Articles by "Mobile"
Showing posts with label Mobile. Show all posts

گزشتہ 8 سالوں سے کامیاب خدمات، 5 ہزار سے 1 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فونز دستیاب

مالیگاؤں (پریس ریلیز): اولڈ آگرہ روڈ، بیسٹ اسکوائر میں قائم جدید موبائل شوروم "فون بازار، بی کے سی موبائل (سٹی سینٹر موبائل)" کا آج شاندار افتتاح سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید اور مالیگاؤں کی میئر نسرین شیخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ افتتاحی تقریب میں شہر کی سیاسی، سماجی، تجارتی اور کاروباری شخصیات سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور دعا سے ہوا، جس کے بعد مہمانانِ خصوصی نے ربن کاٹ کر شوروم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر آصف شیخ رشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید دور میں موبائل ٹیکنالوجی انسانی زندگی کا اہم حصہ بن چکی ہے اور مالیگاؤں میں ایسے جدید شوروم کا قیام خوش آئند ہے، جس سے شہریوں کو معیاری مصنوعات اور بہتر خدمات دستیاب ہوں گی۔ میئر نسرین شیخ نے اپنے خطاب میں منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری میدان میں نئی سرمایہ کاری اور جدید سہولیات کی فراہمی شہر کی ترقی کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ "فون بازار" عوام کا اعتماد حاصل کرتے ہوئے بہترین خدمات فراہم کرے گا۔

شوروم کے ذمہ داران کارپوریٹر ببو قریشی (منماڑ)، شفیق بگوان اور اویس شیخ (ماڈل) نے تمام مہمانوں اور شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "فون بازار" کے قیام کا مقصد مالیگاؤں کے عوام کو آئی فون، سام سنگ، ویوو، اوپو، ریئل می، ون پلس اور دیگر معروف برانڈز کے جدید اسمارٹ فونز مناسب قیمتوں اور آسان فنانس سہولیات کے ساتھ ایک ہی مقام پر فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ گزشتہ 8 سالوں سے موبائل کاروبار کے شعبے میں کامیابی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہا ہے اور صارفین کے اعتماد پر پورا اترنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ جبکہ "فون بازار" میں 5 ہزار روپے سے لے کر 1 لاکھ روپے سے زائد مالیت تک کے مختلف برانڈز کے اسمارٹ فونز دستیاب ہیں،

تقریب کے دوران مہمانوں نے شوروم کا معائنہ کیا اور فراہم کی جانے والی سہولیات کو سراہا۔ افتتاحی تقریب میں شریک افراد نے منتظمین کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے کاروبار کی کامیابی اور ترقی کے لیے دعا کی۔ واضح رہے کہ "فون بازار" بیسٹ اسکوائر، اولڈ آگرہ روڈ، شاپ نمبر G-04، گراؤنڈ فلور، مالیگاؤں میں قائم کیا گیا ہے، جہاں صارفین کو جدید موبائل فونز، موبائل لوازمات اور مختلف فنانسنگ اسکیموں کی سہولت دستیاب ہوگی۔

نئی اے آئی ٹیکنالوجی فوٹوگرافی کی دنیا میں انقلاب برپا کردے گی، انتہائی کم روشنی میں بہترین تصاویر لینا ہوگا ممکن 

گوگل کی جانب سے ایک نئی اے آئی امیج نوائز ریڈکشن ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے جو لوگوں کو اندھیرے میں بھی واضح تصاویر نکالنے میں مدد فراہم کرے گی۔ اس اے آئی ٹیکنالوجی سے انتہائی کم روشنی میں بہترین تصاویر لینا ممکن ہوجائے گا۔

گوگل کی نئی تحقیق میں اس ٹیکنالوجی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کسی تاریک مقام کو طاقتور ڈی نوائزنگ ٹیکنالوجی سے فوٹوگرافی کے قابل بنادے گا۔ اس ٹیکنالوجی کو RawNeRF کا نام دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ ٹیکنالوجی کم روشنی میں لی جانے والی تصاویر میں زیادہ تفصیلات کا اضافہ کردیتی ہے۔ محققین نے بتایا کہ نورل ریڈینس فیلڈز (NeRF) ایک ایسی تیکنیک ہے جو اندھیرے میں لی جانے والی تصاویر کا معیار بہتر بناتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کسی منظر میں کیمرا پوزیشن، ایکسپوزر اور ٹون میپنگ کو استعمال کرکے تصاویر کا معیار بہتر بناتی ہے، درحقیقت صرف موم بتی کی روشنی میں بھی ایسی تصاویر لینا ممکن ہے جیسے انہیں بہت زیادہ روشنی میں لیا گیا ہو۔ فی الحال یہ ٹیکنالوجی تحقیقی مرحلے سے گزر رہی ہے اور مستقبل قریب میں کسی وقت اسے عام استعمال کے لیے متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

گیم ہارنے پر دوستوں نے 200 جوتے مارے، نابالغ اسپتال میں داخل، والدین نے مقدمہ درج کروایا، تفتیش جاری

مغربی بنگال کے مشرقی میدنی پور ضلع میں ایک نابالغ کو 200 جوتے مارنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ موبائل گیم میں ہارنے کے بعد اسے جوتوں سے مارا گیا۔ لڑکے کو میدنی پور میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں اس کا علاج چل رہا ہے۔ پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ واقعہ پوٹاش پور گاؤں کا ہے۔  بدھ کے روز کچھ نابالغ لڑکے اپنے گھر سے دور ایک خالی جگہ پر موبائل گیم کھیل رہے تھے۔  اس میں ہارنے پر 200 بار جوتوں سے مارنے کی شرط تھی، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایک نابالغ کو گیم ہارنے کے بعد 200 بار جوتوں سے مارا گیا۔ گھر واپس آنے کے بعد نابالغ کی حالت بگڑ گئی، گھر واپس آنے کے بعد نابالغ بیمار پڑ گیا اور اس کی ناک سے خون بہنے لگا۔ زخمی حالت میں بچے کو پہلے پرائمری ہیلتھ سنٹر لے جایا گیا اور بعد میں اس کی حالت بگڑنے پر اسے میدنی پور میڈیکل کالج میں داخل کرایا گیا۔ بچے کے ساتھیوں سے پوچھنے پر موبائل گیم کا علم ہوا۔

نابالغ کے اہل خانہ نے مقامی پولیس اسٹیشن پہنچ کر مقدمہ درج کرایا۔  اس کے بعد ملزم نابالغوں کو پوچھ تاچھ کے لیے پوٹاش پور پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ پوچھ تاچھ کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔  معلوم ہوا ہے کہ موبائل گیم ہارنے سے شدید زخمی ہونے والا کمسن اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اگرچہ ابھی تک گیم کا نام اور دیگر معلومات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گیم کی شرط صرف یہ ہے کہ اگر آپ ہار گئے تو آپ کو کئی بار جوتوں سے مارا جائے گا۔ یہ 200 سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل بلیو وہیل نامی گیم ہندوستان، چین، امریکا سمیت کئی ممالک میں 300 سے زائد بچوں کی جان لے چکا ہے۔ گیم میں 50 دن کا ٹاسک دیا جاتا ہے اور آخر کار خودکشی جیسا قدم اٹھانا پڑتا تھا۔  یہ گیم فلپ نامی نوجوان نے بنائی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ کھیل معاشرے میں صفائی کے لیے ہے. کیونکہ خودکشی کرنے والے بائیولوجیکل ویسٹ ہیں.


کے وائے سی متعلق کسی بھی جعلی میسیج یا کال کا جواب نہ دیں، تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤن لوڈ نہ کریں، ورنہ رازداری کی خلاف ورزی، مالی نقصان یا ڈیٹا ضائع ہونے کا خطرہ

موبائل سروس پرووائڈرز کی جانب سے باقاعدگی سے خبردار کیا جاتا ہے کہ کے وائے سی کیلئے کسی بھی کال کو قبول نہیں کیا جائے اور آپ کے فون پر تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی کسی تجویز پر توجہ نہ دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔چکن، مٹن اور مچھلی سے زیادہ گائے کا گوشت کھائیں: بی جے پی وزیر

ہندوستان میں موبائل، کالس، برقی پیغامات کے استعمال میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔اسی کے ساتھ متعدد پیغامات میں خبردار کیا جاتا ہے کہ کے وائی سی نہ کروانے کے سبب فون میں موجود سم کارڈ چند گھنٹوں یا چند روز میں بلاک ہوجائے گا۔سیلولر آپریٹرز ایسوی ایشن آف انڈیا نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ صارفین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ایسی کالس اور پیغامات جعلی ہیں۔ایسی کالز میں صارفین سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے فون پر تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، اور شناختی دستاویزات جیسے آدھار اور پین کارڈ اپ لوڈ کریں اور کے وائے سی کا عمل مکمل کریں۔جو کہ سراسر دھوکہ ہے۔سیلولر آپریٹرز ایسوی ایشن آف انڈیا نے کہا کہ یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ کچھ شرارتی عناصر جعلی پیغامات بھیج رہے کہ یا لوگوں کو کال کرکے سم کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ صارف کی کے وائے سی کے دستاویزات نامکمل ہیں۔اس طرح کے پیغامات اور کال سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔اس طرح کی جعلسازی سے لوگوں کو باآسانی پھنسایا جاسکتا ہے۔اس طرح کے کال کرکے لوگوں کو غلط مشورے دیئے جاتے ہیں کہ وہ کسی خاص نمبر پر کال کریں یا کوئی ایپ ڈاؤنلوڈ کریں۔اگر غلط ہدایت پر عمل کیا جاتا ہے تو ممکنہ طور پر رازداری کی خلاف ورزی، مالی نقصان یا ڈیٹا ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔حالانکہ موبائل سروس پروائڈر صارفین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کسی قریبی اسٹور پر جائیں یا آفیشل ایپ کا استعمال کرتے ہوئے کے وائے سی کروائیں۔اس طریقے میں تھرڈ پارٹی ایپ ڈاؤنلوڈ کرنے یا دستاویزات اپلوڈ کرنے کیلئے  نہیں کہا جاتا۔