Articles by "NIA"
Showing posts with label NIA. Show all posts

 

ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت 17 سال بعد آج سنائے گی فیصلہ,شہریان کو انصاف کی امید

مالیگاؤں: مالیگاؤں بم دھماکہ 2008 معاملہ میں 17 سال بعد آج ممبئی خصوصی این آئی اے عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی.

مالیگاؤں کے بھکو چوک علاقہ میں 29 ستمبر 2008 کی رات بم دھماکہ ہوا تھا.جس میں 6 افراد جاں بحق اور تقریباًً 100سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے. انجمن چوک سے متصل بھکو چوک جیسے بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں ایک موٹر سائیکل میں بم نصب کیا گیا تھا. دھماکہ کے بعد پورے علاقے حتی کہ شہر بھر میں خوف و دہشت کا ماحول دیکھا گیا.

اس معاملے میں انسداد دہشت گردی اسکواڈ اے ٹی ایس کو ابتدائی تفتیش کی ذمہ داری سونپی گئی لیکن اس معاملے میں ایک اہم موڑ آیا جب بم دھماکہ میں دائیں بازو کی کچھ کچھ ہندو تنظیموں سے منسلک افراد کو گرفتار کیا گیا اور ہندو ٹیررازم کی اصطلاح منظر عام پر آئی. اس معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور سابق آرمی افسر کرنل پرساد شری کانت پروہت سمیت مزید ملزمین کو گرفتار کیا گیا.سادھوی اور پروہت نے ابتداء میں اس بم دھماکہ معاملہ میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کیا اور انہیں ضمانت دے دی گئی.

سال 2011 میں مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ کی تفتیش مرکزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کے سپرد کی گئی دوبارہ گناہ رجسٹر کرکے تفتیش کا آغاز کیا گیا. اس معاملے میں متعدد چارج شیٹ اور اضافی رپورٹ داخل کی گئی. سال 2018 میں سات ملزمین کے خلاف باقاعدہ چارجیس لگا کر مقدمہ کا آغاز ہوا.

مقدمہ کے دوران عدالت نے پرازیکویشن کے 323 گواہوں اور 8 دفاعی گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیا. واضح رہے کہ مالیگاؤں بم دھماکہ 2008 ہندوستان میں دہشت گردی سے متعلق چلنے والے طویل ترین اور سیاسی طور پر کافی حساس مقدمات میں سے ایک ہے. اپریل 2025 کو اس معاملے میں ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا اور آج اس فیصلے کا اعلان کیا جائے گا.


خصوصی عدالت نے 31 جولائی کی تاریخ دی

مالیگاؤں بم بلاسٹ کا فیصلہ 31 جولائی تک ملتوی کردیا گیا ہے. آج بروز جمعرات این آئی اے خصوصی عدالت نے ممبئی ہائی کورٹ سے خاطیوں کو سزا سنانے کیلئے 31 جولائی تک کا وقت طلب کیا ہے. کہا جارہا ہے کہ اب این آئی اے خصوصی عدالت اب 31 جولائی کو اپنا سنائے گی.

آج صبح اس معاملے میں سادھوی پرگیہ سنگھ سمیت تمام ملزمین اور متاثرین عدالت پہنچے. سادھوی کے علاوہ اس معاملے میں کل 12 ملزمین ہیں جن پر دہشت گردانہ سازش، قتل اور مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام ہے. 29 دسمبر 2009 کو مالیگاؤں شہر میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 6 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے. اس معاملے کی ابتدائی جانچ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کی تھی. 2011 میں یہ معاملہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو سونپ دیا گیا تھا. این آئی اے نے پرگیہ سنگھ سمیت تمام ملزمین کو کلین چٹ دے دی تھی. لیکن عدالت نے کہا کہ ملزمین کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا. اپریل 2025 میں این آئی اے نے یو ٹرن لیتے ہوئے ممبئی کی خصوصی عدالت میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے کہا کہ ملزمین کو بے قصور ماننے کی بات غلط ہے انہیں سخت سزا ملنی چاہیے.

عدالت کے باہر پرگیہ سنگھ نے کہا کہ آج فیصلہ ہونا تھا ایسا نہیں ہے، جج صاحب نے تاریخ دی تھی اگلی تاریخ میں فیصلہ ہوگا یہ طے ہے. معزز جج نگ کہا کہ اس میں ایک لاکھ سے زائد صفحات ہیں. مقدمہ بڑا ہے اس میں وقت لگتا ہے کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونی چاہیے سب کو انصاف ملے. اگلی  تاریخ 31 جولائی دی گئی ہے اس میں سب کو حاضر ہونا چاہیے.

 


جانچ ایجنسی این آئی اے نے سادھوی پرگیہ سمیت سات ملزمین کو سزائے موت دینے کی مانگ کی

جانچ ایجنسی این آئی اے نے ممبئی کی خصوصی عدالت سے 2008 مالیگاؤں بم دھماکہ کے تمام سات ملزمین کو یو اے پی اے کی دفعہ 16 کے تحت موت کی سزا دینے کی مانگ کی ہے.

یہ معاملہ 17 سال سے چل رہا ہے. 2008 میں مالیگاؤں میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 6 افراد ہلاک اود 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے. اس معاملے میں دلائل پوری ہونے کے بعد این آئی اے نے حتمی تحریری دلیل داخل کی واضح رہے کہ این آئی اے کی یہ تحریری دلیل 1500 صفحات پر مشتمل ہے. حالانکہ عدالت نے اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے.

جج اے کے لاہوٹی 8 مئی کو اپنا فیصلہ سنائیں گے. معاملے میں سادھوی پرگیہ، کرنل پروہت، میجر رمیش اپادھیائے، اجئے راہیرکر،سمیر کلکرنی، سوامی دیانند پانڈے، اور سدھاکر چترویدی پر ہندوتوادی نظریات پر مشتمل ایک سازش کے تحت دھماکے کی سازش رچنے اور اسے انجام دینے کا الزام ہے.

ملزم لیفٹیننٹ کرنل پروہت کا قریبی ہندوستانی فوج کا ایک افسر اپنے بیان سے پلٹا،اب تک اس معاملے کے کل 25 گواہ اپنے بیان سے منحرف

مالیگاؤں: مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ کی شنوائی کے دوران آج بروز جمعرات ملزم لیفٹیننٹ کرنل پروہت کا قریبی ہندوستانی فوج کا ایک افسر اپنے بیان سے منحرف ہوگیا. اس طرح اس معاملے کی سماعت کے دوران اپنے بیان سے منحرف ہونے والا وہ 25 واں گواہ ہے. واضح رہے کہ 29 ستمبر 2008 کو مالیگاؤں میں ہونے والے بم دھماکے میں 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 90 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے.

آرمی افسر نے جمعرات کے روز خصوصی جج اے کے لاہوٹی کے روبرو اپنی گواہی دی اور پروہت کی شناخت کی جو عدالت میں حاضر تھے. افسر نے مزید کہا کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے معاملے کے سلسلے میں ان سے پوچھ تاچھ کی تھی لیکن ان کا بیان کبھی درج نہیں کیا.

ریکارڈ کے مطابق اے ٹی ایس نے مذکورہ فوجی افسر کا بیان تین صفحات میں درج کیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے پروہت کے گھر میں ابھینو بھارت سنگٹھن سے متعلق دستاویزات دیکھے تھے۔  بیان میں، فوجی افسر نے اکتوبر 2008 میں پنچگنی میں ابھینو بھارت کے کیمپ کے مقام پر پروہت اور ایک اور سابق فوجی افسر کو چھوڑنے کا دعویٰ بھی کیا تھا.

واضح رہے کہ پروہت کے علاوہ اس معاملے کے دیگر ملزمان میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ایم پی) کی لوک سبھا ممبر پرگیہ سنگھ ٹھاکر بھی شامل ہیں۔ وہ سب ضمانت پر رہا ہیں۔ پرگیہ سنگھ ٹھاکر اس کیس کی اہم ملزم ہے۔ 29 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر میں بم دھماکہ میں 6 افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ اے ٹی ایس نے اس معاملے میں پہلی گرفتاری 23 اکتوبر 2008 کو کی تھی۔ اے ٹی ایس نے سادھوی اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا۔ جس کے بعد اے ٹی ایس نے 20 جنوری 2009 کو اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی۔ مرکزی حکومت نے یہ معاملہ یکم اپریل 2011 کو این آئی اے کو سونپ دیا تھا۔

منسکھ ہیرین کو راستے سے ہٹانے کیلئے سچن وازے نے پردیپ شرما کو خطیر رقم ادا کی تھی: این آئی اے کی چارج شیٹ میں الزام
این آئی اے نے 10 ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی، چونکانے والے انکشافات، منسکھ کو ٹھکانے لگانے کی ذمہ داری پردیپ شرما کو سونپی گئی تھی

نئی دہلی:اینٹیلیا معاملہ اور منسکھ ہیرین قتل معاملہ میں قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے)کے ذریعے داخل کی گئی فرد جرم سے اس بات کا خلاصہ ہوا کہ منسکھ کو راستے سے ہٹانے کیلئے ملزم سچن وازے نے سابق انکاؤنٹر اسپیشلسٹ اور شیوسینا لیڈر پردیپ شرما کو خطیر رقم ادا کی تھی۔این آئی اے نے ان دونوں معاملات میں وازے اور شرما سمیت دس افراد کو ملزم قرار دیا ہے۔
این آئی اے کے ذریعے داخل کی گئی 10 ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں کہا گیا کہ 3 مارچ 2021 کو ملزم سچن وازے نے شام کے وقت پی ایس فاؤنڈیشن کاریالیہ اندھیری ممبئی میں پردیپ شرما سے ملاقات کی اور ریگزن کا ایک بیگ دیا جس میں 500 کے نوٹوں کے کئی بنڈل تھے۔تفتیش کے دوران جمع کئے گئے ثبوت اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔چارج شیٹ سے یہ بھی سامنے آیا کہ جب وازے کو علم ہوا کہ اینٹیلیا معاملہ کی تفتیش کسی اور کو سونپی جارہی ہے تو اس نے منسکھ ہیرین پر دباؤ بنایا کہ وہ اس جرم کی ذمہ داری قبول کرلے۔اس نے منسکھ سے یہ بھی کہا کہ اسے اس معاملے میں فوری ضمانت مل جائے گی۔لیکن منسکھ نے اس تجویز کو مسترد کردیا۔واضح رہے کہ اس معاملے میں منسکھ ہی واحد ایسا شخص تھا جسے پوری سازش کا علم تھا۔
چارج شیٹ کے مطابق جب وازے کو لگا کہ منسکھ کمزور کڑی ثابت ہوسکتا ہے اور تفتیش کاروں کے سامنے منہ کھول سکتا ہے تو اس نے منسکھ کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کر ڈالی۔چارج شیٹ میں کہا گیا کہ تفتیش کے دوران اس بات کا پتہ چلا کہ وازے اور شرما نے منسکھ ہیرین کو ختم کرنے کیلئے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر سازش رچی۔ہیرین کو ٹھکانے لگانے کا کام شرما کو سونپا گیا۔واضح رہے کہ صنعت کار مکیش امبانی کی رہائش اینٹیلیا کے پاس 25 فروری کو دھماکہ خیز مادہ سے بھری گاڑی پائی گئی تھی۔بعد میں اس گاڑی کے مالک منسکھ ہیرین کا قتل ہوگیا۔اس کی لاش تھانے ضلع کے سمندر کی کھاڑی میں ملی۔اینٹیلیا معاملے میں سچن وازے کو این آئی اے نے مارچ میں گرفتار کیا تھا۔وہ اس معاملے میں کلیدی ملزم ہے۔قتل معاملہ میں نام آنے کے بعد اسے کرائم انٹلیجنس یونٹ سے ہٹاکر ممبئی پولیس ہیڈ کوارٹر میں منتقل کردیا گیا تھا، اس کے بعد مئی 2021 میں اسے ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اینٹیلیا کے باہر دھماکہ خیز مادہ سے بھری گاڑی برآمد ہونے کے بعد مکیش امبانی کی بیوی نیتا امبانی نے گجرات کا سفر رد کردیا تھا۔یہ اطلاع اینٹیلیا کے چیف سکیورٹی گارڈ نے این آئی اے کو دی۔وہیں اینٹیلیا کے پاس کام کرنے والے ایک سکیورٹی گارڈ نے این آئی اے کو بتایا کہ اس واقعے سے علاقے کا ماحول یکسر تبدیل ہوگیا اور لوگ خوفزدہ ہوگئے۔
این آئی اے نے اپنی چارج شیٹ میں یہ بھی کہا کہ سچن وازے نے اس واردات کے دن اپنے سرکاری ڈرائیور سے کہا تھا کہ یہ گاڑی کھڑی کرنا ایک خفیہ آپریشن ہے۔این آئی اے کو دیئے گئے اپنے بیان میں اینٹیلیا کے سکیورٹی ہیڈ نے کہا کہ دھماکہ خیز مادہ کے ساتھ گاڑی اور ایک خط موصول ہونے کے بعد انہوں نے فوری طور پر مکیش امبانی کو اس کی اطلاع دی۔اس دن نیتا امبانی کو گجرات کے جام نگر کے سفر پر روانہ ہونا تھا لیکن زونل ڈی سی پی کی صلاح پر انہوں نے سفر کا ارادہ ترک کردیا۔

 

جے بی نگر اندھیری میں واقع پردیپ شرما کے مکان پر این آئی اے کاچھاپہ، گھنٹوں پوچھ تاچھ کے بعد پولیس نے شرما کو حراست میں لے لیا

قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے) نے سابق انکاؤنٹر اسپیشلسٹ پردیپ شرما کے ممبئی میں واقع مکان پر چھاپہ مارا اور پردیپ شرما کو اینٹیلیا بم معاملے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔این آئی اے نے آج بروز جمعرات پردیپ شرما کے مکان پر چھاپہ مارا، اینٹیلیا بم معاملے میں ان سے گھنٹوں تفتیش کی ،مکان کی تلاشی لی گئی اور اسکے بعد انہیں گرفتار کرلیا۔اطلاعات کے مطابق آج صبح این آئی اے کی ٹیم شرما کے گھر پہنچی، جے بی نگر اندھیری میں واقع ان کے مکان کی تلاشی لی گئی. پردیپ شرما کو سچن سچن وازے کا مینٹر(اتالیق، استاد) بھی کہا جاتا ہے۔

دراصل اینٹیلیا اور منسکھ ہیرین قتل معاملہ میں گرفتار سچن وازے کا پردیپ شرما سے گہرا تعلق ہے۔دونوں ممبئی خرائم برانچ میں ایک ساتھ کام کرچکے ہیں۔جس دن منسکھ ہیرین کا قتل ہوا اس دن سچن وازے کا لوکیشن پردیپ شرما کے مکان کے قریب ملا تھا۔اس کے بعد ہی پردیپ شرما این آئی اے کے نشانہ پر تھے۔اس سے قبل این ائی اے نے جنوبی ممبئی میں واقع اپنے دفتر پر پردیپ شرما سے دو دنوں تک پوچھ تاچھ کی تھی۔ذرائع کے مطابق اس معاملے کے دیگر ملزمین کے بیانات کی بنیاد پر شرما کو گرفتار کیا گیا ہے جس میں ان کا نام اور ثبوتوں کے طور تکنیکی ڈیٹا کے ذریعے دہشت گردی اور قتل معاملہ میں ان کے کردار کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔این آئی اے نے اس سے قبل سابق پولیس افسران سچن وازے، ریاض الدین قاضی، سنیل مانے اور سابق پولیس کانسٹیبل ونائیک شندے اور کرکٹ سٹّے باز نریش گور کو بھی گرفتار کیا تھا۔ حال ہی میں مذکورہ مراملے میں سنتوش شیلار اور آنند جادھو کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق یہ فنوں مبینہ طور پر اینٹیلیا کے پاس دھماکہ خیز مادے سے بھری ایس یو وی کار کھڑی کرنے کی سازش میں ملوث تھے۔