Articles by "Technology"
Showing posts with label Technology. Show all posts

نئی اے آئی ٹیکنالوجی فوٹوگرافی کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گی، انتہائی کم روشنی میں بہترین تصاویر لینا ہوگا ممکن 

گوگل کی جانب سے ایک نئی اے آئی امیج نوائز ریڈکشن ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے جو لوگوں کو اندھیرے میں بھی واضح تصاویر نکالنے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس اے آئی ٹیکنالوجی سے انتہائی کم روشنی میں بہترین تصاویر لینا ممکن ہوجائے گا۔

گوگل کی نئی تحقیق میں اس ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کسی تاریک مقام کو طاقتور ڈی نوائزنگ ٹیکنالوجی سے فوٹوگرافی کے قابل بنادے گا۔ اس ٹیکنالوجی کو RawNeRF کا نام دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کم روشنی میں لی جانے والی تصاویر میں زیادہ تفصیلات کا اضافہ کردیتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ نورل ریڈینس فیلڈز (NeRF) ایک ایسی تیکنیک ہے جو اندھیرے میں لی جانے والی تصاویر کا معیار بہتر بناتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کسی منظر میں کیمرا پوزیشن، ایکسپوزر اور ٹون میپنگ کو استعمال کرکے تصاویر کا معیار بہتر بناتی ہے، درحقیقت صرف موم بتی کی روشنی میں بھی ایسی تصاویر لینا ممکن ہے جیسے انہیں بہت زیادہ روشنی میں لیا گیا ہو۔ فی الحال یہ ٹیکنالوجی تحقیقی مرحلے سے گزر رہی ہے اور مستقبل قریب میں کسی وقت اسے عام استعمال کے لیے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

نئے فیچر صارفین کو مزید رازداری فراہم کریں گے، اسی ماہ کی جائیں گی واٹس ایپ میں کچھ بڑی تبدیلیاں 

میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ تین نئے پرائیویسی فیچرز لارہا ہے۔ ان فیچرز کے متعارف ہونے کے بعد صارفین خاموشی سے گروپ چھوڑ سکیں گے، وہ اس متبادل کا انتخاب بھی کر سکیں گے کہ کون انہیں آن لائن دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں. ویو ونس میسجز کے اسکرین شاٹس بھی بلاک کر دیے جائیں گے۔ میٹا کے بانی اور سی ای او مارک زکربرگ نے کہا کہ ہم آپ کے پیغامات کو محفوظ رکھنے اور انہیں روبرو گفتگو کی طرح نجی اور محفوظ رکھنے کے لئے نئے طریقے متعارف کرانا جاری رکھیں گے۔

*پرائیویسی کے نئے فیچرز*

*خاموشی سے گروپ چھوڑیں*

 یہ فیچر صارفین کو کسی کو مطلع کیے بغیر گروپ سے باہر نکلنے کی اجازت دے گا۔ جب کوئی گروپ چھوڑنا چاہے گا تو صرف منتظمین(ایڈمن) کو مطلع کیا جائے گا۔ یہ فیچر رواں ماہ متعارف کرایا جائے گا۔

*آن لائن ہونے پر کنٹرول کریں*

*یہ خصوصیت صارفین کو اپنی آن لائن موجودگی کو نجی رکھنے کی اجازت دے گی۔ جب صارف آن لائن ہوتا ہے، تو وہ فیصلہ کر سکے گا کہ کون اسے آن لائن دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں۔ یہ فیچر بھی اسی ماہ سے شروع کیا جائے گا۔

*ویو ونس میسجز کے اسکرین شاٹس کو روکنے کے قابل ہوں گے. ویو ونس میسجز فیچر صارف کو مستقل ڈیجیٹل ریکارڈ کے بغیر فوٹو یا میڈیا شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ویو ونس پیغامات کے اسکرین شاٹس کو بلاک کرنے سے، صارفین کو سیکیورٹی ملے گی۔ اس فیچر کی جانچ کی جا رہی ہے اور جلد ہی اسے متعارف کرایا جائے گا۔


*گروپ کے ممبران آپ کا نمبر نہیں دیکھ سکیں گے*

اس فیچر کے بارے میں معلومات ماضی میں سامنے آئی تھیں۔ یہ فیچر ڈیولپمنٹ کے مرحلے میں ہے اور اسے ٹیسٹنگ کے بعد جلد ہی لانچ کیا جائے گا۔ دراصل کئی بار ہم ایسے گروپوں میں شامل ہو جاتے ہیں جن میں سے بعض کا نام تک نہیں آتا۔ ایسی صورتحال میں دوسرا صارف ہماری مرضی کے خلاف نمبر دیکھ کر اپنے فون میں محفوظ کر سکتا ہے لیکن نیا فیچر آنے کے بعد گروپ کے دیگر ممبران آپ کا موبائل نمبر نہیں دیکھ سکیں گے۔ واٹس ایپ نے اس سال کئی دیگر چھوٹی مگر معنی خیز اپ ڈیٹس کی ہیں۔ ایموجی ری ایکشنز کو رول آؤٹ کرنے اور صوتی پیغامات کو تیز کرنے کا طریقہ پیش کرنے کے علاوہ، پلیٹ فارم نے اینڈرائیڈ صارفین کو اپنی چیٹ ہسٹری آئی فون میں منتقل کرنے کی اجازت بھی دینا شروع کر دی ہے۔

واٹس ایپ پروڈکٹ ہیڈ امی ویرا نے کہا کہ واٹس ایپ میں ہم ایسی خصوصیات متعارف کرانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو لوگوں کو اپنے پیغامات پر زیادہ کنٹرول اور رازداری کے لیے بااختیار بناتے ہیں۔ کوئی دوسری عالمی میسجنگ سروس اپنے صارفین کو اس سطح کی سیکیورٹی فراہم نہیں کرتی ہے۔

تخمینہ تقریباً 16 ارب پاؤنڈ، اسپائرل سٹی مکمل طور پر خود کفیل ہوگا، ہزاروں لوگوں کیلئے مکانات، ہوٹل، مال، بازار اور دفاتر کی سہولیات بھی ہوں گی

یہ تصور کافی خوشگوار اور حیرت انگیز ہے کہ زیر آب ایک مکمل شہر آباد ہو، اس میں لوگوں کے رہنے کے لیے لگژری فلیٹس، گھومنے پھرنے اور خریداری کے لیے مال، ہوٹل، کاروبار کرنے کے لیے دفاتر اور ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع موجود ہوں، سورج کی مکمل روشنی وہاں تک پہنچتی ہو، آکسیجن کی کمی نہ ہو اور وٹامنز اور منرلز سے بھرپور خوراک ہر کسی کو فراہم کی جائے اور وہ بھی زمین کی مدد کے بغیر۔ لیکن جب آپ کو زمین کی سیر کے لیے آنا ہو تو چند منٹ کے سفر کے بعد آپ اس طرح آسکیں جیسے آپ کسی قریبی شہر سے آرہے ہیں تو زندگی کیسی گزرے گی؟

 یہ بھی پڑھیں:..... درد ناک حادثہ: تین معصوم بچے پانی میں ڈوب کر جاں بحق

فیوچر انڈر واٹر سٹی اس تصور کو حقیقیت کا روپ دے گا. ایک جاپانی ملٹی نیشنل کنسٹرکشن اینڈ آرکیٹیکچر کمپنی نے ایسا ہی ایک تصور پیش کیا ہے۔ جہاں مکمل طور پر پانی میں ڈوبے ہوئے شہر میں ہزاروں لوگوں کے لیے گھر، مال، ہوٹل، بازار اور گھومنے پھرنے کے لیے تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ جاپان کی ملٹی نیشنل آرکیٹیکچر کمپنی شیمیزو کارپوریشن، جس نے جاپان اور دنیا بھر میں بہت سے بڑے جدید ترین تعمیراتی منصوبے بنائے ہیں، نےایک زیر آب شہر قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا شہر بن سکتا ہے جو مکمل طور پر زیر آب ہو گا اور لوگ زمین کے لوگوں کی طرح نارمل زندگی گزار سکیں گے۔

Ocean Spiral:

یہ زیر آب شہر Ocean Spiral

چوڑائی میں فٹ بال کے چار میدانوں کے برابر ہوگا اور سطح سمندر سے دو میل نیچے تک واقع ہوگا۔ یہاں کے مکانات، کاروباری مقامات، ہوٹل، مال، بازار، یہاں کے لوگوں کے لیے ذرائع آمدورفت سب کچھ زمین کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ پرتعیش ہوگا۔  اس کے بیرونی غلاف کو مضبوط اور ہر خطرے سے محفوظ بنایا جائے گا اور اندر رہنے والے سمندر کے اندر کی زندگی کو آسانی سے دیکھ سکیں گے۔  کمپنی نے اس منصوبے کا بلیو پرنٹ(خاکہ) اور منصوبے کی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں۔ اسے دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ پانی کے اندر رہنے والے لوگوں کی زندگی کیسی ہوگی۔

اس زیر آب شہر کا اندرونی ڈھانچہ سمندر کے اندر تین زونز میں بنایا جائے گا۔ سب سے اہم بلیو گارڈن، اسپائرل وے کے راستے پر سطح سمندر سے 200 میٹر نیچے تعمیر کیا جائے گا جہاں انسانی آباد کاری، ہوٹل اور مال جیسی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اسے پورے شہر کا بیس زون کہا جا سکتا ہے۔

Ocean Spiral Underwater City

میں سطح سمندر سے 200 میٹر نیچے بنائے گئے بلیو گارڈن میں 75 منزلوں میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے تمام سہولیات، رہائش، ہوٹل وغیرہ بنائے جائیں گے۔ اس یونٹ کے لیے ہائیڈرولک پریشر کے ذریعے تیار کردہ صاف پانی کی فراہمی ہوگی۔ اس کے تحت 15 کلومیٹر کا اسپائرل روٹ بنایا جائے گا جو اسے نیچے سمندر کی سطح میں بنی ارتھ فیکٹری تک لے جائے گا۔ جہاں سائنسی لیب بنائی جائے گی جو سمندر کے دامن میں موجود قدرتی وسائل سے توانائی کی پیداوار اور کھانے پینے کی ضروری چیزوں کی تیاری کے لیے سہولیات مہیا کرے گی۔

یہاں رہنے والے کیا کھائیں گے؟ کیا ان کے لیے زمین سے سامان جائے گا؟  جواب نہیں ہے... اس منصوبے کو مکمل طور پر خود کفیل بنانے کا منصوبہ ہے۔ خوراک، توانائی، پانی، آکسیجن اور قدرتی وسائل کے لئے یہ شہر خودکفیل ہوگا. پروجیکٹ بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ انڈر واٹر سٹی جاپان کی طرح زیادہ آبادی اور اربنائزیشن کی وجہ سے بڑھتی ہوئی بھیڑ اور شہری آبادی کے ساتھ شہروں اور شہروں کے بڑھتے ہوئے مسائل کو حل کرے گا۔ اس شہر کو مکمل طور پر ماحول دوست بنانے کا منصوبہ ہے۔ یہاں 5000 لوگوں کے رہنے کے لیے تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ یہاں زندگی بسانے کے لیے توانائی کی تمام ضروریات سمندر کی تہہ سے اکٹھی کی جائیں گی۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ شہر سمندر کے دامن سے خوراک، پانی اور آکسیجن جیسی تمام ضروریات پوری کرے گا۔

اس اسپائرل سٹی کی ساخت کے مطابق سب سے نیچے جو زمینی سیارہ بنایا جا رہا ہے وہ دراصل ٹیکنالوجی کی بنیاد ہے۔ اس میں سائنسی لیب سے لے کر پروڈکشن سینٹر تک سب کچھ ہوگا۔ جو سمندر کی تہہ میں موجود قدرتی وسائل سے نہ صرف توانائی پیدا کرے گا بلکہ کھانے پینے کی اشیاء بھی تیار کرے گا۔ اس شہر میں 5000 لوگوں کو آباد کرنے اور ان کی تمام ضروریات پوری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جو لوگ زمین سے ہٹ کر کہیں آباد ہونا چاہتے ہیں ان کے لیے یہاں تمام سہولیات مہیا کرانے کا منصوبہ ہے۔ تمام وسائل کو کیسے متحرک کیا جائے گا، اس لیے جاپان کے میری ٹائم ماہرین کی ٹیم نے اپنی تحقیقی رپورٹ دستیاب کرادی ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف زلزلوں اور سونامی جیسے خطرات سے بچاؤ کے لیے ایک بہت بڑا قدم ہے بلکہ مستقبل میں جب سطح سمندر میں اضافے سے شہر ڈوب جائیں گے تو انسانوں کو زندہ رہنے اور صاف توانائی کے ذرائع تیار کرنے کا ایک نیا متبادل بھی فراہم کیا جائے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ایک حقیقی مقصد ہے۔ کمپنی کے منصوبہ سازوں کے علاوہ ٹوکیو یونیورسٹی کے ماہرین، جاپانی حکومت کی وزارتیں اور توانائی کمپنیاں بھی اس منصوبے میں شامل ہیں۔ کمپنی سال 2014 سے اس پروجیکٹ کے لیے ضروری ٹیکنالوجی کے حصول کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے پر 16 ارب پاؤنڈ کا تخمینہ لگایا گیا ہے. اگر آپ اسے ہندوستانی کرنسی میں دیکھیں تو یہ رقم تقریباً 1534 ارب روپے بنتی ہے۔ اس پورے زیر آب شہر کا بیرونی گلوب کور شفاف فائبر گلاس کا ہوگا اور مضبوط آرکلک ٹیکنالوجی سے بنا ہوگا۔ جو نہ صرف مضبوط ہو گا بلکہ قدرتی آفات کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رہے گا۔

ساخت کو اسپائرل کی شکل میں کیوں بنایا جا رہا ہے؟*

 زیر آب شہر کے اس منصوبے کو اسپائرل کی شکل میں بنانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے جاپان کے زلزلے اور سونامی کے سب سے بڑے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جا رہا ہے، تاکہ گھیراؤ کی وجہ سے اسے مضبوط بنیاد مل سکے۔ سمندر کے بیچوں بیچ واقع جاپان میں ہر سال ہزاروں زلزلے، سونامی کی لہریں آتی ہیں اور ساحل کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کو تہس نہس کر دیتی ہیں۔ 2011 کے سونامی کی تباہی پوری دنیا نے دیکھی۔ اب جاپان کے اس منصوبے کے ذریعے ایک ایسا شہر قائم کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہے جو پانی میں آباد ہونے کے باوجود زلزلے اور سونامی کی لہروں سے محفوظ رہے۔

اس پروجیکٹ کا نام OCEAN SPIRAL

رکھا گیا ہے۔ یہ پورا منصوبہ اسپائرل کی شکل میں ہوگا جو سمندر کی بالائی سطح سے شروع ہوگا اور دامن میں 2.8 کلومیٹر گہرائی تک جائے گا۔  اسپائرل کے وسط میں ایک گلوب ہوگا جس کا قطر 500 میٹر ہوگا جو سمندر کے اندر سورج کی روشنی کا زون ہوگا۔ یہ سطح سمندر سے 200 میٹر کے اندر ہوگا۔ اسپائرل کا یہ راستہ 2.8 کلومیٹر تک جائے گا جو اس شہر کا سب سے نچلا حصہ ہوگا۔ یہاں CO2 ذخیرہ کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے والے پلانٹ کا کام، ضروری وسائل کی تیاری اور باقی پیداوار کا کام کیا جائے گا۔ یہ اس اسپائرل شہر کا سب سے نچلا حصہ ہوگا جسے ارتھ فیکٹری کا نام دیا جانا ہے۔

اس کے اوپر والا حصہ سطح سمندر سے 2500 میٹر اونچا بنایا جائے گا۔  یہاں گہرے سمندر میں سب میرین پورٹ بنائے جائیں گے۔ بجلی، پانی، آکسیجن کی فراہمی کے لیے پلانٹ ہوں گے۔ اس کی بالائی منزل 2000 میٹر کے اندر واقع ہوگی. جہاں تعمیر کے توازن پر توجہ دے کر ڈھانچہ بنایا جائے گا۔ اس کے اوپر لوور مڈ نائٹ زون 1500 میٹر کی سطح پر تعمیر کیا جانا ہے۔ یہاں درجہ حرارت دو سے تین ڈگری سینٹی گریڈ رہے گا۔

اس کے اوپر اس اسپائرل شہر کا سب سے اہم حصہ سمندر کے پانی کے نیچے 1000 میٹر کی گہرائی میں پانی کے نیچے آباد ہو گا۔  اسے اپر مڈ نائٹ زون کا نام دیا جانا ہے۔ سورج کی روشنی کا اس علاقے تک پہنچنا مشکل ہے، اس لیے یہاں سمندر کے پانی کی سطح کے مقابلے میں 20 ڈگری تک کا فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ سمندر کے اندر کی لہروں کا بھی اس سطح پر بڑا اثر پڑے گا۔ اسپائرل سٹی میں انسانوں کو اس سطح تک رسائی حاصل ہوگی، آمدورفت کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ بجلی، پانی، آکسیجن سب کی سپلائی ہموار طریقے سے ہو گی۔ کاشتکاری کے لیے 1000 میٹر پر بجلی کی پیداوار، 1500 میٹر پر ٹھنڈے پانی کا پلانٹ بنایا جائے گا۔

اسپائرل سٹی کا سب سے اہم حصہ سطح سمندر سے 200 میٹر نیچے بنایا گیا گلوب کی شکل کا بلیو گارڈن ہے. اسے آرام دہ، محفوظ، صحت مند ڈیپ سی سٹی کا بیس کیمپ کہا جا سکتا ہے۔ یہ 500 میٹر قطر کا ایک گلوب جیسا علاقہ ہوگا. یہ سورج کی روشنی کا زون ہوگا۔ زندگی کے لیے ضروری فوٹو سنتھیسز کی صلاحیت بھی اس علاقے میں پوری طرح موجود رہے گی۔

 یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا؟ 

 پانی کے اندر شہر کی تعمیر اور قیام، اس کی ساخت کو محفوظ اور مضبوط بنانے اور 5000 لوگوں کو پانی کے اندر رہنے کی سہولیات فراہم کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔ اس لیے اس شہر کو بنانے میں اعلیٰ تکنیکی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے لیے تکنیکی ٹیموں کے علاوہ میری ٹائم ماہرین کی رپورٹ پر کام کرنا ہوگا۔  اس زیر آب شہر منصوبے کو سال 2035 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے۔

اس پروجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنی ماضی میں بھی ایسے اختراعی آئیڈیاز پر کام کرتی رہی ہے۔  یہ کمپنی پہلے ہی ایک فلوٹنگ بوٹینیکل سٹی بنا کر اپنے آپ کو متعارف کروا چکی ہے۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی چاند اور شمسی توانائی کے مکمل استعمال کے لیے لونا رنگ، ہوٹل ان اسپیس جیسے کئی دیگر پروجیکٹوں پر بھی کام کر رہی ہے۔  اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ جلد ہی ایک زیر آب شہر انسانوں کو آباد کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا اور اگر آپ رہنے کے لیے نہ بھی جائیں تو بھی زندگی کا ایک نیا خیال اور تجربہ حاصل کرنے کے لیے وہاں جانے کا موقع نکال سکتے ہیں۔

گلیکسی ایس 22 الٹرا تین مختلف ویرئینٹ میں جلد ہی لانچ ہوگا، ریم 12 سے 16 جی بی تک ہوگی

اسمارٹ فون بنانے والی کورین کمپنی سیمسنگ نے 1 ٹیرا بائٹ (ٹی بی) میموری کا حامل فون متعارف کرانے کی تیاری شروع کردی۔چینی میڈیا رپورٹ کے مطابق سیمسنگ کی جانب سے رواں سال گلیکسی ایس 22 الٹرا متعارف کرایا جائے گا جو میموری کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مردوں کی شرٹ کے بٹن دائیں ، خواتین کے بائیں طرف کیوں لگے ہوتے ہیں؟

ایس 22 الٹرا کی اپنی میموری 1 ٹی بی ہوگی جبکہ اس میں علیحدہ سے میموری کارڈ کی سلاٹ بھی دی جائے گی، اگر ریم کی بات کی جائے تو فون کے حساب سے یہ 12 اور 16 جی بی تک ہوگی۔یہ بات بھی سامنے آئی کہ صارفین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے سیمسنگ نے اسی ماڈل میں 128، 256 اور 512 جی بی والے فون بھی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کی قیمتیں میموری اور ریم کے اعتبار سے مختلف ہوں گی۔

سیمسنگ کی جانب سے اس سیریز کے 3 فون گلیکسی ایس 22، ایس 22 پلس اور ایس 22 الٹرا متعارف کرائے جائیں گے۔ جن میں 8 جنریشن اسینپ ڈریگن چپ پراسیسر نصب کیا جائے گا، جو موبائل کی رفتار کو تیز رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔ایس 22 سیریز کی اب تک لیک ہونے والی تصاویر کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ صارفین کی سہولت کے لیے ٹچ پین بھی دیا جائے گا۔ کمپنی کی جانب سے اب تک فون کی قیمت اور مارکیٹ میں دستیابی کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اس سے قبل سیمسنگ کی جانب سے 2019 میں گلیکسی ایس 10 موبائل متعارف کرایا گیا تھا، جس کی اپنی اسٹوریج1 ٹی بی تھی جبکہ اس میں علیحدہ سے  میموری کارڈ کی سلاڈ بھی دی گئی تھی۔

کمیونٹیز نامی فیچر پر کام جاری، بیٹا ورژن آزمائشی فیچر کو صارفین نے زبردست قرار دیا

واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں، جنہیں سہولیات فراہم کرنے اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے کمپنی کی جانب سے نت نئے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔دو سال کی عمر سے روزانہ چالیس سگریٹ پینے والے بچے نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی

ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے گروپس کو ایک جگہ کرنے کے حوالے سے ’کمیونیٹیز‘ نامی فیچر پر کام شروع کیا ہے، جس کے بعد صارف زیادہ سے زیادہ دس گروپس کو فولڈر کی شکل میں ایک جگہ جمع کرسکیں گے۔

یہ فیچر فی الحال آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم پر بیٹا ورژن پر آزمائش کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جسے صارفین زبردست اور شاندار قرار دے رہے ہیں۔

کمیونٹیز دراصل واٹس ایپ گروپ کی طرح کا ایک فولڈر ہوگا جس کو تشکیل دینے والا صارف خود ہی ایڈمن ہوگا اور وہ گروپ ایڈمن کی طرح کسی بھی میسج اور گروپ کو حذف کرسکے گا جبکہ صارف اپنی مرضی کے مطابق کمیونٹی کا نام اور گروپ کی تفصیل کو درج کرسکے گا۔جب کوئی نیا ممبر کمیونٹی کو چھوڑ دے گا تو پھر اُسے گروپ کا لنک اور یہاں شیئر ہونے والے مواد تک رسائی نہیں ہوسکی گی بلکہ یہ خود بہ خود غائب ہوجائے گا۔


آئندہ سال اپریل-مئی میں ۵-جی اسپکٹرم کی نیلامی کے امکانات،  وزیر مواصلات نے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن کے عہدیداران کے ساتھ منتخبہ سرکلس کا جائزہ لیا

نئی دہلی: مرکزی حکومت آئندہ سال 15 اگست سے منتخبہ مقامات اور سرکلس میں ۵-جی خدمات کے آغاز کی کوشش کررہی ہے۔ ذرائع کے مطابق -۵جی

اسپکٹرم کا ہرّاج(نیلامی) آئندہ سال اپریل۔مئی میں ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔ورچوول کرنسیوں کے اشتہارات پر پابندی کا فیصلہ اب تک نہیں کیا گیا: نرملا سیتا رمنitharaman.html

 اسپکٹرم کی قیمتوں سے متعلق ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے فروری-مارچ میں سفارشات پیش کرنے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر مواصلات اشونی ویشنو نے محکمہ ٹیلی کمیونکیشن کے عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں ۱۵ اگست سے ۵-جی خدمات کے منتخبہ سرکلس یا مقامات پر آغاز کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔



کے وائے سی متعلق کسی بھی جعلی میسیج یا کال کا جواب نہ دیں، تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤن لوڈ نہ کریں، ورنہ رازداری کی خلاف ورزی، مالی نقصان یا ڈیٹا ضائع ہونے کا خطرہ

موبائل سروس پرووائڈرز کی جانب سے باقاعدگی سے خبردار کیا جاتا ہے کہ کے وائے سی کیلئے کسی بھی کال کو قبول نہیں کیا جائے اور آپ کے فون پر تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی کسی تجویز پر توجہ نہ دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔چکن، مٹن اور مچھلی سے زیادہ گائے کا گوشت کھائیں: بی جے پی وزیر

ہندوستان میں موبائل، کالس، برقی پیغامات کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔اسی کے ساتھ متعدد پیغامات میں خبردار کیا جاتا ہے کہ کے وائی سی نہ کروانے کے سبب فون میں موجود سم کارڈ چند گھنٹوں یا چند روز میں بلاک ہوجائے گا۔سیلولر آپریٹرز ایسوی ایشن آف انڈیا نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ صارفین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ایسی کالس اور پیغامات جعلی ہیں۔ایسی کالز میں صارفین سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے فون پر تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، اور شناختی دستاویزات جیسے آدھار اور پین کارڈ اپ لوڈ کریں اور کے وائے سی کا عمل مکمل کریں۔جو کہ سراسر دھوکہ ہے۔سیلولر آپریٹرز ایسوی ایشن آف انڈیا نے کہا کہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ کچھ شرارتی عناصر جعلی پیغامات بھیج رہے کہ یا لوگوں کو کال کرکے سم کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ صارف کی کے وائے سی کے دستاویزات نامکمل ہیں۔اس طرح کے پیغامات اور کال سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔اس طرح کی جعلسازی سے لوگوں کو باآسانی پھنسایا جاسکتا ہے۔اس طرح کے کال کرکے لوگوں کو غلط مشورے دیئے جاتے ہیں کہ وہ کسی خاص نمبر پر کال کریں یا کوئی ایپ ڈاؤنلوڈ کریں۔اگر غلط ہدایت پر عمل کیا جاتا ہے تو ممکنہ طور پر رازداری کی خلاف ورزی، مالی نقصان یا ڈیٹا ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔حالانکہ موبائل سروس پروائڈر صارفین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کسی قریبی اسٹور پر جائیں یا آفیشل ایپ کا استعمال کرتے ہوئے کے وائے سی کروائیں۔اس طریقے میں تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤنلوڈ کرنے یا دستاویزات اپلوڈ کرنے کیلئے  نہیں کہا جاتا۔

 بیٹری مکمل چارج کرنے پر 95 کلو میٹر تک سفر طے کیا جاسکتا ہے، 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار

بجاج چیتک الیکٹرانک اسکوٹر کی بکنگ کا آغاز ہوچکا ہے۔فی الحال کمپنی صرف تین شہروں میں ہی اس کی بکنگ کررہی ہے۔کمپنی کے مطابق میسور، منگلور اور اورنگ آباد میں بکنگ کا آغاز کردیا گیا ہے۔بجاج کی آفیشیل ویب سائٹ پر اس الیکٹرانک اسکوٹر کو بک کیا جاسکتا ہے۔اس اسکوٹر کی دو قسمیں لانچ کی جارہی ہے جن میں  

urbane  اور Premium

 شامل ہے۔

Urbane 

ویرینٹ کی قیمت ایک لاکھ روپے ہے جبکہ پریمیم کی قیمت ایک لاکھ 15 ہزار روپے ہے۔اس سے قبل یہ اسکوٹر صرف پونے اور بینگلورو میں فروخت کیا جارہا تھا لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ آئندہ سال 2022 تک یہ اسکوٹر ملک کے 22 شہروں میں دستیاب ہوگا۔

بجاج کے اس اسکوٹر میں 3 کلو واٹ آئی پی 67 بیٹری نصب کی گئی ہے بیٹری مکمل چارج کرنے پر 95 کلو میٹر تک سفر طے کیا جاسکتا ہے۔جبکہ 60 منٹ کے کویک چارج میں اس کی بیٹری کو 25 فیصد چارج کیا جاسکتا ہے۔یہ اسکوٹر 70 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے۔بیٹری مکمل چارج ہونے میں 5 گھنٹے لگتے ہیں۔اس اسکوٹر کی دونوں اقسام میں 6 مختلف رنگ دستیاب ہیں جبکہ اسٹیل باڈی پینل دیئے گئے ہیں۔

آزاد مصنفین اور صحافیوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا فیس بک کا نیا پلیٹ فارم بُلیٹن، کمپنی اپنے مصنفین کی کمائی سے حصہ نہیں لے گی

 فیس بک بانی و سی ای او مارک زکربرگ نے آزاد مصنفین,  رپورٹرز کی تعداد میں اضافے اور براہ راست رابطوں کے ذریعے رقم کمانے اور کاروبار چلانے کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے حالیہ آڈیو کانفرنس میں نیا پلیٹ فارم بلیٹن متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیس بک نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے نئے پلیٹ فارم پر لکھنے کے لئے آزاد مقامی صحافیوں کو بھرتی کرنے پر 5 ملین ڈالر صرف کرے گا۔فیس بک لانچ کے وقت کسی بھی رکنیت کی فیس میں کوئی کٹوتی نہں کرے گا اور نہ ہی کمپنی اپنے مصنفین کی کمائی میں سے حصہ لے گا، انہیں اپنے مواد کی پوری اجرت دی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ پلیٹ فارم آزاد مصنفین کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا اور فیس بک ایسے تمام مصنفین کو ادائیگی کرے گا جو اس پلیٹ فارم کا حصہ ہوں گے۔

 

 


واٹس ایپ نے فون نمبر، کانٹیکٹ لسٹ اور نجی معلومات فیس بک سے شیئر کرنے کی شرط لاگو کردی، جانئیے مکمل تفصیل

گزشتہ چند روز میں دنیا بھر کے 200 میلین واٹس ایپ یوزرس کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری 2021ء سے تمام واٹس ایپ یوزرس کو واٹس ایپ کی شرائط کو قبول کرنا ہوگا، اور اگر آپ ان شرائط کو قبول نہیں کرتے ہیں تو آپ 8 فروری سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔واٹس ایپ کے مذکورہ نوٹیفکیشن کے مطابق واٹس ایپ اب آپ کا ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شیئر کرے گا۔واضح رہے کہ واٹس ایپ اب فیس بک کی سرپرستی میں چلایا جارہا ہے۔

آپ کے نجی ڈیٹا میں مندرجہ ذیل تفصیلات شامل ہیں جو فیس بک کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

1) آپ کا فون نمبر،

2) آپ کے تمام کانٹیکٹ

3) آپ کا واٹس ایپ اسٹیٹس

یہ تمام معلومات اب واٹس ایپ کے ذریعے فیس بک کے ڈیٹا بیس پر موجود ہوگی۔آگر آپ ان شرائط کو قبول نہیں کرتے تو آپ کو اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنا پڑے گا۔2009ء میں جب واٹس کا آغاز ہوا تھا اس وقت واٹس ایپ نے اپنی مفت خدمات کے ذریعے لوگوں کو راغب کیا تھا، یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہمارے پیغامات اور ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہیں کئے جائیں گے۔لیکن اب دنیا کا ہر تیسرا شخص واٹس ایپ استعمال کرتا ہے، اور واٹس ایپ پر لاکھوں افراد کا یہ ڈیٹا کا ذخیرہ فیس بک کے کاروبار میں مزید اضافہ کرے گا۔واٹس ایپ بظاہر ایک ضروری خدمت کی طرح ہے جو اپنے خاندان، دوستوں ساتھیوں سے رابطہ میں رہنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ہماری روزمرہ کی ضروری مواصلاتی سرگرمیاں بھی واٹس ایپ کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔اب واٹس ایپ کی نئی شرائط اور پالیسی کو قبول کرنے کے ساتھ ہی ہم اپنی پسند، ناپسند، معاشی تفصیلات، پتے، کانٹیکس اور تمام نجی و پیشہ وارانہ تفصیلات فیس بک کے ساتھ شیئر کرنے پر رضامند ہوجائیں گے۔

اس سے واٹس ایپ کو کیا فائدہ ہوگا؟

واٹس ایپ سے یہ سارے ڈیٹا فیس بک پر جائیں گے۔ فیس بک جیسی کمپنیوں نے لاکھوں لوگوں کی معلومات کو رکھنے کیلئے بڑے ڈیٹا سینٹرز بنائے ہیں۔ اور فیس بک اس ڈیٹا کو دوسری کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرے گا۔ ملک میں سیکڑوں کمپنیاں ہیں جو آپ کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں۔ کمپنیوں کے ذریعہ ڈیٹا سے باخبر رہنا آسان ہوجائے گا۔ ہم بنیادی طور پر واٹس ایپ کی مفت خدمات کے بدلے اپنی رازداری کا سودا کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ڈیٹا کو دنیا کے نئے oil سے تعبیر کیا جارہا ہے۔جس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس کے پیش نظر فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 2014ء میں ایک لاکھ 39 ہزار کروڑ روپے میں خریدا تھا۔اس وقت ایسا کہا جارہا تھا کہ فیس بک نے اس سودے پر زیادہ رقم خرچ کردی ہے۔حالانکہ زکربرگ کے پاس اس سودے سے مزید منافع کمانے کا منصوبہ موجود تھا۔واٹس ایپ خریدنے کے دو سال بعد زکربرگ اس کا ڈیٹا فروخت کرکے روپیہ کمانا چاہتے تھے لیکن واٹس ایپ کے بانی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کمپنی سے استعفی دے دیا۔واضح رہے کہ فیس بک کی 99 فیصد آمدنی ڈیجیٹل ایڈ سے ہوتی ہے۔2019ء میں فیس بک کی سالانہ آمدنی 5 لاکھ 21 ہزار کروڑ تھی۔اب واٹس ایپ کے ذریعے دنیا بھر کے 200 میلین سے زائد افراد کا ڈیٹا ملنے کے بعد فیس بک کی آمدنی میں مزید اضافہ کے امکانات ہیں۔فیس بک کی مجموعی دولت 10 لاکھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔واضح رہے کہ سال 2020ء میں ہندوستان کا دفاعی بجٹ 3 لاکھ 37 ہزار کروڑ تھا جبکہ فیس کی خالص دولت ہندوستان کے دفاعی بجٹ کا تین گنا ہے۔