Articles by "Cabinet Minister"
Showing posts with label Cabinet Minister. Show all posts

دونوں گروہوں کے درمیان 50-50 فارمولا کے تحت بی جے پی اور شندے گروہ کے 9-9 وزراء نے حلف لیا، خواتین کو کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی

ایکناتھ شندے کے وزیر اعلی بننے کے 39 دن بعد آج بروز منگل مہاراشٹر کی کابینہ تشکیل دی گئی۔ کابینہ کی توسیع میں 50-50 کا فارمولا استعمال کیا گیا۔ دونوں طرف سے 9-9 ایم ایل ایز کو وزیر بنایا گیا ہے۔  سب سے پہلے بی جے پی کے رادھا کرشن وکھے پاٹل نے وزیر کے طور پر حلف لیا۔

شندے گروپ سے گلاب راؤ پاٹل، دادا بھوسے، سنجے راٹھور، سندیپان بھومرے، ادے سامنت، تاناجی ساونت، دیپک کیسرکر، عبدالستار اور شمبھو راج دیسائی کو وزارت دی گئی ہے. 

شندے کی نئی کابینہ کے تمام وزراء کروڑ پتی ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ جائیداد مالابار ہلز حلقے سے بی جے پی ایم ایل اے منگل پربھات لوڈھا کے پاس ہے۔ وہیں سب سے کم یعنی 2 کروڑ کی جائیداد پیٹھن سیٹ کے ایم ایل اے سندیپن بھومرے کے پاس ہے۔ کابینہ میں ایسے 12 وزراء ہیں جن پر فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے کچھ کے خلاف سنگین دفعات بھی ہیں۔انتخابی حلف نامے کے مطابق وزیر اعلی شندے کے خلاف 18 اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے خلاف 4 مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ شندے کی نئی کابینہ میں ایک وزیر 10ویں اور 5 وزیر 12ویں پاس ہیں۔  اس کے علاوہ ان میں ایک انجینئر، 7 گریجویٹ، 2 پوسٹ گریجویٹ اور ایک ڈاکٹریٹ کی ڈگری یافتہ وزیر شامل ہین. بی جے پی ایم ایل اے سریش کھڈے سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ ریاست کے سی ایم ایکناتھ شندے 10ویں پاس ہیں اور ڈپٹی سی ایم دیویندر فڑنویس نے گریجویشن کیا ہے۔ منگل پربھات لوڈھا جو کہ پیشے کے اعتبار سے بلڈر ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیر ترین وزیر ہیں۔ انتخابی حلف نامے کے مطابق ان کے پاس 441 کروڑ روپے سے زیادہ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ہیں۔ 6 بار ایم ایل اے رہنے والے لوڈھا کے پاس 252 کروڑ روپے سے زیادہ کی منقولہ جائیداد اور تقریباً 189 کروڑ روپے کے غیر منقولہ اثاثے ہیں۔ حلف نامے کے مطابق ان پر پانچ مجرمانہ معاملات درج ہیں.

شندے کی کابینہ کی تشکیل کے بعد اس پر پہلا ردعمل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی طرف سے آیا۔  پارٹی کی رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے نے کہا کہ ایکناتھ شندے نے اپنی کابینہ میں آدھی آبادی یعنی خواتین کو جگہ نہیں دی ہے۔ یہ بہت غلط ہے۔  آدتیہ ٹھاکرے کے قریبی ساتھی آنند دوبے نے بھی کسی خاتون کو وزیر نہ بنائے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے سب کا ساتھ، سب کا وکاس، لیکن ہماری آدھی آبادی کے ساتھ سوتیلا سلوک کرتی ہے۔

مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کا مانسون اجلاس 10 سے 18 اگست تک ہوگا۔ لیجسلیچر سکریٹریٹ نے مانسون سیشن سے قبل تیاریوں کے لیے تعطیل منسوخ کر دی ہیں۔ پیر کو سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ملازمین کی 9 سے 18 اگست کے درمیان تمام تعطیلات منسوخ کر دی گئی ہیں اور انہیں دفتر میں موجود رہنے کو کہا گیا ہے۔


بی جے پی صدر جے پی نڈا سے ملاقات, این ڈی اے کی جانب سے نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کا امیدوار بنائے جانے کا امکان


مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے آج ہونے والے کابینہ اجلاس کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ نقوی کے ساتھ مرکزی اسٹیل وزیر آر سی پی سنگھ نے بھی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دونوں کی راجیہ سبھا کی میعاد کل یعنی جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھین:.... سلمان خان کے وکیل کو جان سے مارنے کی دھمکی 

 نقوی کو حال ہی میں ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی نے امیدواری کیلئے نامزد نہیں کیا تھا تب سے یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ پارٹی انہیں ایک بڑے رول میں لانا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں این ڈی اے کی جانب سے نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کا امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔ نقوی اب تک مرکزی حکومت میں وزیر رہے ہیں، ساتھ ہی وہ راجیہ سبھا میں بی جے پی کی پارلیمانی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بھی تھے۔

 یہ بھی پڑھیں:...

ناسک کے صوفی بابا کا گولی مار کر قتل
مرکزی کابینہ کی میٹنگ کے بعد مختار عباس نقوی نے بی جے پی صدر جے پی نڈا سے ملاقات کی۔  تاہم دونوں لیڈران  کے درمیان کیا بات ہوئی اس بارے میں سرکاری معلومات نہیں مل سکیں۔ مختار عباس نقوی کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کے کوٹے سے مرکزی حکومت میں وزیر آر سی پی سنگھ نے بھی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جے ڈی یو نے بھی انہیں راجیہ سبھا میں اگلی میعاد کیلئے نامزد نہیں کیا۔  جمعرات کو آر سی پی سنگھ کا بطور راجیہ سبھا ایم پی آخری دن ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کی میٹنگ میں وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی اور آر سی پی سنگھ کی تعریف کی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی نے کہا کہ آپ نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔