Articles by "Facebook"
Showing posts with label Facebook. Show all posts

نئے فیچر صارفین کو مزید رازداری فراہم کریں گے، اسی ماہ کی جائیں گی واٹس ایپ میں کچھ بڑی تبدیلیاں 

میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ تین نئے پرائیویسی فیچرز لارہا ہے۔ ان فیچرز کے متعارف ہونے کے بعد صارفین خاموشی سے گروپ چھوڑ سکیں گے، وہ اس متبادل کا انتخاب بھی کر سکیں گے کہ کون انہیں آن لائن دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں. ویو ونس میسجز کے اسکرین شاٹس بھی بلاک کر دیے جائیں گے۔ میٹا کے بانی اور سی ای او مارک زکربرگ نے کہا کہ ہم آپ کے پیغامات کو محفوظ رکھنے اور انہیں روبرو گفتگو کی طرح نجی اور محفوظ رکھنے کے لئے نئے طریقے متعارف کرانا جاری رکھیں گے۔

*پرائیویسی کے نئے فیچرز*

*خاموشی سے گروپ چھوڑیں*

 یہ فیچر صارفین کو کسی کو مطلع کیے بغیر گروپ سے باہر نکلنے کی اجازت دے گا۔ جب کوئی گروپ چھوڑنا چاہے گا تو صرف منتظمین(ایڈمن) کو مطلع کیا جائے گا۔ یہ فیچر رواں ماہ متعارف کرایا جائے گا۔

*آن لائن ہونے پر کنٹرول کریں*

*یہ خصوصیت صارفین کو اپنی آن لائن موجودگی کو نجی رکھنے کی اجازت دے گی۔ جب صارف آن لائن ہوتا ہے، تو وہ فیصلہ کر سکے گا کہ کون اسے آن لائن دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں۔ یہ فیچر بھی اسی ماہ سے شروع کیا جائے گا۔

*ویو ونس میسجز کے اسکرین شاٹس کو روکنے کے قابل ہوں گے. ویو ونس میسجز فیچر صارف کو مستقل ڈیجیٹل ریکارڈ کے بغیر فوٹو یا میڈیا شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ویو ونس پیغامات کے اسکرین شاٹس کو بلاک کرنے سے، صارفین کو سیکیورٹی ملے گی۔ اس فیچر کی جانچ کی جا رہی ہے اور جلد ہی اسے متعارف کرایا جائے گا۔


*گروپ کے ممبران آپ کا نمبر نہیں دیکھ سکیں گے*

اس فیچر کے بارے میں معلومات ماضی میں سامنے آئی تھیں۔ یہ فیچر ڈیولپمنٹ کے مرحلے میں ہے اور اسے ٹیسٹنگ کے بعد جلد ہی لانچ کیا جائے گا۔ دراصل کئی بار ہم ایسے گروپوں میں شامل ہو جاتے ہیں جن میں سے بعض کا نام تک نہیں آتا۔ ایسی صورتحال میں دوسرا صارف ہماری مرضی کے خلاف نمبر دیکھ کر اپنے فون میں محفوظ کر سکتا ہے لیکن نیا فیچر آنے کے بعد گروپ کے دیگر ممبران آپ کا موبائل نمبر نہیں دیکھ سکیں گے۔ واٹس ایپ نے اس سال کئی دیگر چھوٹی مگر معنی خیز اپ ڈیٹس کی ہیں۔ ایموجی ری ایکشنز کو رول آؤٹ کرنے اور صوتی پیغامات کو تیز کرنے کا طریقہ پیش کرنے کے علاوہ، پلیٹ فارم نے اینڈرائیڈ صارفین کو اپنی چیٹ ہسٹری آئی فون میں منتقل کرنے کی اجازت بھی دینا شروع کر دی ہے۔

واٹس ایپ پروڈکٹ ہیڈ امی ویرا نے کہا کہ واٹس ایپ میں ہم ایسی خصوصیات متعارف کرانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو لوگوں کو اپنے پیغامات پر زیادہ کنٹرول اور رازداری کے لیے بااختیار بناتے ہیں۔ کوئی دوسری عالمی میسجنگ سروس اپنے صارفین کو اس سطح کی سیکیورٹی فراہم نہیں کرتی ہے۔

کمیونٹیز نامی فیچر پر کام جاری، بیٹا ورژن آزمائشی فیچر کو صارفین نے زبردست قرار دیا

واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں، جنہیں سہولیات فراہم کرنے اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں سبقت برقرار رکھنے کے لیے کمپنی کی جانب سے نت نئے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔دو سال کی عمر سے روزانہ چالیس سگریٹ پینے والے بچے نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی

ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے گروپس کو ایک جگہ کرنے کے حوالے سے ’کمیونیٹیز‘ نامی فیچر پر کام شروع کیا ہے، جس کے بعد صارف زیادہ سے زیادہ دس گروپس کو فولڈر کی شکل میں ایک جگہ جمع کرسکیں گے۔

یہ فیچر فی الحال آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم پر بیٹا ورژن پر آزمائش کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جسے صارفین زبردست اور شاندار قرار دے رہے ہیں۔

کمیونٹیز دراصل واٹس ایپ گروپ کی طرح کا ایک فولڈر ہوگا جس کو تشکیل دینے والا صارف خود ہی ایڈمن ہوگا اور وہ گروپ ایڈمن کی طرح کسی بھی میسج اور گروپ کو حذف کرسکے گا جبکہ صارف اپنی مرضی کے مطابق کمیونٹی کا نام اور گروپ کی تفصیل کو درج کرسکے گا۔جب کوئی نیا ممبر کمیونٹی کو چھوڑ دے گا تو پھر اُسے گروپ کا لنک اور یہاں شیئر ہونے والے مواد تک رسائی نہیں ہوسکی گی بلکہ یہ خود بہ خود غائب ہوجائے گا۔

آزاد مصنفین اور صحافیوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا فیس بک کا نیا پلیٹ فارم بُلیٹن، کمپنی اپنے مصنفین کی کمائی سے حصہ نہیں لے گی

 فیس بک بانی و سی ای او مارک زکربرگ نے آزاد مصنفین,  رپورٹرز کی تعداد میں اضافے اور براہ راست رابطوں کے ذریعے رقم کمانے اور کاروبار چلانے کے پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے حالیہ آڈیو کانفرنس میں نیا پلیٹ فارم بلیٹن متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیس بک نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے نئے پلیٹ فارم پر لکھنے کے لئے آزاد مقامی صحافیوں کو بھرتی کرنے پر 5 ملین ڈالر صرف کرے گا۔فیس بک لانچ کے وقت کسی بھی رکنیت کی فیس میں کوئی کٹوتی نہں کرے گا اور نہ ہی کمپنی اپنے مصنفین کی کمائی میں سے حصہ لے گا، انہیں اپنے مواد کی پوری اجرت دی جائے گی۔واضح رہے کہ یہ پلیٹ فارم آزاد مصنفین کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا اور فیس بک ایسے تمام مصنفین کو ادائیگی کرے گا جو اس پلیٹ فارم کا حصہ ہوں گے۔

 

 


اردگان کے میڈیا دفتر نے واٹس ایپ کا استعمال بند کرنے کا فیصلہ کیا، ترکوں سے مقامی اور قومی ایپ BiP اور Dedi کا استعمال کرنے کی درخواست

واٹس ایپ کے ذریعے صارفین کو نئی شرائط قبول کرنے پر مجبور کئے جانے کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اہم اقدامات کئے ہیں۔رجب طیب اردگان کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ میسجنگ ایپ کے ذریعے متعدد صارفین کو متنازعہ نئی رازداری کی پالیسی قبول کرنے کیلئےمجبور کرنے کے اقدام کے بعد وہ واٹس ایپ کا استعمال بند کررہے ہیں۔اتوار کے روز واٹس ایپ کے ذریعے جاری ایک بیان میں ترکی صدر کے میڈیا دفتر نے اعلان کیا کہ اب صحافیوں کو ترکی کی کمیونیکیشن کمپنی ترک سیل کے ایپ BiP کے ذریعے خبروں سے آگاہ کیا جائے گا۔واضح رہےکہ واٹس ایپ کے ذریعے صارفین کے ڈیٹا فیس بک پر شیئر کرنے سے متعلق شرائط لاگو کئے جانے کے بعد ترکی کے عوام ٹوئیٹر پر اس اقدام کی سخت مخالفت کرتے ہوئے

#DeletingWhatsapp

کے ہیش ٹیگ سے مہم چلا رہے ہیں۔ترکش اسٹیٹ میڈیا نے ترک سیل کمپنی کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں BiP ایپ پر 1.12 میلین یوزر جڑچکے ہیں۔جس کے بعد دنیا بھر میں BiP کے 53 میلین سے زائد یوزر ہوگئے ہیں۔واٹس ایپ کی شرائط اور خدمات میں ردوبدل 8 فروری سے نافذ ہوگا اور وہ اپنی سرپرست کمپنی فیس بک اور اس کے دیگر ماتحت اداروں کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرنے کی اجازت دیں گے۔ڈیڈ لائن کے بعد بھی واٹس ایپ کا استعمال جاری رکھنے کے لئے Users ،صارفین کو نئی شرائط سے اتفاق کرنا ہوگا۔ سنیچر کے روز ترکی کے صدارتی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن آفس کے سربراہ علی طحہ نے واٹس ایپ کی نئی شرائط، برطانیہ اور یوروپی یونین کے صارفین کے لئے ڈیٹا شیئر کرنے کے نئے قواعد پر سخت تنقید کی۔انہوں نے ترکوں سے "قومی اور مقامی" ایپ BiP اور Dedi استعمال کرنے کی درخواست کی ہے۔ علی طحہ نے ٹوئیٹ کرکےکہا کہ "ڈیٹا پرائیویسی کے معاملے میں یوروپی یونین کے رکن ممالک اور دوسروں کے درمیان امتیاز ناقابل قبول ہے! جیسا کہ ہم نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن سیکیورٹی گائیڈ لائن میں حوالہ دیا ہے۔ ڈیٹا شیئر کئے جانے میں خطرہ ہے۔اسی وجہ سے ہمیں اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا کو مقامی اور قومی سافٹ ویئر کے ساتھ محفوظ رکھنے اور اپنی ضروریات کے مطابق ان کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مت بھولنا کہ ترکی کا ڈیٹا مقامی اور قومی متبادل کی بدولت ترکی میں ہی رہے گا۔کمپنی کے مطابق تازہ ترین شرائط صرف واٹس ایپ اور فیس بک کے درمیان انسٹاگرام اور میسنجر جیسے رابطوں اور پروفائل ڈیٹا کے مابین معلومات کی اضافی شیئرنگ کی اجازت دیتی ہے لیکن ان پیغامات کا مواد نہیں جو خفیہ ہیں۔یعنی یوزر کا نام، پتہ اور اس کے رابطوں کی معلومات شیئر کی جائے گی جبکہ یوزر کے ذریعے ارسال کئے جانے والے پیغامات میں رازداری برتی جائے گی۔واٹس ایپ کا مقصد ہے کہ وہ اپنے یوزرس کا ڈیٹا دیگر کاروباری کمپنیوں کو شیئر کرے تاکہ وہ اپنے پروڈکٹس براہ راست ان یوزرس کو فروخت کرسکیں اور واٹس ایپ کو اس سے زیادہ آمدنی ہو۔

 


واٹس ایپ نے فون نمبر، کانٹیکٹ لسٹ اور نجی معلومات فیس بک سے شیئر کرنے کی شرط لاگو کردی، جانئیے مکمل تفصیل

گزشتہ چند روز میں دنیا بھر کے 200 میلین واٹس ایپ یوزرس کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 8 فروری 2021ء سے تمام واٹس ایپ یوزرس کو واٹس ایپ کی شرائط کو قبول کرنا ہوگا، اور اگر آپ ان شرائط کو قبول نہیں کرتے ہیں تو آپ 8 فروری سے واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔واٹس ایپ کے مذکورہ نوٹیفکیشن کے مطابق واٹس ایپ اب آپ کا ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شیئر کرے گا۔واضح رہے کہ واٹس ایپ اب فیس بک کی سرپرستی میں چلایا جارہا ہے۔

آپ کے نجی ڈیٹا میں مندرجہ ذیل تفصیلات شامل ہیں جو فیس بک کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

1) آپ کا فون نمبر،

2) آپ کے تمام کانٹیکٹ

3) آپ کا واٹس ایپ اسٹیٹس

یہ تمام معلومات اب واٹس ایپ کے ذریعے فیس بک کے ڈیٹا بیس پر موجود ہوگی۔آگر آپ ان شرائط کو قبول نہیں کرتے تو آپ کو اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنا پڑے گا۔2009ء میں جب واٹس کا آغاز ہوا تھا اس وقت واٹس ایپ نے اپنی مفت خدمات کے ذریعے لوگوں کو راغب کیا تھا، یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہمارے پیغامات اور ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہیں کئے جائیں گے۔لیکن اب دنیا کا ہر تیسرا شخص واٹس ایپ استعمال کرتا ہے، اور واٹس ایپ پر لاکھوں افراد کا یہ ڈیٹا کا ذخیرہ فیس بک کے کاروبار میں مزید اضافہ کرے گا۔واٹس ایپ بظاہر ایک ضروری خدمت کی طرح ہے جو اپنے خاندان، دوستوں ساتھیوں سے رابطہ میں رہنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ہماری روزمرہ کی ضروری مواصلاتی سرگرمیاں بھی واٹس ایپ کے ذریعے انجام پاتی ہیں۔اب واٹس ایپ کی نئی شرائط اور پالیسی کو قبول کرنے کے ساتھ ہی ہم اپنی پسند، ناپسند، معاشی تفصیلات، پتے، کانٹیکس اور تمام نجی و پیشہ وارانہ تفصیلات فیس بک کے ساتھ شیئر کرنے پر رضامند ہوجائیں گے۔

اس سے واٹس ایپ کو کیا فائدہ ہوگا؟

واٹس ایپ سے یہ سارے ڈیٹا فیس بک پر جائیں گے۔ فیس بک جیسی کمپنیوں نے لاکھوں لوگوں کی معلومات کو رکھنے کیلئے بڑے ڈیٹا سینٹرز بنائے ہیں۔ اور فیس بک اس ڈیٹا کو دوسری کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرے گا۔ ملک میں سیکڑوں کمپنیاں ہیں جو آپ کے بارے میں جاننا چاہتی ہیں۔ کمپنیوں کے ذریعہ ڈیٹا سے باخبر رہنا آسان ہوجائے گا۔ ہم بنیادی طور پر واٹس ایپ کی مفت خدمات کے بدلے اپنی رازداری کا سودا کررہے ہیں۔واضح رہے کہ ڈیٹا کو دنیا کے نئے oil سے تعبیر کیا جارہا ہے۔جس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس کے پیش نظر فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 2014ء میں ایک لاکھ 39 ہزار کروڑ روپے میں خریدا تھا۔اس وقت ایسا کہا جارہا تھا کہ فیس بک نے اس سودے پر زیادہ رقم خرچ کردی ہے۔حالانکہ زکربرگ کے پاس اس سودے سے مزید منافع کمانے کا منصوبہ موجود تھا۔واٹس ایپ خریدنے کے دو سال بعد زکربرگ اس کا ڈیٹا فروخت کرکے روپیہ کمانا چاہتے تھے لیکن واٹس ایپ کے بانی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کمپنی سے استعفی دے دیا۔واضح رہے کہ فیس بک کی 99 فیصد آمدنی ڈیجیٹل ایڈ سے ہوتی ہے۔2019ء میں فیس بک کی سالانہ آمدنی 5 لاکھ 21 ہزار کروڑ تھی۔اب واٹس ایپ کے ذریعے دنیا بھر کے 200 میلین سے زائد افراد کا ڈیٹا ملنے کے بعد فیس بک کی آمدنی میں مزید اضافہ کے امکانات ہیں۔فیس بک کی مجموعی دولت 10 لاکھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے۔واضح رہے کہ سال 2020ء میں ہندوستان کا دفاعی بجٹ 3 لاکھ 37 ہزار کروڑ تھا جبکہ فیس کی خالص دولت ہندوستان کے دفاعی بجٹ کا تین گنا ہے۔