Articles by "Google"
Showing posts with label Google. Show all posts

شریک بانی جاوید کریم کی اس معمولی ویڈیو پر 356 ملین سے زائد ویوز

یوٹیوب کی ابتداء میں جب یہ ویڈیو اپلوڈنگ کی دنیا میں اتنا بڑا پلیٹ فارم نہیں تھا اور نہ ہی یہ تخلیق کاروں کیلئے کرئیر بنانے کا کوئی ذریعہ تھا. اس وقت یوٹیوب پر پہلی ویڈیو کلپ "می ایٹ دی زوو"  

Me at the Zoo اپلوڈ کی گئی تھی. یہ ویڈیو آج سے تقریباً 20 سال قبل اپلوڈ کی گئی تھی.

یہ بھی پڑھیں:.. سترہ سال بعد بالآخر مالیگاؤں بم دھماکہ کیس ختم، 8 مئی کو عدالت سنائے گی فیصلہl

 اپریل23، 2005 کو یوٹیوب کے شریک بانی جاوید کریم نے سین ڈیاگو زوو سے ایک ویڈیو کلپ اپلوڈ کی تھی، یہ ویڈیو اب 20 سال پرانی ہوچکی ہے. جس میں وہ ہاتھیوں کے سامنے کھڑے ہیں اور ایک بہت ہی معمولی کی لائن (ایک جملہ) کہتے ہیں کہ "ہم ہاتھیوں کے سامنے کھڑے ہیں اور ان کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ ان کے پاس لمبی سونڈ ہے.

Watch Video Here

اس ویڈیو پر 356 ملین ویوز اور 17 ملین لائکس ہیں. اور یہ کریم کے چینل پر اپلوڈ واحد ویڈیو ہے جس کے اب 5.3 ملین سے زائد سبسکرائبر ہیں. جاوید کریم، چیڈ ہرلی، اسٹیو چین اور پے پال کے کچھ سابق ملازمین کے ذریعے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب 14 فروری 2005 کو قائم کیا گیا. یہ گوگل کی ملکیت ہے.

نئی اے آئی ٹیکنالوجی فوٹوگرافی کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گی، انتہائی کم روشنی میں بہترین تصاویر لینا ہوگا ممکن 

گوگل کی جانب سے ایک نئی اے آئی امیج نوائز ریڈکشن ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے جو لوگوں کو اندھیرے میں بھی واضح تصاویر نکالنے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس اے آئی ٹیکنالوجی سے انتہائی کم روشنی میں بہترین تصاویر لینا ممکن ہوجائے گا۔

گوگل کی نئی تحقیق میں اس ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کسی تاریک مقام کو طاقتور ڈی نوائزنگ ٹیکنالوجی سے فوٹوگرافی کے قابل بنادے گا۔ اس ٹیکنالوجی کو RawNeRF کا نام دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کم روشنی میں لی جانے والی تصاویر میں زیادہ تفصیلات کا اضافہ کردیتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ نورل ریڈینس فیلڈز (NeRF) ایک ایسی تیکنیک ہے جو اندھیرے میں لی جانے والی تصاویر کا معیار بہتر بناتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کسی منظر میں کیمرا پوزیشن، ایکسپوزر اور ٹون میپنگ کو استعمال کرکے تصاویر کا معیار بہتر بناتی ہے، درحقیقت صرف موم بتی کی روشنی میں بھی ایسی تصاویر لینا ممکن ہے جیسے انہیں بہت زیادہ روشنی میں لیا گیا ہو۔ فی الحال یہ ٹیکنالوجی تحقیقی مرحلے سے گزر رہی ہے اور مستقبل قریب میں کسی وقت اسے عام استعمال کے لیے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔