تصویر ہٹانے کے تعلق سے دَادا بھسے کا موقف آیا سامنے
مالیگاؤں: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی میئر شانِ ہند کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر دوبارہ نظر آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ نوتجدید شدہ ڈپٹی میئر کے دفتر میں دیگر عظیم شخصیات کی تصاویر کے ساتھ ٹیپو سلطان کی تصویر بھی لگائی گئی ہے، جس کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈپٹی میئر شانِ ہند نے اپنے دفتر کی تزئین و آرائش کے بعد دوبارہ دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر موجود نظر آئی۔ اس سے قبل بھی ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں سیاسی تنازعہ پیدا ہوچکا ہے اور اس وقت تصویر ہٹائے جانے کی نوبت آئی تھی۔ڈپٹی میئر شانِ ہند نے ٹیپو سلطان کی تصویر دفتر میں لگانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان نے ملک کے لیے قربانی دی اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی، اسی وجہ سے ان کی تصویر دفتر میں لگائی گئی ہے۔ ان کے مطابق انہیں تصویر لگانے میں کوئی اعتراض نظر نہیں آتا۔
دوسری جانب ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسے نے اس معاملے پر کہا کہ انہیں فی الحال تصویر کے بارے میں معلومات نہیں ہیں، تاہم اگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر موجود ہے تو وہ اسے ہٹانے کے لیے ہدایت دیں گے۔ دادا بھسے کے اس بیان کے بعد معاملے نے ایک مرتبہ پھر سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے۔ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر مالیگاؤں میں اس سے قبل بھی سیاسی کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔ فروری 2026 میں تصویر لگائے جانے کے بعد شیو سینا اور بعض ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا، جبکہ ڈپٹی میئر نے تصویر کو برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی۔ بعد ازاں احتجاج کے انتباہ کے درمیان تصویر ہٹا دی گئی تھی۔اب دوبارہ تصویر سامنے آنے کے بعد مالیگاؤں کی سیاسی سرگرمیوں میں اس معاملے کو لے کر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ آنے والے دنوں میں میونسپل انتظامیہ اور متعلقہ سیاسی جماعتوں کا موقف اس تنازعہ کی آئندہ سمت طے کرنے میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔


Post A Comment:
0 comments: