National, National News, Jantar Mantar، Delhi, Northeast Delhi, Deepak Singh, President of Hindu Force, detained, Karawal Nagar, Ashwini Upadhyay


ہندو فورس کے سربراہ دیپک سنگھ ہندو بھی پولیس حراست میں،31 جولائی کو دیپک نے مزار پر ہنومان چالیسا پڑھنے کیلئے لوگوں کو بلایا تھا

منگل کے روز صبح دہلی پولیس نے اطلاع دی کہ نئی دہلی کے جنتر منتر علاقے میں مسلم مخالف نعرے بازی معاملے میں وکیل اور سابق بی جے پی ترجمان اشوینی اپادھیائے سمیت پانچ لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔اس کے علاوہ پولیس نے دیپک سنگھ ہندو کو بھی حراست میں لیا ہے جو ہندو فورس نامی تنظیم کا سربراہ ہونے کا دعوی کرتا ہے۔دہلی پولیس نے اسے 9 اگست پیر کی رات شمال مشرقی دہلی کے کراول نگر میں واقع اس کے گھر سے حراست میں لیا ہے۔

کرائم برانچ برانچ کی بین الریاستی سیل کو مذکورہ ملزمین پر شکنجہ کسنے کیلئے چھاپہ مارنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ایک سینئر پولیس افسر نے اس ضمن میں بتایا کہ دیپک کے گھر کے باہر ایک ٹیم تعینات کی گئی تھی، اور  رات 12:40 بجے جب وہ گھر آیا تب اسے گرفتار کرلیا گیا۔فی الحال پولیس اس معاملے میں دیپک سے تفتیش کررہی ہے۔ایک دوسرے پولیس افسر نے بتایا کہ 31 جولائی کو دیپک نے مشرقی دہلی کے پٹپڑ گاؤں میں واقع مزار پر ہنومان چالیسا پڑھنے کیلئے کچھ لوگوں کو بلایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔اعظم خان اور انکے بیٹے کو ملی ضمانت، لیکن ابھی رہائی نہیں

واضح رہے کہ جنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے بازی کی گئی تھی اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی باتیں کی گئی تھیں اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔دہلی پولیس نے پیر کے روز اس معاملے میں مقدمہ درج کیا تھا۔اتوار کے روز بھارت جوڑو آندولن کے زیراہتمام احتجاج میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی تھی۔وہاں مسلم مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔تاہم اس تحریک کی میڈیا انچارج سپرا شریواستو نے کہا کہ مظاہرے کی قیادت اشوینی اپادھیائے نے کی تھی لیکن جن لوگوں نے مسلم مخالف نعرے بازی کی ان سے کسی قسم کے تعلق سے انہوں نے انکار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔چھوٹے خبیب کے نام سے مشہور حسب اللہ کون ہے؟

سریواستو کے مطابق یہ مظاہرہ نوآبادیاتی قوانین کے خلاف تھا اور اس دوران برطانوی 222 قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ہم نے ویڈیو دیکھی ہے، لیکن ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ وہ کون تھے۔ پولیس کو نعرے لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔اپادھیائے نے مسلم مخالف نعروں کے واقعہ میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے دہلی پولیس کو ایک شکایت دی ہے کہ وہ وائرل ہونے والی ویڈیو کی تحقیقات کرے۔ اگر ویڈیو مستند ہے تو اس میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ میں نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا، کبھی ان سے نہیں ملا اور نہ ہی انہیں وہاں بلایا۔ جب میں وہاں تھا، تب وہ وہاں نہیں دیکھے گئے۔دوسری جانب قومی اقلیتی کمیشن نے پیر کو مبینہ مسلم مخالف نعرے بازی کے معاملے میں پولیس کو نوٹس جاری کیا اور کہا کہ اس واقعہ کے حوالے سے سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔  کمیشن کے وائس چیئرمین عاطف رشید کی ہدایات پر تنظیم نے ڈپٹی پولیس کمشنر نئی دہلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ منگل کو کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور معاملے کی تفصیلات اور کارروائی کے بارے میں آگاہ کریں۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: