وہ کوچ جن کی موجودگی میں تعظیم میں آج بھی کرسی پر نہیں بیٹھتے نیرج چوپڑا

نئی دہلی: نیرج چوپڑا ٹوکیو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے ہندوستان کے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔انہوں نے 87.58 میٹر بھالا پھنک کر ہندوستان کو پہلا گولڈ میڈل دلایا۔

نیرج چوپڑا کے کوچ نسیم احمد نے اولمپک مقابلے والے دن کہا تھا کہ اسی سال مارچ میں نیرج چوپڑا نے پٹیالہ میں منعقد مقابلوں میں 88.7 میٹر تھرو کرکے اپنے کرئیر کی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

نسیم احمد نے کہا تھا کہ نیرج فارم میں ہے اور وہ یقینی طور پر اپنے اس ریکارڈ کو توڑ کر نئی تاریخ رقم کریں گے۔نیرج کے کوچ نسیم احمد بتاتے ہیں کہ نیرج آج ایک بڑے اتھلیٹ بن گئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی میری موجودگی میں کرسی پر نہیں بیٹھتے۔وہ زیادہ بات نہیں کرتے لیکن جب کسی بڑے مقابلے میں حصہ لینے جاتے ہیں تو مجھ سے دعائیں ضرور لیتے ہیں۔میں انہیں دعائیں تو دے دیتا ہوں لیکن گرو دکشنا میں ان سے میڈل کا مطالبہ کرتا ہوں، اور وہ میڈل جیت کر مجھے فوٹو بھیج دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔پولیس کی تھرڈ ڈگری سے بااثر لوگ بھی نہیں بچ سکتے: چیف جسٹس آف انڈیا

نسیم احمد بتاتے ہیں کہ میں نیرج کا ہر میچ دیکھتا ہوں لیکن پھر بھی میری جیت تب ہوتی ہے جب مجھے میرے نیرج کا میسیج آجاتا ہے۔ایک کوچ کو یہ لمحہ ہزاروں کھلاڑیوں کو تراشنے کے بعد میسر ہوتا ہے۔نسیم احمد نے کہا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ میں ملک کو نیرج جیسا اتھلیٹ دے پایا۔نیرج نے کوچ نسیم احمد بتاتے ہیں کہ سال 2011 میں نیرج کے چاچا نیرج کو میرے پاس لائے اور کہا کہ یہ میرا بھتیجا ہے اور کھا کھا کر موٹا ہورہا ہے آپ اسے بھی دوڑایا کرو۔میں نے کہا آپ اسٹیڈیم میں بھیج دیا کریں، جس کے بعد نیرج روز آنے لگا۔پانی پت کا ایک اور لڑکا نریندر تھا جو میرے ساتھ ہاسٹل میں رہتا تھا۔نیرج اور نریندر کی دوستی ہوگئی اس کے بعد نیرج بھی ہاسٹل آکر رہنے لگا۔نسیم احمد بتاتے ہیں کہ نیرج ایک کسان کا بیٹا ہے اسلئے اس نے اپنی محنت اور لگن سے 2011 میں ہی آل انڈیا انٹر یونیورسٹی کا ریکارڈ توڑ دیا۔اس کے بعد اس نے وجئے واڑہ میں کھیلتے ہوئے انڈر-18 میں بھی قومی ریکارڈ بنایا تھا۔نیرج سال 2016 تک میرے پاس رہا۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: