ہالی ووڈ اداکارہ نے انسٹا گرام پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے تصویر اور نظم شیئر کی، دنیا بھر سے تعریفیں لیکن اسرائیل خفا
معروف ہالی وڈ اداکارہ 31 سالہ ایما واٹسن کو سوشل میڈیا پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی سے متعلق پوسٹ کرنے کے بعد اسرائیلی سیاستدان اور سفیر ’یہود دشمن‘ قرار دے رہے ہیں۔اداکارہ نے تین جنوری کو انسٹاگرام پر فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایک تصویر پوسٹ کی اور ساتھ ہی برطانوی نژاد آسٹریلوی مسلمان قلم کار سارا احمد کی یکجہتی سے متعلق نظم بھی لکھی۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔سیمسنگ کا ایک ٹی بی اسٹوریج والا موبائل متعارف کرانے کا منصوبہ
اداکارہ کی یکجہتی سے متعلق شیئر کی گئی تصویر اور پوسٹ وائرل ہوگئی اور برطانوی و امریکی میڈیا سمیت اسرائیلی میڈیا نے بھی اس پر خبریں شائع کیں اور دنیا بھر میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے لوگوں نے ان کی تعریفیں کیں۔ایما واٹسن کی مذکورہ پوسٹ کو جہاں دنیا بھر کی توجہ حاصل ہوئی، وہیں اسرائیلی سیاستدان اور یہودی ان سے خفا بھی دکھائی دیے اور بعض افراد نے انہیں یہود دشمن بھی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔گذشتہ سال کم وبیش چھ سو نئے جاندار دریافت
فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے پر اداکارہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکا میں اسرائیلی سفیر جلعاد اردن نے یہود دشمن قرار دیا۔انہوں نے ایما واٹسن پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ فلسطین کے خلاف تحریک کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرنا یہود دشمنی کے مترادف ہے۔
ہیری پوٹر میں مداحوں کا دل جیتنے والی ایما واٹس 2014 سے اقوام متحدہ (یو این) میں خواتین کی خیر سگالی کی سفیر ہیں، ان کی معروف مہمات میں صنفی برابری کو فروغ دینے سے متعلق ہی فار شی اور یکجہتی مہم شامل ہے۔ایما واٹسن سےقبل بھی متعدد ہالی وڈ شخصیات اور نامور افراد فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر چکے ہیں، گزشتہ برس ماڈل بیلا حدید کو بھی فلسطینی افراد سے اظہار یکجہتی پر انہیں بھی یہود دشمن قرار دیا گیا تھا۔گزشتہ برس ہالی وڈ اداکار اور سماجی کارکن مارک رفالو نے بھی فلسطین کی حمایت کی تھی لیکن شدید تنقید کے بعد آخر کار انہیں معافی مانگنی پڑی تھی۔

Post A Comment:
0 comments: