فوٹو جرنلسٹ نے ٹوئیٹ کے ذریعے کہا کہ وہ ایک کتاب کی رونمائی اور فوٹو گرافی کی نمائش میں شرکت کیلئے پیرس جارہی تھیں

پلٹزر ایوارڈ یافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ کو سنیچر کے روز ایئر پورٹ پر امیگریشن حکام نے بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا اور کشمیر پولیس کی جانب سے عائد پابندی کا حوالہ دیا.

یہ بھی پڑھیں :... نپور شرما سے متعلق سپریم کورٹ کا ریماک قابل ستائش ہے: حافظ عنایت اللہ محمدی
ثناء ارشاد مٹو ایک کتاب کی رونمائی اور فوٹو گرافی کی نمائش میں شرکت کیلئے پیرس جارہی تھیں جب انہیں دہلی ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے روک لیا. ثناء نے ٹوئیٹ کے ذریعے کیا کہ میں اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق کتاب کی رونمائی اور فوٹو گرافی کی نمائش میں شرکت کیلئے دہلی سے پیرس کے سفر پر نکلنے والی تھی. فرانسیسی ویزا حاصل کرنے کے باوجود مجھے امیگریشن حکام نے روک دیا.
ثناء مٹو نے مئی میں پلٹزر ایوارڈ حاصل کیا تھا، واضح رہے کہ ثناء یہ باوقار ایوارڈ حاصل کرنے والی کشمیر کی پہلی خاتون بن گئی ہیں. ثناء عدنان عابدی، امیت داوے اور مرحوم دانش صدیقی کے ساتھ رائٹرز ٹیم کا حصہ تھی جنہیں ہندوستان میں کورونا وباء کے کوریج کیلئے فیچر فوٹو گرافی زمرے میں 2022 میں پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا.

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: