Articles by "Article"
Showing posts with label Article. Show all posts

آئیے تاریخی شہر طائف کی سیر کیجیے (سفر نامہ طائف) 

✍️عاصم طاہر اعظمی 

+91 7860601011 

سفر: آپ کو بے اختیار چھوڑ دیتا ہے اور پھر آپ کو کہانی سنانے والا بناتا ہے(ابنِ بطوطہ) جزیرۃ العرب کے اس سفر میں پہلے ہی دن سے یہ خواہش تھی کہ یہاں کے جتنے بھی تاریخی مقامات ہیں ان تمام کی زیارت کروں اور الحمد للہ حتی الامکان کر بھی رہا ہوں انھیں مقامات کی ایک مظبوط کڑی تاریخی شہر طائف بھی تھا عیدالفطر کے تیسرے دن صبح مولانا عبدالاوّل صاحب نے یہ مسرت آمیز جملہ کہا کہ ارے طائف چلنا ہے میں نے جواب دیا کیوں نہیں کیا ترتیب ہے آدھے ہی گھنٹے بعد ہمارا چار نفری قافلہ(مولانا عبدالاوّل صاحب مرزا پور طاہر بھائی مرزا پور عیاض بھائی کھنڈواری اور بندہ ناچیز) تاریخی شہر طائف کی طرف رواں دواں تھے جدہ سے تقریباً دو گھنٹے چلنے کے بعد تاریخی شہر طائف ہماری نظروں کے سامنے تھا

یہ بھی پڑھیں :.... شرد پوار کا ڈرامہ اور عدالت کا فیصلہ

دنیا کے چند وہ بڑے مقامات جو اپنی تہذیب و تمدن اور تاریخ کے حوالے سے جانے جاتے ہیں طائف شہر بھی ان میں سے ایک ہے یہ شہر آج تک اپنی ہزاروں سالہ قدیم تہذیب و تمدن کو سنبھالے ہوئے ہے طائف چاروں طرف سے بلند و بالا سنگلاخ پہاڑیوں سے ڈھکا ہوا، زرخیز باغات، اور ہیبت ناک پہاڑیوں سے مزین علاقہ ہے جو سطح سمندر سے تقریبا 6 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے خوشگوار حد تک سرد اور سیاحتی مقام کا درجہ رکھتا ہے 

طائف شہر میں موجود تاریخی محلات اور پرانی عمارتیں بھی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کا ایک بڑا سبب ہیں طائف میں قدیم اور جدید فن تعمیر کے نمونے ایک ساتھ دیکھنے کو ملتے ہیں

طائف شہر کو اس کی خوب صورتی، سحر انگیز قدرتی مناظر "پُر فضا مقامات کی دلہن" اور "گلاب کا شہر" جیسے خطابات سے نوازا گیا ہے سب سے پہلے طائف کی سیر و سیاحت کا مشہور مقام (الشفا) پہنچے جہاں موسم انتہائی خوشگوار اور معتدل تھا تقریباً ایک گھنٹے گھومنے کے بعد ظہر کی نماز وہیں پڑھ کر طائف شہر کی طرف روانہ ہوئے جہاں پر وقاص احمد سنوارہ کافی دیر سے ہم لوگوں کے منتظر تھے پہنچتے ہی والہانہ استقبال کیے انھیں کے یہاں ہم لوگوں کا کھانا بھی تھا وہیں پر موجود ڈاکٹر جابر صاحب نے اپنے کلام سے شعر و شاعری کی محفل کو سجا کر ہم لوگوں کی تھکن کو دور کیا ساٹھ پلس ہونے کے باوجود بھی جذبہ نوجوانوں والا تھا ان کے کلام کو سبھی لوگوں نے پسند کیا بعدہ بہترین دسترخوان لگا اور ہم لوگوں نے کھانا تناول فرمایا پھر اس کے بعد وقاص احمد کے ساتھ طائف کے ان مقامات کی طرف بڑھے جہاں پر آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر دشمنانِ اسلام نے مصائب و آلام کے پہاڑ توڑے تھے 

بعثت نبوی کا 10 واں سال شوال المکرم کا مہینہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فریضہ تبلیغ کے لیے پیدل طائف پہنچے، 

وہ ہادی جو نہ ہوسکا غیر اللہ سے خائف

چلا اک روز مکے سے نکل کر جانبِ طائف

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے ، دس دن یہاں قیام فرمایا، عوام و خواص کے سامنے دین اسلام پیش کیا، لیکن ان بدقسمتوں کی بدنصیبی تو دیکھیے کہ انہوں نے آپ کی دعوت کو نہ صرف ٹھکرایا بلکہ نہایت گستاخانہ رویہ اپناتے ہوئے آپ کا مذاق اڑایا

ًاس کے بعد ان حرماں نصیبوں نے طائف کے اوباشوں اور آوارہ گردوں کوآپ کے پیچھا لگا دیا کوئی تالی بجاتا، کوئی سیٹی بجاتا، کوئی جملے کستا، کوئی ہلڑ بازی کرتا، شور مچاتے ہوئے آپ کو طائف کی گلیوں میں لے آئے یہاں دونوں طرف لوگ صف بنائے پتھر ہاتھوں میں لیے کھڑے تھے، جب آپ کا گزر وہاں سے ہوا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارنا شروع کیے، سر مبارک سے لے کر پاؤں مبارک بلکہ نعلین مبارک تک آپ لہولہان ہو گئے، پنڈلیوں اور گھٹنوں پر گہرے زخم آئے بدن مبارک سے خون مبارک بہتا بہتا قدموں تک پہنچا قدموں سے رستا ہوا نعلین مبارک تک پہنچ گیا نعلین اور قدمین آپس میں خون کی وجہ سے چمٹ گئے حضرت زید بن حارثہ آپ کو بچانے کے لیے کبھی آگے آتے کبھی دائیں بائیں اورکبھی پیچھے ان کا بھی سر لہولہان ہو گیا پتھروں کے برستی بارش میں کبھی آپ بیٹھ جاتے تو طائف والے آپ کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر آپ کو دوبارہ کھڑا کر دیتے چند قدم چلتے پھر بیٹھ جاتے اور وہ دوبارہ آپ کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا کرتے اور پتھر برساتے

کس درد المناک ہے طائف کا وہ منظر

دشمن نے جہاں آپ پے برسائے ہیں پتھر 

ذرا چشمِ تصور سے سوچیے کہ دنیاوی شان و شوکت والے خانوادہ بنو ہاشم کے اس چشم و چراغ سے ہورہا تھا کہ جس کے مرحوم دادا عبدالمطلب عربوں کے سردار تھے، اگر آپ صل اللہ علیہ وسلم بددعا کردیتے تو خالقِ ارض و سما طائف کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اہلِ طائف کو آنے والی نسلوں کے لیے نشانِ عبرت بنا دیتے 

لیکن یہاں سے اٹھے قرن الثعالب پہاڑی سامنے تھی چلے گئے اوپر نظر اٹھائی بادل نے آپ پر سایہ کیا ہوا تھا بادل پر نظر جمائی تو اس میں جبرئیل امین جلوہ افروز تھے اور عرض کیے یارسول اللہ !اللہ تعالیٰ نے سن لیا دیکھ لیا آپ نے جو کچھ فرمایا انہوں نے جیسا سلوک کیا سب کا سب دیکھ اور سن لیا یہ میرے ساتھ ملک الجبال(پہاڑوں کی نگرانی پر مقرر فرشتہ) موجود ہیں آپ حکم دیجیے یہ تعمیل کریں گے ملک الجبال نے عرض کیے : مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے آپ جو چاہیں حکم کریں میں تعمیل کروں گا آپ حکم دیں مکہ کی دونوں طرف کے پہاڑوں کو ملا کر ان تمام بے ادب اور گستاخوں کو پیس ڈالوں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم آزمائش کے دوہرائے پر کھڑے تھے  ایک آزمائش اہل طائف نے آپ پر ظلم و ستم کےو پہاڑ توڑے  دوسری آزمائش کہ جبرئیل امین اور ملک الجبال ان کو پیس ڈالنے کی فرمائش کے منتظر کھڑے ہیں پہلا امتحان تھا صبر وضبط تحمل و برداشت اور استقلال کا دوسرا امتحان تھا دعویٰ رحم و کرم کا فراخی حوصلہ اور وسعت ظرفی کا اللہ کریم نے آپ کو دونوں میں کامیاب فرمایا دریا دلی والے دل رحمت میں کرم کی ایک موج اٹھی اور اہل طائف کی قسمت کے سفینے کو پار لگا دیا  فرشتوں کو جواب دیا اگر یہ بد نصیب ایمان نہیں لائے تو کیا ہوا میں ان کی آنے والی نسل سے ہرگز ناامید نہیں ہوں مجھے اللہ کی ذات پر مکمل یقین اور بھروسہ ہے کہ وہ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو اللہ کی توحید کے قائل اور شرک سے بیزار ہوں گے۔

اللہ رے کیا خوب ہے وہ شان پیمبر 

زخموں سے بدن چور ہے اور لب پے دعا ہے

وہ نور ھدی نور ھدی نور ھدی ہے

عصر کا وقت قریب تھا وقاص احمد نے کہا کہ قریب میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم ایک بہترین و تاریخی مسجد ہے پہلے وہاں چلتے ہیں نماز پڑھ کر اس کو دیکھتے ہیں یہ طائف شہر کی مشہور مساجد میں سے ایک ہے طائف شہر کے بالکل وسط میں واقع ہے 

 ابن ہشام کے قول کے مطابق مسجد عبداللہ بن عباس اس جگہ تعمیر ہوئی ہے جہاں حصارِ طائف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب ہوا تھا اس مسجد کے قریب ہی محاصر طائف کے شہدا بھی دفن کیے گئے تھے کاتبِ وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی یہیں مدفون ہیں مسجد ابن عباس کا کتب خانہ ترکی دور میں ہزاروں بے مثل مخطوطات پر مشتمل تھا اب بہت کم مخطوطے باقی ہیں

 مسجد اور مکتبہ کے درمیان ایک احاطے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور بعض دوسرے حضرات کی قبریں ہیں احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی باہر سے ہی فاتحہ خوانی کرکے دو کتبے دکھے اس کی طرف بڑھے ایک پر مکتبہ کا تعارف تھا اور دوسرے پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مختصر حالات تحریر تھے  عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور اُم المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے ہجرت سے تین سال قبل بنوہاشم کی محصوری کے دوران شعب ابی طالب میں آپ کی ولادت ہوئی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر صرف تیرہ سال تھی اتنی چھوٹی سی عمر میں وہ علم وحکمت کے ایسے نکات بیان فرماتے تھے کہ بڑے بڑے صحابہ دنگ رہ جاتے تھے یہ نتیجہ تھا خداداد صلاحیتوں، ذاتی محنت اور سب سے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعاؤں کا آپ نے ان کی خدمت اور حسنِ ادب سے خوش ہوکر انہیں دُعا دی تھی: ''اے اللہ! اسے حکمت عطا فرما اور علم تفسیر سکھا اے اللہ! اس کا سینہ علم وحکمت سے بھردے یہ دُعا رنگ لاکر رہی

پھر اس کے بعد ہم لوگوں کا قافلہ مسجد عدّاس کی طرف روانہ ہوا

یہ مسجد حضرت عداس رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم ہے جہاں پر نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے آرام فرمایا تھا عداس عتبہ بن ربیعہ کے غلام تھے انھوں نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو کھانے کے لیے انگور پیش کیا آپ نے کھانے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا اس کو سن کر وہ اتنا متاثر ہوا کہ مشرف بإسلام ہوگیا

وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ''مسجد الکوع'' کی طرف بڑھے جو جبل ابو زبیدہ کے پہاڑوں اور گلستانوں کے بیچ ایک ایسی تاریخی مسجد موجود ہے جو دیکھنے والوں کو کئی صدیاں پیچھے لے جاتی ہے

صدیوں سال قبل بنائی گئی مسجد الکوع مملکت کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی اس مسجد کی شان وشوکت پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے

جہاں پر مسجد الکوع تعمیر کی گئی ہے وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر طائف کے دوران کچھ دیر قیام فرمایا تھا اس مسجد کو ''مسجد الموقف'' کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے سفر کے دوران یہاں کچھ دیر رکے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹیک بھی لگائی اسی جگہ پر مسجد الکوع بنائی گئی

اس مسجد کی زیارت کرنے والے آج بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے سفر طائف کی المناک یادوں میں کھو جاتے ہیں وہاں سے نکلنے پر ہماری اگلی منزل رُدّف پارک تھا جو انتہا سے زیادہ بڑا اور خوبصورت تھا جو ہر طائف آنے والے کو اپنی طرف کھینچتا ہے راستے میں بہترین برف باری کا انجوائے کرتے ہوئے وہاں پہنچے لیکن افسوس سبھی گیٹ بند ہوچکے تھے اندر جانے کی اجازت نہ مل سکی پھر اس کے بعد مولانا عبدالاوّل صاحب کے دوست کے یہاں گئے موسم انتہا سے زیادہ خوبصورت اور معتدل تھا ان کے دوست نے موسم کو دیکھتے ہوئے پکوڑی سے ہمارا استقبال کیا سبھی حضرات خوب لطف اندوز ہوتے ہوئے کھائے پھر عشاء کی نماز پڑھ کر وہاں سے جدہ کی طرف رخصت ہوئے عیاض بھائی کی بہترین ڈرائیوری سے تقریباً دو گھنٹے بعد اپنے روم پر پہنچ گئے الحمد للہ اس طرح ہمارا یہ یادگار سفر بہترین یادوں کے ساتھ مکمل ہوا.


شہر مالیگاؤں کو کس کی نظر لگ گئی؟ یہ جملہ تو آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ کتنی نادانی والی بات ہے۔ کسی کی نظر کیوں لگے گی ؟ یہ سب ہماری لا پرواہی، دین اور علم سے دوری، اور غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے۔

تقریبا ایک سال قبل ایک بڑے ٹی وی چینل کے اینکر سے میری بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ عمران مالیگاؤں میں نشہ بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ آپ کے بازوں کھڑا شخص نشے میں ہے اور آپ کو پتہ نہیں چلے گا۔ مزید کہا کہ ایک سازش کے تحت مسلم علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گوونڈی، ممبئی کے دیگر علاقے، بھیونڈی اور اب مالیگاؤں نشانہ پر ہے۔ شہر میں صرف مرد ہی نہیں خواتین بھی نشہ کررہی ہیں یہ میرا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ اس وقت ایم ڈی ایف کے ممبران سر جوڑ کر بیٹھے کہ اس تعلق کیسے کام کیا جائے ؟ اس وقت شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ اس کے خلاف بہت بڑی طاقت درکار ہے۔

لہذا ان دنوں شہر کی دو شخصیات کی سرپرستی میں نشہ کے خلاف مہم چھیڑی گئی جوکہ قابل مبارکباد اور قابل ستائش ہے۔ اس تحریک سے ہر کسی کو جڑنا چاہئے۔ لیکن صاحب شہر میں بائینر دیکھ کر اور مشاورتی میٹنگ میں اسٹیج پر بیٹھے افراد کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ آپ شہر میں لگے بائینر کا جائزہ لیجئے ماشاءاللہ ایسے ایسے فوٹو نظر آئیں گے جو خود نشے کے عادی ہیں۔ جو خود نشہ کا دھندہ کرتے ہیں یا پھر نشہ بیچنے والوں کو ان کی سرپرستی حاصل ہے۔ ایسا ہی کچھ منظر مشاورتی میٹنگ میں بھی دیکھنے کو ملا تب مجھ کو مقصود اشرف صاحب کا یہ شعر یاد آیا۔


*پارساؤں کی سرپرستی میں* 

*میکدے چل رہے ہیں بستی میں*


ان تحریکوں اور طریقوں کو لیکر چند سوالات ذہن میں اٹھ رہے ہیں۔

کیا صرف جلسہ لینے سے نشہ ختم ہوجائے گا ؟

کیا جلسے میں نشے کے عادی افراد آئیں گے ؟ ہاں ضرور آئیں گے لیکن پاکٹ مارنے اور موبائل چوری کرنے کے لئے۔

تحریک شروع ہوگئی ہے پولس ابھی تک ایکشن میں کیوں نہیں؟

ہمارے شہر کا پولس محکمہ اتنا مضبوط ہے کہ شہر میں کسی کے کھانسنے کی آواز بھی پولس کو سنائی دیتی ہے۔ تو پھر نشہ بیچنے والے ابھی تک گرفت سے دور کیوں؟ 

کھلے عام میدانوں میں، ہاسپٹل کے سامنے ندی نالوں کے پاس نشہ کی فروختگی اور اس کا استعمال ہورہا ہے۔ پولس بے خبر کیوں؟

مشاورتی میٹنگ میں کالے پیلے دھندے کرنے والوں سے تجویز پوچھی جارہی ہے۔ سماجی کام کرنے والے، ٹیکنیکل بات جاننے والے، ڈاکٹر حضرات، زمینی سطح پر کام کرنے والوں سے کیوں نہیں؟ خیر اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ شہر کو نشے سے پاک کس طرح کیا جاسکتا ہے ؟ اس کا حل جلسہ جلوس، ریلیاں ، بائینر و پوسٹر بازی ہر گز بھی نہیں ہے۔ بلکہ اس کے لئے سب سے پہلے مقامی پولیس انتظامیہ پر دباؤ بنانا بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ نشہ مخالف اسکواڈ سے رابطہ کیا جائے ۔ اعلی عہدیداران تک لیٹر پہچائے جائے۔ ٹیوٹر ہینڈل اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے۔ وکلاء کی ایک لیگل ٹیم بھی تشکیل دی جائے تاکہ ان کے مشورہ سے قانونی کارروائی میں رہنمائی ملے اور شہر میں نشے کی فروختگی بند ہو اور نشہ فروخت کرنے والوں پر کارروائی ہو۔ اس کے علاوہ میڈیکل والوں سے گذارش کریں کہ وہ اپنے میڈیکل پر سی سی ٹی کیمرہ لگائے یا پھر میڈیکل آفیسر سے رابطہ کرکے اس بات کو لازمی بنائے۔

اب سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ جو نشے کے عادی ہوچکے ہیں انہیں اس عادت سے چھٹکارا کیسے ملے گا ؟ سروے کرکے۔ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرکے نشے کے عادی افراد سے ملاقات کی جائے۔ اس کے لئے ماہرین نفسیات کی ایک ٹیم بنائی جائے تاکہ وہ ان افراد کی نفسیاتی طور سے کانسلنگ کرے۔ ڈاکٹر حضرات کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو ضروری ادویات اور ان کا علاج کر سکے۔ نشے کے عادی افراد سے نشہ چھڑانے کے لئے انہیں مسلسل نشے سے دور رکھنا، نفسیاتی طور سے کانسلنگ کرنا اور مخصوص ورزش کرانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ جس کے لئے ری ہیبیلیشن سینٹر کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسے سینٹر مالیگاؤں میں نہیں ہیں۔ ممبئی، پنویل، پونہ اور دیگر بڑے شہروں میں مختلف این جی او کے زیر اہتمام ایسے سینٹر چلتے ہیں جہاں مفت میں نشے کے عادی افراد کی مکمل دیکھ بھال اور علاج کیا جاتا ہے۔ انہیں وہاں بھیج سکتے ہیں۔ اگر اس طرح کام کیا جائے تو شاید بہت جلد معاملات قابو میں آسکتے ہیں۔ شہر میں بڑھتے ہوئے جرائم کے پیچھے سب سے بڑی وجہ نشہ ہی ہے۔ گھروں کے اجڑنے اور رشتوں کی کے خراب ہونے کی وجہ بھی نشہ ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ جلسہ جلوس ، ریلی ، بائنر و پوسٹر پر بے جا خرچ کے بجائے زمینی سطح پر خلوص و اللہ کی رضا کے لئے کام کیا جائے۔

*اب بھی موقع ہے اندھیروں کا کرو کوئی علاج* 

*ورنہ یہ نسل اجالوں کو ترس جائے گی*

*🔴نوٹ: اس تحریر سے کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کرنے والے پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے🔴*

دکنی انصاری کے نام پر رشتہ نہ کرنے والے آج اپنی بیٹیوں کو غیروں کی ہوس کے شکار بنتے دیکھ رہے ہیں

جب قوم کے نوجوان تعلیم چھوڑ کر لوم ، دیگر کام اور فضول وقت گذاری کریں گے تو ملت کی بیٹیوں کے سامنے غیر ہی ہوں گے اور وہ ان کے جال میں پھنس جائیں گی. بچیوں کو تعلیم سے روکنے کا مشورہ دینے والو! اگر سینئر کالج میں آپ کی تعداد بڑھے گی ۔ قوم کی بچیوں کے سامنے ہمارے نوجوان رہیں گے تو شاید یہ بچیاں غیر مسلموں کی طرف مائل نہیں ہوں گی۔

 دکنی انصاری اور دکنی مومن کے نام پر لڑنے والے ، عصبیت پرستی کو ہوا دے کر رشتہ نہ کرنے والے آج اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو غیروں کا لقمہ بنتے دیکھ رہے ہیں۔ مگر عزت کا سوال ہے، شہر کی بدنامی ہوگی اس لئے معاملہ دبا دیا جارہا ہے۔ واہ...... 

آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جب ہماری بچیاں کالج میں جاتی ہیں تو ان کے ارد گرد اور کلاس میں غیر مسلم طلباء کی تعداد ہوتی ہیں۔ جبکہ ہمارے نوجوان لوم چلانے، چائے خانوں، دیگر دھندے، فضول وقت گذاری یا کسی غلط کاری میں مصروف ہوتے ہیں۔نتیجہ تو یہی ہوگا پھر۔ آج واٹس ایپ پر بیٹھ کر مشورہ دینے والوں سے گذارش ہے کہ اپنا محاسبہ ضرور کریں۔ اگر ہماری بچیوں کے سامنے ہمارے نوجوان ہوں گے تو شاید ارتداد کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسجدوں میناروں کا یہ شہر کس طرح اندھیرے میں غرق ہورہا ہے۔ اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور دیندار کہنے والوں کی ذہنیت کس درجہ گر چکی ہے۔  عصبیت پرستی ( ذات پات، رنگ و نسل کا فرق) ہم میں کس درجہ گھر کر چکی ہے۔

*اس شہر کی بربادی کا ذمہ دار کون؟*

قوم و ملت کے خود ساختہ ٹھیکیداروں نے ، مذہبی چولا پہنے ہوئے کچھ مفاد پرستوں نے، تعمیر و ترقی کا نعرہ لگانے والے عیاروں اور مکّاروں نے حقیقت میں اس شہر کو کیا دیا ؟ 

حالات اور سلگتے ہوئے موضوعات پر سچائی اور حقیقت پر مبنی مضامین کا سلسلہ انشاءاللہ جلد ہی شروع کیا جائے گا.


ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی اصطلاحات کے وضع کرنے، جملے پھینکنے اور رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے نت نئی تعبیرات وتدابیر اختیار کرنے میں دنیا کے ممتاز ترین لوگوں میں ہیں، ان کے جملے پھینکنے کی ادا سے لوگ اس قدر مانوس ہو گیے ہیں کہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ مودی جی قول وعمل کے تضاد کے شکار ہیں، اس لیے ان کی باتوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی بُرائی نہیں ہے ۔
وزیر اعظم نے جو اصطلاح وضع کی ہے ان میں سے ایک مفت کی ریوڑی کی تقسیم بھی ہے، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی ریاست میں بعض خدمات کو عوام کے لیے فری کر دیا ہے، بجلی، پانی مفت فراہم کرنے کی مقدار متعین کی، سرکاری اسکولوں کی تعلیم کو معیاری بنانے کے ساتھ بڑی حد تک فیس وغیرہ سے آزا د کر دیا، یہی نعرہ انہوں نے گجرات میں دیا. پنجاب میں ان کی حکومت میں بہت ساری سہولتیں دی جارہی ہیں، لیکن یہ بات مودی جی کو پسند نہیں ہے، ان کا خیال ہے کہ رائے دہندگان کو لبھانے کے لیے یہ مفت کی ریوڑی تقسیم کی جا رہی ہے اور اس کلچر کو فروغ دینے سے حکومت کے اوپر غیر معمولی بوجھ پڑے گا۔
عوام کی سوچ یہ ہے کہ ریاست کو عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اسلام کا اصول تو یہ ہے کہ امرا سے زکوٰۃ کی رقم لے کر غرباء پر خرچ کیا جائے، ہمارے وزیر اعظم کا معاملہ الٹا ہے وہ غریبوں سے لے کر اسے امراء تک پہونچاتے ہیں، ان کے قرض معاف کر دیتے ہیں، ارب پتیوں کے دس لاکھ کروڑ قرضے معاف کرنے کی بات عوام وخواص کے علم میں ہے، سرکار نے غذائی اجناس کو بھی جی اس ٹی کے دائرہ میں لا دیا ہے، جس کی وجہ سے عام ہندوستانیوں کو پریشانیوں کا سامنا ہے، ایسے میں ایک محدود مقدار میں مفت ضروری سامانوں کی سپلائی کو مفت کی ریوڑی کہہ کر مذاق نہیں اڑایا جا سکتا۔
عوام تک مفت ضروریات زندگی کی فراہمی کی روایت انتہائی قدیم ہے، سرکاری اسکولوں میں مفت تعلیم، سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج، ہر ماہ مفت راشن، مختلف سرکاروں کے ذریعہ آزادی کے بعد سے ہی فراہم کیا جاتا رہا ہے، کیا ان سب کو مفت کی ریوڑی سے تعبیر کیاجا سکتاہے؟ اور کیاایسا کہہ کر عوام اور ان سرکاروں کی توہین نہیں کی جا رہی ہے؟ جنہوں نے اس اسکیم کو رائج کیا ۔
در اصل مودی جی نے اروند کیجرال کے فری اسکیم کا مذا ق اڑا کر ملکی معیشت کی زبوں حالی کا اقرار کیا ہے ۔ اگنی پتھ اسکیم لا کر فوجیوں کے پنشن سے پہلو تہی کرنا اسی زبوں حالی کا لازمی نتیجہ ہے ۔تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ سپریم کورٹ پہونچ گیا او رعدالت نے اس معاملہ پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ انتخابی وعدوں پر پابندی نہیں لگا سکتی، اس سے کیجریوال کو تھوڑی راحت ضرور ملی ہے، لیکن اس سے سیاسی پارٹیوں کے جھوٹے وعدے کرنے کی ایک مقابلاتی دوڑ شروع ہو گئی ہے، جو پہلے بھی کم نہیں تھی.

جس دن ہمارے وزیر اعظم خواتین کے تحفظ اور ان کو با اختیار بنانے کی ضرورت پر یوم آزادی کے موقع سے لال قلعہ کی فصیل سے قوم کو خطاب فرما رہے تھے، اسی دن گجرات سرکار نے ان گیارہ مجرمین کو جیل سے رہا کر دیاجسے عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے بلقیس بانو کی اجتماعی عصمت دری معاملہ میں عمر قید کی سزا سنائی تھی،ان مجرمین کی رہائی سے بلقیس بانو کو سخت صدمہ پہونچا اور ان کے شوہر یعقوب رسول حیرت زدہ رہ گئے، برسوں بعد انہیں مجرمین کو سزا ملنے سے اطمینان ہوا تھا، لیکن اب انہیں پھر سے اپنے تحفظ کی فکر ستا رہی ہے کہ کہیں یہ غنڈے پھر سے ان کو ستانے کے لیے نہ آدھمکیں۔

 بات ۳؍ مارچ ۲۰۰۲ء کی ہے جب گجرات فساد کے موقع سے بلقیس بانو پر آفت ٹوٹ پڑی تھی اس کے خاندان کے سات افراد بشمول اس کی تین سالہ بیٹی کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا، بلقیس بانو اس وقت پانچ ماہ کی حاملہ تھیں اور ان کی عمر اکیس سال تھی، غنڈوں نے ان کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی، زمانے تک بلقیس بانو ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تھانے کے چکر لگاتی رہی، لیکن معاملہ درج نہیں ہوا، بالآخر حقوق خواتین سے متعلق بعض تنظیموں کے ذریعہ معاملہ سپریم کورٹ پہونچا، نامزد ملزم اٹھارہ تھے، لیکن ۲۰۰۸ء میں سی بی آئی عدالت نے چودہ افراد کو مجرم قرار دیا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی، تین دنیا سے چل بسے، باقی گیارہ افراد کی سزا کو ممبئی ہائی کورٹ نے بھی بر قرار رکھا، اور مجرمین جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے۔

آزادی کے پچھہتر سال مکمل ہونے پر مرکزی حکومت نے ایک گائیڈ لائن جاری کی، جس کے مطابق طویل مدت سے جیل میں رہ رہے قیدیوں کو آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع سے آزاد کر نے کی تجویز تھی، البتہ مرکزی حکومت نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اس سہولت سے عصمت دری کرنے والے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، اس ہدایت کے خلاف ریاستی حکومت نے ان مجرمین کو رہا کرکے اس ملک کی خواتین کو ذلیل کرنے کا کام کیا ہے، گجرات حکومت کا یہ فیصلہ وزیر اعظم کے اس اعلان کی بھی خلاف ورزی ہے، جس میں انہوں نے خواتین کے تحفظ اور ان کو با اختیار بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا. مجرمین رہا کر دیے گیے، لیکن بلقیس بانو کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے با وجود نہ مکان دیا گیا، اور نہ سرکاری ملازمت، اب یہ مجرمین آزاد ہو گیے ہیں ، یہ سب بلقیس بانو کے گاؤں کے ہی ہیں، یہ بات سب کو معلوم کہ گھناونے کام کو کرنے والے بلقیس بانو کے پڑوسی ہی تھے، ایسے میں پھر ایک بار بلقیس بانو کے لیے تحفظ کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے. طویل قانونی جنگ لڑنے کے بعد بلقیس بانو پھر سے اپنے کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے، اس لیے گجرات حکومت کو ان کے خاندان کے تحفظ کا معقول انتظام کرنا چاہیے کیوں کہ ان مجرمین کے حوصلے بہت بڑھ گیے ہیں اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے اوپر حکومت کا ہاتھ ہے، وہ قتل اور عصمت دری جیسے جرائم کے ارتکاب کے با وجود آزادانہ گھوم سکتے ہیں، اور ان کے حامیوں نے جس طرح ان مجرمین کی رہائی کے بعد خوشیاں منائیں، جیل سے باہر آنے پر ان کا استقبال کیا اور مٹھائیاں تقسیم کیں، یہ ایک خطرناک رجحان ہے، لیکن گجرات میں انتخاب ہونے ہیں، اس لیے حکومت ہندتوا ووٹ کو متحد کرنے کے لیے اس خطرناک رجحان پر پابندی لگانے کے موڈ میں نظر آرہی۔

سابق انچارج شعبۂ تبلیغ وتنظیم امارت شرعیہ چھوٹا ناگپور، ایڈ ہاک کمیٹی مسلم مجلس مشاورت رانچی کے کنوینر ، نامور عالم دین ، قائدانہ صفات سے مزین ، ملت کے لئے ہمیشہ سینہ سپر، مشہور ہو میو پیتھ معالج، معتدل نظریہ کے حامل ، اپنے مسلک پر عامل اور دوسروں کے سلسلے میں روا دار مولانا سید جمیل اختر حسینی نے چھیانوے (۹۶) سال کی عمر میں ضعف ونقاہت، پیرانہ سالی اور عمر کے مقررہ ایام ختم ہونے کے بعد ۹ ؍ جنوری ۲۰۱۸ء بروز منگل ، عشاء کی اذان کے وقت اپنے مکان نزد مسجد ابو بکر لاہ کوٹھی روڈ ، ہند پیڑھی رانچی میں داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ ۱۰؍ جنوری بروز بدھ بعد نماز ظہر سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں مولانا صدیق مظاہری (جو اب خود بھی مرحوم ہو چکے ہیں) نے جنازہ کی نماز پڑھائی اور راتوروڈ قبرستان میں سپرد خاک کیے گیے، پس ماندگان میں چھ صاحب زادہ اور تین صاحب زادیوں کے ساتھ نواسے، نواسی اور پوتے پوتیوں سے بھرا گھر چھوڑا۔

مولانا جمیل اختر حسینی بن حافظ سید عبد المغنی بن عبد الحئی بن سید شاہ عبد الرحمن ؒ بن سید شاہ فرحت حسین کی ولادت موجودہ ضلع ویشالی اور سابق ضلع مظفر پور میں ہوئی ، اس خاندان کی رشتہ داری ویشالی ضلع کے چہرہ کلاں اورچپیٹھ ضلع ویشالی میں رہی ہے۔مولانا کی سسرال چک بہاؤالدین ضلع سمستی پور تھی۔

ابتدائی تعلیم آبائی گاؤں میں حاصل کرنے کے بعد مدرسہ قاسمیہ گیا، پھر کولکاتہ اور وہاں سے غالبا دار العلوم دیو بند تشریف لے گیے، غالبا اس لیے کہ دار العلوم سے فراغت یقینی معلوم نہیں، البتہ بعض قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دیو بند گیے، انہوں نے اپنی ایک کتاب سیرت سرور کونین کا انتساب حضرت مولانا حسین احمد مدنی کی طرف کیا ہے اورانہیں اپنا استاذ بتایا ہے، فراغت کے بعد مولانا نے مدرسہ کاشف العلوم مچھوا پھل منڈی اور ندائے اسلام کولکاتہ میں معلمی کے فرائض انجام دیے، ندائے اسلام مسجد کی امامت بھی آپ کے ذمہ تھی، حضرت مولانا قاری فخر الدین صاحب گیاوی ؒ کی تجویز پر کولکاتہ سے رانچی منتقل ہو گیے، جہاں دار القرآن میں انتظام وانصرام اور مدرسہ حسینہ کڈرو رانچی میں درس وتدریس سے وابستہ رہے، حواری مسجد کربلا چوک رانچی کی خطابت چالیس سال تک آپ کے ذمہ رہی۔ ملازمت، خطابت اور سماجی خدمات کے حوالہ سے آپ نے رانچی کو اپنا میدان عمل بنایا اور ۱۹۵۷ء سے مسلسل نقل مکانی کرکے رانچی کے ہو کر رہ گیے، ۱۹۶۷ء کے ہولناک فساد میں آپ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر جو خدمت انجام دی اس کی وجہ سے رانچی کے مسلمانوں میں آپ کی مقبولیت ومحبوبیت میں اضافہ ہوا، آج بھی لوگ اس موقع سے مولانا کی جرأت مندی، دانائی، مؤمنانہ فراست، مدبرانہ قیادت اور دو ر اندیش سیاست کا چرچا کرتے رہتے ہیں، اس موقع سے امارت شرعیہ کی ریلیف ٹیم بھی وہاں حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب ؒ امیر شریعت سادس کی قیادت میں پہونچی تھی، مولانا نے اس ریلیف ٹیم کا بھر پور تعاون کیا، امیر شریعت سادس اس کا اپنی مجلسوں میں تذکرہ کیا کرتے تھے۔

 مولانا بڑے عالم تھے، ان کے ہم نشیں علوم وفنون میں ان کی مہارت کو’’ کسبی‘‘ نہیں ’’وہبی‘‘ اور علم لدنی کہا کرتے تھے، وہ مسلمانوں میں علوم دینیہ کی ترویج اور قرآن کریم صحت کے ساتھ لوگ پڑھیں اس کے لیے متفکر رہا کرتے تھے، چنانچہ ۱۹۶۱ء میں انہوں نے رانچی میں در القرآن کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا ، اس ادارہ کو ترقی دینے کے لیے کئی مدرس بحال کیے، کیوں کہ اس زمانہ میں آپ مدرسہ عراقیہ رانچی میں صدر مدرس کے منصب پر فائز تھے، اس لیے وقت کابڑا حصہ ادھر لگانا پڑتا تھا، بعد میں دار القرآن کی طرف لوگوں کا رجوع شروع ہوا تو وہ ملت کے مسائل حل کرنے کا ایک مرکز بن گیا، تعلیم بھی جاری رہی اور ملت کو در پیش مسائل کا حل بھی مولانا نکالتے رہے۔

 ۱۹۶۴ء میں مسلم مجلس مشاورت کا اجلاس مولانا نے بڑے کر وفر سے رانچی میں منعقد کرایا، امارت شرعیہ سے بھی انہیں والہانہ عشق تھا، وہ امارت کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، ۲۶؍ صفر ۱۴۱۶ھ کو اس وقت کے ناظم امارت شرعیہ مولانا سید نظام الدین صاحبؒ نے چھوٹا ناگپور ڈویزن خصوصا رانچی، جمشید پور، ہزاری باغ وغیرہ کا انچارج شعبۂ تبلیغ وتنظیم مقرر کیا تھا اور یہ تقرری امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی نور اللہ مرقدہ کے حکم پرہوئی تھی، اس حکم سے متعلق خط میں انہیں یکم ربیع الاول سے اس عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے کو کہا گیا تھا، اور یہ بھی لکھا گیا تھا کہ فی الحال رانچی دفتر امارت شرعیہ کو مرکز بنا کر پورے حلقے میں کام کریں گے ۔ مولانا مرحوم نے امارت شرعیہ سے وابستگی کی وجہ سے ہی اپنی قیمتی لائبریری دفتر امارت شرعیہ رانچی کے حوالہ کرنے کی وصیت کی تھی۔

 مولانا بہترین خطیب اور اچھے مصنف تھے، پہلے ہند پیڑھی کی مسجد اور پھر مسجد حوارئین میں چالیس سال تک خطاب فرمایا ، کئی لوگ تو ان کی تقریر سننے کے لیے ہی اس مسجد میں آکر نما زپڑھتے تھے، مولانا نے اپنی اس صلاحیت سے اصلاح معاشرہ کا بڑا کام لیا، رانچی میں آپ کے دوستوں کا ایک مخصوص حلقہ تھا، اور بڑی تعداد میں لوگ ان کی خدمات کے معترف اور مذہی بنیادوں پر ان کے معتقدتھے، مولانا ان لوگوں میں تھے جو ملت کو بہت کچھ دے کر اپنی کاخ فقیری میں خوش وخرم زندگی گذارتے ہیں۔ مولانا کے اثرات کو دیکھ کر سیاسی بازی گران پر ڈورے ڈالتے، مال ودولت کی پیش کش کرتے، لیکن یہ غیور، خود دار اور عامل شریعت اس کی طرف دیکھنا ،بلکہ تھوکنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔

مولانا کو اللہ تعالیٰ نے تصنیف وتالیف کا جو ملکہ عطا فرمایا تھا، اس سے بھی انہوں نے کام لیا، ان کی کتابیں سیرت سرور کونین، چہل حدیث، علامات قیامت، رسول اللہ کے معجزے، رسول اللہ کے اخلاق اور رسول اللہ کی دعائیں مشہور ومقبول ہیں، اور انسانوں کی زندگی سنوارنے کے لیے مفید ہیں۔

 مولانا مرحوم سے میری کئی ملاقاتیں تھیں، ان کا وطن اصلی بیلا بھوساہی ہے، جہاں سے ہم لوگوں کا تعلق قدیم ہے، مولانا مرحوم کے کہنے پر حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ نے عالی شان مسجدیہاں تعمیر کروائی تھی، ممکن ہے تعاون بعض دوسروں کا بھی رہا ہو، قاضی صاحب نے ہی وہاں امارت شرعیہ کا مکتب کھولوایا جو آج بھی جاری ہے، یہ سارا کام ان کے بھائی مظاہر الحسنین صاحب کی نگرانی میں ہوتا رہا ہے، مظاہر صاحب کا بھی انتقال تین سال قبل ہوگیا اللّٰہ مولانا مظاہرالحسینی کی بھی  مغفرت فرمائے، رانچی میں مولانا سے کئی ملاقاتیں رہیں، بلکہ ان کی زندگی میں جب بھی رانچی جاتا تو ان سے ملاقات کے لیے وقت نکالتا، وہ اپنے چھوٹے سے کمرے میں کتابوں کے درمیان موجود ہوتے، ان کے پاس اخبارات کا بڑا ذخیرہ تھا اور کسی زمانہ میں وہ اخبارات کے تراشے جمع کیا کرتے تھے، بعض موقعوں سے انہوں نے مجھے بھی اس کی زیارت کرائی تھی، مولانا جس طرح دوسرے کام کرنے والے کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے، میری بھی کرتے، میں نے محسوس کیا کہ ان کے پاس جانے، ان کے احوال سننے سے ملی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا، اور وہ اپنی تمام تر نیکیوں کے ساتھ اللہ کے پاس حاضر ہو گیے، اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے اور سیاٰت سے در گذر کرکے حسنات کے طفیل جنت کے اعلیٰ مقام میں جگہ دے۔ آمین یا رب العالمین

سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ’’سر نیم‘‘ (خاندانی وقبائلی سابقہ ولاحقہ) تبدیل کرنے کا حق باپ کی وفات کے بعد ماں کو دے دیا ہے، ماں اپنے بچے کو دوسرے شوہر کو گود لینے کا حق بھی دے سکتی ہے، اس طرح بچے کا سر نیم نہیں نسب بھی گود لینے والے مرد سے جڑ جائے گا، عدالت کی نظر میں ’’سرنیم‘‘ صرف نسب کا اشاریہ نہیں ہے، بلکہ وہ پوری خاندانی روایت، ثقافت اور تہذیب کا اعلانیہ ہے، ’’سر نیم‘‘ سے بچہ کی شناخت بنتی ہے۔ اب اگرماں کے مطابق ’’سرنیم‘‘ رکھنے کا اختیار نہ دیاجائے تو بچہ کے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہے گی کہ وہ اس خاندان کا نہیں دوسرے خاندان کا فرد ہے۔ اس طرح بچہ دوسرے خاندان سے مربوط نہیں ہو سکے گا، عدالت کا کہنا ہے کہ اس نقطۂ نظر سے ہمیں کچھ غلط نہیں لگتا۔

 سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ ہوگیا ہے، سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ اکیلا للتا نے دائر کیا تھا، للتا کی شادی ۲۰۰۳ء میں کونڈا بالا جی سے ہوئی تھی، لیکن صرف تین سال بعد ۲۰۰۶ء میں وہ چل بسا، اور ایک لڑکا اہلاد کو چھوڑ گیا، اس وقت لڑکے کی عمر ڈھائی ماہ تھی، ایک سال بعد اکیلا للتا نے دوسری شادی اکیلا روی نرسمہا سے کر لی اور اپنے بچہ کا’’ سر نیم‘‘ اکیلا کر دیا، یہ بات پہلے شوہر کے والدین کو پسند نہیں آئی، انہوں نے ۲۰۰۸ء میں پوتے کا سر پرست بنانے کی عرضی گذاری،یہ مقدمہ گارجین اینڈ وارڈس ایکٹ ۱۸۹۰ء کے دفعہ ۱۰؍ کے تحت دائر ہوا اور ہائی کورٹ نے اہلاد کے دادا، دادی کی اس درخواست کو مان لیا، سرپرست للتا کو باقی رکھتے ہوئے للتا کو حکم دیا گیا کہ وہ بچے کا ’’سر نیم‘‘ کونڈا کر دے، معاملہ سپریم کورٹ پہونچا، اس نے ہائی کورٹ کی ہدایت کو ظالمانہ اور غیر معقول  قرار دے کر للتا کو سر نیم بدلنے ، بلکہ شوہر کو گود لینے اور اس کے باپ کے طور پر دوسرے شوہر کے نام درج کرنے تک کی اجازت دیدی، تاکہ بچہ اس دوسرے خاندان سے اپنے کو الگ نہ سمجھے۔

سماجی طور پر یہ فیصلہ جس قدر بھی قابل قبول ہو ، لیکن بچے کے نسب بدل دینے کی بات تو ہم جیسوں کی سمجھ میں نہیں آتی، ہمارے یہاں کسی بچے کو باپ کے علاوہ دوسرے کسی مرد کو باپ کہا جاتا ہے تو اسے بڑی گالی سمجھی جاتی ہے، اس لیے اسلام نے منہہ بولے بیٹے کو اپنا نام دینے سے منع کیا ہے اور شفقت ومحبت کے با وجود اس گود لیے ہوئے بچے کو ترکہ میں بطور وراثت حصہ دینے کا کوئی تصور نہیں رکھا، البتہ وارثوں کے علاوہ دوسرے کسی کے بارے میں بھی تہائی مال کے بقدر وصیت نافذ العمل ہے، اسی طرح وہ اس منہہ بولے بیٹے کے لیے بھی وصیت کر سکتا ہے، پردہ وغیرہ کے احکام اس منہہ بولے بیٹے سے اجنبی مرد کی طرح ہی باقی رہے گا۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مسلم پرسنل لا پر عمل کے بنیادی حق تسلیم کیے جانے کی وجہ سے مسلمانوں پر نافذ العمل نہیں ہے ، لیکن کب کوئی سرپھرا اس کو نظیر بنا کرواویلا شروع کردے، کہنا مشکل ہے، اس مسئلے پر پہلے بھی کافی بحث ہو چکی ہے، اور مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام متبنی بل کی وجہ سے ہی عمل میں آیا تھا، جب حمید دلوائی نے متبنی بل کو یکساں سول کوڈ کی طرف بڑھتا قدم قرار دیا تھا۔