یوتھ بار ایسوی ایشن کے توسط سے 521 طلباء نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی، بارہویں کے امتحانات رد کرنے کی اپیل
کرونا کے سبب جہاں ایس ایس سی کے امتحانات منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے وہیں بارہویں جماعت کے ایچ ایس سی امتحانات کا انعقاد ہوگا یا نہیں اس تعلق سے طلباء تذبذب کا شکار ہیں۔یوتھ بار ایسوسی ایشن کے توسط نے 521 طلباء نے ایچ ایس سی امتحانات رد کروانے کیلئے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی ہے۔جس میں انہوں نے بارہویں کے امتحانات رد کرنے کی اپیل کی ہے۔طلباء کا کہنا ہے کہ امتحانات کا انعقاد کرنا رائٹ ٹو لائف(جینے کا حق) اور پرنسل لبرٹی(ذاتی آزادی) کے حق کی خلاف ورزی ہے۔اس میں رائٹ ٹو ہیلتھ کا حق بھی شامل ہے۔ایڈوکیٹ تنوی دوبے کے ذریعے داخل کی جانے والی اس پٹیشن میں کہا گیا ہے حکومت نے کووڈ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے 14 اپریل 2021 کو دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کو رد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔پٹیشن میں کہا گیا کہ بارہویں کے امتحانات کا انعقاد کرنا آئین کی دفعہ 14 کی سراسر خلاف ورزی ہے کیونکہ ابھی کرونا کا خطرہ برقرار ہے۔ایڈوکیٹ تنوی دوبے کا کہنا ہے کہ جب حکومت کو دسویں کے طلباء کی جان کی پرواہ ہے تو پھر بارہویں کے طلباء کے معاملے میں دوہرا میعار کیوں؟بارہویں کے آف لائن امتحانات منعقد کرنے سے ان طلباء کی صحت کو بھی تو خطرہ ہوگا۔پیر کے روز سپریم کورٹ کی ویکیشن بینچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔پٹیشن میں اخبارات میں شائع ہونے والی کچھ خبروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مرکز اور ریاستوں نے آپس میں تبادلہ خیال کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای بورڈ کے امتحانات 15 جولائی اور 26 اگست کو ہوں گے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پریشان کن ہے۔ فی الحال کورونا کا خطرہ مسلسل منڈلا رہا ہے۔پٹیشن میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ فیصلہ لیتے وقت اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ کرونا سے متاثر طلباء کس طرح امتحان دیں گے کیونکہ انہیں تو امتحانات گاہ میں بیٹھنے ہی نہیں دیا جائے گا۔اب تک 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے کیلئے کوئی ویکسن ہی نہیں بنی ہے اور کرونا کی تیسری لہر کا خطرہ بھی مسلسل منڈلا رہا ہے۔
ایسے میں امتحانات کا انعقاد کرنے کے فیصلے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔طلباء کا کہنا ہے کہ کرونا کے سبب کئی اسکولوں کو کرونا سینٹر اور ویکسینیشن سینٹرز میں تبدیل کردیا گیا ہے اب ان اسکولوں میں امتحانات منعقد کرنے سے طلباء کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔جسٹس اےایس کھانولکر اور جسٹس دنیش مہیشوری کی مشترکہ بینچ پیر کے روز اس معاملے کی سماعت کرے گی۔عدالت اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ طلبا کا مطالبہ ان حالات کے پیش نظر کتنا صحیح ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ حکومت نے کن پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے دسویں بورڈ کے امتحانات رد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔



Post A Comment:
0 comments: