رائٹرز نے دانش کی موت سے متعلق معلومات طلب کی، طالبان نے دانش کی موجودگی اور ان کی موت کی وجوہات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا

افغانستان میں ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت پر طالبان نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کا علم ہوا کہ کس طرح ہندوستان کے فوٹو جرنلسٹ کی قندھار میں موت ہوئی۔واضح رہے کہ افغان فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپ کے دوران پلٹزر ایوارڈ یافتہ صحافی دانش صدیقی کی موت واقع ہوگئی۔طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے جمعہ کے روز سی این این-نیوز-18 کو بتایا کہ ہمیں نہیں پتہ کہ کس کی فائرنگ میں صحافی کی موت ہوئی، ہمیں نہیں پتہ کہ صحافی کی موت کیسے ہوئی، ہم اس سے لاعلم ہیں۔مجاہد نے مزید کہا کہ اگر کوئی صحافی میدان جنگ کی رپورٹنگ کیلئے جنگ زدہ علاقے میں آتا ہے تو اسے ہمیں اطلاع دینی چاہیے، ہم اس کی حفاظت کے انتظامات کریں گے۔ہمیں ہندوستانی صحافی دانش صدیقی کی موت پر افسوس ہے۔ہمیں اس بات پر بھی افسوس ہے کہ صحافی ہمیں مطلع کئے بغیر وار زون میں داخل ہورہے ہیں۔صحافیوں کی حفاظت سے متعلق کمیٹی Committee to Protect Journalists(CPJ) نے آج کہا کہ افغان حکام کو رائٹرس کے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت سے متعلق تیز رفتار تفیش کا انعقاد کرنا چاہیے۔ٹوئیٹر پر پوسٹ کئے گئے ایک بیان میں رائٹرس کے صدر مائیکل فریڈن برگ اور ایڈیٹر ان چیف الیسیندرا گیلونی نے کہا کہ رائٹرس فوری طور پر اس معاملہ کی تمام تفصیلات طلب کرے گا۔صحافی کے قتل اور حالات سے متعلق تمام تفصیلات جمع کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔دسویں بورڈ رزلٹ ویبسائٹ دوبارہ بحال کردی گئی

رائٹرس کے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت نہایت افسوسناک ہے لیکن صحافی افغانستان میں اپنا کام جاری رکھیں گے۔جنگجوؤں کو صحافیوں کی حفاظت کی ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے، اب تک ایسے معاملات میں درجنوں صحافیوں کی موت ہوچکی ہے۔سی پی جے کے مطابق صدیقی اپنی موت کے وقت افغان اسپیشل فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپ کی رپورٹنگ کررہے تھے۔ایک افغان کمانڈر نے بتایا کہ صدیقی دکانداروں سے بات کررہے تھے اسی اثناء میں طالبان کی فائرنگ میں ان کی موت واقع ہوگئی۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ نے رائٹرز کو بتایا کہ انہیں اس آگاہ نہیں کیا گیا تھا کہ وہاں ایک صحافی موجود ہے، انہیں بات کا بھی علم نہیں کہ صدیقی کی موت کیسے ہوئی۔واضح رہے کہ دانش صدیقی ایک فوٹو جرنلسٹ تھے جنہوں نے میانمار سے روہنگیا مسلمانوں کی ہجرت کی حیرت انگیز اور رازوں کو بےنقاب کرنے والی تصاویر لی تھیں۔ جس کے سبب انہیں 2018 پلٹرزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

گاندھی مارکیٹ کے نام سے وائرل ویڈیو کا سچ، خاطیوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ


Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: