چیف جسٹس آف انڈیا 13 مئی کو سبکدوش ہوں گے، بی آر گوائی 14 مئی کو بحیثیت چیف جسٹس حلف لیں گے
سپریم کورٹ نے وقف (ترمیمی) قانون کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت ملتوی کردی ہے۔ اس معاملے پر اب 15 مئی کو سماعت ہوگی، کیونکہ بنچ نے کہا کہ اس نے ابھی تک اس معاملے پر حکومت کے حلف نامہ کا پوری طرح سے جائزہ نہیں لیا ہے۔
ہندوستان کے موجودہ چیف جسٹس سنجیو کھنہ 13 مئی کو سبکدوش ہونے والے ہیں اور اب یہ معاملہ جسٹس بی آر گوائی کی سربراہی میں ایک نئی بنچ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو 14 مئی کو بحیثیتِ چیف جسٹس حلف لینے والے ہیں۔ ان عرضیوں نے قومی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے کیونکہ ان میں ترمیم شدہ وقف قانون کے آئینی جواز اور مضمرات پر سوال اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر زمین کی ملکیت اور مذہبی وقف کے معاملات میں۔ اس قانونی لڑائی کے وسیع نتائج ہوسکتے ہیں، اور اب سب کی نظریں چیف جسٹس آف انڈیا کی زیر قیادت نئی بنچ پر ہیں جو مئی کے وسط میں اس پر سماعت کرے گی۔ اس سے پہلے 17 اپریل کو مرکز نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا تھا کہ وہ 5 مئی تک وقف املاک کو ڈی نوٹیفائی نہیں کرے گا اور نہ ہی سینٹرل وقف کونسل اور بورڈمیں کوئی تقرری کرے گا۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کی اس تجویز کی بھی سخت مخالفت کی تھی جس میں وقف املاک بشمول 'وقف بائے یوزر' کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف عبوری حکم جاری کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
*وقف ترمیمی قانون*
مرکز نے 5 اپریل کو صدر دروپدی مرمو کی منظوری ملنے کے بعد پچھلے مہینے وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کو نوٹیفائی کیا تھا۔ اس بل کو لوک سبھا نے ٢٨٨ ارکان کی حمایت سے منظور کیا تھا جبکہ ٢٣٢ ارکان نے اس کی مخالفت کی تھی۔ راجیہ سبھا میں اس کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ پڑے۔ ڈی ایم کے، وائی ایس آر سی پی، اے آئی ایم آئی ایم، بائیں بازو کی جماعتوں، این جی اوز، مسلم تنظیموں اور دیگر جیسی سول سوسائٹی گروپوں نے اس قانون کے جواز کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
ازقلم حافظ عقیل احمد ملی قاسمی (ترجمان وفاق المدارس والمکاتب مالیگاؤں)
حالیہ دنوں پارلیمنٹ میں برسراقتدار حکومت نے جو متنازعہ وقف قانون منظور کیا ہے یہ ہندوستان کے کسی بھی مسلمان کو کسی بھی طرح منظور نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایات کے مطابق پورے ہندوستان کے تمام شہروں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ انصاف پسند غیر مسلم بھائی بھی اس کی مخالفت کررہے ہیں اور اپنی اپنی سطح پر احتجاج درج کروارہے ہیں۔
اسی سلسلے کی ابتدائی کڑی کے طور پر مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف کے زیرِ اہتمام شہر عزیز مالیگاؤں کے تقریباً دو سو مقامات پر کارنر میٹنگوں کا انعقاد کیا گیا اس کے بعد مورخہ 28 اپریل 2025 بروز پیر شام 7 بجے سے رات دس بجے تک مدرسہ معہد ملت کے وسیع وعریض میدان میں خواتین اسلام کا احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں خواتین اسلام نے امید سے زیادہ تعداد میں شرکت فرما کر اپنی ملی بیداری کا جس طرح ثبوت پیش کیا ہے وہ تاریخ میں درج کیا جائے گا. ان شاءاللہ
اسی طرح مورخہ 29 اپریل 2025 بروز منگل شام 6 بجے سے رات دس بجے تک بڑی مالیگاؤں ہائی اسکول کے وسیع وعریض میدان میں برادران اسلام کا احتجاجی جلسہ عام منعقد کیا گیا جس میں برادران اسلام نے تاریخی شرکت فرما کر اپنی ملی بیداری کا ثبوت دیا ہے اور حکومت وقت کے سامنے اپنا سو فیصد احتجاج درج کرواکر یہ ثابت کردیا کہ موجودہ وقف قانون کسی بھی صورت میں مسلمانوں کو منظور نہیں ہے۔
اسی طرح مورخہ 29 اپریل 2025 بروز منگل دوپہر 12 بجے ہوٹل مراٹھا دربار کیمپ میں اردو مراٹھی میڈیا کے نمائندوں کی ایک پرہجوم پریس کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر محترم سیکریٹری محترم ترجمان محترم سمیت شہر مالیگاؤں کی سیاسی سماجی ملی جماعتوں کے نمائندہ افراد کے ساتھ ساتھ برادران وطن نے بھی شرکت فرمائی اور اپنے مثبت تاثرات کا اظہار فرمانے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے اطمینان بخش جوابات عنایت فرمائے اور انھیں پوری طرح مطمئن کیا اور بذریعہ میڈیا اپنی بات حکومت وقت تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
اس کے بعد مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت کے مطابق مورخہ 30 اپریل 2025 بروز بدھ رات 9 بجے سے 9:15 بجے تک بتی گل تحریک میں حصہ لیا اور الحمدللہ سو فیصد مسلم آبادی کے ساتھ ساتھ انصاف پسند برادران وطن نے بھی اپنے اپنے گھروں کی دکانوں کی اور اپنے کاروبار کی لائٹ بند کرکے اس احتجاج کو مکمل طور پر کامیاب بنا کر اتحاد واتفاق کے ساتھ حکومت وقت کو یہ پیغام دیا کہ ابھی تحریک کی ابتداء ہے اگر حکومت وقت نے یہ ظالمانہ وقف قانون واپس نہیں لیا تو مستقبل میں کسی بھی حد تک تحریک چلانے کے لئے ہم پوری طرح تیار اور بیدار ہیں یا تو یہ قانون نہیں رہے گا یا حکومت نہیں رہےگی ان شاءاللہ۔
لہذا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایات کے مطابق مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اب تک منعقد ہونے والے تمام پروگرامات اور تحریکات کی کامیابی پر ہم اراکین ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف مالیگاؤں تمام ہی اہلیان شہر مالیگاؤں خصوصاً خواتین اسلام اور برادران اسلام کے ہم تہہ دل سے ممنون ومشکور ہیں کہ یہ سب محض اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کی توفیق وعنایت سے اور اہلیان شہر مالیگاؤں کے سو فیصد تعاؤن کی وجہ سے پرامن طور پر اب تک سو فیصد کامیاب رہا ہے۔
اسی طرح اس نازک وقت میں جس طرح ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف مسالک ومکاتب فکر کے علمائے کرام اور سیاسی سماجی ملی وصنعتی شخصیات نے اپنے بے مثال اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کیا اور پوری طرح تن من دھن کے ساتھ اب تک تحریک کا ساتھ دیا ہے ہم ان کے بھی ممنون ومشکور ہیں۔
اسی طرح شہر عزیز مالیگاؤں کی تمام کلبیں انجمنیں اور اداروں کے وہ جیالے اور جانباز نوجوانوں کے بھی ہم ممنون ومشکور ہیں جنہوں نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے دن رات محنت کرکے اب تک کی تحریک کو کامیاب بنایا ہے۔
ہم اراکین ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف یہ واضح کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک کا آغاز ہے آئندہ جب جس طرح کی ہدایات آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے دی جائے گی اس کی روشنی میں مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے شہر عزیز مالیگاؤں میں تحریک کو جاری رکھے گی اور اپنا حصّہ اداکرتی رہے گی ان شاءاللہ۔
ہم اراکین ایکشن کمیٹی پوری طرح امید کرتے ہیں کہ جس طرح اب تک برادران اسلام اور خواتین اسلام کے ساتھ ساتھ برادران وطن نے ہمارا ساتھ دیا ہے اور ہر تحریک کو پوری طرح کامیاب بنانے میں اپنا حصّہ ادا کیا ہے مستقبل میں بھی جب جس وقت جس طرح آواز دی جائے گی اسی طرح مذہبی مسلکی اور سیاسی سماجی اختلافات کے باوجود اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارا ساتھ دیا جاۓگا اور اپنی ملی بیداری اور غیرت ایمانی کے ساتھ ساتھ شہر عزیز کی شناخت کو برقرار رکھا جائے گا ان شاءاللہ۔
جاری کردہ مالیگاؤں ایکشن کمیٹی برائے تحفظِ اوقاف۔
حکومت وقف ترمیمی قانون کے ذریعے وقف املاک پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتی ہے: آفتاب عالم
مظفرپور:26/اپریل(پریس ریلیز)وقف ترمیمی قانون 2025 کی واپسی کے مطالبے کو لے کر ہفتہ کے روز انصاف منچ کی قیادت میں جیل چوک چندوارہ، قلعہ چوک برہم پورہ، دامودرپور، چینپور بنگرہ، سونبرسا، ترکی گاؤں سمیت کئی دیگر دیہاتوں کے لوگوں نے مظاہرے میں حصہ لیا۔ مظاہرین نے مظفرپور ڈی ایم دفتر تک "وقف بچاؤ-آئین بچاؤ مارچ" نکالا۔ مارچ میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور متحد ہو کر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف ترمیمی قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اس موقع پر صدر جمہوریہ ہند کے نام ایک میمورنڈم بھی ڈی ایم کو سونپا گیا۔
یہ بھی پڑھیں.... وقف قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے دو اہم احتجاجی اجلاسml
ڈی ایم دفتر کے قریب اپنے خطاب میں آر وائی اے کے قومی صدر اور انصاف منچ بہار کے نائب صدر آفتاب عالم نے کہا کہ حکومت وقف ترمیمی قانون کے ذریعے وقف املاک پر ناجائز قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون نہ صرف بھارتی آئین کے دیے گئے بنیادی حقوق—آرٹیکل 25 اور 26—کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ حکومت مسلم اقلیتی طبقے کو وقف کے انتظام اور اس کی نگرانی سے باہر کر کے سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔انصاف منچ بہار کے جوائنٹ سکریٹری انجینئر ظفر اعظم ربانی نے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 ہر مذہبی برادری کو نہ صرف ضمیر کی آزادی فراہم کرتے ہیں بلکہ اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے، اور مذہبی و فلاحی ادارے قائم کرنے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا بھی حق دیتے ہیں۔ موجودہ ترمیمی قانون مسلمانوں کو اس بنیادی حق سے محروم کر دیتا ہے۔ مرکزی وقف کونسل اور وقف بورڈوں کے قیام سے متعلق ترمیمات اس کی زندہ مثال ہیں۔ اسی طرح وقف عطیہ دہندہ کے لیے مسلسل پانچ سال "عملی مسلمان" ہونے کی شرط نہ صرف آئین کے آرٹیکل 25 کے خلاف ہے بلکہ شریعت سے بھی متصادم ہے۔انصاف منچ کے معروف سماجی رہنما کامران رحمانی نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون آئین مخالف ہے، حکومت کو چاہیے کہ ملک کے مفاد میں اس قانون کو فوراً واپس لے۔ انصاف منچ کے رہنما اعجاز احمد نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون کی واپسی تک انصاف منچ کی جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔اس موقع پر پروفیسر فاروق احمد صدیقی، آفتاب عالم، ظفر اعظم، انصاف منچ کے معروف سماجی رہنما کامران رحمانی، اعجاز احمد، خالد رحمانی، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بہار کے جنرل سکریٹری محمد اشتیاق، عارف حسین، توسیف عالم، ایڈوکیٹ محمد اشتیاق، مالے رہنما پرشو رام پاٹھک، ہوریل رائے، شفیق الرحمٰن، ایڈوکیٹ مکیش پاسوان، مفتی سناءالہدی قاسمی،مفتی اقبال احمد قاسمی، مفتی شمیم القادری، شیعہ عالم اسد یاور، مفتی مطیع الرحمن رضوی، مفتی عرفان قاسمی، منور اعظم، ڈاکٹر منیب مظفرپوری، سابق میئر امیدوار وسیم احمد منا، اور قاری ذکی امام وغیرہ نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
وقف قانون کی حمایت مسلم اجتماعی اتفاق رائے اور مسلم امت کے اجماع سے لاتعلقی اور بغاوت: ملّی شوریٰ
ملّی شوریٰ نے داؤدی بوہرا جماعت کے ایک نمائندہ وفد کی جانب سے وقف قانون کی حمایت کئے جانے کی سخت مذمت کی ہے.
یہ بھی پڑھیں:.... غیر مسلم ممبران کی شمولیت اوقاف کے انتظامی امور میں مداخلتOf-Waqf-Amendment-Act-2025.html
جمعرات کے روز داؤدی بوہرا جماعت کے ایک وفد نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور وقف قانون کی حمایت کی. جبکہ مسلم تھنک ٹینک ملّی شوریٰ نے وقف قانون کو ظالمانہ قانون قرار دیا ہے. تمام مسلم تنظیموں بشمول حزب اختلاف اراکین پارلیمنٹ، ہندو اور دیگر برادریوں کی جانب سے وقف قانون کی مخالفت کی جارہی ہے.
ملّی شوریٰ تنظیم کا کہنا ہے کہ وقف بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سمیت باہر بھی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا. ملّی شوریٰ ممبئی کے کنوینر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی اور پروفیسر مہوش شیخ نے کہا کہ بوہرہ برادری کی جانب سے وقف قانون کی حمایت مسلم اجتماعی اتفاق رائے اور مسلم امت کے اجماع سے ان کی لاتعلقی اور بغاوت کو ظاہر کرتی ہے۔
وائے ایس جگن موہن ریڈی کی زیر قیادت وائے ایس آر کانگریس پارٹی نے وقف ترمیمی قانون 2025 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے.
پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ بنیادی طور پر اوقاف کے انتظامی امور کو کمزور کرتے ہوئے ان پر حکومتی کنٹرول کو نافذ کرتا ہے.
وائی ایس آر سی پی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس پر عرضی کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ وائی ایس آر سی پی نے سنگین آئینی خلاف ورزیوں اور مسلم برادری کے خدشات کو دور کرنے میں ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے وقف ایکٹ کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ یہ بل آئین کے آرٹیکل 13، 14، 25 اور 26 کی خلاف ورزی کرتا ہے جو بنیادی حقوق، مساوات، مذہبی آزادی اور اپنے مذہبی معاملات خود چلانے کی خودمختاری کی ضمانت دیتے ہیں۔اس پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ دفعہ 9 اور 14 کے تحت غیر مسلم ممبروں کو شامل کرنے کو وقف اداروں کے اندرونی کام کاج میں مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ شق بورڈز کے مذہبی کردار اور انتظامی آزادی کو کمزور کرتی ہے۔
تاملاگا ویتری کاژگم (ٹی وی کے) سربراہ وجے، اے آئی ایم آئی ایم رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی، کانگریس ایم پی محمد جاوید اور عمران پرتاپ گڑھی، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) ایم ایل اے امانت اللہ خان، آزاد سماج پارٹی سربراہ چندر شیکھر آزاد اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) رکن پارلیمنٹ ضیا الرحمن برق نے بھی اس قانون کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار 13 اپریل کو ہریانہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وقف قانون پر کانگریس پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کی حالت زار کو نظر انداز کرتے ہوئے لینڈ مافیا کو مدد فراہم کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کی سابقہ شکل کا کئی دہائیوں سے استحصال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسی کمیونٹی کو معاشی مواقع سے محروم کر دیا گیا ہے۔
بی جے پی اراکین سے بحث کے دوران شیشے کی بوتل توڑ کر پھینک دی
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کو وقف (ترمیمی) بل 2024 پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سےمعطل کردیا گیا کیونکہ انہوں نے بروز منگل 22 اکتوبر کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں مبینہ طور پر بی جے پی ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ بحث کے دوران شیشے کی بوتل توڑ دی تھی۔
نواب ملک کی مہایوتی سے امیدواری کی مخالفت کریں گے، بی جے پی کا اعلان
اطلاعات کے مطابق کلیان بنرجی نے بی جے پی کے ابھیجیت گنگوپادھیائے کے ساتھ بحث کے دوران شیشے کی پانی کی بوتل توڑ کر پھینک دی۔ اس عمل کے دوران کلیان بنرجی کے انگوٹھے اور انگلی میں چوٹ آئی اور انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ انہیں اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر سنجے سنگھ واپس میٹنگ روم میں لے جاتے ہوئے دکھائی دیئے۔ بی جے پی کے جگدمبیکا پال کی صدارت والی کمیٹی ریٹائرڈ ججوں اور وکیلوں کے ایک گروپ کے خیالات سن رہی تھی جب اپوزیشن ارکان نے سوال کیا کہ بل میں ان کا کیا حصہ ہے۔
بھرتی گھوٹالہ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے، وقف ایکٹ اور دہلی وقف قوانین کی دفعہ 24 کی خلاف ورزی کا الزام
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ)(ای ڈی) نے آج بروز پیر (2 ستمبر 2024) کو دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین اور اوکھلا سے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو بھرتی گھوٹالہ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا ہے. آج صبح ای کے افسران امانت اللہ کو گرفتار کرنے ان کی رہائش گاہ پر پہنچے جس کے بعد امانت اللہ نے اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کی کہ ای ڈی افسران انہیں گرفتار کرنے آئے ہیں.
یہ بھی پڑھیں:... ہم کسی کے باپ کا نہیں کھاتے، یہ ملک ہمارا ہے: اسدالدین اویسی
اپریل میں ای ڈی نے امانت اللہ کو سمن جاری کیا تھا کہ وہ انسداد منی لانڈرنگ قانون کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کروائیں. اس کے بعد انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد ہیں. دیر رات تک پوچھ تاچھ کے بعد عام ادمی رکن اسمبلی کو چھوڑ دیا گیا تھا.
عآپ لیڈر کے خلاف ای ڈی کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات نومبر 2016 میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کی طرف سے درج ایک کیس پر مبنی ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے وقف بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے 35 سے زیادہ افراد کو بھرتی کیا تھا، بشمول بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر۔ جو وقف ایکٹ اور دہلی وقف قوانین کی دفعہ 24 کی خلاف ورزی ہے. یہ بھی الزام لگایا گیا کہ تجاوزات اور کرایہ داروں کو وقف پراپرٹیز لیز رولز کے خلاف وقف املاک پر قبضہ کرنے کی اجازت دی گئی، اس طرح بورڈ کو نقصان ہوا۔ اکتوبر 2023 میں، ای ڈی نے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کئی احاطوں کی تلاشی لی تھی، جن میں امانت اللہ سے منسلک املاک اور لوگ بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ ای ڈی نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال، سابق ڈپٹی سی ایم منیش سیسوڈیا، عآپ راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ (حال ہی میں ضمانت پر رہا)، اور پارٹی کے سابق کمیونیکیشن انچارج وجے نائر کو دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں ان کے مبینہ کردار کے لیے گرفتار کیا تھا۔ سنجے سنگھ اور سسوڈیا فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔
منیش سسوڈیا نے اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ میں لکھاکہ ای ڈی کا بس یہی کام رہ گیا ہے کہ بی جے پی کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دو، توڑ دو، جو نہیں ٹوٹے انہیں، جو نہیں دبے اسے اٹھا کر جیل میں ڈال دو.







