Articles by "International News"
Showing posts with label International News. Show all posts

امام کعبہ کو ایک خطبے میں ولی عہد محمد بن سلمان کے طرز حکمرانی کو مطلق العنانیت قرار دینے کے اگلے روز گرفتار کیا گیا تھا 

سعودی میڈیا کے مطابق 2018 میں مبینہ طور پر شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر امام کعبہ شیخ صالح الطالب کو گرفتار کیا گیا تھا اور اب مقامی عالت نے انھیں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

خیال رہے کہ جب امام کعبہ صالح الطالب کو حراست میں لیا گیا تھا اُس وقت بھی وجہ نہیں بتائی گئی تھی اور عدالت کی جانب سے قید کی سزا پر بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ صالح الطالب سعودی عدالتوں میں جج کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امام کعبہ کو ایک خطبے میں ولی عہد کے طرز حکمرانی کو مطلق العنان قرار دینے کے اگلے روز گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ چند روز قبل ہی مقامی عدالت نے پی ایچ ڈی کرنے والی ایک سعودی سوشل ایکٹیوسٹ خاتون کو بھی 30 سال قید کی سزا سنائی تھی جس سے یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جارہی ہے۔

اجلاس سے خطاب کے دوران حملہ آوروں نے آبے پر قاتلانہ حملہ کیا، سینے میں دو گولی لگی، اسپتال میں داخل

جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے پر آج جمعہ کی صبح نورا شہر میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ان پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران وہ اچانک گر گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق موقع پر گولیوں کی آوازیں سنی گئیں اور آبے کے جسم سے خون بہتا ہوا دیکھا گیا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔  میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے سینے میں دو گولیاں لگی ہیں۔ واقعے کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ تاہم ابھی تک ان کی حالت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔  یہ بھی واضح نہیں ہے کہ گولی کس نے چلائی اور کیوں چلائی۔
67 سالہ شنزو کا تعلق لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) سے ہے۔  آبے 07-2006 کے دوران وزیر اعظم تھے۔  آبے ایک جارحانہ لیڈر کی شناخت رکھتے ہیں۔ شنزو کو السرٹیو کولائٹس، آنتوں کی بیماری تھی جس نے انہیں 2007 میں وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ شنزو آبے مسلسل 7 سال 6 ماہ وزیر اعظم رہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ ان کے چچا اساکو سائتو کے نام 
تھا۔

یہ بھی پڑھین:.... قاتلانہ حملے میں سابق جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کی موت



ویکسین لگوا چکے بیرون ممالک کے عمرہ زائرین کو سعودی عرب میں داخلے کی مشروط اجازت

مکہ مکرمہ: کرونا وباء اور طویل لاک ڈاؤن کے بعد قریب دیڑھ سال بعد خانہ کعبہ کی رونقیں دوبارہ بحال ہوگئیں ہیں۔حرم شریف میں عمرہ زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے کرونا کے پیش نظر گذشتہ 18 ماہ سے عمرہ پر عائد پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔پابندی ختم ہونے کا اعلان کے بعد مسجد الحرام میں لوگ بڑی تعداد میں طواف کررہے ہیں۔

سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق مسجد الحرام کے نائب صدرِ امور سعد بن محمد المحیمید نے کہا کہ کرونا احتیاطی تدابیر کے ساتھ عمرہ اور دیگر عبادات کا سلسلہ دوبارہ جاری ہوگیا ہے۔خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق صائرین کی تعداد بتدریج ساٹھ ہزار ماہانہ سے 20 لاکھ تک بڑھائی جائے گی۔اس کے علاوہ مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات پر کرونا احتیاطی تدابیر  برقرار رکھتے ہوئے ویکسین لگواچکے بیرون ممالک سے آنے والے زائرین کو داخلے کی مشروط اجازت دی جائے گی۔سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے زائرین کو سعودی عرب پہنچنے کے بعد حکومت کی نگرانی میں کورنٹائن کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔نسیم احمد: ٹوکیو اولمپکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے نیرج چوپڑا کے کوچs.html

جن ممالک کے مکمل ویکسن لگوائے ہوئے افراد کے سعودی عرب میں داخلے پر پابندی ہے، ان ممالک کے زائرین کو کورنٹائن کیا جائے گا۔اس فہرست میں پاکستان، ہندوستان، ارجنٹینا، برازیل، مصر، انڈونیشیا، لبنان،جنوبی افریقہ اور ترکی شامل ہیں۔


خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت، سرپرستوں کے بغیر سفر کی اجازت اور محرم کے بغیر حج کی اجازت دینے کے بعد اب حجاج کی حفاظت پر خواتین معمور

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق اپریل کے بعد سے درجنوں خواتین سیکیورٹی سروسز کا حصہ بن گئی ہیں، جو مکہ اور مدینہ میں حجاج کرام کی حفاظت پر معمور ہیں۔خاکی وردی میں ملبوس مونا نامی خاتون اپنی شفٹ کے دوران مسجد الحرام میں گشت کرتی ہے۔اپنے مرحوم والد کی زندگی اور پیشے سے متاثر ہوکر مونا نے فوج اور سعودی خواتین کی پہلی فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، اور اب وہ اسلام کے مقدس ترین مقامات پر حج کے دوران حجاج کرام کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کررہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں مکہ مکرمہ کی عظیم الشان مسجد میں کھڑے ہوکر میں اپنے مرحوم والد کے نقش قدم پر چل رہی ہوں۔نمازیوں، اور حجاج کی خدمت کرنا ایک بہت ہی مقدس اور باعث اعزاز کام ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں سماجی و معاشی اصطلاحات کے نقطہ نظر سے تبدیلیوں کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔شہریت ترمیمی قانون اور این آر سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا: موہن بھاگوت

اسی سلسلے میں گذشتہ کچھ عرصہ میں ریاست میں متعدد انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔2030 تک سعودی عرب کو جدید تقاضوں سے لیس کرنے کے مقصد سے خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندیاں بھی ختم کردی گئیں۔بالغ خواتین کو سرپرستوں کے بغیر سفر کی اجازت بھی دے گئی ہے۔اس کے علاوہ محرم کے بغیر حج کی پابندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔اصلاحتی منصوبوں کے ساتھ ہی حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والوں اور سعودی حکومت سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔