کارپوریٹر جاوید انیس کی عوام سے اپیل اضافی فیس نہ دیں، ہم سے شکایت کریں
مالیگاؤں : 13 جون: مالیگاؤں شہر میں تعلیمی اداروں کی طرف سے گیارہویں جماعت میں داخلے کے لیے وصول کی جانے والی زیادہ فیسوں کے تعلق سے ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن ناسک کو مالیگاؤں سے شکایت کی گئی ہے ۔شکایت کنندہ وارڈ نمبر تین سے اسلام پارٹی کے کارپوریٹر جاوید انجینئر نے شکایتی مکتوب میں لکھا ہے کہ حکومت نے 10ویں پاس طلباء کے لیے 11ویں کے داخلوں کا عمل آن لائن شروع کر دیا ہے۔ اس کے لیے حکومت نے طلبہ کی سہولت کے مطابق جونیئر کالجوں کو دستیاب کرایا ہے، مالیگاؤں شہر کے متعلقہ جونیئر کالجوں سے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ فیس وصول کرنے کی ہدایات دی گئی ہے۔ تاہم، حکومت نے ویب سائٹ پر ایڈمشن کنفرم ہونے پر متعلقہ جونیئر کالج کی فیس بھی واضح طور پر پرنٹ کی گئی ہے اس کے باوجود شکایت ہے کہ جن بچوں کا داخلہ حکومت کی مقررہ فیس سے طئے ہوا ہے ان بچوں سے اضافی فیس حتیٰ کہ تین ہزار پانچ ہزار، 18 ہزار اور 31 ہزار روپے تک وصول کی جارہی ہے۔ جو کہ سراسر جونیئر کالجوں کی من مانی ہے اور ذہین طلباء کیساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہے ۔اس لئے ان کالجوں پر لگام لگائیں وہیں مکتوب میں انہوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ حکومت کی پہلی سے آٹھویں تک مفت تعلیم فراہم کرنے کی پالیسی ہے، مالیگاؤں شہر کے پرائیویٹ امداد یافتہ اسکولیں پہلی سے آٹھویں تک داخلہ کے لیے فیس وصول کررہے ہیں۔ شہر کی پرائیوٹ امداد یافتہ اسکولوں میں بھی ایک ہزار سے لیکر 8 ہزار تک فیس وصول کررہے ہیں اور بہت سے جونیئر کالج اپنے کالجوں میں داخلہ لینے والے طلباء سے سرکاری قواعد کے خلاف حد سے زیادہ فیس وصول کر رہے ہیں۔تاہم میری آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں اور حکومت کی طرف سے مقرر کردہ فیس کے بارے میں شہریوں کی معلومات کے لیے مراٹھی اور اردو اخبارات میں "پریس نوٹ" جاری کریں۔اس مکتوب کی ایک کاپی مالیگاؤں کارپوریشن کے اے او کو بھی کارپوریٹر جاوید انیس کی جانب سے دی گئی ہے ۔اس ضمن میں کارپوریٹر جاوید انیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ عوام اضافی فیس نہ دیں اور اگر کوئی اسکول یا جونیئر کالج اضافی فیس طلب کریں تو ہم سے شکایت کریں۔


Post A Comment:
0 comments: