Articles by "Saudi Arabia Government"
Showing posts with label Saudi Arabia Government. Show all posts

امام کعبہ کو ایک خطبے میں ولی عہد محمد بن سلمان کے طرز حکمرانی کو مطلق العنانیت قرار دینے کے اگلے روز گرفتار کیا گیا تھا 

سعودی میڈیا کے مطابق 2018 میں مبینہ طور پر شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر امام کعبہ شیخ صالح الطالب کو گرفتار کیا گیا تھا اور اب مقامی عالت نے انھیں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

خیال رہے کہ جب امام کعبہ صالح الطالب کو حراست میں لیا گیا تھا اُس وقت بھی وجہ نہیں بتائی گئی تھی اور عدالت کی جانب سے قید کی سزا پر بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ صالح الطالب سعودی عدالتوں میں جج کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے دعویٰ کیا تھا کہ امام کعبہ کو ایک خطبے میں ولی عہد کے طرز حکمرانی کو مطلق العنان قرار دینے کے اگلے روز گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ چند روز قبل ہی مقامی عدالت نے پی ایچ ڈی کرنے والی ایک سعودی سوشل ایکٹیوسٹ خاتون کو بھی 30 سال قید کی سزا سنائی تھی جس سے یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ شاہی خاندان کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جارہی ہے۔


خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت، سرپرستوں کے بغیر سفر کی اجازت اور محرم کے بغیر حج کی اجازت دینے کے بعد اب حجاج کی حفاظت پر خواتین معمور

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق اپریل کے بعد سے درجنوں خواتین سیکیورٹی سروسز کا حصہ بن گئی ہیں، جو مکہ اور مدینہ میں حجاج کرام کی حفاظت پر معمور ہیں۔خاکی وردی میں ملبوس مونا نامی خاتون اپنی شفٹ کے دوران مسجد الحرام میں گشت کرتی ہے۔اپنے مرحوم والد کی زندگی اور پیشے سے متاثر ہوکر مونا نے فوج اور سعودی خواتین کی پہلی فوج میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، اور اب وہ اسلام کے مقدس ترین مقامات پر حج کے دوران حجاج کرام کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد کررہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہاں مکہ مکرمہ کی عظیم الشان مسجد میں کھڑے ہوکر میں اپنے مرحوم والد کے نقش قدم پر چل رہی ہوں۔نمازیوں، اور حجاج کی خدمت کرنا ایک بہت ہی مقدس اور باعث اعزاز کام ہے۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں سماجی و معاشی اصطلاحات کے نقطہ نظر سے تبدیلیوں کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔شہریت ترمیمی قانون اور این آر سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا: موہن بھاگوت

اسی سلسلے میں گذشتہ کچھ عرصہ میں ریاست میں متعدد انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔2030 تک سعودی عرب کو جدید تقاضوں سے لیس کرنے کے مقصد سے خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندیاں بھی ختم کردی گئیں۔بالغ خواتین کو سرپرستوں کے بغیر سفر کی اجازت بھی دے گئی ہے۔اس کے علاوہ محرم کے بغیر حج کی پابندی بھی ہٹا دی گئی ہے۔اصلاحتی منصوبوں کے ساتھ ہی حقوق نسواں کے لئے کام کرنے والوں اور سعودی حکومت سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے۔