متنازعہ قانون سی اے اے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے، جلد ہی احتجاج کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا: نائب صدر ایم ڈی ایف

مالیگاؤں:ہر طرف لوگ کرونا، روزگار اور دیگر بیماریوں سے پریشان ہیں لیکن ظالم حکومت کرونا وباء کی آڑ میں ظالمانہ فیصلے لینے سے باز نہیں آرہی ہے۔کرونا سے قبل این آر سی اور سی اے اے کے خلاف ہندوستان بھر میں زبردست احتجاج اور مخالفت کے بعد امید تھی کہ حکومت اپنا فیصلہ واپس لے لے گی۔لیکن گذشتہ دنوں کرونا کی آڑ میں ہندوستانی وزیرداخلہ کی جانب سے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کردیا گیا۔افسوس اس ظالمانہ قانون کے نافذ ہونے کے بعد بھی سرکردہ افراد خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، مسلم قائدین نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔واضح رہے کہ سی اے اے قانون کے تحت مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے افراد( جو دوسرے ممالک سے ہندوستان آئے ہیں) کو ہندوستانی شہریت دی جارہی ہے۔اس قانون کے ذریعے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے اور شہریت سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔اسلئے ضروری ہے کہ پوری قوت کے ساتھ اس قانون کی مخالفت کی جائے اور احتجاج کیلئے میدان میں اترا جائے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ دوبارہ اپنے اپنے شاہین باغ تیار کئے جائیں۔مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ نے اس سیاہ قانون کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے جلد ہی جلد ہی ایک بڑے احتجاج کا انتباہ دیا ہے۔مالیگاؤں ڈیولپمنٹ فرنٹ کے نائب صدر عمران راشد نے اس ضمن میں کہا کہ ہمیں اسلاف کا لہو پکار رہا ہے، ہم پوری قوت کے ساتھ سی اےاے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ ایم ڈی ایف حکومت کے اس ظالمانہ قانون کی پرزور مخالفت کرتی ہے اور جلد ہی ایک احتجاج کا آغاز کیا جائے گا، احتجاج کی تاریخ کا اعلان بھی جلد ہی کیا جائے گا۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: