Articles by "Mohammad Zubair"
Showing posts with label Mohammad Zubair. Show all posts

امن نوبل پرائز 2022 کے 343 دعویدار، 7 اکتوبر کو اوسلو میں امن نوبل پرائز فاتح کا اعلان

ٹائم کی رپورٹ کے مطابق فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ الٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر اور پرتیک سنہا امن کا نوبل پرائز 2022 جیتنے کے دعویداروں میں شامل ہیں. ٹائم کے مطابق محمد زبیر اور پرتیک سنہا کو ناروے کے قانون سازوں، پریڈکشن فرام بک میکرس اور پیس ریسرچ انسٹی ٹیوشن اوسلو(پی آئی آر او) کی نامزدگی کی بنیاد پر امن کے نوبل پرائز کے دعویداروں میں شامل کیا گیا ہے. دہلی پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق امسال جون میں محمد زبیر کو 2018 میں کی گئی ایک اشتعال انگیز ٹوئیٹ کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھا. دہلی پولیس نے محمد زبیر پر سماجی منافرت پھیلانے، دو گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات مشتعل کرنے کیلئے دانستہ طور پر ٹوئیٹ کرنے کا الزام عائد کیا تھا.

محمد زبیر کی گرفتاری نے عالمی سطح پر غصہ اور مخالفت کو جنم دیا. امریکہ کی صحافیوں کے مسائل کا تحفظ کرنے والی کمیٹی نے بیان جاری کرتے ہوئے زبیر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا تھا.

سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد تقریباً ایک ماہ بعد محمد زبیر تہاڑ جیل سے باہر آئے تھے. 2022 امن نوبل پرائز کیلئے 343 دعویدار ہیں جن میں 251 افراد اور 92 تنظیمیں شامل ہیں. سنہا اور زبیر کے علاوہ، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور ولادیمیر پوتن کے ناقد الیکسی ناوالنی بھی امن انعام کے دعویدار ہیں۔

واضح رہے کہ کہ امن نوبل پرائز 2022 فاتح کا اعلان اوسلو میں7 اکتوبر کو کیا جائے گا.

زبیر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے تشویشناک بتایا، زبیر اور ان کی ویب سائٹ AltNews نے گزشتہ چند برسوں میں جعلی خبروں کی نشاندہی کی ہے اور پروپیگنڈے کو روکنے کی کوشش کی ہے: ایڈیٹرز گلڈ

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے پیر کے روز آلٹ نیوز کے شریک بانی اور فیکٹ چیکر محمد زبیر کو دیر رات براڑی علاقے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا اور وہاں سے انہیں ایک دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا گیا.

یہ بھی پڑھیں:...... ممبئی: کرلا میں چار منزلہ عمارت منہدم، ایک ہلاک متعدد زخمی
محمد زبیر کی گرفتاری کے بعد دہلی پولیس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔  کانگریس، سماجوادی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے بعد اب ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کا بیان سامنے آیا ہے۔  ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے ایک پریس نوٹ کے ذریعے زبیر کی گرفتاری کی مذمت کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے محمد زبیر کو مذہبی جذبات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔  دہلی پولیس کی

 IFSO

 یونٹ نے انہیں دفعہ 153

A اور 295A

 تحت گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری پیر (27 جون) کو کی گئی، جس کے بعد عدالت نے انہیں ایک دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا۔
زبیر کی گرفتاری پر قانونی عمل سے لے کر دیگر پہلوؤں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں. ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں 2018 کے ایک ٹوئیٹ کے لیے محمد زبیر کی گرفتاری کی مذمت کی گئی ہے. ایڈیٹرز گلڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ دہلی پولیس اسپیشل سیل نے 2020 کے ایک معاملے میں زبیر کو پوچھ تاچھ کیلئے بلایا تھا. اس معاملے میں پہلے ہی دہلی ہائی کورٹ کے ذریعے گرفتاری پر روک لگائی گئی ہے. حالانکہ جب زبیر نے سمن کا جواب دیا تو انہیں 2018 کے ایک مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی پوسٹ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا. یہ الزامات ایک گمنام ٹوئیٹر صارف کی جانب سے لگائے ہیں. ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے کہا کہ زبیر کو تعزیرات ہند کی دفعہ 153 اور 295 کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ انتہائی پریشان کن ہے۔ کیونکہ زبیر اور ان کی ویب سائٹ AltNews

 نے گزشتہ چند برسوں میں جعلی خبروں کی نشاندہی کی ہے اور پروپیگنڈے کو روکنے کی کوشش کی ہے.
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ AltNews

 کی فعالیت کی مخالفت ان لوگوں نے کی تھی جو معاشرے کو پولرائز کرنے اور پروپیگنڈہ پھیلانے میں ملوث تھے۔  ایڈیٹرز گلڈ نے بھی نوپور شرما کا نام لیے بغیر اس معاملے کا ذکر کیا۔  آپ کو بتاتے چلیں کہ محمد زبیر نے نوپور شرما کی ٹی وی ڈیبیٹ کی ویڈیو شیئر کی تھی جس کے بعد معاملے نے آگ پکڑ لی۔ محمد زبیر کی گرفتاری کو غلط قرار دیتے ہوئے ایڈیٹرز گلڈ نے دہلی پولیس سے زبیر کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔