلی نمبر دو کے ساکن چار سالہ محمد روشان خلیق الزمان بھی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا ۔اس حادثے کے تعلق سے موصول اطلاع کے مطابق معاون کارپوریٹر سہیل ماسٹر نے بتایا کہ یہ بچہ گلی میں کھیل رہا تھا کہ بجلی کے کمبھے میں کرنٹ آگیا اور اس کرنٹ کے سبب اسکی موت واقع ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ ہم بچے کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کیلئے راستہ روک کر احتجاج کررہے ہیں ۔اس حادثے کی اطلاع جیسے ہی اہل محلہ کو ملی انہوں نے نورانی مسجد کے پاس راستہ روکو اندولن شروع کردیا ۔وہیں بچے کے چچا نے کہا کہ ہم نے بقرعید سے قبل اس کمبھے کے تعلق سے بجلی کمپنی کو شکایت کی تھی لیکن کمپنی نے کوئی توجہ نہیں اور آج ایک ہنستا کھیلتا بچہ موت کی آغوش میں چلا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر میں شادی ہے، سب مہمان آئے ہوئے ہیں اور اس معصوم بچے کی موت سے اہل خانہ شدید غم میں مبتلا ہے۔

وہیں نیا پورہ کے معاون کارپوریٹر سہیل ماسٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کمپنی اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے محمد روشان کے اہل خانہ کو پندرہ لاکھ روپے معاوضہ دیں ۔جب تک معاوضہ نہیں ملیگا لاش اٹھائی نہیں جائےگی ۔اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی آزاد نگر پولس عملہ موقع واردات پر پہنچا اور حالات کا جائزہ لیکر بجلی کمپنی کے افسران کو طلب کیا ۔

وہیں دوسری طرف اس تعلق سے سماجی خدمتگاروں میں خالد شیخ رشید و شفیق اینٹی کرپشن اور احسان شیخ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اس حادثے کی اطلاع ملی، انہوں نے بجلی کمپنی کے آفیسر پریم سنگھ، ساحل سر کو شکایت کی اور بجلی کمپنی پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جلد از جلد متوفی کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ کرنٹ لگنے کے بعد ابتدائی طبی امداد کیلئے اقرا ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں بچے کی موت واقع ہوگئی ۔اس کے بعد لاش کو سول ہاسپٹل لے جایا گیا، یہاں سول اسپتال کے باہر اہل محلہ اور سماجی خدمتگاروں نے سخت احتجاج شروع کردیا ہے اور لاش لیجانے سے انکار کردیا ہے ۔

وہیں اس حادثے کی خبر ملتے ہی سینئر کارپوریٹر کلیم دلاور، مستقیم ڈگنیٹی بھی سول اسپتال پہنچے انہوں نے بھی پولس اور بجلی کمپنی کی لاپرواہی پر سوال اٹھا کر آفیسران کو سخت سست کہا اور معاوضہ کا مطالبہ کیا ۔اتنا ہی نہیں رات دیر گئے اہل خانہ و اہل محلہ اور کارپوریٹرس مستقیم ڈگنیٹی ،کلیم دلاور، سہیل ماسٹر وغیرہ نیا پورہ نورانی مسجد کے پاس بجلی کمپنی کیخلاف احتجاج کررہے ہیں ناراض عوام نے راستہ روکو اندولن شروع کردیا ہے ۔تفصیلات یہ بھی ہے کہ بجلی کمپنی کی ٹیم وارڈ میں جس کمبھے میں کرنٹ آیا ہے اسے درست کرنے پہنچی لیکن ناراض عوام نے انہیں کام کرنے سے روک دیا ۔عوام شدید ناراض ہے اور بجلی کمپنی کیخلاف احتجاج کررہی ہے ۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم مالیگاؤں شہر کی عوام کی جانب سے پولس ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محمد روشان کی موت کی ذمہ دار بجلی کمپنی ہے اس لیے بجلی کمپنی کی لاپرواہی پر مقدمہ درج کیا جائے اور خاطی آفیسران پر سخت کارروائی کی جائے ۔